صحت اور خاندانی بہبود کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

قومی صحت اتھارٹی کی طرف آیوشمان بھارت پردھان منتری جن آروگیہ یوجنا اور آیوشمان بھارت ڈیجیٹل مشن پر دو روزہ قومی جائزہ اجلاس اختتام پذیر؛ مرکز اور ریاستوں کی طرف سے صحت کے اصلاحاتی عمل کے اگلے مرحلے کے لیے لائحۂ عمل مرتب


آیوشمان بھارت پردھان منتری جن آروگیہ یوجنا اور آیوشمان بھارت ڈیجیٹل مشن بھارت کے صحت نظام کے بنیادی ستون بن چکے ہیں؛ اب توجہ ڈیجیٹل صحت سے متعلق اقدامات کے وسیع پیمانے پر اختیار اور مؤثر استعمال پر مرکوز ہے: محترمہ پُنیا سلیلہ سریواستو، مرکزی سکریٹری برائے صحت

آیوشمان بھارت پردھان منتری جن آروگیہ یوجنا کے تحت مالیاتی پائیداری اور سرکاری اسپتالوں کو مزید مضبوط بنانے پر قومی صحت اتھارٹی کے قومی جائزہ اجلاس میں خصوصی توجہ

قومی صحت اتھارٹی کے قومی جائزہ اجلاس میں مصنوعی ذہانت، صحت تجزیات اور باہمی مطابقت پر زور؛ ڈیجیٹل صحت کے نظام کی تبدیلی کی رفتار تیز کرنے پر اتفاق

قومی صحت اتھارٹی نے آیوشمان بھارت پردھان منتری جن آروگیہ یوجنا اور آیوشمان بھارت ڈیجیٹل مشن کے مؤثر نفاذ پر ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کو اعزازات سے نوازا

مرکز اور ریاستوں نے آیوشمان بھارت پردھان منتری جن آروگیہ یوجنا اور آیوشمان بھارت ڈیجیٹل مشن کو مزید مضبوط بنانے کے لیے بہترین عملی تجربات کا تبادلہ کیا؛ قومی صحت اتھارٹی کے قومی جائزہ اجلاس میں اشتراک پر مبنی حکمتِ عملی کو مزید تقویت ملی

प्रविष्टि तिथि: 18 JUL 2026 3:56PM by PIB Delhi

وزارتِ صحت و خاندانی بہبود کے تحت قومی صحت اتھارٹی (این ایچ اے) نے آج آیوشمان بھارت پردھان منتری جن آروگیہ یوجنا (اے بی پی ایم-جے اے وائی) اور آیوشمان بھارت ڈیجیٹل مشن (اے بی ڈی ایم) سے متعلق دو روزہ قومی جائزہ اجلاس (چنتن شِور) کا اختتام کیا۔ یہ اجلاس 17 اور 18 جولائی 2026 کو مدھیہ پردیش بھون، نئی دہلی میں منعقد کیا گیا۔

دو روزہ قومی جائزہ اجلاس میں وزارتِ صحت و خاندانی بہبود، قومی صحت اتھارٹی، ریاستی صحتی ایجنسیوں، ترقیاتی شراکت داروں اور دیگر متعلقہ فریقوں کے سینئر حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں آیوشمان بھارت پردھان منتری جن آروگیہ یوجنا اور آیوشمان بھارت ڈیجیٹل مشن کی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا، نفاذ سے متعلق اہم ترجیحات پر غور و خوض کیا گیا، ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کے بہترین عملی تجربات پیش کیے گئے اور بھارت میں صحت کے شعبے میں اصلاحات کے اگلے مرحلے کے لیے لائحۂ عمل مرتب کیا گیا۔

پہلے دن ہونے والے تبادلۂ خیال کو آگے بڑھاتے ہوئے اجلاس کے دوسرے دن مالیاتی پائیداری، سرکاری صحتی اداروں کو مزید مستحکم بنانے، صحت  تجزیات، مصنوعی ذہانت اور پورے صحت نظام میں ڈیجیٹل تبدیلی کے عمل کو تیز کرنے پر خصوصی توجہ مرکوز کی گئی۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image001I001.jpg

قومی جائزہ اجلاس کے دوران آیوشمان بھارت پردھان منتری جن آروگیہ یوجنا (اے بی پی ایم-جے اے وائی) اور آیوشمان بھارت ڈیجیٹل مشن (اے بی ڈی ایم) کے تحت مختلف کلیدی نفاذی اشاریوں میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والی ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کو مجموعی طور پر 15 اعزازات سے نوازا گیا۔

