PIB Backgrounder
azadi ka amrit mahotsav

ترمیم شدہ اڑان اسکیم: ہندوستان کے علاقائی ہوابازی نیٹ ورک کو مزید مضبوط بنانے کی پہل

प्रविष्टि तिथि: 17 JUL 2026 1:55PM by PIB Delhi

علاقائی فضائی رابطے کو فروغ دینے کے مقصد سے شروع کی گئی’اڑان اسکیم‘ نے ملک بھر میں ہوائی سفر کو زیادہ آسان اور سستا بنادیا ہے ۔ گزشتہ نو برسوں کے دوران اس اسکیم کے تحت 95 ہوائی اڈوں، ہیلی پورٹس اور آبی ہوائی اڈوں کو آپس میں جوڑتے ہوئے 679 علاقائی فضائی روٹس شروع کیے گئے ہیں۔ ان راستوں پر 3.58 لاکھ سے زائد پروازوں کے ذریعے 1.68 کروڑ سے زیادہ مسافروں کو ہوائی سفر کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ترمیم شدہ اُڑان اسکیم کو مالی سال27-2026 سے36-2035 تک 28,840 کروڑ روپے کے بجٹ کے ساتھ عملی جامہ پہنایا جارہا ہے۔ اس اسکیم کے تحت آخری میل تک فضائی رابطے کو مضبوط بنانے کے لیے 100 نئے ہوائی اڈوں اور 200 جدید ہیلی پیڈز کی تعمیر کا بھی منصوبہ بنایا گیا ہے۔

 

علاقائی فضائی رابطے کے ذریعے فاصلوں کومٹانا

رابطہ ہمیشہ سے معاشی ترقی کی بنیاد رہا ہے، جو پیداوار کو منڈیوں سے اور لوگوں کو مواقع سے جوڑتا ہے۔ تیز، محفوظ اور قابل اعتماد نقل و حمل کی صلاحیت پائیدار ترقی کے لیے ناگزیر بن چکی ہے۔ اس بدلتے ہوئے منظرنامے میں ہوابازی رفتار، رسائی اور رابطے کے ایک مضبوط ستون کے طور پر ابھری ہے۔تاہم کئی دہائیوں تک یہ سہولت سبھی کو یکساں طو رپر میسر نہیں تھی۔ہندوستان میں ہوائی سفر زیادہ تر چند بڑے شہروں تک محدود تھا، جبکہ بہت سے چھوٹے شہروں میں باقاعدہ فضائی خدمات دستیاب نہیں تھیں۔ اس خلا نے اس ضرورت کو اجاگر کیا کہ فضائی رابطے کے فوائد کو میٹروپولیٹن شہروں سے آگے بڑھا کر ملک کے دیگر علاقوں تک بھی پہنچایا جائے تاکہ مزید خطوں کو قومی ہوابازی کے نقشے کا حصہ بنایا جا سکے۔

اسی جامع اور وسیع فضائی رابطے کی ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے علاقائی رابطہ اسکیم (آر سی ایس) – اُڑان (اُڑے دیش کا عام شہری)کا آغاز اکتوبر 2016 میں کیا گیا۔ یہ اسکیم ہوائی سفر کو عام شہری کے لیے زیادہ سستا اور آسان بنانے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ اس کے ساتھ ہی کم سہولت یافتہ اور فضائی خدمات سے محروم علاقوں کو بھی قومی فضائی نیٹ ورک سے جوڑا جا رہا ہے۔ آج ہندوستان دنیا کی تیسری سب سے بڑی گھریلو ہوابازی منڈی بن چکا ہے۔ گزشتہ ایک دہائی کے دوران  ہندوستان کے شہری ہوابازی کے شعبے میں نمایاں ترقی ہوئی ہے۔ 2014 میں فعال ہوائی اڈوں کی تعداد 74 تھی، جو 15 جولائی 2026 تک بڑھ کر 165 ہو چکی ہے۔ اُڑان اسکیم نے نئے فضائی راستے شروع کرنے اور علاقائی ہوابازی کے نظام کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے، جس سے ملک بھر میں زیادہ متوازن فضائی رابطے کے فروغ کو نئی رفتار ملی ہے۔

