امور صارفین، خوراک اور عوامی تقسیم کی وزارت
بھارت کی برکس صدارت: بنگلورو میں معیاراتی اداروں (اسٹینڈرڈ باڈیز) کا دو روزہ اجلاس شروع
متنوع ضروریات کو مد نظر رکھنا ضروری ہے: مرکزی وزیر جناب پرہلاد جوشی نے عالمی ترقی کے لیے اتفاقِ رائے پر مبنی معیاری کاری کے طریقۂ کار پر زور دیا
بی آئی ایس کے زیر اہتمام بنگلورو میں منعقدہ برکس کے قومی معیاراتی اداروں کے اجلاس میں بھارت نے عالمی لچک اور باہمی تعاون کے فروغ کی قیادت کی
معیاری کاری کے شعبے میں تعاون سے متعلق مفاہمت نامے (ایم او یو) پر مشترکہ مفاہمت حاصل کی گئی
प्रविष्टि तिथि:
16 JUL 2026 4:30PM by PIB Delhi
عالمی اقتصادی اور تکنیکی تعاون کے فروغ کے اپنے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے، بھارت نے آج بنگلورو میں اپنی برکس صدارت کے تحت قومی معیاراتی اداروں (این ایس بی) کے سربراہان کے دو روزہ اجلاس کا افتتاح کیا۔ یہ اعلیٰ سطحی اجلاس ابھرتی ہوئی معیشتوں میں معیار سے متعلق بنیادی ڈھانچے کو ہم آہنگ بنانے کی سمت ایک اہم پیش رفت ہے، جس کا اختتام معیاری کاری کے شعبے میں تعاون سے متعلق ایک نئے مفاہمت نامے (ایم او یو) پر اتفاق رائے کی صورت میں ہوا۔
وفد سے خطاب کرتے ہوئے مرکزی وزیر جناب پرہلاد جوشی نے بھارت کی برکس صدارت کے جامع موضوع ”لچک، اختراع، تعاون اور پائیداری کے لیے تعمیر“ کے تحت ”عالمی بھلائی“کے فروغ کے لیے بھارت کے عزم پر زور دیا۔
مرکزی وزیر نے کہا کہ یہ نقطۂ نظر وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی جانب سے 2025 کے ریو سربراہی اجلاس میں پیش کیے گئے عوام پر مبنی اور ”انسانیت سب سے پہلے“ کے وژن کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے کہا، ”بھارت کا پختہ یقین ہے کہ معیارات کی تیاری جامع، شفاف اور اتفاق رائے پر مبنی طریقۂ کار کے ذریعے ہونی چاہیے، جس میں تمام ممالک کی متنوع ضروریات اور ترقیاتی ترجیحات کو مدنظر رکھا جانا ضروری ہے۔“ انہوں نے مزید کہا کہ بیورو آف انڈین اسٹینڈرڈز (بی آئی ایس) کی مضبوط ادارہ جاتی بنیاد قابل ستائش ہے، اور اس بات پر زور دیا کہ معیار سازی کے شعبے میں بھارت کی بڑھتی ہوئی مہارت اسے بین الاقوامی سطح پر علم اور تجربات کے تبادلے میں مؤثر کردار ادا کرنے کے قابل بناتی ہے۔
عالمی تجارت اور پائیدار ترقی میں معیاری کاری کے اہم کردار پر سینیئر عہدیداروں نے بھی زور دیا۔ محکمہ امور صارفین (ڈی او سی اے) کی سکریٹری محترمہ ندھی کھرے نے اجلاس کے وسیع تر اثرات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا، ”باہمی تعاون کے ذریعے ہم ایسے معیارات وضع کر سکتے ہیں جو نہ صرف تجارت اور تکنیکی ترقی کو فروغ دیں بلکہ ہمارے ممالک اور عالمی برادری کے لیے زیادہ لچکدار، پائیدار اور شمولیتی مستقبل کی تعمیر میں بھی معاون ثابت ہوں۔“
بین الاقوامی مندوبین کا خیرمقدم کرتے ہوئے بیورو آف انڈین اسٹینڈرڈز (بی آئی ایس) کے ڈائریکٹر جنرل جناب سنجے گَرگ نے اجلاس کے عملی فوائد پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا، ”مزید قریبی تعاون، علم کے تبادلے اور بہترین طریقۂ کار کی شراکت داری کے ذریعے ہم اپنے قومی معیاری کاری کے نظام کو مزید مضبوط بنا سکتے ہیں اور ساتھ ہی بین الاقوامی معیاری کاری کی کوششوں میں بامعنی کردار ادا کر سکتے ہیں۔“
