وزیراعظم کا دفتر
ہریانہ کے جند میں متعدد ترقیاتی منصوبوں کے افتتاح کے موقع پر وزیر اعظم کے خطاب کا متن
प्रविष्टि तिथि:
17 JUL 2026 3:18PM by PIB Delhi
بھارت ماتا کی جے-بھارت ماتا کی جے۔
ہریانہ کے گورنر جناب اسیم گھوش جی، یہاں کے ہردل عزیز اور پرجوش وزیر اعلیٰ نائب سنگھ سینی جی، مرکزی کابینہ میں میرے ساتھی اشونی ویشنو جی، یہاں موجود دیگر عوامی نمائندگان اور ٹیکنالوجی کے ذریعے ہریانہ کے مختلف مقامات سے اس پروگرام میں شامل میرے پیارے ہریانہ کے بھائیو اور بہنو!
یہ کچھ تصویریں لائے ہیں، لے لوبھائی، ورنہ پیچھے کسی کو نظر نہیں آئے گا۔ذرا ایس پی جی کے اہلکار انہیں جمع کر لیں۔ شکریہ بھائی، آپ بہت خوبصورت تصویریں بنا کر لائے ہیں، آپ کا بہت شکریہ۔ ادھر ایک چھوٹی بچی بھی کچھ لے کر آئی ہے، اسے بھی ذرا لے لیجیے۔ادھر بھی دو حضرات نظر آ رہے ہیں۔ اب آپ سب آرام سے بیٹھ جائیے۔ آپ کی محبت اور آپ کی اس فنکارانہ کاوش کے لیے میں آپ سب کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں۔
ساتھیو،
جند کی اس باوقار سرزمین سے میں آپ سب کو رام رام کہتا ہوں! آج اس مقدس دھرتی پر آ کر میرا دل خوشی سے بھر گیا ہے۔یہ کوئی معمولی سرزمین نہیں سے(ہے)۔ یہ تاریخ، بہادری، دھرم اور وقار کی سرزمین سے(ہے)۔ شکتی پیٹھ ماتا جینتیاں کا نام اور ان کی آشریواد کا سایہ ہمیشہ اس شہر پر قائم رہتا ہے اور میرے لیے توجند آنا پرانی یادوں کی کھڑکی کھل جانے کے مترادف ہے۔ میں یہاں بیٹھے ہوئے کئی پرانے اور جانے پہچانے چہرے دیکھ رہا تھا۔ بہت سے لوگ تو شاید یہ دعویٰ بھی کرتے ہوں گے کہ میں جند میں ان کے اسکوٹر پر آیا کرتا تھا۔ کئی دہائیاں پہلے میں تنظیمی کام کے سلسلے میں پہلی بارجند آیا تھا۔ پھر آپ لوگوں نے مجھے جو اپنا پن دیا، جو محبت دی، اسے میں آج تک نہیں بھولا۔مرّا نسل کی بھینس کا دودھ، دہی اور گھی، جند کا دیسی بورا اور یہاں کا گھیور، یہ سب ایسی یادیں ہیں جو جند کے ساتھ ہمیشہ جڑی ہی جاتی ہیں۔
ساتھیو،
اتنے برسوں میں جند کا گھی اور گھیور تو نہیں بدلا، لیکن جند کے تیور ضرور بدل گئے ہیں۔ آج جند، بی جے پی-این ڈی اے کے بہتر طرز حکمرانی کے ماڈل کی ایک نمایاں تصویر بن چکا ہے۔ گزشتہ برسوں میں پورا ہریانہ ترقی کی ایک نئی پٹری پر گامزن ہوا ہے۔ آج کا یہ پروگرام ڈبل انجن والی بی جے پی حکومت کے اسی مشن کو نئی توانائی فراہم کر رہا ہے۔
ساتھیو،
آج جند اور ہریانہ کا نام تاریخ کے صفحات میں درج ہو گیا ہے۔ آج یہاں سے ملک کو پہلی ہائیڈروجن ٹرین ملی ہے۔
آپ کو یاد ہوگا، ساتھیو،
