PIB Backgrounder
azadi ka amrit mahotsav

بارش کا پانی جمع کریں (کیچ دی رین): پانی کے تحفظ کے لیے ایک بار پھر قومی اپیل

प्रविष्टि तिथि: 19 JUL 2026 8:55AM by PIB Delhi

28 جون 2026 کو نشر ہونے والے "من کی بات" کے 135ویں ایڈیشن میں، عزت مآب وزیر اعظم نے ہم وطنوں سے بارش کی ہر بوند کو بچانے اور ملک بھر میں پانی کے تحفظ کی مہم کو مسلسل تیز کرنے کی اپیل کی۔ اس کے جواب میں، 4 جولائی سے 4 اگست 2026 تک ایک مرکوز ملک گیر مہم کا آغاز کیا گیا، جس کا مقصد بارش کے پانی کی ذخیرہ اندوزی، زمینی پانی کی ری چارجنگ، پانی کے روایتی ذرائع کی بحالی، درخت لگانے کی سرگرمیوں، اور عوامی شرکت کو مضبوط بنانا تھا۔

"کیچ دی رین— اس مشن کے ذریعے، ہمیں اجتماعی طور پر بارش کے پانی کے ہر قطرے کو بچانا چاہیے۔ میں خاص طور پر تمام ہم وطنوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ اجتماعی کوششوں کے ذریعے بارش کے پانی کے ہر قطرے کو محفوظ کریں۔"
عزت مآب وزیر اعظم جناب نریندر مودی

ہمیں جو اقدامات کرنے کی ضرورت ہے:

  • ہر گھر، معاشرے اور کام کی جگہ پر بارش کے پانی کے   ذخیرہ اندوزی کے نظام کو اپنانا چاہیے۔
  • مناسب جگہوں پر ری چارج گڑھے اور ری چارج شافٹ بنائیں، اور غیر استعمال شدہ بورویلوں کی مرمت کرکے انہیں زیرِ زمین پانی کے ری چارج کے لیے استعمال کریں۔
  • سیڑھی دار کنوؤں (اسٹیپ ویلز)، کنوؤں اور پانی کے روایتی ذرائع کو بحال کریں اور انہیں دوبارہ قابلِ استعمال بنائیں۔
  • مانسون کے پانی کے زیادہ سے زیادہ تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے قریبی تالابوں اور آبی ذخائر کو صاف کرکے ان کی پانی کے   ذخیرہ کرنے کی صلاحیت میں اضافہ کریں۔
  • پانی کے تحفظ کے علاقوں میں زیادہ سے زیادہ درخت لگا کر سبز احاطے (گرین کور) کو فروغ دیں۔

جل سنچے جن بھاگیداری 1.0 (6 ستمبر 2024)

پانی کے تحفظ میں عوامی شراکت کو مزید مضبوط بنانے کے مقصد کے ساتھ، 'جل سنچے جن بھاگیداری' مہم 6 ستمبر 2024 کو سورت، گجرات میں شروع کی گئی۔ تقریب سے عملی طور پر خطاب کرتے ہوئے، عزت مآب وزیر اعظم نے پانی کے تحفظ کو قومی ترجیح بنانے کے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔

تین سیکمیونٹی، کارپوریٹ سماجی ذمہ داری (سی ایس آر)، اور لاگت کے اصولوں کی بنیاد پر، اس اقدام نے عوامی شرکت، ادارہ جاتی تعاون، کارپوریٹ سماجی ذمہ داری (سی ایس آر) کے تعاون، اور مختلف سرکاری اسکیموں کے ساتھ ہم آہنگی کے ذریعے پانی کے تحفظ کی کوششوں کو تیز کیا۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد کم لاگت والے زیر زمین پانی کے ری چارج اور پانی ذخیرہ کرنے کے ڈھانچوں کی تعمیر، ناکارہ بورویلوں کی بحالی، اور سائنسی و مقامی طور پر موزوں حل اپنانا ہے۔ اسے پوری حکومت اور پورے معاشرے کے نقطۂ نظر کے ساتھ نافذ کیا گیا۔

