PIB Backgrounder
azadi ka amrit mahotsav

بھارت–برطانیہ سی ای ٹی اےکا نفاذ


دوطرفہ تجارت اور سرمایہ کاری کو مزید مضبوط بنانے کی سمت میں ایک اہم قدم

प्रविष्टि तिथि: 15 JUL 2026 4:35PM by PIB Delhi

بھارت–برطانیہ جامع اقتصادی و تجارتی معاہدہ (سی ای ٹی اے) دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی شراکت داری میں ایک اہم کامیابی ہے۔ اس کا مقصد بہتر منڈی تک رسائی، آسان تجارتی طریقۂ کار، خدمات کے شعبے میں وسیع تر وعدوں اور پیشہ ور افراد کی زیادہ آسان نقل و حرکت کے ذریعے تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دینا ہے۔سی ای ٹی اے تجارتی رکاوٹوں کو کم کرنے اور برآمدی مسابقت میں اضافہ کرنے کے ذریعے زراعت، ماہی گیری، مینوفیکچرنگ، خدمات اور دیگر اہم شعبوں میں نئے مواقع پیدا کرتا ہے۔ ساتھ ہی، یہ متوازن منڈی تک رسائی اور مرحلہ وار محصولات میں نرمی کے ذریعے بھارت کے حساس شعبوں کے مفادات کے تحفظ کو بھی یقینی بناتا ہے۔یہ معاہدہ ڈیجیٹل تجارت، اختراع، پائیدار ترقی اور دونوں ممالک کے عوام کے درمیان تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔ مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو مستحکم کرتے ہوئے یہ معاہدہ ایک زیادہ جامع اور مستقبل پر مبنی اقتصادی شراکت داری کے لیے مضبوط بنیاد فراہم کرتا ہے۔

 

بھارت–برطانیہ سی ای ٹی اے: ایک اہم تاریخی تجارتی معاہدہ

بھارت–برطانیہ (یو کے) جامع اقتصادی و تجارتی معاہدہ (سی ای ٹی اے) ایک جدید، جامع اور تاریخی تجارتی معاہدہ ہے۔ اس کا مقصد بہتر منڈی تک رسائی، تجارتی آزادکاری اور محصولات میں رعایتوں کے ذریعے بھارت اور برطانیہ کے درمیان اقتصادی انضمام کو مزید مضبوط بنانا ہے۔ اس معاہدے کے تحت بھارت کو آزاد تجارتی معاہدے کے دائرے میں برطانیہ کی جانب سے اب تک کی سب سے اہم اور وسیع خدماتی سہولتوں میں سے ایک سے فائدہ حاصل ہوگا۔ بھارت کی تقریباً 99 فیصد برآمدات، جو تجارتی مالیت کے تقریباً 100 فیصد حصے کی نمائندگی کرتی ہیں، کو صفر محصولات کے ساتھ برطانوی منڈی تک رسائی حاصل ہوگی، جس سے سی ای ٹی اے کے ذریعے بھارت کی برآمدی مسابقت میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔ اس معاہدے سے دوطرفہ تجارت میں توسیع، سرمایہ کاری میں اضافہ اور کاروباری اداروں کے لیے نئے مواقع پیدا ہونے کی بھی توقع ہے۔

اپنی اقتصادی اور تجارتی اہمیت سے بڑھ کر، سی ای ٹی اے کو ایک جامع اور مستقبل پر مبنی معاہدے کے طور پر تشکیل دیا گیا ہے۔ اس کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ تجارت کے فوائد معاشرے کے ہر طبقے تک پہنچیں۔ یہ صرف ایک تجارتی معاہدہ نہیں بلکہ ایک مضبوط، اختراع پر مبنی اور عوامی مرکزیت رکھنے والی اقتصادی شراکت داری کی مضبوط بنیاد بھی فراہم کرتا ہے۔

1.jpg

بھارت–برطانیہ دوطرفہ تجارت

بھارت اور برطانیہ کے درمیان ایک مضبوط اور مسلسل فروغ پاتی ہوئی اقتصادی شراکت داری موجود ہے۔ سال 2025 میں بھارت کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) 3.96 ٹریلین امریکی ڈالر رہی، جبکہ برطانیہ کی معیشت کا حجم 3.84 ٹریلین امریکی ڈالر تھا۔ یہ اعداد و شمار عالمی تجارت میں دونوں معیشتوں کی اہمیت کو ظاہر کرتے ہیں۔

سال 2026–2025 کے دوران دونوں ممالک کے درمیان اشیا کی دوطرفہ تجارت 25.12 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ گئی۔ اس عرصے میں برطانیہ کو بھارت کی برآمدات 13.44 ارب امریکی ڈالر جبکہ درآمدات 11.68 ارب امریکی ڈالر رہیں، جس کے نتیجے میں بھارت کو 1.76 ارب امریکی ڈالر کا تجارتی سرپلس حاصل ہوا۔

خدمات کی تجارت بھی اسی طرح مضبوط رہی۔ سال 2024 میں دونوں ممالک کے درمیان خدمات کی مجموعی دوطرفہ تجارت 35.44 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ گئی۔ اس مدت کے دوران بھارت نے برطانیہ کو 21.66 ارب امریکی ڈالر مالیت کی خدمات برآمد کیں، جبکہ 13.78 ارب امریکی ڈالر مالیت کی خدمات درآمد کیں، جس کے نتیجے میں بھارت کو خدمات کی تجارت میں 7.88 ارب امریکی ڈالر کا سرپلس حاصل ہوا۔

سی ای ٹی اے سے اہم شراکت داروں کو حاصل ہونے والے فوائد

سی ای ٹی اے کو اس مقصد کے ساتھ تیار کیا گیا ہے کہ معیشت کے مختلف شعبوں میں وسیع پیمانے پر فوائد یقینی بنائے جا سکیں۔ ساتھ ہی، یہ معاہدہ اس بات کو بھی یقینی بناتا ہے کہ تجارت سے حاصل ہونے والے فوائد معاشرے کے تمام طبقات تک وسیع پیمانے پر پہنچیں۔