آج بھی ہم پڑھتے اور سنتے ہیں کہ ہندوستان میں پہلی ٹرین بمبئی سے تھانے کے درمیان چلی تھی، جسے آج ممبئی کہا جاتا ہے۔ اسی طرح مستقبل میں جب بھی ہائیڈروجن ٹرین کا ذکر ہوگا توجند، سونی پت اور ہریانہ کا نام بھی ضرور لیا جائے گا۔ میں آپ سب کو، پورے ملک کو،ہندوستانی ریلوے کی جدیدیت سے وابستہ اس اہم پیش رفت پر دل کی گہرائیوں سے مبارک باد پیش کرتا ہوں۔
ساتھیو،
آج ہریانہ کو 14 ہزار کروڑ روپے سے زائد مالیت کے دیگر ترقیاتی منصوبے بھی ملے ہیں۔ ان میں ریلوے اور شاہراہوں سے متعلق متعدد منصوبے شامل ہیں، ہماری ثقافتی وراثت سے وابستہ منصوبے بھی ہیں اور دو نئے میڈیکل کالج بھی ہریانہ کے عوام کی خدمت کے لیے وقف کیے گئے ہیں۔ بھیوانی میں پنڈت نیکی رام شرما میڈیکل کالج اور نارنول میں مہارشی چیون میڈیکل کالج اور راؤ تولارام اسپتال کے قیام سے ہریانہ کی صحت کی خدمات مزید بہترہوں گی۔ اس کے ساتھ ہی یہاں کے نوجوانوں کے لیے ڈاکٹر اور دیگر طبی پیشہ ور بننے کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔ ان تمام منصوبوں پر میں ہریانہ کے اپنے تمام بھائیوں اور بہنوں کو بہت بہت مبارک باد پیش کرتا ہوں۔
ساتھیو،
آج میں جند اور ہریانہ کے عوام کی ایک اور بات پر بھی تعریف کرنا چاہتا ہوں۔ آپ نے ’سوچھتا سے سواگتم (صفائی سے استقبال) مہم کو جس سنجیدگی سے اپنایا ہے اور میرے آنے سے پہلے جس طرح یہاں کے لوگوں نے نئی توانائی اور نئے جوش کے ساتھ صفائی مہم چلائی ہے، وہ واقعی دل خوش کر دینے والا عمل ہے۔میں دیکھ رہا تھا کہ گزشتہ ایک ہفتے سے سوشل میڈیا پر آپ کی اس صفائی مہم کا بہت چرچا رہا ہے۔ تاہم کچھ لوگوں نے سوشل میڈیا پر یہ بھی لکھا کہ ’مودی جی، آپ بار بار آئیے تاکہ ہمارا جِند صاف ستھرا رہے۔‘جن صاحب نے یہ جذبات ظاہر کیے ہیں، میں ان کا شکریہ ادا کرتا ہوں، لیکن آج میں جند کے لوگوں سے ایک چیز مانگنے آیا ہوں۔ آپ ہی بتائیے، کیااس صفائی کےلیے، اس سوچھتا کے لیے مودی کا آنا ضروری ہے؟ اگر جند کے لوگ اور ہریانہ کے لوگ یہ عزم کر لیں کہ اب ہم گندگی نہیں پھیلائیں گے، تو کیاجند کبھی گندا ہوگا؟ کیا ہریانہ میں گندگی پھیلے گی؟لہٰذا صرف ایک ہی کام کرنا ہے۔ مودی کے آنے کی ضرورت نہیں، صرف آپ کو یہ عہد کرنا ہے کہ صفائی کو اپنی طرز زندگی میں شامل کریں گے ، صفائی کو اپنی تہذیب اور اپنے اقدار کا حصہ بنائیں گے اور اسی طرح صفائی کو اپنی روزمرہ زندگی کا لازمی حصہ بنائے رکھیں گے۔
ساتھیو،