"جل سنچے جن بھاگیداری (جے ایس جے بی)1.0" مہم، جو یکم اپریل 2024 سے 31 مئی 2025 تک جاری رہی، نے کم از کم 10 لاکھ  زیر زمین  پانی کے ری چارج ڈھانچوں کی تعمیر کے ہدف کو نمایاں طور پر عبور کر لیا، اور پورے ملک میں27 لاکھ سے زائد مصنوعی زیر زمین  پانی کے ری چارج ڈھانچوں کی تعمیر کا ریکارڈ قائم کیا۔

جل سنچے جن بھاگیداری 2.0 (2025)

جے ایس جے بی 1.0 کی کامیابی کی بنیاد پر، جے ایس جے بی 2.0 کا آغاز یکم جون 2025 کو کیا گیا۔ اس مرحلے میں کم لاگت، مقامی طور پر تیار کردہ اقدامات کے ذریعے زیادہ استحصال اور وسائل استعمال کرنے والے اضلاع میں زیرِ زمین پانی کے ری چارج کو تیز کرنے پر توجہ مرکوز کی گئی۔

31 مئی 2026 تک ملک بھر میں کم از کم 1 کروڑ زیر زمین پانی کے ری چارج ڈھانچوں کی تعمیر کا ہدف مقرر کیا گیا تھا، جبکہ 1.5 کروڑ سے زائد ڈھانچوں کی اطلاع دی جا چکی ہے، جو ہدف سے 50 فیصد سے زیادہ ہے۔ فی الحال ان ڈھانچوں کی جسمانی تصدیق اور فیلڈ سرٹیفیکیشن جاری ہے۔

ریاستوں، اداروں اور دیگر اسٹیک ہولڈرز (شراکت داروں) کو جے ایس جے بی 1.0 کے تحت ان کی شاندار شراکت کے اعتراف میں، حکومت نے نومبر 2025 میں منعقدہ 6ویں نیشنل واٹر ایوارڈز کے دوران نمایاں کارکردگی دکھانے والوں کو اعزاز سے نوازا۔

جل سنچے جن بھاگیداری: کیچ دی رین (2026)

"جل سنچے جن بھاگیداری: کیچ دی رین" (جے ایس جے بی: سی ٹی آر) مہم یکم جون 2026 کو شروع کی گئی تھی۔ یہ مہم "جل سنچے جن بھاگیداری" (جے ایس جے بی) اقدام کے دائرۂ کار کو وسیع کرتی ہے اور اسے "جل شکتی ابھیان: کیچ دی رین" (جے ایس اے: سی ٹی آر) کے ساتھ مربوط کرتی ہے۔

بارش کے پانی کی ذخیرہ اندوزی، زیر زمین  پانی کو ری چارج کرنے، پانی ذخیرہ کرنے اور عوامی شرکت پر نئے سرے سے زور دینے کے ساتھ، اس مہم کا مقصد ہر  بارش  کو پانی کے تحفظ کے ایک موقع میں تبدیل کرنا ہے۔ یہ مقامی حالات کے مطابق کم لاگت والے اقدامات کو فروغ دیتی ہے اور پائیدار آبی انتظام کے ذریعے موسمیاتی تبدیلیوں کے مقابلے میں لچک کو مضبوط بنانے کی کوشش کرتی ہے۔

یہ مہم مرکزی اور ریاستی حکومتوں کی مختلف اسکیموں کے ساتھ ہم آہنگی کو یقینی بناتی ہے، جن میں شامل ہیں:

  • وکست بھارت - گارنٹی شدہ روزگار اور روزی روٹی مشن - دیہی (وی بی-گرام-جی)
  • پی ایم کے ایس وائی کے تحت پر ڈراپ مور کراپ
  • پی ایم کے ایس وائی کے تحت آبی ذخائر کی مرمت، تزئین و آرائش اور بحالی
  • سی اے ایم پی اے
  • مالیاتی کمیشن کی  گرانٹس
  • ریاستی حکومت کی اسکیمیں