اسی سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے، 4 جولائی 2026 کو شروع کی گئی ترمیم شدہ اڑان اسکیم ہندوستان کے ہوا بازی کے سفر میں ایک اور انقلابی تبدیلی کی نشاندہی کرتی ہے۔یہ اسکیم مالی سال 27-2026 سے مالی سال 36-2035 تک10؍برس کی مدت میں 28,840 کروڑ روپے کے مجموعی بجٹ کے ساتھ نافذ کی جا رہی ہے۔ اس نئے مرحلے میں ہوائی اڈوں کے بنیادی ڈھانچے کی توسیع، آپریشنل معاونت کو بہتر بنانے اور چھوٹی منڈیوں میں خدمات فراہم کرنے والی فضائی کمپنیوں کے لیے ایک پائیدار اور مؤثر نظام تشکیل دینے پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔ اس کا مقصد گزشتہ کامیابیوں کو مزید مستحکم کرنا اور ابھرتی ہوئی ضروریات کو مؤثر انداز میں پورا کرنا ہے۔

 

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image0036OEX.png

جودھپور ہوائی اڈے پر حال ہی میں افتتاح کیا گیا نیا ٹرمینل ہندوستان میں عالمی معیار کے ہوابازی کے بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے عزم کو مزید مستحکم کرتا ہے۔ 23,342 مربع میٹر پر محیط اس ٹرمینل  میں ایک وقت میں 1,500 اور سالانہ 20 لاکھ مسافروں کی گنجائش ہے۔ اس میں 20 چیک اِن کاؤنٹرز، جدید حفاظتی جانچ کے نظام، جدید سامان کی ترسیل کی سہولیات اور 6؍ ایروبرجز موجود ہیں، جو مسافروں کو ہموار، آسان اور آرام دہ سفری تجربہ فراہم کرتے ہیں۔

 

اگلا مرحلہ: ترمیم شدہ اُڑان اسکیم

فضائی رابطے کو وسعت دینے کے لیے صرف نئے فضائی راستے کافی نہیں ہوتے، بلکہ مضبوط بنیادی ڈھانچے اور قابل اعتماد آپریشنل نظام کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ چھوٹی منڈیوں میں خدمات فراہم کرنے والی فضائی کمپنیوں کو مناسب معاونتی نظام درکار ہوتا ہے۔ ملک کے کئی علاقے دشوار گزار جغرافیائی حالات کے حامل ہیں، جہاں ہیلی پیڈز اور خصوصی طیارے ضروری خدمات تک رسائی کو بہتر بناتے ہیں۔ اسی لیے علاقائی رابطہ اسکیم – ترمیم شدہ اُڑان کو ان ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ایک زیادہ مضبوط، جامع اور مستقبل پر مبنی فریم ورک کے طور پر تیار کیا گیا ہے۔

ترمیم شدہ اُڑان اسکیم کے اہم اجزا

ترمیم شدہ اُڑان اسکیم میں ایسے متعدد ہدفی اقدامات شامل کیے گئے ہیں، جن کا مقصد طویل مدتی ترقی اور پائیداری کو یقینی بنانا ہے۔

ہوائی اڈوں کی ترقی

ہوائی اڈوں کی ترقی ترمیم شدہ اُڑان اسکیم کا بنیادی ستون ہے۔ اس جز کے تحت ملک بھر میں فضائی بنیادی ڈھانچے کو وسعت دینے کے لیے غیر فعال ہوائی پٹیوں کو ترقی دے کر 100 نئے ہوائی اڈے قائم کیے جائیں گے۔ اس اقدام کا مقصد چھوٹے شہروں اور دور دراز علاقوں کو قومی نقل و حمل کے نظام سے زیادہ مؤثر انداز میں جوڑنا ہے۔ اس سے مسافروں اور سامان کی تیز تر نقل و حرکت ممکن ہوگی اور علاقائی معاشی ترقی کو بھی فروغ ملے گا۔ اگلے آٹھ برسوں کے دوران ان ہوائی اڈوں کی ترقی کے لیے مجموعی طور پر 12,159 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویزپیش کی گئی ہے۔