اگر ہم ریلوے کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو معلوم ہوتا ہے کہ انیسویں صدی کی ریلوے کی پہچان بھاپ کے انجن تھے۔ بیسویں صدی کی پہچان ڈیزل اور بجلی سے چلنے والی ٹرینیں بنیں اور اب اکیسویں صدی کی ریل ہائیڈروجن سے چلنے والی ہے۔ آج ہندوستانی ریلوے نے بھی اکیسویں صدی کی اس ٹیکنالوجی کی جانب ایک بڑا قدم اٹھایا ہے۔آج جند سے سونی پت کے درمیان ہائیڈروجن ٹرین چلائی گئی ہے۔ فی الحال اس کا سفر 90 کلومیٹر کا ہے، لیکن مستقبل میں اس کے مزید توسیع پانے کے وسیع امکانات موجود ہیں۔ ہم اس پر مسلسل تحقیق کرتے رہیں گے کہ لاگت کیسے کم کی جائے، اس کا بہتر طریقہ تلاش کرتے رہیں گے، اس کی کارکردگی کیسے بڑھائی جائے اور مکمل جانچ اور تحقیق کے بعد مرحلہ وار آگے بڑھتے رہیں گے۔دنیا میں ہائیڈروجن ٹرین کی شروعات ابھی چند ہی برس پہلے ہوئی ہے، تقریباً سات آٹھ سال پہلے یہ وجود میں آئی۔ اس وقت دنیا کے صرف تین یا چار ممالک ہی ایسے ہیں جو ہائیڈروجن ٹرین چلانے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور جہاں یہ ٹرینیں چل بھی رہی ہیں وہاں ابھی ابتدائی مرحلے میں ہیں، لیکن ہندوستان کی اس ہائیڈروجن ٹرین کی صلاحیت کے بارے میں جان کر آپ کوبھی فخر ہوگا اور ہر ہندوستانی کو باعث ناز ہوگا۔
ساتھیو،
جند سے سونی پت کے درمیان چلنے والی ہائیڈروجن ٹرین دنیا کی سب سے طاقتور ہائیڈروجن ٹرین ہے۔یہ ہائیڈروجن ٹرین، 3,200 ہارس پاور کی ہے۔ تھری تھاؤزن ٹو ہنڈریڈ ہارس پاوور اور سب سے زیادہ طاقتور ہی نہیں، ہندوستان کی ہائیڈروجن ٹرین، سب سے لمبی بھی ہے۔ دنیا میں جہاں جہاں ہائیڈروجن ٹرینیں چل رہی ہیں، وہ تین یا چار کوچز پر مشتمل ہیں، جبکہ ہندوستان نے پہلی ہی کوشش میں براہ راست دس کوچوں والی ہائیڈروجن ٹرین چلا کر دنیا میں اپنا پرچم لہرادیا ہے۔
ساتھیو،
میں آپ کو فخر کی ایک اور بات بتانا چاہتا ہوں۔ ہندوستان کی یہ ہائیڈروجن ٹرین نہ صرف دھوئیں سے پاک ہے بلکہ میک اِن انڈیا کی ایک نہایت کامیاب مثال بھی ہے۔ اس ہائیڈروجن ٹرین کا ڈیزائن ہندوستان ہی کے انجینئروں نے تیار کیا ہے اور اسے ایک ہندوستانی کمپنی نے ہی بنایا ہے۔
ساتھیو،
یہ ہائیڈروجن ٹرین دیگر ٹرینوں سے بالکل مختلف ہے۔ اس کے لیے مکمل طور پر الگ نظام اور الگ بنیادی ڈھانچے کی ضرورت ہوتی ہے۔ جند میں بھی اس کے لیے تمام ضروری انتظامات کیے گئے ہیں۔ آنے والے وقت میں یہاں ہائیڈروجن ٹرین سے متعلق مزید بنیادی ڈھانچہ تیار ہوگا اور نئی نئی فیکٹریاں قائم ہوں گی، جو ہائیڈروجن ٹرین نیٹ ورک کی ضروریات پوری کریں گی۔ یعنی اس ٹرین کی بدولت ہریانہ کے نوجوانوں کے لیے روزگار کے بے شمار نئے مواقع پیدا ہونا طے ہیں۔
ساتھیو،