  • محصولات کے خاتمے سے بھارتی کسانوں اور ماہی گیروں کو برطانیہ کی منڈیوں تک بہتر رسائی حاصل ہونے کی توقع ہے، جس سے برآمدات کے نئے مواقع پیدا ہوں گے اور ان کی آمدنی میں اضافہ ہونے کا امکان ہے۔
  • یہ معاہدہ جنگلات پر انحصار کرنے والی برادریوں کے ذریعۂ معاش کی اہمیت کو تسلیم کرتا ہے۔ ساتھ ہی، یہ قدرتی وسائل کے ذمہ دارانہ انتظام اور ماحولیاتی تعاون کو فروغ دیتا ہے۔
  • ٹیکسٹائل، چمڑا، جوتے، جواہرات و زیورات، دستکاری، غذائی پراسیسنگ، آٹو پرزہ جات، پلاسٹک اور نامیاتی کیمیکلز جیسے محنت پر مبنی شعبوں میں برآمدات بڑھنے کی توقع ہے، جس سے روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔
  • یہ معاہدہ جامع اور مستقبل سے ہم آہنگ ترقی پر خصوصی زور دیتا ہے۔ اس کے نتیجے میں خواتین، نوجوانوں، خرد، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں (ایم ایس ایم ایز)، کاروباری حلقوں اور پیشہ ور افراد کے لیے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ اس میں خواتین اور دیگر کم نمائندگی رکھنے والے طبقات کی تجارت، اختراع اور کاروباری سرگرمیوں میں زیادہ شمولیت کی حوصلہ افزائی کے لیے خصوصی دفعات شامل کی گئی ہیں۔ ساتھ ہی، یہ بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ مزدوروں کے حقوق، صنفی مساوات اور منصفانہ کام کے حالات سے متعلق عزم کو بھی مزید مضبوط بناتا ہے۔
  • برطانیہ کی خدمات کی منڈی تک بہتر رسائی، پیشہ ور افراد کی نقل و حرکت سے متعلق سہولیات اور پیشہ ورانہ اہلیت کی باہمی منظوری نئے مواقع فراہم کریں گی۔ ان سے ہنر مند بھارتی پیشہ ور افراد اور نوجوان صلاحیتوں کو نمایاں فائدہ پہنچے گا۔
  • بہت چھوٹے، چھوٹے اور اوسط درجے کے کاروباری اداروں (ایم ایس ایم ایز) کو آسان کسٹم طریقۂ کار، کاغذ سے پاک تجارت اور ڈیجیٹل نظاموں سے فائدہ ہوگا۔ ان اقدامات سے ضابطہ جاتی اخراجات میں کمی آئے گی اور منڈی تک رسائی بہتر ہوگی۔ بھارتی ایم ایس ایم ایز کو برطانیہ میں بھارت کی 99 فیصد برآمدات پر ڈیوٹی سے مستثنیٰ رسائی بھی حاصل ہوگی، جن میں ٹیکسٹائل، چمڑا، زیورات، جوتے اور غذائی مصنوعات شامل ہیں، جس سے محصولات میں 4 سے 16 فیصد تک بچت ممکن ہوگی۔
  • کاروباری اداروں کو تجارتی سہولت کے آسان اقدامات، ڈیجیٹل تعاون اور عالمی قدر کی زنجیروں کے ساتھ مضبوط انضمام سے فائدہ پہنچے گا۔ اس سے کاروبار کرنے میں آسانی بڑھے گی اور پائیدار اقتصادی ترقی کو تقویت ملے گی۔ یہ معاہدہ ڈیجیٹل تجارتی سہولت اور الیکٹرانک تصدیق کو بھی فروغ دیتا ہے، جبکہ سنگل ونڈو نظام اور مجاز اقتصادی آپریٹر (اے ای او) جیسے مؤثر انتظامات سے بھی بھرپور استفادہ کرتا ہے۔

تصور سے حقیقت تک: بھارت–برطانیہ سی ای ٹی اے کا سفر

بھارت–برطانیہ تجارتی معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان کئی برسوں تک جاری رہنے والے مسلسل مکالمے، مذاکرات اور تزویراتی تعاون کا نتیجہ ہے۔

2.jpg

کاروبار سے بڑھ کر: بھارت–برطانیہ تزویراتی شراکت داری

بھارت اور برطانیہ کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری، عوامی روابط اور تزویراتی تعاون پر مبنی ایک مضبوط اور کثیرالجہتی شراکت داری قائم ہے۔

سرمایہ کاری کی شراکت داری

برطانیہ بھارت میں براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کرنے والا چھٹا سب سے بڑا سرمایہ کار ہے۔ ستمبر 2024 تک اس نے بھارت میں مجموعی طور پر 35 ارب امریکی ڈالر کی ایکویٹی سرمایہ کاری کی ہے۔ دوسری جانب، مارچ 2024 تک برطانیہ میں بھارت کی مجموعی بیرونی سرمایہ کاری 19 ارب امریکی ڈالر رہی۔جولائی 2025 تک برطانیہ میں 971 بھارتی کمپنیاں سرگرمِ عمل ہیں، جو ایک لاکھ سے زیادہ افراد کو روزگار فراہم کرتی ہیں۔ اسی طرح بھارت میں 667 برطانوی کمپنیاں کام کر رہی ہیں، جو پانچ لاکھ سے زائد افراد کو روزگار دیتی ہیں۔

نقل و حرکت اور پیشہ ور انہ تعاون

بھارت اور برطانیہ نے 4 مئی 2021 کو نقل و حرکت اور ہجرت سے متعلق شراکت داری (ایم ایم پی) معاہدے پر دستخط کیے۔ اس معاہدے کا مقصد پیشہ ور افراد کی نقل و حرکت کو زیادہ آسان اور تیز بنانا ہے، جو بھارت–برطانیہ اقتصادی شراکت داری کا ایک اہم ستون ہے۔نومبر 2022 میں جی-20 بالی سربراہی اجلاس کے موقع پر بھارت اور برطانیہ کے درمیان ینگ پروفیشنلز اسکیم کا اعلان کیا گیا۔ اس اسکیم کے تحت ہر سال 3,000 ویزے جاری کیے جاتے ہیں۔ اس کے ذریعے 18 سے 30 سال عمر کے گریجویٹس کو دو سال کے لیے ویزا فراہم کیا جاتا ہے، جس سے انہیں ایک دوسرے کے ملک میں رہنے اور کام کرنے کا موقع ملتا ہے۔

برطانیہ میں بھارتی برادری

برطانیہ میں بھارتی نژاد تقریباً 18.64 لاکھ افراد پر مشتمل ایک بڑی تارکینِ وطن برادری آباد ہے۔ سال 2021 کی مردم شماری کے مطابق یہ برطانیہ کی کل آبادی کا 2.6 فیصد حصہ ہے، جبکہ سال 2022 میں برطانیہ کی مجموعی آبادی کا اندازہ 6.8 کروڑ لگایا گیا تھا۔ مردم شماری کے مطابق برطانیہ میں 3.69 لاکھ بھارتی پاسپورٹ رکھنے والے افراد بھی مقیم ہیں۔

بھارتی تارکینِ وطن کی برادری میں روزگار اور پیشہ ورانہ قابلیت کا معیار بلند ہے۔ اس برادری نے تعلیم، ادب، فنون، طب، سائنس، کھیل، صنعت، کاروبار اور سیاست سمیت متعدد شعبوں میں نمایاں خدمات انجام دی ہیں۔

گرانٹ تھورنٹن اور فکی کی مارچ 2022 کی رپورٹ "انڈیا اِن دی یوکے: دی ڈائسپورا ایفیکٹ" کے مطابق برطانیہ میں 65,000 سے زائد کمپنیوں کی ملکیت بھارتی تارکینِ وطن برادری کے پاس ہے۔

قومی مفادات کے تحفظ کے ساتھ مارکیٹ تک رسائی میں توسیع

بھارت–برطانیہ سی ای ٹی اے تجارتی آزادکاری کے ساتھ ساتھ بھارت کے تزویراتی شعبوں، گھریلو صنعتوں اور طویل مدتی ترقیاتی ترجیحات کے تحفظ کے درمیان توازن قائم کرتا ہے۔