آپریشن اور دیکھ بھال کے لیے معاونت

چھوٹے ہوائی اڈوں کی پائیداری ان کے مسلسل اور مؤثر آپریشن پر منحصر ہوتی ہے۔ اسی لیے ترمیم شدہ اُڑان اسکیم کے تحت آپریشن اور دیکھ بھال (او اینڈ ایم) کے لیے باقاعدہ مدد فراہم کی جائے گی۔ صرف علاقائی رابطہ اسکیم (آر سی ایس) کے تحت قائم کئی ہوائی اڈوں کو ابتدائی برسوں میں محدود آمدنی کے باوجود زیادہ آپریشنل اخراجات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایسے حالات میں خدمات کے تسلسل کو برقرار رکھنے کے لیے آپریشنل معاونت نہایت اہم ہے۔اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے اسکیم کے تحت تین برس کی مدت تک آپریشن اور دیکھ بھال کی مدد فراہم کرنے کی تجویز ہے۔ اس کے تحت ہر ہوائی اڈے کے لیے سالانہ زیادہ سے زیادہ 3.06 کروڑ روپے اور ہر ہیلی پورٹ یا آبی ہوائی اڈے کے لیے سالانہ زیادہ سے زیادہ 0.90 کروڑ روپے فراہم کیے جائیں گے۔ اس جز کے لیے 2,577 کروڑ روپے کا تخمینہ لگایا گیا ہے، جس سے ملک بھر کے تقریباً 441 ہوائی اڈوں، ہیلی پورٹس اور آبی ہوائی اڈوں کو فائدہ پہنچنے کی توقع ہے۔

جدید ہیلی پیڈز کی ترقی

ملک کے کئی حصوں میں جغرافیائی رکاوٹوں کے باعث روایتی ہوائی اڈوں کا بنیادی ڈھانچہ قائم کرنا ہمیشہ ممکن نہیں ہوتا۔ ایسے علاقوں میں ہیلی کاپٹر کے ذریعے فضائی رابطہ ضروری خدمات تک بروقت رسائی اور آخری میل تک رابطے کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ترمیم شدہ اُڑان اسکیم کے تحت ان ترجیحی علاقوں میں 200 جدید ہیلی پیڈز تعمیر کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے ،جہاں فضائی رابطے میں اب بھی نمایاں کمی موجود ہے۔ توقع ہے کہ یہ سہولیات صحت کی خدمات تک رسائی بہتر بنانے، ہنگامی امدادی کارروائیوں میں معاونت فراہم کرنے اور انتظامی و معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے میں مددگار ثابت ہوں گی۔ ہر ہیلی پیڈ کی تخمینہ لاگت 15 کروڑ روپے ہے، جبکہ اس جز کے لیے آئندہ آٹھ برسوں کے دوران مجموعی طور پر 3,661 کروڑ روپے مختص کرنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔

فضائی کمپنیوں کے لیے ویابلیٹی گیپ فنڈنگ (وی جی ایف)

فضائی کمپنیوں کی مدد اور چھوٹی منڈیوں میں علاقائی فضائی راستوں کی پائیدار ترقی کی حوصلہ افزائی کے لیے اسکیم کے تحت ویابلیٹی گیپ فنڈنگ (وی جی ایف) کا سلسلہ برقرار رکھا گیا ہے۔ علاقائی فضائی راستوں پر ابتدائی مرحلے میں مسافروں کی نسبتاً کم تعداد اور زیادہ آپریشنل اخراجات کے باعث مالی معاونت کی ضرورت پیش آتی ہے۔ وی جی ایف اس بات کو یقینی بنانے میں مدد فراہم کرتی ہے کہ طلب میں بتدریج اضافے کے دوران بھی فضائی خدمات جاری رہیں۔ترمیم شدہ اُڑان اسکیم کے تحت دس برس کی مدت کے لیے وی جی ایف کی مد میں مجموعی طور پر 10,043 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز رکھی گئی ہے۔ فضائی کمپنیوں کو زیادہ سے زیادہ پانچ برس تک مالی معاونت فراہم کی جائے گی۔ تیسرے سال سے معاونت میں مرحلہ وار کمی کا نظام نافذ ہوگا، جبکہ کسی فضائی راستے پر خصوصی آپریشن کا حق صرف تین برس تک محدود رہے گا۔ اس طریقۂ کار کا مقصد منڈی کی ترقی کو فروغ دینا اور اسے بتدریج تجارتی بنیادوں پر خود کفیل بنانا ہے۔

آتم نربھر بھارت اور مقامی ہوابازی کی صلاحیت کا فروغ

ترمیم شدہ اڑان اسکیم میں آتم نربھر بھارت مہم کے تحت مقامی ہوابازی کی صلاحیت کو مضبوط بنانے پر بھی خصوصی توجہ مرکوز کی گئی ہے۔ اس شعبے کو درپیش اہم چیلنجز میں دور دراز اور دشوار گزار علاقوں میں پرواز کے لیے موزوں چھوٹے فکسڈ وِنگ طیاروں اور ہیلی کاپٹروں کی محدود دستیابی شامل ہے۔اس ضرورت کو پورا کرنے کے لیے اسکیم کے تحت پون ہنس کے لیے ہندوستان ایروناٹکس لمیٹڈ (ایچ اے ایل) کے دو دھرو ہیلی کاپٹر اور الائنس ایئر کے لیے ایچ اے ایل کے دو ڈورنیئر طیارے فراہم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ یہ طیارے مشکل جغرافیائی حالات میں مؤثر انداز سے خدمات انجام دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور ساتھ ہی ملک میں تیار ہونے والی ہوابازی کی مصنوعات کو بھی فروغ دیتے ہیں۔