گزشتہ12 برسوں میں ہندوستانی ریلوے میں جو بڑی تبدیلیاں آئی ہیں، ان سے ہندوستان کو ایک اور اہم فائدہ بھی حاصل ہوا ہے۔ آپ دیکھ رہے ہیں کہ گزشتہ کئی مہینوں سے مغربی ایشیا، آبنائے ہرمز کے پورے خطے، ایران اور خلیجی علاقے میں جنگ جاری ہے۔ اسی سمندری راستے سےہندوستان بڑی مقدار میں پٹرول، ڈیزل، ایل پی جی گیس اور ہمارے کسانوں کے لیے کھاد حاصل کرتا ہے، لیکن گزشتہ تین چار مہینوں سے یہ راستہ مسلسل جنگ کا میدان بنا ہوا ہے اور شدید خطرات سے گھرا ہوا ہے۔
ساتھیو،
اگر 2014 سے پہلے ایسی صورتحال پیدا ہوتی تو آج ہندوستان کا ریلوے کانظام مکمل طور پر مفلوج ہو جاتا۔ اس وقت ملک کا ایک بہت بڑا حصہ ایسا تھا ،جہاں ٹرینیں صرف ڈیزل سے چلتی تھیں۔ ذرا سوچیے، اگر ڈیزل کی فراہمی بند ہو جاتی تو ڈیزل سے چلنے والی ٹرینیں کیسے چل پاتیں؟ ملک کس قدر بڑے بحران میں پھنس جاتا۔
لیکن ساتھیو،
یہ 2014کی صورتحال نہیں ہے، یہ مودی ہے۔ مودی نہ صرف بہت پہلے سے سوچتا ہے بلکہ مسائل کے حل کو عملی جامہ بھی پہناتا ہے۔ ذرا سوچیے،ہندوستانی ریلوے میں بجلی کاری کا آغاز 1925 میں ہوا تھا۔ یہ سن کر بھی آپ حیران ہوں گے کہ اس کی شروعات تقریباً سو سال پہلے ہوئی تھی۔1925 سے لے کر 2014 تک، یعنی تقریباً 90 برسوں میں، ملک کے پورے ریلوے نیٹ ورک کا صرف 30 فیصد، یعنی ایک تہائی سے بھی کم حصہ برقی بنایا جا سکا تھا۔ باقی 70 فیصد نیٹ ورک ڈیزل پر چلتا تھا اور اگر 90 برس میں صرف 30 فیصد کام ہوا تھا تو سو فیصد بجلی کاری مکمل ہونے میں مزید دو سو برس لگ جاتے، یعنی تقریباً 300 سال درکار ہوتے۔ شاید ہندوستانی ریلوے کبھی مکمل طور پر برقی نہ ہو پاتی اور ٹرینیں ڈیزل سے ہی چلتی رہتیں،لیکن گزشتہ 12 برسوں میں ہندوستان کے تقریباً 99 فیصد ریلوے نیٹ ورک کی بجلی کاری مکمل ہو چکی ہے۔ ہریانہ میں تو ریلوے نیٹ ورک کا سو فیصد برقی کاری کا کام مکمل ہو گیا ہے۔ اسی وجہ سے جنگ کے باوجود، تیل کے بحران کے باوجود، ہندوستان کی ریل نہیں رکی، ہندوستان کی ترقی کی رفتار نہیں تھمی اور ٹرینیں مسلسل چلتی رہیں۔
ساتھیو،
چاہے ریلوے ہو یا سڑکیں، اس طرح کی رابطہ کاری نہ صرف سہولت فراہم کرتی ہے ،بلکہ ترقی کی رفتار کو بھی کئی گنا بڑھا دیتی ہے۔ آج جند کئی قومی شاہراہوں سے جڑ رہا ہے اور اسی اسٹیج سے بھی تین بڑے منصوبوں کا آغاز کیا گیا ہے۔دہلی-امرتسر-کٹرا ایکسپریس وے کے ہریانہ حصے کا افتتاح کیا گیا ہے۔ جِند-گوہانہ قومی شاہراہ بھی قوم کے نام وقف کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ امبالہ۔کالاامبالہ فور لین شاہراہ سے ہریانہ اور ہماچل پردیش دونوں ریاستوں کے عوام کو بڑی سہولت حاصل ہوگی۔
ساتھیو،