بھارت نے اپنی 89.5 فیصد ٹیرف لائنز پر محصولات میں رعایتیں فراہم کی ہیں، جن کے تحت برطانیہ کی 91 فیصد برآمدات شامل ہیں۔ برطانیہ کی مجموعی برآمدی مالیت کا 24.5 فیصد حصہ فوری طور پر ڈیوٹی فری رسائی حاصل کرے گا، جبکہ دیگر مصنوعات پر رعایتیں مرحلہ وار نافذ کی جائیں گی۔

زراعت اور تزویراتی اہمیت رکھنے والی صنعتوں سمیت حساس شعبوں کو محصولات کی رعایتوں سے خارج رکھ کر یا مرحلہ وار محصولات میں کمی کے ذریعے تحفظ فراہم کیا گیا ہے۔

  • زراعت کے شعبے میں دودھ سے تیار کردہ مصنوعات، اناج اور موٹے اناج (ملیٹس)، دالیں، سیب، خوردنی تیل، جئی اور سبزیاں شامل ہیں۔
  • سی ای ٹی اے سونے، زیورات، لیبارٹری میں تیار کیے گئے ہیروں، بعض خوشبودار تیلوں، اہم توانائی کے ایندھن، بحری جہازوں، استعمال شدہ ٹیکسٹائل، اہم پولیمرز، ان کے مونو فلامنٹس، اسمارٹ فونز اور آپٹیکل فائبر جیسے اعلیٰ قدر والی مصنوعات کا بھی تحفظ کرتا ہے۔
  • تزویراتی اہمیت رکھنے والی مصنوعات پر خصوصی احتیاط کے ساتھ غور کیا گیا ہے۔ ان میں وہ شعبے شامل ہیں جن میں میک اِن انڈیا اور پروڈکشن لنکڈ انسینٹیو (پی ایل آئی) اسکیم کے تحت گھریلو مینوفیکچرنگ صلاحیت کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ ان مصنوعات پر محصولات میں رعایتیں 5، 7 یا 10 سال کی مدت کے دوران مرحلہ وار کمی کے ذریعے نافذ کی جائیں گی۔
  • اس کے علاوہ، بھارت نے الکوحل والے مشروبات کے لیے اپنی منڈی کو بتدریج اور منتخب انداز میں کھولا ہے۔
  • آٹوموبائل شعبے کے لیے بھارت نے متوازن، مرحلہ وار اور ترقی پر مبنی کوٹہ نظام کے تحت آزادکاری کی حکمت عملی اپنائی ہے۔ ساتھ ہی، بھارتی آٹوموبائل صنعت کے حساس شعبوں کے تحفظ کو بھی یقینی بنایا گیا ہے۔
  • ترجیحی محصولات کی شرحوں پر ہر سال 37,000 مکمل طور پر تیار شدہ مسافر گاڑیوں (سی بی یو) کی درآمد کے لیے کوٹہ پر مبنی مرحلہ وار منڈی تک رسائی فراہم کی گئی ہے۔ اس سے بہتر منڈی تک رسائی اور گھریلو صنعت کی ترجیحات کے درمیان توازن قائم رہتا ہے۔

 

  • چھوٹے اور درمیانے درجے کے آئی سی ای گاڑیوں اور کم قیمت الیکٹرک گاڑیوں (ای وی) سمیت حساس شعبوں کو محفوظ رکھا گیا ہے۔ الیکٹرک گاڑیوں کے لیے منڈی تک رسائی کو محتاط انداز میں منظم کیا گیا ہے۔ ان پر رعایتیں صرف چھٹے سال سے نافذ ہوں گی، جس سے بھارتی مینوفیکچررز کو اپنی پیداواری صلاحیت، ٹیکنالوجی اور مسابقت کو مضبوط بنانے کے لیے مناسب وقت ملے گا۔
  • بڑے انجن والی اندرونی احتراق انجن (آئی سی ای) گاڑیوں (3000 سی سی سے زیادہ پٹرول اور 2500 سی سی سے زیادہ ڈیزل) کے لیے زیادہ رعایتیں فراہم کی گئی ہیں۔ کوٹہ کے اندر درآمدات پر لاگو محصولات کو پانچ سال کے دوران کم کرکے 10 فیصد کر دیا جائے گا، جبکہ کوٹہ سے زیادہ درآمدات پر محصولات کو دس سال کے دوران کم کرکے 50 فیصد کر دیا جائے گا۔

بھارت–برطانیہ سی ای ٹی اے سے حاصل ہونے والے شعبہ جاتی فوائد

بھارت–برطانیہ سی ای ٹی اے بہتر منڈی تک رسائی، محصولات میں رعایت اور تجارتی سہولت کاری میں بہتری کے ذریعے بھارتی معیشت کے اہم شعبوں کو نمایاں فوائد فراہم کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔

ٹیکسٹائل مصنوعات

شعبہ جاتی صورتحال

برطانیہ ہر سال 28.8 ارب امریکی ڈالر مالیت کی ٹیکسٹائل اور ملبوسات کی مصنوعات درآمد کرتا ہے، جبکہ بھارت کی عالمی ٹیکسٹائل برآمدات تقریباً 37 ارب امریکی ڈالر ہیں۔ بھارت برطانیہ کو 1.79 ارب امریکی ڈالر مالیت کی ٹیکسٹائل اور ملبوسات کی مصنوعات برآمد کرتا ہے اور وہاں کی درآمدی منڈی میں اس کا حصہ 6.1 فیصد ہے۔

بھارت برطانیہ کو ٹیکسٹائل مصنوعات فراہم کرنے والا چوتھا سب سے بڑا ملک بھی ہے۔

سی ای ٹی اے معاہدے کی اہم خصوصیات

1,143 ٹیرف لائنز پر ڈیوٹی فری منڈی تک رسائی

بنگلہ دیش، پاکستان اور کمبوڈیا کے مقابلے میں محصولات سے متعلق عدم مساوات کا خاتمہ

سی ای ٹی اے سے مستفید ہونے والے اہم فریق

ریڈی میڈ ملبوسات (آر ایم جی)، ہوم ٹیکسٹائل، قالین اور دستکاری مصنوعات

اہم مصنوعات کے زمرے

فائدہ حاصل کرنے والی مصنوعات میں خواتین کے سوتی ملبوسات، سوتی شرٹس/بلاؤز، ٹیری کاٹن سے بنے تولیے اور باورچی خانے میں استعمال ہونے والے لینن، مصنوعی ریشوں سے بنے ملبوسات، بنے ہوئے سوتی ملبوسات، مردوں کی سوتی رسمی شرٹس، سوتی ٹی شرٹس اور بنیان، گدے، کشن اور بستر سے متعلق مصنوعات شامل ہیں۔

سی ای ٹی اے کے تحت ترقی کے امکانات

برطانیہ کی منڈی میں بھارتی ٹیکسٹائل اور ملبوسات کی مصنوعات کی مسابقتی صلاحیت میں اضافہ

