کارپوریٹ امور کی وزارتت
azadi ka amrit mahotsav

آئی آئی سی اے کی ذمہ دارانہ کاروباری طرز عمل پر قومی کانفرنس (این سی آر بی سی) 2026 کا چوتھا ایڈیشن نئی دہلی میں منعقد


این سی آر بی سی 2026 کے افتتاحی اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ وکست بھارت کے ہدف کے حصول کے لیے ماحولیاتی، سماجی اور طرزِ حکمرانی (ای ایس جی) پر مبنی ذمہ دارانہ کاروباری طرزِ عمل کو بھارت کی معاشی مسابقت کو مضبوط بنانے کا ایک اہم محرک بنایا جائے

प्रविष्टि तिथि: 17 JUL 2026 2:31PM by PIB Delhi

ذمہ دارانہ کاروباری طرزِ عمل پر چوتھی قومی کانفرنس (این سی آر بی سی) 2026  کا افتتاح نئی دہلی میں کیا گیا۔ دو روزہ کانفرنس کا موضوع ‘‘ماحولیاتی، سماجی اور طرزِ حکمرانی (ای ایس جی) پر مبنی تبدیلی کے ذریعے وکست بھارت کی تعمیر’’  ہے۔

اس کانفرنس کا انعقاد  وزارتِ کارپوریٹ امور، حکومتِ ہند  کے تحت قائم خودمختار ادارے  انڈین انسٹی ٹیوٹ آف کارپوریٹ افیئرز (آئی آئی سی اے)  کے  اسکول آف بزنس انوائرمنٹ (ایس بی ای)  کی جانب سے کیا گیا ہے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image001NZT4.jpg

قومی مالیاتی رپورٹنگ اتھارٹی (این ایف آر اے) کے چیئرمین جناب نتن گپتا نے خصوصی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ذمہ دارانہ کاروباری طرزِ عمل وکست بھارت کے وژن کو حقیقت میں بدلنے، مسابقتی کاروباری اداروں کے فروغ، قابلِ اعتماد منڈیوں کے قیام، جامع ترقی اور ماحولیاتی پائیداری کے لیے ناگزیر ہے۔

جناب گپتا نے کہا کہ بھارت نے پائیداری سے متعلق معلومات کے انکشاف کے نظام کو مضبوط بنانے میں نمایاں پیش رفت کی ہے، تاہم اب ضرورت اس بات کی ہے کہ ان معلومات کے معیار، اعتبار اور فیصلہ سازی میں ان کی افادیت کو مزید بہتر بنایا جائے۔ انہوں نے زور دیا کہ پائیداری سے متعلق معلومات بامعنی، قابلِ موازنہ، شواہد پر مبنی اور قابلِ تصدیق ہونی چاہئیں، اور ان کی بنیاد مضبوط طریقۂ کار، قابلِ اعتماد معلوماتی نظام اور مؤثر داخلی کنٹرول پر استوار ہو۔

پائیداری سے متعلق معتبر رپورٹنگ کی بڑھتی ہوئی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے جناب گپتا نے کہا کہ پائیداری سے متعلق معلومات کو بھی وہی نظم و ضبط اور سخت جانچ کے معیار اپنانے چاہییں جو مالیاتی رپورٹنگ اور آڈٹ کی بنیاد ہوتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ دستاویزی ریکارڈ، معلومات کی سراغ رسانی، باہمی مطابقت، داخلی کنٹرول کی ذمہ داری، شواہد کا محفوظ رکھنا، پیشہ ورانہ غیر جانب داری اور آزادانہ جانچ جیسے اصول پائیداری سے متعلق معلومات کی ساکھ کو یقینی بنانے کے لیے بھی یکساں طور پر ضروری ہیں۔

انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ پائیداری سے متعلق رپورٹنگ میں متوازن اور عملی نقطۂ نظر اختیار کیا جائے، جدید ٹیکنالوجی سے بھرپور فائدہ اٹھایا جائے اور بالخصوص ویلیو چینز اور خرد، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں (ایم ایس ایم ایز) میں ادارہ جاتی صلاحیتوں کو مزید مضبوط بنایا جائے۔

اپنے استقبالیہ خطاب میں  انڈین انسٹی ٹیوٹ آف کارپوریٹ افیئرز (آئی آئی سی اے) کے ڈائریکٹر جنرل اور چیف ایگزیکٹو آفیسر جناب گیانیشور کمار سنگھ نے کہا کہ 2047 تک بھارت کو 30 کھرب امریکی ڈالر کی معیشت بنانے کے ہدف کے حصول کے لیے ضروری ہے کہ ماحولیاتی، سماجی اور طرزِ حکمرانی (ای ایس جی) کے اصول محض ضابطہ جاتی تعمیل تک محدود نہ رہیں بلکہ ملک کے معاشی ترقیاتی ماڈل کا لازمی حصہ بن جائیں۔

جناب سنگھ نے کہا کہ ذمہ دارانہ کاروباری طرزِ عمل بھارت کی تہذیبی اقدار میں گہرائی سے پیوست ہے اور وقت کے ساتھ پالیسی اور ضابطہ جاتی اصلاحات کے ذریعے مسلسل فروغ پاتا رہا ہے۔ انہوں نے ذمہ دارانہ کاروباری نظام کے ارتقا کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ 2009 میں جاری کیے گئے کارپوریٹ سماجی ذمہ داری سے متعلق رضاکارانہ رہنما اصولوں سے آغاز ہوا، جو 2021 میں کاروباری ذمہ داری اور پائیدار  رپورٹنگ (بی آر ایس آر) کے لازمی فریم ورک کے نفاذ تک پہنچا۔

انہوں نے مزید کہا کہ کمپنیز ایکٹ، 2013 کی دفعہ 166(2) میں متعلقہ فریقوں کے مفاد کو ترجیح دینے کے اصول کو اس وقت شامل کیا گیا تھا جب عالمی سطح پر اسے وسیع پیمانے پر تسلیم بھی نہیں کیا گیا تھا۔ یہ اس بات کا مظہر ہے کہ بھارت نے کارپوریٹ طرزِ حکمرانی میں پائیداری کے اصولوں کو شامل کرنے کے لیے ابتدا ہی سے سنجیدہ اقدامات کیے۔

جناب سنگھ نے بھارت میں پائیداری کے فروغ کو ‘‘ای ایس جی 1.0’’ سے ‘‘ای ایس جی 2.0’’ کی جانب پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ اب ای ایس جی صرف ضابطہ جاتی تقاضوں کی تکمیل تک محدود نہیں رہا بلکہ طویل مدتی کاروباری قدر میں اضافے، مؤثر خطرات کے انتظام اور کاروباری استحکام کو فروغ دینے والا ایک اہم اسٹریٹجک محرک بن چکا ہے۔

انہوں نے زور دے کر کہا کہ اس تبدیلی کے لیے مضبوط قانونی، طرزِ حکمرانی اور جوابدہی کے ڈھانچوں کی ضرورت ہے تاکہ پائیداری سے متعلق وعدے قابلِ اعتماد، قابلِ نفاذ اور امانتی ذمہ داریوں سے ہم آہنگ ہوں۔ بھارت کے ای ایس جی  سفر کے اگلے مرحلے کی ترجیحات بیان کرتے ہوئے جناب سنگھ نے اس بات پر زور دیا کہ پائیداری سے متعلق امور کو بورڈ کی سطح پر فیصلہ سازی کا لازمی حصہ بنایا جائے، پائیداری سے متعلق معلومات کی توثیق کے لیے قانونی اور ضابطہ جاتی نظام کو مزید مضبوط کیا جائے تاکہ  گرین واشنگ (ماحول دوست ہونے کے گمراہ کن دعووں) کے خطرات کا مؤثر تدارک کیا جا سکے، اور مصنوعی ذہانت سمیت ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ویلیو چین میں پائیداری سے متعلق معلومات کے معیار، سراغ رسانی اور شفافیت کو بہتر بنایا جائے۔