آیوشمان بھارت پردھان منتری جن آروگیہ یوجنا کے تحت کارکردگی کی دو مختلف اقسام میں 6 اعزازات دیے گئے۔ فی لاکھ آبادی کے لحاظ سے وی وی ایس کارڈز کی سب سے زیادہ تعداد جاری کرنے پر آندھرا پردیش، سکم اور لکشدیپ کو بالترتیب بڑی ریاست، چھوٹی ریاست اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقے کے زمرے میں اعزاز سے نوازا گیا۔ اسی طرح بایومیٹرک توثیق کے ساتھ قبل از منظوری (پری آتھرائزیشن) کی سب سے زیادہ تعداد درج کرنے پر مدھیہ پردیش، میگھالیہ اور انڈمان و نکوبار جزائر کو ان کے متعلقہ زمروں میں اعزازات سے نوازا گیا۔

آیوشمان بھارت ڈیجیٹل مشن کے تحت 4 مختلف زمروں میں نو اعزازات دیے گئے۔ انڈمان و نکوبار جزائر، چندی گڑھ، دادرا و نگر حویلی اور دمن و دیو، لداخ اور لکشدیپ کو اے بی ڈی ایم رجسٹری (ایچ پی آر اور ایچ ایف آر) میں مکمل اندراج (سیچوریشن) حاصل کرنے پر اعزاز سے نوازا گیا۔ جموں و کشمیر اور لداخ کو بالترتیب درمیانی ریاست/مرکز کے زیرِ انتظام علاقہ اور چھوٹی ریاست/مرکز کے زیرِ انتظام علاقہ کے زمرے میں فی لاکھ آبادی صحت ریکارڈ کے سب سے زیادہ ربط (لنکنگ) کے حصول پر اعزاز دیا گیا۔ اتر پردیش کو آبھا کی تخلیق اور اسکین اینڈ پے خدمات کو آیوشمان بھارت ڈیجیٹل مشن کے تحت مؤثر طور پر اختیار کرنے میں نمایاں کارکردگی پر اعزاز سے نوازا گیا۔

اختتامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزارتِ صحت و خاندانی بہبود کی سکریٹری محترمہ پُنیا سلیلہ سریواستو نے کہا کہ آیوشمان بھارت پردھان منتری جن آروگیہ یوجنا اور آیوشمان بھارت ڈیجیٹل مشن بھارت کے صحت نظام کے لازمی ستون بن چکے ہیں۔ انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ جیسے جیسے صحتِ عامہ سے متعلق یہ ڈیجیٹل عوامی پلیٹ فارم مزید مستحکم ہو رہے ہیں، اب توجہ ان کے وسیع پیمانے پر اختیار اور پورے صحت نظام میں ان کے مؤثر استعمال پر مرکوز ہونی چاہیے۔ انہوں نے ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں پر زور دیا کہ وہ ڈیجیٹل صحت خدمات اور اطلاقیوں (ایپلی کیشنز) کا زیادہ سے زیادہ استعمال یقینی بنائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان اقدامات کی حقیقی افادیت اسی وقت سامنے آئے گی جب یہ شہریوں، صحت کے پیشہ ور افراد اور صحت اداروں، سب کے لیے یکساں طور پر مفید ثابت ہوں۔ انہوں نے ڈیجیٹل صحت کے نظام پر عوام کے اعتماد کو برقرار رکھنے کے لیے صحت معلومات کی رازداری، سائبر تحفظ اور صحتی اعداد و شمار کے ذمہ دارانہ استعمال کی اہمیت پر بھی زور دیا۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image002CF5U.jpg

آیوشمان بھارت پردھان منتری جن آروگیہ یوجنا (اے بی پی ایم-جے اے وائی) اور آیوشمان بھارت ڈیجیٹل مشن (اے بی ڈی ایم) کے تحت مالیاتی نظم و نسق سے متعلق مباحث میں فنڈز کے مؤثر استعمال کو مضبوط بنانے، مالی منصوبہ بندی کو بہتر بنانے اور ریاستوں و مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کو امدادی رقوم کی بروقت اجرائی اور ان کے مؤثر استعمال کو یقینی بنانے پر توجہ مرکوز کی گئی۔ شرکاء نے دونوں اہم قومی اسکیموں کے مؤثر نفاذ کے لیے نظرثانی شدہ امدادی گرانٹ رہنما اصولوں، فنڈز کے انتظام کے طریقۂ کار اور مالیاتی جواب دہی کو مزید مضبوط بنانے کے اقدامات پر تفصیلی غور و خوض کیا۔