زرعی مصنوعات

شعبہ جاتی منظرنامہ:سال 2022–23 میں بھارت کی زرعی برآمدات 45.05 ارب امریکی ڈالر رہیں، جو سال 2020–21 میں 41.3 ارب امریکی ڈالر سے بڑھ کر اس سطح تک پہنچیں۔ بھارت عالمی سطح پر 57 ارب امریکی ڈالر سے زائد مالیت کی زرعی مصنوعات برآمد کرتا ہے۔برطانیہ کی عالمی زرعی اور پراسیس شدہ غذائی مصنوعات کی درآمدات 90 ارب امریکی ڈالر سے زیادہ ہیں، جبکہ برطانیہ کو بھارت کی برآمدات صرف 1.11 ارب امریکی ڈالر ہیں۔ یہ برآمدات میں اضافے کے لیے قابلِ ذکر غیر استعمال شدہ امکانات کی نشاندہی کرتا ہے۔برطانیہ بھارتی مصنوعات جیسے چائے، آم، انگور، مصالحہ جات اور سمندری مصنوعات کے لیے ایک اعلیٰ قدر والی منڈی بھی ہے۔

 

3.jpg

سی ای ٹی اے کی نمایاں خصوصیات:اس معاہدے کے تحت 1,437 ٹیرف لائنز میں شامل زرعی مصنوعات کو ڈیوٹی فری منڈی تک رسائی فراہم کی گئی ہے۔ یہ معاہدے کے تحت شامل تمام ٹیرف لائنز کا 14.8 فیصد حصہ ہیں۔ اس کے علاوہ، برطانیہ نے عالمی تجارتی تنظیم (ڈبلیو ٹی او) کے زرعی معاہدے کے تحت دستیاب حفاظتی اقدامات نافذ کرنے کے اپنے حق کو استعمال نہ کرنے پر بھی اتفاق کیا ہے۔

اہم مستفیدین:بھارت–برطانیہ سی ای ٹی اے کے ذریعے بھارتی کسانوں کو برطانیہ کی منڈی میں اپنی زرعی مصنوعات کے بہتر نرخ حاصل کرنے کا موقع ملے گا۔ کسانوں کو روایتی علم کی شناخت سے متعلق وعدوں سے بھی فائدہ حاصل ہوگا، خاص طور پر جینیاتی وسائل سے متعلق پیٹنٹ کے عمل میں۔ اس کے علاوہ، سی ای ٹی اے زراعت سمیت مختلف شعبوں میں جامع اور ٹیکنالوجی سے غیر جانب دار اختراع کو فروغ دے گا۔اسی طرح، اس معاہدے سے آندھرا پردیش، تمل ناڈو، پنجاب، مہاراشٹر (انگور اور پیاز)، گجرات (مونگ پھلی اور کپاس)، کیرالہ (مصالحہ جات) اور شمال مشرقی ریاستوں (باغبانی) کے پیدا کنندگان کو بھی فائدہ پہنچنے کی توقع ہے۔

 

سی ای ٹی اے کے تحت ترقی کے مواقع:اہم زرعی شعبوں میں ڈیوٹی فری منڈی تک رسائی ملنے سے اگلے تین برسوں میں زرعی برآمدات میں 50 فیصد سے زیادہ اضافے کی توقع ہے۔ اس معاہدے سے تازہ انگور، پراسیس شدہ غذائی مصنوعات، بیکری مصنوعات، محفوظ شدہ سبزیاں، پھل اور میوے، تازہ اور منجمد سبزیاں، چٹنیوں اور تیار شدہ ساسز کی برآمدات کو فروغ ملنے کا امکان ہے۔یہ معاہدہ بھارتی زرعی مصنوعات کو جرمنی اور نیدرلینڈز سمیت ان اہم یورپی یونین (ای یو) برآمد کنندگان کے برابر مسابقتی مقام بھی فراہم کرتا ہے، جنہیں پہلے ہی برطانیہ کی منڈی میں صفر محصولات کے ساتھ رسائی حاصل ہے۔

فوڈ پروسیسنگ شعبہ

شعبہ جاتی منظرنامہ

بھارت عالمی سطح پر 14.07 ارب امریکی ڈالر مالیت کی پراسیس شدہ غذائی مصنوعات برآمد کرتا ہے۔ یونائیٹڈ کنگڈم 50.68 ارب امریکی ڈالر مالیت کی پراسیس شدہ غذائی مصنوعات درآمد کرتا ہے، تاہم بھارت سے اس کی درآمد صرف 30.95 کروڑ امریکی ڈالر ہے۔ یہ برآمدات میں اضافے کے لیے نمایاں غیر استعمال شدہ امکانات کی نشاندہی کرتا ہے۔

سی ای ٹی اے کے اہم نکات

اس معاہدے کے تحت پراسیس شدہ غذائی شعبے کی 985 ٹیرف لائنز پر ڈیوٹی فری مارکیٹ تک رسائی فراہم کی گئی ہے۔ یہ معاہدے کے تحت شامل تمام ٹیرف لائنز کا 10.1 فیصد حصہ ہیں۔

اہم استفادہ کنندگان

پراسیس شدہ غذائی مصنوعات کے مینوفیکچررز اور برآمد کنندگان

باغبانی شعبہ

شعبہ جاتی منظرنامہ:برطانیہ بھارت کی باغاتی مصنوعات کے لیے ایک اہم برآمدی منڈی ہے۔ بھارت کی مجموعی کافی برآمدات کا 1.7 فیصد، چائے کی برآمدات کا 5.6 فیصد اور مصالحہ جات کی برآمدات کا 2.9 فیصد حصہ برطانیہ کو جاتا ہے۔

سی ای ٹی اے کے تحت اہم التزمات:اس معاہدے کے تحت انسٹنٹ کافی کو ڈیوٹی فری منڈی تک رسائی فراہم کی گئی ہے، جس سے برطانیہ کی منڈی میں بھارت کی قدر میں اضافہ شدہ کافی مصنوعات کی مسابقتی صلاحیت بڑھے گی۔

اہم مستفیدین:اس معاہدے سے برآمد کنندگان، پیدا کنندگان اور مینوفیکچررز کو فائدہ پہنچنے کی توقع ہے۔ ڈیوٹی فری منڈی تک رسائی حاصل ہونے سے بھارتی کاروباری ادارے جرمنی، اسپین اور نیدرلینڈز کے انسٹنٹ کافی سپلائرز کے ساتھ زیادہ مؤثر انداز میں مقابلہ کر سکیں گے۔

سی ای ٹی اے کے تحت ترقی کے مواقع:اس معاہدے سے برطانیہ کی منڈی میں خاص طور پر بھارتی انسٹنٹ کافی سمیت قدر میں اضافہ شدہ کافی مصنوعات کی برآمدات میں نمایاں اضافے کی توقع ہے۔