اب جند ملک کا ایسا ضلع بن گیا ہے جو پانچ قومی شاہراہوں سے مربوط ہے۔ اس طرح کی بہتر رابطہ کاری سے یہاں کے کسانوں اور مویشی پروروں کے لیے اپنی پیداوار بڑی منڈیوں تک پہنچانا آسان اور سستا ہوگا۔ اس سے صنعتوں کو فروغ ملے گا، سیاحت کو نئی پرواز ملے گی اور بڑی تعداد میں روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔
ساتھیو،
آپ سب جانتے ہیں کہ میں ابھی چند روز پہلے ہی انڈونیشیا، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے دورے سے واپس آیا ہوں۔ وہاں ہندوستان نے کئی اہم معاہدے کیے، جن کی بہت چرچا ہوئی، لیکن ایک ایسا موضوع بھی تھا، جس پر زیادہ بات نہیں ہوئی۔ یہ موضوع میرے ملک کے نوجوانوں، خصوصاً ہریانہ کے نوجوانوں سے متعلق ہے اور وہ ہے کھیل کود،اسپورٹس۔
ساتھیو،
آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ میں وہاں کی حکومتوں کے ساتھ کھیلوں کے شعبے پر میری تفصیلی گفتگو ہوئی۔ آنے والے وقت میں ہم ان دونوں ممالک کے ساتھ مل کر اسپورٹس انڈسٹری، کھلاڑیوں کی تربیت اور کھیلوں سے متعلق متعدد شعبوں میں وسیع پیمانے پر کام کریں گے۔ اس کا فائدہ ہریانہ کے نوجوانوں کو بھی ضرور پہنچے گا۔
ساتھیو،
آج ہندوستان میں کھیلوں کو صحت مند زندگی اور روزگار کا ایک اہم ذریعہ بنایا جا رہا ہے۔ ہماری حکومت نے نئی قومی کھیل پالیسی، کھیلو بھارت پالیسی بھی متعارف کرائی ہے۔ کھیلو انڈیا مہم سے لے کر ٹاپس(ٹی او پی ایس) اسکیم تک، آج کھلاڑیوں کو بے مثال سہولتیں فراہم کی جا رہی ہیں اور انہیں ہزاروں روپے کی مالی معاونت بھی دی جا رہی ہے۔ یہاں ہریانہ میں بھی بی جے پی حکومت کھیلوں اور کھلاڑیوں کی بھرپور حوصلہ افزائی کر رہی ہے۔
ساتھیو،
آج کا یہ پروگرام اگرچہ ہائیڈروجن ٹرین اور دیگر ترقیاتی منصوبوں سے متعلق ہے، لیکن میں یہاں کے نوجوانوں سے ایک اور بات بھی کہنے آیا ہوں۔آپ سبھی جانتے ہیں کہ 2030 میں ہندوستان دولت مشترکہ کھیلوں کی میزبانی کرے گا اور 2036 میں اولمپک گیمز ہندوستان میں منعقد ہوں، اس کے لیے بھی ہم پوری تیاری کر رہے ہیں۔ اس لیے ہر کھلاڑی کو بھرپور محنت کرنی ہے، اپنی پوری صلاحیت جھونک دینی ہے۔میں آپ کو یقین دہانی کرتا ہوں کہ ڈبل انجن والی بی جے پی حکومت آپ کو ہر ممکن سہولت فراہم کرے گی اور جو لوگ 2036 کے اولمپکس دیکھنا چاہتے ہیں، انہیں آج ہی ان بچوں پر توجہ مرکوز کرنی ہوگی ،جن کی عمر اس وقت تقریباً 5 سے 12 یا 15 سال ہے- ایک بات اور بتا دوں، آنے والے وقت میں احمد آباد میں ورلڈ پولیس اینڈ فائر گیمز بھی منعقد ہونے والے ہیں۔ میں ہریانہ کے ساتھیوں سے کہوں گا کہ اس کے لیے بھی خوب تیاری کریں۔ مجھے پورا یقین ہے کہ ہریانہ کے بیٹے اور بیٹیاں ہمیشہ کی طرح ان مقابلوں میں بھی اپنی کامیابیوں کا پرچم لہرائیں گے۔