مباحث میں آیوشمان بھارت پردھان منتری جن آروگیہ یوجنا کے تحت مالیاتی پائیداری کو مستحکم بنانے اور صحت کے نظام کو مضبوط کرنے کے لیے ریاستوں کی جانب سے اختیار کیے گئے اقدامات پر بھی توجہ دی گئی۔ کیرالہ نے ریاستی صحت تحفظ کی مختلف اسکیموں کو آیوشمان بھارت پردھان منتری جن آروگیہ یوجنا کے ساتھ یکجا کرنے کے اپنے مربوط طریقۂ کار کو پیش کیا اور اس بات پر روشنی ڈالی کہ مختلف اسکیموں کا باہمی انضمام صحت خدمات تک رسائی کو وسعت دینے اور مالی تحفظ کو مضبوط بنانے میں کس طرح معاون ثابت ہوا ہے۔ تمل ناڈو نے وزیراعلیٰ جامع صحت بیمہ اسکیم (سی ایم سی ایچ آئی ایس) کے تحت دعووں سے حاصل ہونے والی آمدنی کے استعمال اور اسے آیوشمان بھارت پردھان منتری جن آروگیہ یوجنا کے ساتھ مربوط کرنے کے اپنے تجربات پیش کیے، جن سے یہ واضح ہوا کہ دعووں سے حاصل ہونے والی آمدنی کی منظم انداز میں دوبارہ سرمایہ کاری کے ذریعے بنیادی ڈھانچے، طبی آلات، انسانی وسائل اور ڈیجیٹل نظام میں سرمایہ کاری کر کے سرکاری صحت اداروں کو مزید مضبوط بنایا گیا ہے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image00310L0.jpg

قومی صحت اتھارٹی کے صحت کے تجزیات اور مصنوعی ذہانت یونٹ نے آیوشمان بھارت پردھان منتری جن آروگیہ یوجنا (اے بی پی ایم-جے اے وائی) کے تحت شواہد پر مبنی فیصلہ سازی میں معاونت کے لیے تیار کیے گئے جدید تجزیاتی آلات کی نمائش کی۔ پیشکشوں میں مستفیدین کی نقل پذیری، ضلعی سطح پر صحت خدمات تک رسائی، اسپتالوں کی سرگرمیوں اور صحت خدمات کے استعمال سے متعلق نئے تجزیاتی فریم ورک پیش کیے گئے، جن کی مدد سے ریاستیں خدمات میں موجود خامیوں کی نشاندہی، اسپتالوں کے پینل میں شمولیت کی حکمت عملی کو بہتر بنانے اور اعداد و شمار پر مبنی منصوبہ بندی کے ذریعے صحتی خدمات کی فراہمی کو مزید مؤثر بنا سکیں گی۔

اجلاس میں اسپتالوں کے قابلِ وصول واجبات کے اختراعی مالیاتی انتظام پر بھی غور کیا گیا۔ اس موقع پر واضح کیا گیا کہ قومی صحت کے دعویٰ تبادلہ نظام (این ایچ سی ایکس) کے ذریعے آیوشمان بھارت پردھان منتری جن آروگیہ یوجنا کے منظور شدہ دعوؤں کی ادائیگی میں سہولت فراہم کی جا سکتی ہے، جس سے فہرست بند اسپتال ریاستی صحت ایجنسیوں سے بعض ادائیگی (ری ایمبرسمنٹ) کا انتظار کیے بغیر اپنے جاری اخراجات کے لیے درکار سرمایہ تک تیزی سے رسائی حاصل کر سکیں گے۔ شرکاء نے اس بات پر بھی تبادلۂ خیال کیا کہ باہمی مطابقت رکھنے والا ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچہ شفافیت میں اضافہ، ادائیگیوں سے متعلق غیر یقینی صورتِ حال میں کمی اور پورے صحت کے نظام میں مالیاتی کارکردگی کو مضبوط بنانے میں کس طرح معاون ثابت ہو سکتا ہے۔

طبی تعلیم میں ڈیجیٹل صحت کے بڑھتے ہوئے استعمال کو اجاگر کرتے ہوئے قومی طبی کمیشن (این ایم سی) کے سکریٹری ڈاکٹر راگھو لنگر نے ملک بھر کے طبی کالجوں میں آیوشمان بھارت ڈیجیٹل مشن (اے بی ڈی ایم) کے نفاذ کے لیے کمیشن کی جاری کوششوں سے آگاہ کیا۔ انہوں نے اسپتال کے انتظامی معلوماتی نظام (ایچ ایم آئی ایس) کو اے بی ڈی ایم کے معیارات سے مربوط کرنے، آبھا سے منسلک طبی ریکارڈ کے وسیع تر استعمال اور ڈیجیٹل صحت کے اشاریوں اور طبی خدمات کے بوجھ سے متعلق اعداد و شمار کی بنیاد پر طبی کالجوں کا ٹیکنالوجی سے تقویت یافتہ اور معروضی جائزہ لینے کے لیے این ایم سی ڈیش بورڈ کی تیاری پر روشنی ڈالی۔