چمڑا اور جوتوں کی مصنوعات

شعبہ جاتی منظرنامہ

سال 2024 میں برطانیہ کو بھارت کی چمڑے اور فٹ ویئر مصنوعات کی برآمدات 49.4 کروڑ امریکی ڈالر رہیں۔ سی ای ٹی اے کے ذریعے برطانیہ کی 8.9 ارب امریکی ڈالر مالیت کی چمڑے اور فٹ ویئر مارکیٹ تک رسائی کا راستہ ہموار ہوا ہے، جس سے بھارتی برآمد کنندگان کے لیے ترقی کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ عالمی سطح پر 5.6 ارب امریکی ڈالر مالیت کی بھارتی چمڑے اور فٹ ویئر برآمدات کو برطانیہ کی مارکیٹ میں اپنی موجودگی بڑھانے اور مسابقتی صلاحیت کو مزید مضبوط کرنے کا موقع ملے گا۔

سی ای ٹی اے کے تحت اہم نکات

برطانیہ کو فٹ ویئر برآمدات کے لیے ڈیوٹی فری مارکیٹ تک رسائی

اہم استفادہ کنندگان

اتر پردیش، تمل ناڈو، مغربی بنگال اور دہلی-این سی آر کے چمڑے اور فٹ ویئر کلسٹرز

اہم مصنوعات کے زمرے

رَبڑ/پلاسٹک سول والے چمڑے کے جوتے، رَبڑ/پلاسٹک سول والے لیدر فٹ ویئر، ٹیکسٹائل سے تیار کردہ کھیل اور کیژول فٹ ویئر، دھاتی ٹو کیپ والے حفاظتی جوتے، ہینڈ بیگز اور پرس جیسی مصنوعات کے زمرے سے فائدہ حاصل ہونے کی توقع ہے۔

معاہدے کے تحت ترقی کے امکانات

محتاط اندازوں کے مطابق، برطانیہ کو بھارت کی برآمدات 90 کروڑ امریکی ڈالر سے تجاوز کر سکتی ہیں۔

آزاد تجارتی معاہدے (ایف ٹی اے) کے ذریعے برطانیہ کی مارکیٹ میں ویتنام، انڈونیشیا، کمبوڈیا، ترکیہ اور بنگلہ دیش کے مقابلے میں بھارت کی مسابقتی صلاحیت مزید مضبوط ہوگی۔

اس سے پیداوار اور برآمدات کو فروغ ملنے کے ساتھ ساتھ دیہی اور نیم شہری علاقوں میں روزگار کے مواقع پیدا کرنے میں بھی مدد ملنے کی توقع ہے۔

سمندری غذائی اجناس

شعبہ جاتی منظرنامہ:برطانیہ ہر سال تقریباً 4.9 ارب امریکی ڈالر مالیت کی سمندری مصنوعات درآمد کرتا ہے، جبکہ بھارت کی برآمدات صرف 12.6 کروڑ امریکی ڈالر ہیں، جو اس شعبے میں موجود غیر استعمال شدہ امکانات کو ظاہر کرتی ہیں۔ بھارت کی 7.8 ارب امریکی ڈالر مالیت کی عالمی سمندری مصنوعات کی برآمدات کو دیکھتے ہوئے، ڈیوٹی فری منڈی تک رسائی سے بھارت کی سمندری مصنوعات کی مکمل قدر کی زنجیر میں نئے مواقع پیدا ہونے کی توقع ہے۔برطانیہ بھارتی منجمد سمندری غذائی مصنوعات کے لیے ایک اعلیٰ قدر والی منڈی ہے۔ مچھلی، جھینگا اور کٹل فش اہم برآمدی زمروں میں شامل ہیں۔ برطانیہ میں بھارتی نژاد بڑی تارکینِ وطن برادری اور پراسیس شدہ سمندری غذائی مصنوعات کی بڑھتی ہوئی کھپت کے باعث ان مصنوعات کی مانگ میں اضافہ ہو رہا ہے۔

سی ای ٹی اے کے تحت اہم التزامات:اس معاہدے کے تحت بھارتی سمندری مصنوعات پر برطانیہ کی جانب سے عائد کیے جانے والے محصولات ختم کر دیے گئے ہیں۔ اس سے بھارتی برآمد کنندگان کو بہتر قیمتیں حاصل ہوں گی اور ماہی گیری کے شعبے کی مکمل قدر کی زنجیر میں آمدنی میں اضافہ ہوگا۔اس سے قبل بھارتی جھینگے پر برطانیہ میں 4.2 فیصد سے 8.5 فیصد تک محصولات عائد کیے جاتے تھے۔ محصولات کے خاتمے سے سمندری مصنوعات کی برآمدات میں تیزی آنے اور اعلیٰ قدر والی پراسیسنگ اور مصنوعات میں تنوع کو فروغ ملنے کی توقع ہے۔

اہم استفادہ کنندگان:اس معاہدے سے سمندری غذائی مصنوعات کے برآمد کنندگان، سمندری غذائی پراسیسنگ یونٹس، ساحلی ماہی گیر برادریوں اور ماہی گیری کے شعبے کو فائدہ پہنچنے کی توقع ہے۔ برآمدی طلب میں اضافے سے خریداری کی بہتر قیمتیں ملنے اور ذریعۂ معاش مضبوط ہونے کا امکان ہے۔سمندری مصنوعات کی برآمدی ترقی اتھارٹی (ایم پی ای ڈی اے) کے مطابق، سمندری غذائی پراسیسنگ پلانٹس میں ہزاروں خواتین کارکنان کام کرتی ہیں۔ برطانیہ کی منڈی تک بہتر رسائی سے ان پلانٹس کی پیداواری صلاحیت کے استعمال میں اضافے کی توقع ہے۔اس کے علاوہ، کیرالہ، آندھرا پردیش، گجرات، تمل ناڈو، اوڈیشہ اور مغربی بنگال جیسی ساحلی ریاستوں کو بھی برآمدات میں اضافے، روزگار کے مواقع پیدا ہونے اور ساحلی اقتصادی ترقی کے ذریعے نمایاں فوائد حاصل ہونے کی توقع ہے۔

انجینئرنگ گڈس

شعبہ جاتی منظرنامہ

برطانیہ بھارت کی انجینئرنگ مصنوعات کے لیے چھٹی سب سے بڑی برآمدی منڈی ہے۔ سال 2024–25 میں برطانیہ کو بھارت کی انجینئرنگ مصنوعات کی برآمدات میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 11.7 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

برطانیہ 193.52 ارب امریکی ڈالر مالیت کی انجینئرنگ مصنوعات درآمد کرتا ہے، تاہم اس میں سے صرف 4.28 ارب امریکی ڈالر مالیت کی مصنوعات بھارت سے درآمد کی جاتی ہیں۔ یہ برآمدات میں اضافے کے لیے نمایاں امکانات کی نشاندہی کرتا ہے۔

سی ای ٹی اے کے تحت اہم نکات

معاہدے کے تحت 1,659 ٹیرف لائنز، جو کل ٹیرف لائنز کا 17 فیصد ہیں، کو ڈیوٹی فری مارکیٹ تک رسائی فراہم کی گئی ہے۔

