ریلوے کی وزارت
گتی شکتی وشوودیالیہ کا چوتھا تقسیم اسناد کی تقریب؛ بی ٹیک اور ایم بی اے پروگراموں کے 121 طلبہ فارغ التحصیل
جی ایس وی نے بھارت کی ٹرانسپورٹیشن اور انفراسٹرکچر میں نمایاں خدمات پر ای سری دھرن کو پہلی بار اعزازی پی ایچ ڈی کی ڈگری تفویض کی
"وِکست بھارت کے لیے موومنٹ ، مومینٹم اور مشن ضروری ہیں": جناب رام موہن نائیڈو
प्रविष्टि तिथि:
19 JUL 2026 8:56PM by PIB Delhi
گتی شکتی وشوودیالیہ (جی ایس وی) کی چوتھی تقسیمِ اسناد کی تقریب 17 جولائی 2026 کو منعقد ہوئی، جس میں بھارت کے شہری ہوابازی کے معزز وزیر جناب کنجاراپو رام موہن نائیڈو نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی۔ دیگر معزز مہمانوں میں جناب ای سری دھرن (جنہیں بھارت کے 'میٹرو مین' کے نام سے جانا جاتا ہے اور جو دہلی میٹرو ریل کارپوریشن لمیٹڈ کے سابق ایم ڈی ہیں)، ڈاکٹر ہیمانگ جوشی (ایم پی، وڈودرا)، بڑودہ کی راج ماتا محترمہ شبھانگنی راجے گائیکواڑ، جناب سمیر کمار سنہا (سکریٹری، شہری ہوابازی، حکومتِ ہند) اور جناب سوکرن سنگھ (سی ای او اور ایم ڈی، ٹاٹا ایڈوانسڈ سسٹمز لمیٹڈ) شامل تھے۔
اس تقریب میں بی ٹیک اور ایم بی اے پروگراموں سے وابستہ کل 121 طلبہ کو ڈگریاں دی گئیں۔ یونیورسٹی نے پہلی بار 'میٹرو ریل مینجمنٹ' میں ایم بی اے کی ڈگری بھی جاری کی۔ اس موقع پر، جی ایس وی نے ملک میں ٹرانسپورٹیشن اور انفراسٹرکچر کے شعبے میں شاندار خدمات کے اعتراف میں، جناب ای سری دھرن کو پہلی مرتبہ اعزازی پی ایچ ڈی کی ڈگری سے بھی نوازا۔

مختلف شعبہ ہائے تعلیم میں تعلیمی مہارت اور بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے پر وویک یادو، سندیپ پٹیل، ابھینندن گپتا، رشبھ ترپاٹھی اور سریش سینگوندرمدلیار کو گولڈ میڈل (طلائی تمغے) دیے گئے۔ سال 2026 کا 'آؤٹ اسٹینڈنگ پروجیکٹ' (نمایاں ترین پروجیکٹ) ایوارڈ درگیش کمار اور سندیپ پٹیل کو دیا گیا، جبکہ سال 2026 کا 'بیسٹ گریجویٹنگ اسٹوڈنٹ' (بہترین فارغ التحصیل طالب علم) ایوارڈ وویک کمار کو تفویض کیا گیا۔
مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے کاتقریب تقسیم اسناد کا خطبہ دیتے ہوئے جناب کنجاراپو رام موہن نائیڈو نے 'تھری ایمز' یعنی موومنٹ (تحریک)، مومینٹم (رفتار) اور مشن (مقصد) پر توجہ مرکوز کی جو بالترتیب سمت، رفتار اور مقصد کی نمائندگی کرتے ہیں۔ انہوں نے ٹرانسپورٹ کے شعبے اور خاص طور پر ہوا بازی کے شعبے، پی ایم گتی شکتی وغیرہ میں ملک کی ترقی کو اجاگر کیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مینٹیننس، ریپیئر اور اوورہال (ایم آر او) کا شعبہ اس ملک میں نوجوانوں کے لیے مواقع پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔ انہوں نے سول ایوی ایشن کے ڈائریکٹوریٹ جنرل (ڈی جی سی اے) کی جی ایس وی کے ساتھ شراکت داری کے 4 ماہ کے اندر تیار کردہ ایئر کرافٹ مینٹیننس انجینئرنگ کے نصاب کی تعریف کی اور جی ایس وی کے لیے وزارتِ شہری ہوابازی کی جانب سے مکمل تعاون کا یقین دلایا۔ انہوں نے یونیورسٹی کے انڈسٹری پر مبنی (صنعت پر مرکوز) اندازِ فکر کی پرزور تعریف کی اور اسے اعلیٰ تعلیم کے پورے شعبے کے لیے ایک بہترین نمونہ قرار دیا۔
ڈاکٹر ای سری دھرن نے معزز مہمان کی حیثیت سے تقریب کو رونق بخشی اور مسلسل سیکھنے کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے زندگی میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے صحیح طرزِ عمل کے ساتھ ساتھ وقت کی پابندی، دیانت داری اور پیشہ ورانہ مہارت پر مشتمل اخلاقی نظام کو اپنانے کی تلقین کی۔ انہوں نے نوجوان سامعین کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ معاشرے اور ملک کی خدمت کریں (ملک کو کچھ واپس لوٹائیں) اور اس کے لیے ان کا اچھے کردار اور صحت کا مالک ہونا ضروری ہے۔