اجلاس میں سرکاری مالی اعانت سے چلنے والے صحتی نظام میں مصنوعی ذہانت کے استعمال پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا، جہاں سروَم اے آئی نے مصنوعی ذہانت پر مبنی ابھرتے ہوئے ایسے حل پیش کیے جو طبی فیصلہ سازی میں معاونت، انتظامی کارکردگی میں بہتری، صحتی نظام کی منصوبہ بندی کو مؤثر بنانے اور شہری مرکوز صحتی خدمات کی فراہمی کو فروغ دینے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔ شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ بھارت کے ڈیجیٹل صحتی نظام کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجیوں کو ذمہ دارانہ، محفوظ اور قابلِ توسیع انداز میں اختیار کرنا نہایت ضروری ہے۔

دو روزہ قومی جائزہ اجلاس میں ہونے والے تبادلۂ خیال کا خلاصہ پیش کرتے ہوئے قومی صحت اتھارٹی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر سنیل کمار برنوال نے کہا: ’’قومی جائزہ اجلاس خیالات اور معلومات کے دو طرفہ تبادلے کا ایک مؤثر ذریعہ بن چکا ہے، جس کے ذریعے ریاستیں اور مرکزی حکومت ایک دوسرے کے تجربات سے سیکھ رہی ہیں اور مشترکہ طور پر آیوشمان بھارت پردھان منتری جن آروگیہ یوجنا اور آیوشمان بھارت ڈیجیٹل مشن کے نفاذ کو مزید مضبوط بنا رہی ہیں۔‘‘

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image004LVAU.jpg

انہوں نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ دو روزہ اجلاس کے دوران ہونے والے تبادلۂ خیال سے ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کو پیش رفت کا جائزہ لینے، بہترین عملی تجربات کا تبادلہ کرنے اور نفاذ سے متعلق چیلنجوں کے لیے اختراعی حل تلاش کرنے کا موقع ملا۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ ڈیجیٹل صحتی ٹیکنالوجیوں، صحتی تجزیات اور شواہد پر مبنی فیصلہ سازی کا زیادہ سے زیادہ استعمال پروگراموں کے مؤثر نفاذ اور صحتی خدمات کی فراہمی کو بہتر بنانے میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔ انہوں نے اس یقین کا بھی اظہار کیا کہ ان مباحث کے نتیجے میں آیوشمان بھارت پردھان منتری جن آروگیہ یوجنا (اے بی پی ایم-جے اے وائی) اور آیوشمان بھارت ڈیجیٹل مشن (اے بی ڈی ایم) کے اگلے مرحلے کے لیے ایک مضبوط لائحۂ عمل سامنے آئے گا، جو تعاون پر مبنی وفاقی نظام کو مزید تقویت دینے کے ساتھ ساتھ ملک میں ڈیجیٹل صحت کے نظام کی تبدیلی کے عمل کو بھی تیز کرے گا۔

قومی جائزہ اجلاس کا اختتام اس تجدیدِ عہد کے ساتھ ہوا کہ مرکز اور ریاستیں باہمی اشتراک پر مبنی طرزِ حکمرانی، ڈیجیٹل اختراع، مالیاتی پائیداری اور شواہد پر مبنی پالیسی سازی کے ذریعے آیوشمان بھارت پردھان منتری جن آروگیہ یوجنا اور آیوشمان بھارت ڈیجیٹل مشن کے نفاذ کو مزید مضبوط بنائیں گی۔

دو روزہ تبادلۂ خیال نے اس امر کی اہمیت کو مزید اجاگر کیا کہ معلومات اور تجربات کا مسلسل تبادلہ، بہترین عملی طریقوں کو اختیار کرنا اور ٹیکنالوجی سے بھرپور استفادہ ایک زیادہ مضبوط، جامع اور شہری مرکوز صحتی نظام کی تشکیل کے لیے ناگزیر ہے۔ توقع ہے کہ قومی جائزہ اجلاس کے نتائج ملک بھر کے شہریوں کے لیے مساوی، کم خرچ اور ڈیجیٹل سہولتوں سے آراستہ صحت خدمات کو مزید وسعت دینے کے مقصد سے اصلاحات کے اگلے مرحلے کے لیے رہنمائی فراہم کریں گے۔

*****

ش ح۔ ش ا ر۔ ول

Uno-115­


(रिलीज़ आईडी: 2286106) आगंतुक पटल : 19
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Marathi , Tamil