اڑان: مضبوط بنیاد کی تعمیر

نفاذ کے گزشتہ نو برسوں کے دوران اڑان اسکیم نے نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔

عملی کامیابیاں

مورخہ15 جولائی 2026 تک اڑان اسکیم کے تحت 679 فضائی راستوں کے ذریعے ملک بھر کے 95 ہوائی اڈوں، ہیلی پورٹس اور آبی ہوائی اڈوں کو جوڑا جا چکا ہے۔ اسکیم کے آغاز سے اب تک 3.58 لاکھ سے زائد پروازیں شروع کی جا چکی ہیں، جن سے 1.68 کروڑ سے زیادہ مسافروں نے فائدہ اٹھایا ہے۔ یہ کامیابیاں نقل و حمل کو فروغ دینے، معاشی سرگرمیوں میں اضافہ کرنے اور ملک کے متوازن علاقائی ترقیاتی عمل میں اُڑان اسکیم کے اہم کردار کی عکاسی کرتی ہیں۔

رابطے اور خدمات پر اثرات

اڑان اسکیم کے اثرات ملک کے مختلف خطوں میں نمایاں طور پرنظر آرہے ہیں۔ اس کے فوائد خاص طور پر تیزپور، پاسی گھاٹ، دیو، پتھورا گڑھ، راؤرکیلا اور دیگر دور دراز، پہاڑی اور جزیرہ نما علاقوں میں انتہائی اہم ثابت ہوئے ہیں۔ اس اسکیم نے نقل و حمل کی سہولیات تک رسائی کو بہتر بنایا ہے اور چھوٹے شہروں کو بڑے شہری مراکز سے زیادہ مضبوط انداز میں جوڑا ہے۔اس کے علاوہ اڑان اسکیم نے سیاحت کے فروغ، صحت کی خدمات تک بہتر رسائی اور متعدد علاقوں میں ہنگامی امدادی خدمات کو مضبوط بنانے میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔مسافروں کو بہتر سہولت فراہم کرنا اس اسکیم کی اہم اور اولین ترجیح ہے۔ مسافروں کے آرام اور سفر کو زیادہ آسان بنانے کے لیے متعدد اقدامات کیے گئے ہیں۔ ملک بھر کے ہوائی اڈوں پر اڑان یاتری کیفے کے ذریعے مناسب قیمت پر کھانے کی سہولت فراہم کی جا رہی ہے، جبکہ فلائی بریری کے ذریعے مفت کتابوں تک رسائی اور مفت وائی فائی جیسی سہولیات بھی سفری تجربے کو مزید خوشگوار بناتی ہیں۔

سفر ہوا مزید آسان: اڑان اسکیم کے تحت کس طرح روزمرہ کے سفر میں تبدیلی آرہی ہے

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image0061RF0.jpg

اڑان اسکیم کے سبب مختلف شہروں کے درمیان سفر کے دورانیے میں نمایاں کمی آئی ہے ۔ اس کی ایک مثال وجئے واڑہ اور کڑپہ کے درمیان فضائی روٹ ہے۔ جو سفر پہلے طویل اور وقت طلب ہوا کرتا تھا، اب ہوائی سفر کے ذریعے تقریباً ایک گھنٹے میں مکمل کیا جا سکتا ہے۔ یہ علاقائی فضائی رابطے میں بہتری کے عملی فوائد کی واضح مثال ہے۔اپنا تجربہ بیان کرتے ہوئے آندھرا پردیش کے ناگیندر بھارتی نے کہا کہ پہلے وجئے واڑہ سے کڑپہ تک سڑک کے ذریعے سفر میں 8 سے 10 گھنٹے لگتے تھے، لیکن اب ہوائی سفر کی بدولت یہ نہ صرف کہیں زیادہ آسان بلکہ بہت کم وقت میں مکمل ہو جاتا ہے۔اسی طرح ودیانگر کے سید الیاز احمد نے بتایا کہ جو سفر پہلے تقریباً چھ گھنٹے میں طے ہوتا تھا، اب مناسب خرچ پر صرف ایک گھنٹے میں مکمل کیا جا سکتا ہے۔یہ مثالیں اُڑان اسکیم کی اس وسیع کامیابی کی عکاسی کرتی ہیں کہ اس نے مختلف علاقوں کو آپس میں جوڑا، سفر کی رکاوٹوں کو کم کیا اور شہریوں کی نقل و حرکت کو زیادہ آسان بنایا۔ دور دراز مقامات کو کم وقت میں قابل رسائی بنا کر اُڑان اسکیم ملک بھر کی عوام کے روزمرہ سفر کو مزید سہل اور آرام دہ بنا رہی ہے۔