وڈودرا کے ایم پی، ڈاکٹر ہیمانگ جوشی نے کہا کہ طلبہ کے لیے اس سے بہتر اتفاق نہیں ہو سکتا کہ انہیں اسی دن ڈگریاں دی جا رہی ہیں جس دن معزز وزیراعظم کے ہاتھوں بھارت کی پہلی مقامی سطح پر تیار کردہ ہائیڈروجن ٹرین کا آغاز ہوا ہے۔ انہوں نے یونیورسٹی کے 100 فیصد پلیسمنٹ (روزگار کی فراہمی) کے ریکارڈ کی تعریف کی اور طلبہ سے کہا کہ وہ اس حاصل کردہ ڈگری کا بھرپور فائدہ اٹھائیں، کیونکہ یہ کوئی آخری منزل نہیں بلکہ ان کے سفر کا صرف ایک اہم پڑاؤ ہے۔
بڑودہ کی راج ماتا محترمہ شبھانگنی راجے گائیکواڑ نے فارغ التحصیل طلبہ کو سختی سے نصیحت کی کہ وہ "اخلاقی اقدار سے جڑے رہیں" اور پائیدار ترقی (سسٹین ایبل ڈیولپمنٹ) کے تئیں حساس رہیں، جبکہ جناب سوکرن سنگھ نے مضبوط ٹیسٹنگ ایکو سسٹم اور معاون قوانین کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے ٹاٹا کے ایرو اسپیس اور دفاعی مینوفیکچرنگ کے اقدامات کو اجاگر کیا اور گریجویٹس کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ چیلنجوں کو قبول کرتے ہوئے اور جدت طرازی کو فروغ دے کر "تبدیلی کا پیش خیمہ بنیں"۔ جی ایس وی کے وائس چانسلر پروفیسر منوج چودھری نے یونیورسٹی کی ترقیاتی رپورٹ پیش کی۔
گتی شکتی وشوودیالیہ، جو وزارتِ ریلوے کے تحت ایک مرکزی یونیورسٹی ہے اور جس کی سربراہی چانسلر جناب اشونی ویشنو (ریلوے، اطلاعات و نشریات، الیکٹرانکس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے مرکزی وزیر) کر رہے ہیں، 6 دسمبر 2022 کو پارلیمنٹ کے ایک ایکٹ کے ذریعے قائم کی گئی تھی۔ یہ یونیورسٹی فی الحال ریل انجینئرنگ، ایوی ایشن انجینئرنگ اور آپریشنز، میری ٹائم انجینئرنگ، لاجسٹکس اور سپلائی چین مینجمنٹ، میٹرو ریل مینجمنٹ، پورٹس اور شپنگ لاجسٹکس اور روڈ اینڈ ہائی وے انجینئرنگ وغیرہ میں بیچلر، ماسٹرز اور ڈاکٹریٹ کی سطح کے پروگرام پیش کر رہی ہے، جو پورے ٹرانسپورٹ انفراسٹرکچر اور لاجسٹکس کے شعبے کا احاطہ کرتے ہیں۔ باقاعدہ تعلیمی پروگراموں کے علاوہ، جی ایس وی اپنی مہارت کے شعبوں میں ریلوے کے افسران (زیر تربیت افسران کے ساتھ ساتھ حاضر سروس افسران)، دفاعی افواج (آرمی، ایئر فورس، نیوی) اور سول سروسز کے افسران کی ایگزیکٹو ٹریننگ (اعلیٰ سطحی تربیت) پر بھی بہت زیادہ توجہ مرکوز کرتی ہے۔
قومی تعلیمی پالیسی 2020 سے ہم آہنگ ہوتے ہوئے، جی ایس وی مارکیٹ کی طلب پر مبنی نصاب اپناتی ہے، جس کا وژن ایک ایسی یونیورسٹی بننا ہے جو "صنعت سے ہم آہنگ اور جدت طرازی پر مبنی" ہو تاکہ ملک کی ترقی کے لیے بہترین انسانی وسائل اور تحقیق تیار کی جا سکے۔ پورے ایکو سسٹم کا "مرکزی نقطہ" بننے کے مشن کے ساتھ، جی ایس وی نے صنعت پر مبنی نصاب، عملی طور پر سیکھنے کے عمل (تجرباتی تعلیم)، علم کے تبادلے اور انٹرن شپس کے لیے دنیا بھر کے معروف اداروں اور صنعتوں کے ساتھ اشتراک کیا ہے، جو گریجویٹس کو ملازمت کے لیے فوری طور پر تیار کرنے میں مدد دیتا ہے۔ یہ یونیورسٹی 'پی ایم گتی شکتی نیشنل ماسٹر پلان' کے لیے صلاحیتوں میں اضافے اور تربیت فراہم کرنے والی مرکزی نوڈل ایجنسی کے طور پر کام کر رہی ہے اور اپنے تیار کردہ کورس کے ذریعے اب تک 2.4 لاکھ سے زیادہ افسران کو تربیت دے چکی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ش ح۔م م۔ن م۔
U-156
(रिलीज़ आईडी: 2286458)
आगंतुक पटल : 12