ساتھیو،
ہریانہ کی ڈبل انجن سرکار ’سب کا ساتھ، سب کا وکاس‘ کے اصول پر عمل کر رہی ہے۔ نائب سنگھ جی کی قیادت میں ہریانہ حکومت نوجوانوں، کسانوں، بہنوں اور بیٹیوں، سب کے لیے بہترین کام کر رہی ہے۔ خرچی-پرچی یعنی سفارش اور رشوت کے بغیر سرکاری ملازمتیں دینے کا جو راستہ ہریانہ حکومت نے دکھایا ہے، وہ آسان نہیں تھا، لیکن بی جے پی حکومت نے اسے حقیقت میں بدل کر دکھایا ہے۔
ساتھیو،
یہاں کے کسانوں کی بھلائی بھی ہماری اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ جند کی منڈی ہریانہ کی سب سے بڑی منڈیوں میں سے ایک ہے۔ ڈبل انجن والی بی جے پی حکومت کی بدولت ہریانہ کے کسانوں کو بہت فائدہ پہنچا ہے۔ پردھان منتری کسان سمان ندھی کے تحت ہریانہ کے کسانوں کو اب تک تقریباً 8 ہزار کروڑ روپے فراہم کیے جا چکے ہیں۔ ان میں جند کے ہمارے کسانوں کو بھی 600 کروڑ روپے سے زیادہ کی رقم مل چکی ہے۔
ساتھیو،
ہمارا ملک تہذیب، اقدار اور ثقافت کا ملک ہے اور یہ خطہ تو اس عظیم ورثے کا ایک اہم مرکز ہے۔ یہ جند کی سرزمین ہے ،جہاں مہاراجہ رنجیت سنگھ کی عظمت کی یاد بھی موجود ہے اور پانڈوؤں کی عقیدت بھی۔ پانڈو- پنڈارا اور رام رائے جیسے مقدس تیرتھ آج بھی لاکھوں عقیدت مندوں کی آستھا اور عقیدت کا مرکز ہیں۔
ساتھیو،
آستھا(عقیدت)اور روحانیت کی یہی عظیم روایت ہے ،جسے آج کا ہندوستان نہ صرف محفوظ کر رہا ہے ،بلکہ پوری عزت و احترام کے ساتھ آنے والی نسلوں تک بھی پہنچا رہا ہے۔ اسی جذبے کے تحت آج کروکشیتر میں ایک سکھ میوزیم کا سنگِ بنیاد رکھا گیا ہے۔ ہریانہ کا یہ نیا عجائب گھر ہندوستان کی ’عظیم گرو‘ روایت کو آنے والی نسلوں تک پہنچائے گا۔
ساتھیو،
ہریانہ اب تیز رفتار ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔ چاہے زراعت ہو یا صنعت، یہ دونوں ایسے پہیے ہیں جو ہریانہ کو مضبوط بنا رہے ہیں۔ آج جن منصوبوں کا سنگ بنیاد رکھا گیا اور جن کا افتتاح کیا گیا ہے، ان سے ہریانہ کی ترقی کو مزید رفتار ملے گی اور ہریانہ کی یہی تیز رفتار ترقی وکست بھارت کے سفر کو مزید توانائی بخشے گی۔انہی نیک تمناؤں کے ساتھ میں آپ سب کو ایک بار پھر دل کی گہرائیوں سے مبارک باد دیتاہوں اور ملک کے تمام باشندوں کو بھی ملک کی پہلی ہائیڈروجن ٹرین کے لیے بے شمار نیک خواہشات پیش کرتا ہوں۔
میرے ساتھ بولیے
بھارت ماتا کی جے!
بھارت ماتا کی جے!
بھارت ماتا کی جے!
آپ سب کا بہت بہت شکریہ!
***
ش ح۔م ع ن۔ ش ب ن
U- 79
(रिलीज़ आईडी: 2285781)
आगंतुक पटल : 6