ایک اہم سنگ میل: معیاری کاری سے متعلق مفاہمت نامے (ایم او یو) پر اتفاقِ رائے
اجلاس کی کارروائی کے دوران ایک بڑی پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب برکس کے قومی معیاراتی اداروں (این ایس بی) کے درمیان معیاری کاری کے شعبے میں تعاون سے متعلق مفاہمت نامے کے مسودے پر مشترکہ مفاہمت حاصل کر لی گئی۔ نمائندوں نے اس معاہدے کو ایک اہم سنگِ میل قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے معیار سے متعلق بنیادی ڈھانچے کو مزید مضبوطی ملے گی، صارفین کا تحفظ بہتر ہوگا، تجارت میں تکنیکی رکاوٹیں کم ہوں گی، اور بین الاقوامی تنظیم برائے معیاری کاری (آئی ایس او) اور بین الاقوامی الیکٹرو ٹیکنیکل کمیشن (آئی ای سی) جیسی عالمی تنظیموں کے ساتھ برکس کے اجتماعی تعاون کو مزید تقویت ملے گی۔
معیاری کاری کے شعبے میں باہمی تعاون کے اپنے مشترکہ عزم کا اعادہ کرتے ہوئے برکس کے رکن ممالک کے قومی معیاراتی اداروں کی اکثریت نے اجلاس کے دوران مفاہمت نامے پر دستخط کیے، جبکہ باقی قومی معیاراتی اداروں نے اپنے اپنے ممالک میں درکار منظوری کے عمل کی تکمیل کے فوراً بعد اس پر دستخط کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔
برکس اب دنیا کی نمایاں ابھرتی ہوئی معیشتوں اور ترقی پذیر ممالک کا ایک ایسا گروپ ہے جو عالمی آبادی کے تقریباً 49.5 فیصد، عالمی مجموعی گھریلو پیداوار (جی ڈی پی) کے 40 فیصد اور عالمی تجارت کے 26 فیصد کی نمائندگی کرتا ہے۔ اس بلاک میں معیارات کے ہم آہنگ ہونے سے عالمی سطح پر دور رس اور انقلابی معاشی فوائد حاصل ہونے کی توقع ہے۔
آئندہ کا لائحۂ عمل: مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے معیارات کا مستقبل
برکس کے قومی معیاراتی اداروں کے سربراہان کا اجلاس 17 جولائی 2026 کو بھی جاری رہے گا، جس میں مصنوعی ذہانت میں معیاری کاری کے موضوع پر ایک نہایت اہم موضوعاتی ورکشاپ منعقد کی جائے گی۔ اس اجلاس میں عالمی معیاراتی اداروں کے ماہرین اپنی پیشکش دیں گے، جن میں بیورو آف انڈین اسٹینڈرڈز (بی آئی ایس) (بھارت)، جی او ایس ٹی آر (روسی فیڈریشن)، ایس اے سی (چین)، اے بی این ٹی (برازیل) اور ایم او آئی اے ٹی-ایس اے ایس (متحدہ عرب امارات) شامل ہیں۔ اس کے بعد برکس کے قومی معیاراتی اداروں کے سربراہان کے درمیان ایک باہمی تبادلۂ خیال ہوگا، جس میں مصنوعی ذہانت سے متعلق معیاری کاری کی ابھرتی ہوئی ترجیحات کی نشاندہی کی جائے گی اور تکنیکی تعاون کے نئے امکانات کا جائزہ لیا جائے گا۔
بیورو آف انڈین اسٹینڈرڈز (بی آئی ایس) برکس کے فریم ورک کے تحت مضبوط اور اشتراکی اقدامات کے ذریعے بین الاقوامی شراکت داریوں کو فروغ دینے اور عالمی معیاری کاری کے نظام میں بھارت کی قائدانہ حیثیت کو مزید مستحکم بنانے کے اپنے عزم پر بدستور قائم ہے۔
***********
ش ح۔ ف ش ع
U: 42
(रिलीज़ आईडी: 2285514)
आगंतुक पटल : 8