18 فیصد تک کے محصولات ختم کر دیے گئے ہیں۔

اہم استفادہ کنندگان

انجینئرنگ مینوفیکچررز اور برآمد کنندگان، خصوصاً بجلی کی مشینری، آٹو پارٹس، صنعتی آلات اور تعمیراتی مشینری تیار کرنے والے ادارے۔

تمل ناڈو، کرناٹک، اتر پردیش، مہاراشٹر، گجرات اور تلنگانہ کے انجینئرنگ کلسٹرز۔

معاہدے کے تحت ترقی کے امکانات

برطانیہ کو بھارت کی انجینئرنگ مصنوعات کی برآمدات سال 2029–30 تک دوگنی ہو کر 7.5 ارب امریکی ڈالر سے تجاوز کرنے کا تخمینہ ہے۔ اہم انجینئرنگ مصنوعات کی برآمدات میں 12 سے 20 فیصد کی مرکب سالانہ شرح نمو (سی اے جی آر) سے اضافہ ہونے کی توقع ہے۔

الیکٹرانکس اور سافٹ ویئر مصنوعات

سی ای ٹی اے کے تحت اہم التزامات:اس معاہدے کے تحت اہل الیکٹرانک مصنوعات کو ڈیوٹی فری منڈی تک رسائی فراہم کی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ، سافٹ ویئر اور انفارمیشن ٹیکنالوجی سے متعلق خدمات (آئی ٹی ای ایس) کے لیے برطانیہ سے وسیع اور اہم منڈی تک رسائی سے متعلق وعدے بھی حاصل کیے گئے ہیں۔

سی ای ٹی اے کے تحت مواقع:اس معاہدے سے اسمارٹ فونز، آپٹیکل فائبر کیبلز اور انورٹرز کی برآمدات میں تیزی آنے کی توقع ہے، جس سے برطانیہ کی منڈی میں بھارت کی موجودگی مزید مضبوط ہوگی۔ اس کے علاوہ، سافٹ ویئر اور انفارمیشن ٹیکنالوجی سے متعلق خدمات (آئی ٹی ای ایس) کے لیے نئی منڈیوں کے مواقع پیدا ہونے، روزگار کے نئے مواقع کو فروغ ملنے اور برآمدی صلاحیت میں اضافے کا امکان ہے۔بھارتی سافٹ ویئر کمپنیوں کی برآمدات میں ہر سال 15 سے 20 فیصد تک اضافے کا اندازہ لگایا گیا ہے۔

ادویات اور دواسازی کا شعبہ

شعبہ جاتی منظرنامہ

برطانیہ تقریباً 30 ارب امریکی ڈالر مالیت کی ادویات درآمد کرتا ہے، تاہم بھارت سے اس کی درآمدات 1 ارب امریکی ڈالر سے بھی کم ہیں۔

سی ای ٹی اے کے تحت اہم نکات

دواسازی کے شعبے کے لیے 56 ٹیرف لائنز پر ڈیوٹی فری مارکیٹ تک رسائی فراہم کی گئی ہے، جو کل ٹیرف لائنز کا 0.6 فیصد ہیں۔یہ سرجیکل آلات، تشخیصی آلات، ای سی جی مشینوں اور ایکس رے نظام سمیت مختلف طبی آلات پر عائد محصولات کو ختم کرتا ہے۔

اہم استفادہ کنندگان

بھارتی میڈ-ٹیک کمپنیاں اور مینوفیکچررز

معاہدے کے تحت ترقی کے امکانات

برطانیہ کی مارکیٹ میں بھارتی جینیرک ادویات کی مسابقتی صلاحیت میں اضافے کی توقع ہے۔بریگزٹ اور کووِڈ-19 کے بعد چین سے درآمدات پر برطانیہ کے انحصار میں کمی کے باعث، بھارتی مینوفیکچررز ایک ترجیحی اور کم لاگت والے سپلائر کے طور پر ابھرنے کے لیے بہتر پوزیشن میں ہیں۔

کیمیائی مصنوعات

شعبہ جاتی منظرنامہ:بھارت عالمی سطح پر تقریباً 40 ارب امریکی ڈالر مالیت کی کیمیائی اور متعلقہ مصنوعات برآمد کرتا ہے۔ برطانیہ کی 35.8 ارب امریکی ڈالر مالیت کی کیمیائی منڈی بھارتی برآمد کنندگان کے لیے ترقی کے وسیع امکانات فراہم کرتی ہے۔ تاہم، برطانیہ کو بھارت کی برآمدات صرف 84.3 کروڑ امریکی ڈالر ہیں۔موجودہ وقت میں برطانیہ کو کیمیائی مصنوعات کی برآمدات 57.032 کروڑ امریکی ڈالر ہیں، جو بھارت کی مجموعی عالمی کیمیائی برآمدات کا تقریباً 2 فیصد حصہ ہیں۔ یہ برطانیہ کی منڈی میں برآمدات کے لیے موجود اہم غیر استعمال شدہ امکانات کو ظاہر کرتا ہے۔

سی ای ٹی اے کے تحت اہم التزامات:یہ معاہدہ 1,206 ٹیرف لائنز پر ڈیوٹی فری منڈی تک رسائی فراہم کرتا ہے۔ یہ معاہدے کے تحت شامل کل ٹیرف لائنز کا 12.4 فیصد حصہ ہیں۔ اس میں کھاد، صنعتی کیمیکلز اور پیٹرو کیمیکلز جیسی مصنوعات شامل ہیں، جو دوطرفہ تجارت میں اس شعبے کی اہمیت کو ظاہر کرتی ہیں۔گجرات، مہاراشٹر، کرناٹک، آندھرا پردیش، تمل ناڈو اور تلنگانہ کے کیمیائی مینوفیکچرنگ مراکز کو اس معاہدے سے فائدہ پہنچنے کی توقع ہے۔

پلاسٹک مصنوعات

شعبہ جاتی منظرنامہ

بھارت برطانیہ کو پلاسٹک مصنوعات فراہم کرنے والا 13واں سب سے بڑا ملک ہے۔

سی ای ٹی اے کے تحت اہم نکات

یہ معاہدہ پلاسٹک مصنوعات کے لیے ڈیوٹی فری مارکیٹ تک رسائی فراہم کرتا ہے، جن کی تیاری میں بھارت نے اپنی صلاحیت ثابت کی ہے۔

معاہدے کے تحت ترقی کے امکانات

کم لاگت کے باعث بھارتی پلاسٹک مصنوعات کی مسابقتی صلاحیت میں اضافہ ہوگا۔ ڈیوٹی فری رسائی سے فلم، شیٹ، پائپ، پیکیجنگ، ٹیبل ویئر اور کچن ویئر کے برآمدات کو فروغ ملے گا، جس سے بھارت جرمنی اور چین جیسے بڑے عالمی سپلائرز کے ساتھ زیادہ مؤثر انداز میں مقابلہ کر سکے گا۔

 