جے ایس جے بی: سی ٹی آر مہم کی بنیاد جن بھاگی داری (عوامی شرکت) ہے۔ پنچایتی راج اداروں، شہری بلدیاتی اداروں، خواتین کے گروپوں، نوجوانوں، تعلیمی اداروں، سول سوسائٹی کی تنظیموں اور مقامی برادریوں کو پانی کے تحفظ کی کوششوں میں فعال طور پر حصہ لینے کے لیے متحرک اور منظم کیا جا رہا ہے۔

جل شکتی ابھیان: کیچ دی رین (جے ایس اے: سی ٹی آر)

جل شکتی ابھیان: کیچ دی رین (جے ایس اے: سی ٹی آر) کا آغاز عزت مآب وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے 22 مارچ 2021 کو پانی کے عالمی دن کے موقع پر کیا تھا، جس کا موضوع تھا:

"جہاں بارش ہوتی ہے، جب بارش ہوتی ہے، بارش کا پانی جمع کریں۔"

یہ مہم 2019 میں شروع کیے گئے جل شکتی ابھیان کی نمایاں کامیابی پر استوار ہے، جو ملک بھر کے 256 اضلاع کے 1,592 پانی کی قلت سے متاثرہ بلاکس میں نافذ کیا گیا تھا۔ بارش کے پانی کی ذخیرہ اندوزی، زیر زمین  پانی کے ری چارج، واٹرشیڈ کی ترقی، آبی ذخائر کی بحالی اور درخت لگانے کو بڑے پیمانے پر عوامی تحریک کے جذبے کے تحت فروغ دیا گیا۔ اس کے بعد سے، یہ مہم ہر سال مختلف موضوعات اور ترجیحی علاقوں میں نافذ کی جاتی ہے۔

2021 — "جہاں بارش ہو، جب بارش ہو، بارش کا پانی جمع کریں"

  • بارش کے پانی کی ذخیرہ اندوزی اور پانی کا تحفظ۔
  • آبی ذخائر کی جیو ٹیگنگ۔
  • پانی کے تحفظ کی سائنسی منصوبہ بندی اور انتظام۔
  • جل شکتی کیندرو ں (مراکز )کا قیام اور عوامی بیداری کی سرگرمیوں کا انعقاد۔

2022 — پانی کے تحفظ کی سرگرمیوں میں توسیع

  • روایتی آبی ذخائر کی بحالی۔
  • گراؤنڈ واٹر ری چارج(زیر زمین پانی کے ری چارج) اور واٹر شیڈ  کی ترقی۔
  • گیلی زمینوں اور ندیوں کی بحالی۔
  • اسپرنگ شیڈ (چشموں کے آبی علاقوں) کی ترقی اور کیچمنٹ علاقے کا تحفظ۔

2023 — پینے کے پانی کے ذرائع کا پائیدار تحفظ

  • پانی کی قلت سے متاثرہ  150 اضلاع پر خصوصی توجہ۔
  • پینے کے پانی کے ذرائع کو مضبوط بنانا۔
  • زیر زمین  پانی کے ری چارج اور پانی کے ذرائع کی پائیداری کو یقینی بنانا۔
  • فیلڈ (میدانی )سطح کی نگرانی اور کمیونٹی کی شرکت۔

2024 — ناری شکتی  سےجل شکتی  تک

  • خواتین کی زیرِ قیادت پانی کے تحفظ کے اقدامات۔
  • آبی ذخائر سے گاد نکالنا اور ان کی صفائی
  • زیرِ زمین پانی کے ری چارج کے لیے ترک شدہ بورویلوں کی بحالی
  • شجرکاری اور مقامی آبی وسائل کی بحالی