خصوصی خطاب کرتے ہوئے یونیسیف انڈیا کے ڈپٹی نمائندہ (پروگرامز) جناب جیسپر مولر نے کہا کہ بچوں کے حقوق کو خیراتی سرگرمی کے بجائے کاروباری حکمتِ عملی کا بنیادی حصہ بنایا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت میں 400 میلین سے زائد بچے رہتے ہیں، جو مستقبل کی افرادی قوت اور صارفین کی نمائندگی کرتے ہیں۔انہوں نے وضاحت کی کہ زچگی کے لیے  رخصت، کام کی جگہ پر بچوں کی نگہداشت کے مراکز (کریچ) اور ذمہ دارانہ سپلائی چین جیسے فیصلے بچوں کی فلاح و بہبود پر براہِ راست اثر انداز ہوتے ہیں۔ انہوں نے آسام کے ایک چائے کے باغ میں کام کرنے والی ایک نوجوان ماں کی مثال دیتے ہوئے بتایا کہ اس کے ادارے کی خاندان دوست پالیسیوں نے نہ صرف اس کے بچے کی بہتر دیکھ بھال کو یقینی بنایا بلکہ کمپنی میں ملازمین کو برقرار رکھنے کی شرح میں بھی بہتری لائی ہے۔

ورچوئل خطاب کرتے ہوئے ایسوسی ایشن آف چارٹرڈ سرٹیفائیڈ اکاؤنٹنٹس (اے سی سی اے) کی چیف ایگزیکٹو محترمہ ہیلن برانڈ نے پائیدار کاروباری طریقوں کے فروغ کے لیے انڈین انسٹی ٹیوٹ آف کارپوریٹ افیئرز (آئی آئی سی اے( کے ساتھ اے سی سی اے کی شراکت داری کا اعادہ کیا۔ انہوں نے بھارت کی تیز رفتار اقتصادی ترقی اور عالمی سطح پر بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کا ذکر کرتے ہوئے بھارتی معیشت کو ‘‘چاند کی جانب بڑھتے ہوئے راکٹ’’ سے تشبیہ دی۔ انہوں نے اے سی سی اے کی گلوبل ٹیلنٹ ٹرینڈز رپورٹ 2026 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دنیا بھر میں مالیاتی شعبے کے پیشہ ور افراد کی بڑھتی ہوئی اکثریت ایسے پیشوں کو ترجیح دے رہی ہے جن سے معاشرے پر مثبت اثرات مرتب ہوں، جبکہ سماجی اور انسانی حقوق کے معاملات میں کسی ادارے کی ساکھ اب ملازمت کے انتخاب کا ایک اہم معیار بن چکی ہے۔

افتتاحی اجلاس کے اختتامی خطاب میں انڈین انسٹی ٹیوٹ آف کارپوریٹ افیئرز کے اسکول آف بزنس انوائرمنٹ کی سربراہ پروفیسر گریما دادھیچ نے کہا کہ ذمہ دارانہ کاروباری طرزِ عمل وکست بھارت کے وژن کی تکمیل کے لیے ناگزیر ہے، اور پائیداری کو صرف ضابطہ جاتی تعمیل کے بجائے ترقی کی بنیاد کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔

انہوں نے کانفرنس کے لیے تین بنیادی رہنما اصول بیان کیے: نسلی و بین النسلی ذمہ داری، اجتماعی عمل سے متعلق رِگ وید کے پیغام ‘‘سنگچھدھوم، سم وددھوم، سم وو منامسی جانتام’’ پر مبنی تہذیبی وابستگی، اور بھارت کے جی-20 وژن ‘‘ایک زمین، ایک خاندان، ایک مستقبل’’ سے ہم آہنگی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس سال کی کانفرنس میں ہونے والی گفتگو مرکزی بجٹ 2026-27 کی ترجیحات کے مطابق ترتیب دی گئی ہے، جس میں سبز ترقی، موسمیاتی تبدیلی سے ہم آہنگ منتقلی اور پائیدار بنیادی ڈھانچے کو قومی مالیاتی پالیسی کا مرکزی محور بنایا گیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ پارلیمانی قائمہ کمیٹی برائے مالیات نے مضبوط ای ایس جی فریم ورک، زیادہ مؤثر معلوماتی انکشافات اور اثرات کے مزید سخت جائزے پر بھی زور دیا ہے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image002NT49.jpg

افتتاحی اجلاس کے بعد "ای ایس جی، طرزِ حکمرانی اور بورڈ کی سطح پر معلومات کے انکشافات" کے موضوع پر ایک اعلیٰ سطحی پینل مباحثہ منعقد ہوا، جس کی نظامت پروفیسر گریما دادھیچ نے کی۔ اس مباحثے میں ریگولیٹری اداروں کے نمائندوں اور صنعتی شعبے کے قائدین نے شرکت کی اور اس بات پر غور کیا کہ ذمہ دارانہ کاروباری طرزِ عمل کو کارپوریٹ طرزِ حکمرانی کا مؤثر حصہ کیسے بنایا جا سکتا ہے۔

سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج بورڈ آف انڈیا (سیبی) کے کل وقتی رکن جناب امرجیت سنگھ نے عالمی معیارات سے جلد بازی میں ہم آہنگی اختیار کرنے کے خلاف خبردار کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کو اپنی ترقی کے مرحلے اور قومی ضروریات کے مطابق اپنا تدریجی راستہ اختیار کرنا چاہیے، نہ کہ بین الاقوامی فریم ورک سے عجلت میں مطابقت پیدا کرنی چاہیے۔

آئل اینڈ نیچرل گیس کارپوریشن (او این جی سی)کے چیئرمین جناب ارون کمار سنگھ نے کہا کہ کم وعدے کرنے کے بجائے بڑے اہداف مقرر کرنا، خواہ ان کی تکمیل میں کچھ کمی رہ جائے، زیادہ بہتر ہے۔ انہوں نے ریگولیٹری اداروں پر زور دیا کہ وہ کمپنیوں کو بلند عزائم اور مثبت نیت کی بنیاد پر حوصلہ افزائی کریں، نہ کہ صرف اہداف سے کم رہ جانے پر سزا دیں۔ ان کے مطابق طرزِ حکمرانی میں نیت اور باہمی اعتماد بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔

کونسل آن انرجی، انوائرمنٹ اینڈ واٹر (سی ای ای ڈبلیو) کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر ارونبھ گھوش نے کہا کہ ای ایس جی کو اکثر ایک موقع کے بجائے ایک "بوجھ" یا "مسئلہ" سمجھا جاتا ہے، حالانکہ بھارت کی سبز معیشت میں تقریباً 4 کھرب امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری کے مواقع موجود ہیں۔

نیشنل اسٹاک ایکسچینج (این ایس ای)کے سینئر مشیر جناب شیلیش پاٹھک نے کہا کہ سرمایہ وہاں جاتا ہے جہاں اسے مواقع نظر آتے ہیں، لیکن وہیں برقرار رہتا ہے جہاں اعتماد موجود ہو۔ انہوں نے سوشل اسٹاک ایکسچینج کو سرمایہ اور سماجی اداروں کے درمیان شفاف رابطے کا مؤثر ذریعہ قرار دیا۔

کرلوسکر انڈسٹریز لمیٹڈ (کے آئی ایل) کے منیجنگ ڈائریکٹر جناب جارج ورگیز نے بتایا کہ اخراج سے متعلق سخت ضابطے ابتدا میں ان کی کمپنی کے لیے اضافی لاگت کا باعث محسوس ہوئے، لیکن بعد میں انہی ضابطوں کی بدولت ان کی مصنوعات کے لیے بین الاقوامی منڈیاں کھل گئیں۔

