دیہی ترقیات کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

بھارت ٹیکس 2026 میں لکھ پتی دیدیوں نے دیہی کاروباری صلاحیت، روایتی دستکاری اور مارکیٹ کے وسیع امکانات کا شاندار مظاہرہ کیا

प्रविष्टि तिथि: 17 JUL 2026 4:01PM by PIB Delhi

وزارتِ دیہی ترقی (ایم او آر ڈی) نے دین دیال انتودیہ یوجنا–نیشنل رورل لائیولی ہڈز مشن (ڈی اے وائی–این آر ایل ایم) کے تحت آج بھارت ٹیکس 2026 میں اپنی شرکت کامیابی کے ساتھ مکمل کی۔ اس چار روزہ نمائش کے دوران وزارت کے پویلین نے سیلف ہیلپ گروپوں (ایس ایچ جیز) سے وابستہ دیہی خواتین کی کاروباری صلاحیت، ہنرمندی اور خودکے روزگار کے جذبے کو بھرپور انداز میں پیش کیا۔اس پورے پروگرام کے دوران وزارت کا پویلین ملک بھر سے آنے والی ’’لکھ پتی دیدیوں‘‘ کے لیے ایک مؤثر پلیٹ فارم ثابت ہوا، جہاں انہیں خریداروں، صنعت سے وابستہ نمائندوں اور دیگر ناظرین سے براہِ راست رابطے کا موقع ملا۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے بھارت کی شاندار ٹیکسٹائل اور روایتی دستکاری کی وراثت کو بھی مؤثر انداز میں اجاگر کیا۔

تقریب کے اختتامی روز وزارتِ ٹیکسٹائل کی سکریٹری محترمہ نیلم شامی راؤ، وزارتِ دیہی ترقی کے ایڈیشنل سکریٹری جناب ٹی کے انل کمار، وزارتِ دیہی ترقی کی جوائنٹ سکریٹری محترمہ جے شری اور محترمہ سواتی شرما نے وزارت کے پویلین کا دورہ کیا۔ ان کا استقبال ڈے-این آر ایل ایم کی ڈائریکٹر ڈاکٹر مولیشری نے کیا۔وفد نے نمائش میں شریک ’’لکھ پتی دیدیوں‘‘ سے ملاقات کی، ان کے کاروباری سفر سے آگاہی حاصل کی اور خواتین کی قیادت میں قائم سیلف ہیلپ گروپوں (ایس ایچ جیز) کے تیار کردہ ہینڈلوم اور دستکاری کی متنوع مصنوعات کا مشاہدہ کیا۔

نمائش کے دوران وزارت کے پویلین نے ملک اور بیرونِ ملک سے آئے ہوئے خریداروں، برآمد کنندگان، صنعت سے وابستہ نمائندوں اور ناظرین کی بھرپور توجہ حاصل کی۔ ان ملاقاتوں کے ذریعے شریک خواتین کاروباری افراد کو اپنی مصنوعات متعارف کرانے، صنعت کے نمائندوں کے ساتھ خیالات کا تبادلہ کرنے اور اپنی مصنوعات کے لیے نئی منڈیوں تک رسائی کے امکانات تلاش کرنے کا قیمتی موقع ملا۔

وزارت کے پویلین میں بھارت کی متنوع ٹیکسٹائل روایات کی عکاسی کرنے والی ہینڈلوم مصنوعات کا ایک وسیع ذخیرہ پیش کیا گیا۔ ناظرین نے پٹا چتر، پین قلمکاری، پھلکاری کڑھائی، ایری ریشم، پشمینہ اور دیگر متعدد روایتی مصنوعات کا مشاہدہ کیا، جو ملک کے مختلف حصوں سے تعلق رکھنے والی دیہی خواتین کی تخلیقی صلاحیت، ہنرمندی اور کاروباری مہارت کا منہ بولتا ثبوت تھیں۔

نمائش کی ایک نمایاں کشش ’’سرس شکتی کلیکشن‘‘ رہی، جو ڈے-این آر ایل ایم کے تحت ایک اعلیٰ معیار کی تحائف پر مبنی پہل ہے۔ اس کے ذریعے دیہی خواتین کے سیلف ہیلپ گروپوں (ایس ایچ جیز) کی تیار کردہ منتخب دستکاری مصنوعات کو یکجا کیا گیا ہے۔ معیار، ڈیزائن، پیکجنگ اور مارکیٹ کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ اقدام خواتین کی قیادت میں قائم کاروباری اداروں کو ادارہ جاتی اور اعلیٰ درجے کی منڈیوں تک رسائی فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ روایتی دستکاری کی اصل شناخت کو بھی محفوظ رکھنے میں مدد دے رہا ہے۔

بھارت ٹیکس 2026 میں ’’لکھ پتی دیدیوں‘‘ کی شرکت نے اس حقیقت کو نمایاں کیا کہ خواتین کی قیادت میں قائم سیلف ہیلپ گروپوں کے کاروباری ادارے بھارت کے ٹیکسٹائل اور دستکاری کے شعبے میں مسلسل اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ دین دیال انتودیہ یوجنا–نیشنل رورل لائیولی ہڈز مشن (ڈی اے وائی–این آر ایل ایم) کے تحت دیہی خواتین کو مالی وسائل تک رسائی، مہارتوں میں اضافہ، کاروباری ترقی اور منڈیوں سے روابط قائم کرنے میں معاونت فراہم کی جاتی ہے، جس کے نتیجے میں وہ اپنی آمدنی میں اضافہ کرنے اور پائیدار ذریعۂ معاش قائم کرنے کے قابل ہو رہی ہیں۔

دین دیال انتودیہ یوجنا–نیشنل رورل لائیولی ہڈز مشن (ڈی اے وائی–این آر ایل ایم) کے تحت ملک بھر میں 10 کروڑ سے زائد دیہی خواتین کو سیلف ہیلپ گروپوں (ایس ایچ جیز) سے منسلک کیا جا چکا ہے۔ اسی مضبوط سماجی و ادارہ جاتی نیٹ ورک کی بنیاد پر ’’لکھ پتی دیدی‘‘ اقدام دیہی خواتین کو اپنے ذریعۂ معاش کو مستحکم بنانے، آمدنی میں اضافہ کرنے اور پائیدار کاروباری ادارے قائم کرنے کے قابل بنا رہا ہے۔ حکومت 3 کروڑ ’’لکھ پتی دیدیوں‘‘ کا ہدف حاصل کر چکی ہے اور اب 6 کروڑ ’’لکھ پتی دیدیاں‘‘ تیار کرنے کے وژن پر کام کر رہی ہے۔

بھارت ٹیکس 2026 میں وزارتِ دیہی ترقی کی شرکت نے خواتین کی قیادت میں قائم دیہی کاروباری اداروں کو مضبوط بنانے کے اس کے عزم کا اعادہ کیا۔ وزارت، ڈی اے وائی–این آر ایل ایم کے ذریعے مارکیٹ تک رسائی کو فروغ دینے، بھارت کی شاندار ٹیکسٹائل اور دستکاری کی وراثت کے تحفظ کو یقینی بنانے اور دیہی خواتین کاروباری افراد کو قومی و بین الاقوامی منڈیوں سے جوڑنے کے مزید مواقع فراہم کرنے کے لیے مسلسل سرگرم عمل ہے۔

******

 

( ش ح ۔ م م ۔ م ا )

Urdu.No-84


(रिलीज़ आईडी: 2285817) आगंतुक पटल : 11
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Gujarati , Tamil