کھیلوں کا سامان اور کھلونے

سی ای ٹی اے کے تحت اہم التزامات:یہ معاہدہ اہل مصنوعات پر برطانیہ کی جانب سے عائد کیے جانے والے درآمدی محصولات کو ختم کرتا ہے۔ یہ برطانیہ اور یورپی یونین کے معیارات کی تعمیل کو بھی فروغ دیتا ہے، جس سے خریداروں کا اعتماد بڑھے گا اور مزید کاروباری تعاون کی حوصلہ افزائی ہوگی۔

سی ای ٹی اے کے تحت ترقی کے مواقع:فٹ بال، کرکٹ کے سامان، رگبی بال اور غیر الیکٹرانک کھلونوں کی برآمدات میں اضافے کی توقع ہے۔ اس شعبے میں 15 فیصد ترقی کا اندازہ لگایا گیا ہے اور سال 2030 تک برآمدات کو 18.697 کروڑ امریکی ڈالر تک پہنچانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

ڈیوٹی فری رسائی سے بھارتی مصنوعات کی قیمتوں میں مسابقتی برتری بہتر ہوگی، جس سے وہ چین اور ویتنام کے سپلائرز کے مقابلے میں زیادہ مسابقتی بن سکیں گی، جنہیں برطانیہ کے ساتھ ایسے ہی تجارتی معاہدوں کا فائدہ حاصل نہیں ہے۔

جواہرات اور زیورات کی مصنوعات

شعبہ جاتی منظرنامہ

برطانیہ کو بھارت کی قیمتی پتھروں اور زیورات کی برآمدات 1.03 ارب امریکی ڈالر مالیت کی ہیں۔

برطانیہ ہر سال تقریباً 4 ارب امریکی ڈالر مالیت کے زیورات درآمد کرتا ہے، جو بھارتی برآمد کنندگان کے لیے ترقی کے اہم امکانات کی نشاندہی کرتا ہے۔

سی ای ٹی اے کے تحت اہم نکات

قیمتی پتھروں اور زیورات کی برآمدات کے لیے محصولات میں رعایت

اہم استفاد ہ کنندگان

مینوفیکچررز اور روایتی کاریگر

 

سورت، احمد آباد، ممبئی، جے پور، کولکاتا، حیدرآباد، چنئی اور تریشور کے اہم قیمتی پتھروں اور زیورات کے کلسٹرز کو نمایاں فائدہ پہنچنے کی توقع ہے۔

معاہدے کے تحت ترقی کے امکانات

ڈیوٹی میں رعایت کے باعث اگلے 2–3 برسوں میں برطانیہ کو بھارت کی قیمتی پتھروں اور زیورات کی برآمدات کے دوگنا ہونے کا تخمینہ ہے

اسٹیل کا شعبہ

مارچ 2026 میں برطانیہ نے 188 ٹیرف لائنز پر اسٹیل سے متعلق نئے اقدامات نافذ کیے، جو یکم جولائی 2026 سے مؤثر ہوئے۔ ان ٹیرف لائنز پر بھارت کی برآمدات اس کی مجموعی اسٹیل برآمدات (960 ملین امریکی ڈالر) کا تقریباً 14 فیصد (137 ملین امریکی ڈالر) تھیں۔

بھارتی اسٹیل برآمد کنندگان کے مفادات کے تحفظ کے لیے دونوں ممالک نے ان اقدامات کے اثرات کو کم کرنے کے لیے وسیع پیمانے پر بات چیت کی۔ اس سے تجارتی مفادات کا تحفظ ہوگا، منڈی میں رکاوٹیں کم ہوں گی اور ایک متوازن اور مستحکم تجارتی ماحول برقرار رہے گا۔

سی ای ٹی اے کے تحت اہم التزامات:ممکنہ تجارتی اثرات کو کم کرنے اور معاہدے میں توازن برقرار رکھنے کے لیے برطانیہ نے تین اہم مصنوعات کے زمروں میں ڈیوٹی فری رسائی کو وسعت دی ہے:

زمرہ 1 (نان الائے اور دیگر الائے ہاٹ رولڈ شیٹس اور اسٹرپس):بھارت کے لیے ملک مخصوص کوٹہ تقریباً تین گنا بڑھا کر 12,405 ٹن سے 33,456 ٹن کر دیا گیا ہے۔ برطانیہ نے مجاز استعمال اسکیم (اے یو ایس) کے تحت کوٹے کا 40 فیصد حصہ خصوصی طور پر بھارت کے لیے مختص کیا ہے۔ اس سے بھارتی برآمد کنندگان کو فائدہ ہوگا اور تقریباً 9.45 لاکھ ٹن کے مخصوص تجارتی مواقع دستیاب ہوں گے۔

زمرہ 28 (نان الائے وائر):اس اقدام کے دائرے سے 9 کموڈیٹی کوڈز کو خارج کر دیا گیا ہے، جس سے منڈی تک رسائی بہتر ہوگی۔ اس سے یہ یقینی ہوگا کہ اس زمرے میں بھارت کی 95 فیصد برآمدات مکمل طور پر پابندیوں سے آزاد رہیں گی۔

اضافی گنجائش کے حامل بقایا کوٹے:بھارت نے اہم ذیلی زمروں میں بہتر رسائی کو یقینی بنایا ہے۔ اس کے تحت زمرہ 12 بی (نان الائے مرچَنٹ  بارز اور لائٹ سیکشنز) کا بقایا کوٹہ 468 ٹن سے بڑھا کر 4,540 ٹن اور زمرہ 26 (دیگر ویلڈڈ ٹیوبز) کا بقایا کوٹہ 10,809 ٹن سے بڑھا کر 16,327 ٹن کر دیا گیا ہے۔

سی ای ٹی اے کے تحت مواقع:نئے فریم ورک کے تحت بھارت کا مجموعی ملک مخصوص کوٹہ بڑھا کر 1,68,029 ٹن کر دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ، مجاز استعمال اسکیم (اے یو ایس) کے تحت 9.45 لاکھ ٹن کا خصوصی کوٹہ بھی فراہم کیا گیا ہے۔

بھارتی تلہن مصنوعات

سی ای ٹی اے کے تحت اہم نکات

محصولات میں کمی اور طریقۂ کار کو آسان بنانا

اہم استفاد ہ کنندگان

بھارتی تلہن برآمد کنندگان

معاہدے کے تحت ترقی کے امکانات

برطانیہ کی مارکیٹ بھارتی تلہن برآمد کنندگان کو اپنے صارفین کے دائرہ کار کو وسعت دینے، مارکیٹ میں اپنی موجودگی کو مضبوط بنانے اور برآمدی مسابقت میں اضافہ کرنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔

خدمات کا شعبہ: منڈی تک رسائی اور پیشہ ور افراد کی نقل و حرکت میں توسیع

شعبہ جاتی منظرنامہ

خدمات کا شعبہ بھارت–برطانیہ اقتصادی شراکت داری کا ایک اہم ستون ہے۔ برطانیہ کے ساتھ خدمات کی تجارت میں بھارت کو تقریباً 7.9 ارب امریکی ڈالر کا سرپلس حاصل ہے۔ بھارت کی خدمات کی برآمدات 21.6 ارب امریکی ڈالر ہیں، جبکہ خدمات کی درآمدات 13.7 ارب امریکی ڈالر ہیں۔