ملک بھر میں خواتین کی زیرِ قیادت اقدامات نے یہ ظاہر کیا ہے کہ پانی کے تحفظ کو مضبوط بنانے میں کمیونٹی کی قیادت اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ پانی کے تحفظ، صفائی ستھرائی اور حفظانِ صحت کے طریقوں کے میدان میں ان کی شاندار شراکت کو سوچھ سوجل شکتی سمان کے ذریعے مسلسل اعزاز دیا جاتا ہے، جو ان کی مثالی کوششوں کو تسلیم کرتا ہے۔

جل شکتی کیندر ( مرکز ) ۔(جے ایس کے)

مہم کا ایک اہم ادارہ جاتی جزو ملک بھر کے اضلاع میں جل شکتی کیندروں (جے ایس کے) کا قیام ہے۔ یہ مراکز پانی کے تحفظ کے لیے علم اور سہولت کے مراکز کے طور پر کام کرتے ہیں۔ یہ بارش کے پانی کو جمع کرنے کی تکنیکوں کے بارے میں معلومات فراہم کرتے ہیں، مقامی برادریوں اور ضلعی انتظامیہ کو تکنیکی رہنمائی دیتے ہیں، اور پانی کے تحفظ کی سرگرمیوں کی منصوبہ بندی اور مؤثر نفاذ میں معاونت کرتے ہیں۔

بارش کے پانی کی ذخیرہ اندوزی(رین واٹر ہارویسٹنگ) سے لے کر دیہی استحکام تک

وزیر اعظم کی دور اندیش قیادت میں پانی کا تحفظ ایک قومی ترجیح اور عوامی تحریک کے طور پر ابھرا ہے۔ کیچ دی رین اور جل سنچے جن بھاگیداری جیسے اقدامات کے ذریعے حکومت نے پانی کے تحفظ کو ایک علاقے تک محدود پروگرام سے ایک ملک گیر عوامی تحریک میں تبدیل کر دیا ہے، جس کی بنیاد کمیونٹی کی شرکت، سائنسی منصوبہ بندی اور وسائل کو متحرک کرنا ہے۔

جیسے جیسے ہندوستان وکست بھارت کے اپنے وژن کی جانب بڑھ رہا ہے، بارش کے پانی کی ذخیرہ اندوزی، زمینی پانی کی ری چارجنگ، آبی ذخائر کی بحالی، اور پانی کے مؤثر استعمال کو فروغ دینے جیسے اقدامات زراعت کو مضبوط بنانے، دیہی معاش کو سہارا دینے، موسمیاتی تبدیلیوں کے مقابلے میں لچک بڑھانے، اور آنے والی نسلوں کے لیے آبی وسائل کے تحفظ میں اہم کردار ادا کریں گے۔

سائنسی منصوبہ بندی، مقامی ملکیت اور اجتماعی شرکت کو فروغ دے کر، یہ مہم دیہی ہندوستان میں پائیدار اور آب و ہوا سے مزاحم آبی اثاثے تشکیل دے رہی ہے۔ موسمیاتی تبدیلی اور پانی کی بڑھتی ہوئی طلب کے اس دور میں، پانی کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے بارش کے ہر قطرے کا تحفظ ناگزیر ہے۔ اس سے زراعت کو مزید تقویت ملے گی اور پائیدار دیہی ترقی کو فروغ حاصل ہوگا۔

"من کی بات" سمیت مختلف پلیٹ فارمز پر پانی کے ہر قطرے کو محفوظ رکھنے پر وزیر اعظم کے مسلسل زور نے شہریوں، اداروں اور نظم و نسق کی تمام سطحوں کو پانی کے تحفظ کے ہدف کے حصول کے لیے اجتماعی طور پر کام کرنے کی ترغیب دی ہے۔

حوالہ جات:

وزارت جل شکتی

پی ڈی ایف دیکھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

پی آئی بی ریسرچ

***

UR-132

(ش ح۔اس ک  )


(रिलीज़ आईडी: 2286300) आगंतुक पटल : 21
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: Bengali , Bengali-TR , English , हिन्दी , Nepali , Assamese , Gujarati , Tamil , Malayalam