انسٹی ٹیوٹ آف چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس آف انڈیا (آئی سی اے آئی) کے سسٹین ایبلٹی رپورٹنگ اسٹینڈرڈز بورڈ (ایس آر ایس بی) کے چیئرمین سی اے پرمود جین نے کہا کہ بھارت ان اولین ممالک میں شامل ہو گیا ہے جہاں ای ایس جی سے متعلق یقین دہانی (ایشورنس) کو رضاکارانہ کے بجائے لازمی قرار دیا گیا ہے، جس سے بورڈ کی جانب سے جاری کی جانے والی معلومات کو مالیاتی بیانات جیسی معتبر حیثیت حاصل ہوئی ہے۔

اس پینل مباحثے کی نظامت انڈین انسٹی ٹیوٹ آف کارپوریٹ افیئرز (آئی آئی سی اے) کے اسکول آف بزنس انوائرمنٹ کی سربراہ پروفیسر گریما دادھیچ نے کی۔

350 سے زائد سینئر کارپوریٹ رہنماؤں، ای ایس جی کے ماہرین، پالیسی سازوں اور بین الاقوامی مندوبین کی بھرپور شرکت اور ممتاز مقررین کی بصیرت افروز گفتگو کے باعث این سی آر بی سی 2026 کے پہلے دن نے آئندہ اجلاسوں کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کی۔

کانفرنس کے دوسرے روز مختلف شعبوں میں ای ایس جی کے مؤثر انضمام کے لیے شعبہ جاتی رہنما اصول، عالمی اور ملکی سپلائی نیٹ ورکس میں ذمہ دارانہ ویلیو چینز کا فروغ، خرد، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں (ایم ایس ایم ایز) میں مسابقتی اور جامع ترقی کے لیے ای ایس جی کو مرکزی دھارے میں لانا، بی آر ایس آر سے آگے بڑھ کر مختلف شعبوں میں ای ایس جی کو مزید مضبوط بنانا، اور ای ایس جی رپورٹنگ کے فریم ورک میں ماحولیاتی اشاریوں کی ازسرِنو تشکیل جیسے موضوعات پر اعلیٰ سطحی پینل مباحثے منعقد ہوں گے، جن کا اختتام اختتامی اجلاس پر ہوگا۔

 

دو روزہ جامع پروگرام پر مشتمل انڈین انسٹی ٹیوٹ آف کارپوریٹ افیئرز (آئی آئی سی اے) کی این سی آر بی سی 2026 کانفرنس کا انعقاد یونیسیف، پارٹنرز اِن چینج اور ایسوسی ایشن آف چارٹرڈ سرٹیفائیڈ اکاؤنٹنٹس (اے سی سی اے) کے تعاون سے بطور مرکزی شراکت دار، انسٹی ٹیوٹ آف چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس آف انڈیا (آئی سی اے آئی) اور گلوبل الائنس فار امپرووڈ نیوٹریشن (گین) کے اشتراکی شراکت دار، جبکہ یو این ویمن، کونسل آن انرجی، انوائرمنٹ اینڈ واٹر (سی ای ای ڈبلیو)، ڈبلیو آر آئی انڈیا اور بین الاقوامی محنت تنظیم (آئی ایل او)کے اجلاس شراکت داروں کے تعاون سے کیا جا رہا ہے۔

اس کانفرنس کا مقصد ذمہ دارانہ کاروباری طرزِ عمل کو 2047 تک بھارت کو ایک ترقی یافتہ، جامع اور اخلاقی اقدار پر مبنی ملک بنانے کے قومی سفر کا لازمی جزو بنانا ہے۔

***

ش ح۔ش ت۔ر ب

U-73


(रिलीज़ आईडी: 2285800) आगंतुक पटल : 8
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Gujarati , Tamil