 

مالیاتی نظام اور ادارہ جاتی معاونت

امریکہ، کناڈا، برازیل اور آسٹریلیا جیسے وسیع جغرافیائی رقبے والے ممالک میں علاقائی فضائی رابطے کو برقرار رکھنے کے لیے عموماً سرکاری مالی معاونت پر انحصار کیا جاتا ہے۔ ہندوستان نےاڑان اسکیم کے تحت علاقائی رابطہ اسکیم (آر سی ایس) لیوی کا ایک منفرد نظام متعارف کرایا، جس کے ذریعے اسی شعبے کے اندر سے مالی وسائل فراہم کیے جاتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے گھریلو پروازوں کی منتخب اقسام پر معمولی فیس عائد کی جاتی ہے۔

حکومت کی فعال شمولیت نے مختلف اداروں کے درمیان بہتر ہم آہنگی پیدا کی ہے اور ہوائی اڈوں کی سطح پر ذمہ داری کے احساس کو مضبوط کیا ہے۔ اس کے علاوہ غیر مالی مراعات نے ہوابازی کے پورے نظام میں آپریشنل اخراجات کم کرنے میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔

اڑان سے ترمیم شدہ اُڑان تک: بھارت کے ہوابازی کے وژن کو نئی وسعت

اڑان سے ترمیم شدہ اُڑان تک کا سفر ہندوستان کے اس مسلسل عزم کی عکاسی کرتا ہے کہ ملک میں ایک جامع، مضبوط اور پائیدار فضائی رابطے کا نظام قائم کیا جائے۔ یہ اسکیم مختلف خطوں کو آپس میں جوڑتی ہے، معاشی سرگرمیوں کو فروغ دیتی ہے اور شہریوں کی روزمرہ آمدورفت کو مزید آسان بناتی ہے۔ گزشتہ نو برسوں کے دوران اڑان اسکیم نے ہندوستان میں علاقائی ہوابازی کے شعبے میں نمایاں تبدیلی پیدا کی ہے۔ اب سیکڑوں فضائی راستے ایسے علاقوں کو قومی فضائی نیٹ ورک سے جوڑ رہے ہیں، جو پہلے فضائی خدمات سے محروم یا کم سہولت یافتہ تھے۔ اس کے نتیجے میں لاکھوں شہریوں کے لیے ہوائی سفر زیادہ آسان اور قابلِ استطاعت بن گیا ہے۔ترمیم شدہ اُڑان اسکیم کی منظوری ایک جدید، جامع اور پائیدار شہری ہوابازی کے نظام کی تعمیر کے عزم کو مزید مضبوط بناتی ہے۔ یہ اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ کم خرچ، آسان اور قابلِ رسائی ہوائی سفر کی سہولت ملک کے ہر کونے تک پہنچے۔

حوالہ جات

Ministry of Civil Aviation

https://www.civilaviation.gov.in/sites/default/files/migration/Udaan_Eng.pdf

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2245099&reg=3&lang=1

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2245471&reg=3&lang=1

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2241546&reg=3&lang=1

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2181310&reg=3&lang=2

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2241546&reg=3&lang=1

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2236062&reg=3&lang=1

https://www.civilaviation.gov.in/sites/default/files/migration/UDAN-Manual.pdf

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2281051&reg=3&lang=1

https://www.pib.gov.in/PressReleaseDetail.aspx?PRID=2285420&reg=3&lang=1

Prime Minister’s Office

https://www.pmindia.gov.in/en/news_updates/cabinet-approves-regional-connectivity-scheme-modified-udan-with-a-total-outlay-of-rs-28840-crore/

Airports Authority of India

https://www.aai.aero/en/rcs-udan

Click to See in PDF

****

) ش ح –   م ع ن-  ش ب ن )

U.No. 0070


(रिलीज़ आईडी: 2285747) आगंतुक पटल : 7
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Bengali , Bengali-TR