سی ای ٹی اے کے تحت اہم التزامات

بھارت نے برطانیہ سے خدمات کے تمام 12 اہم شعبوں اور 137 ذیلی شعبوں پر مشتمل وسیع تر وعدے حاصل کیے ہیں، جو بھارت کے 99 فیصد سے زیادہ برآمدی مفادات کی نمائندگی کرتے ہیں۔ اس کے مقابلے میں، بھارت کی جانب سے 108 ذیلی شعبوں میں وعدے فراہم کیے گئے ہیں۔

4.jpg

باہمی منظوری اور پیشہ ور افراد کی آسان آمدورفت

دونوں ممالک نے معاہدے کے نافذ ہونے کے 12 ماہ کے اندر پیشہ ورانہ قابلیتوں کی باہمی منظوری کے لیے باہمی شناختی معاہدوں (ایم آر اے) کو آگے بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔ مجوزہ ایم آر اے میں نرسنگ، اکاؤنٹنگ اور فنِ تعمیر کو شامل کیا گیا ہے۔ ان معاہدوں سے پیشہ ور افراد کے لیے رکاوٹوں میں کمی اور بہترین عملی طریقوں کے تبادلے کو فروغ ملنے کی توقع ہے۔

برطانیہ نے پیشہ ور افراد کے داخلے پر کسی بھی قسم کی مقداری حد یا اقتصادی ضرورت کے ٹیسٹ (ای این ٹی) نافذ نہ کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ ای این ٹی کے خاتمے سے غیر یقینی صورتحال میں کمی آئے گی اور بھارتی پیشہ ور افراد کی نقل و حرکت مزید آسان ہونے کی توقع ہے۔ یہ معاہدہ بھارت کی ثقافتی مہارت کو تسلیم کرتے ہوئے معاہداتی خدمات فراہم کرنے والوں کے لیے ہر سال 1,800 مواقع کا ایک مخصوص کوٹہ بھی مقرر کرتا ہے۔

اس کے علاوہ، یہ معاہدہ بھارتی پیشہ ور افراد کے عارضی داخلے اور قیام کے لیے ایک یقینی فریم ورک فراہم کرتا ہے۔

زمرہ

قیام کی مدت

کاروباری زائرین (بی وی)

تمام شعبوں میں کسی بھی 6 ماہ کی مدت کے دوران 90 دن

بین الاقوامی ادارہ جاتی منتقلی (آئی سی ٹی)

تمام شعبوں میں 3 سال، جس میں شریک حیات اور زیر کفالت افراد بھی شامل ہیں۔ اس میں گریجویٹ ٹرینی بھی شامل ہیں

سرمایہ کار

ایک سال

معاہداتی خدمات فراہم کنندگان (سی ایس ایس)

آئی ٹی/آئی ٹی ای ایس، کاروبار، مالیات، مہمان نوازی اور نقل و حمل سمیت 33 ذیلی شعبوں میں کسی بھی 24 ماہ کی مدت کے دوران 12 ماہ

آزاد پیشہ ور افراد(آئی پی)

آئی ٹی/آئی ٹی ای ایس، کاروباری خدمات، پیشہ ورانہ خدمات، ٹیلی مواصلات اور مالیات سمیت 16 ذیلی شعبوں میں کسی بھی 24 ماہ کی مدت کے دوران 12 ماہ

دوہری شراکت داری کنونشن

اس سے قبل، برطانیہ میں مختصر مدت کی تعیناتیوں پر کام کرنے والے بھارتی پیشہ ور افراد اور ان کے آجرین کو وہاں کے قومی بیمہ (نیشنل انشورنس) نظام میں اپنی تنخواہ کا تقریباً 23 فیصد حصہ بطور شراکت ادا کرنا پڑتا تھا، جبکہ اس کے بدلے وہ کسی بھی فائدے کے اہل نہیں ہوتے تھے۔

ڈبل کنٹریبیوشن کنونشن (ڈی سی سی) کے تحت 60 ماہ تک کی تعیناتیوں کے لیے دوہرے سماجی تحفظ کے تعاون کو ختم کر دیا گیا ہے۔ اس کنونشن سے 75,000 سے زائد بھارتی پیشہ ور افراد اور تقریباً 900 بھارتی کمپنیوں کو فائدہ پہنچنے کی توقع ہے۔ اس سے روزگار کے اخراجات میں کمی آئے گی اور پیشہ ور افراد کی ہاتھ میں آنے والی آمدنی میں اضافہ ہوگا۔ صنعت کے اندازوں کے مطابق، اس شق سے ہر سال 60 کروڑ امریکی ڈالر سے زیادہ کی بچت متوقع ہے۔

ڈیجیٹل ذرائع سے فراہم کی جانے والی خدمات اور سرمایہ کاری کے مواقع

یہ معاہدہ انفارمیشن ٹیکنالوجی، پیشہ ورانہ مشاورت، تعلیم، تربیت اور ٹیلی کمیونیکیشن جیسی ڈیجیٹل ذرائع سے فراہم کی جانے والی خدمات کے لیے منڈی تک رسائی کو مزید مضبوط بناتا ہے۔ اس سے بھارت کے انفارمیشن ٹیکنالوجی اور آئی ٹی سے متعلق خدمات کے شعبے کو فروغ ملنے کی توقع ہے، جسے پہلے ہی برطانیہ کے ساتھ تجارت میں سرپلس حاصل ہے۔

یہ معاہدہ بھارتی کمپنیوں کے لیے برطانیہ میں اپنے کاروباری آپریشنز قائم کرنے کے نئے مواقع بھی پیدا کرتا ہے۔ یہ مواقع انتظامی مشاورت، تعلیم اور ماحولیاتی خدمات جیسے شعبوں میں دستیاب ہوں گے۔

اہم استفادہ کنندگان

کاروباری ادارے اور اسٹارٹ اپ ماحولیاتی نظام:خدمات سے متعلق وعدے برطانیہ میں سرمایہ کاری کا منصوبہ بنانے والے بھارتی کاروباری اداروں کو زیادہ یقین دہانی فراہم کریں گے۔ یہ معاہدہ تعمیری اور ضابطہ جاتی رکاوٹوں کو کم کرے گا، جس سے خاص طور پر ڈیجیٹل خدمات کے شعبے میں بھارتی اسٹارٹ اپس کو نئے صارفین تک رسائی حاصل کرنے میں آسانی ہوگی۔

انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی ٹی) کے پیشہ ور افراد:پیشہ ور افراد کی نقل و حرکت سے متعلق وعدوں کا بھارتی آئی ٹی پیشہ ور افراد پر نمایاں مثبت اثر پڑے گا، جس سے ان کے لیے برطانیہ میں کام کرنا مزید آسان ہوگا۔ ان دفعات سے ہنر مند پیشہ ور افراد کی بلا تعطل اور کم لاگت نقل و حرکت کو یقینی بنایا جائے گا۔

گلوبل کیپبیلٹی سینٹرز (جی سی سی):یہ معاہدہ برطانیہ کی کمپنیوں کے بھارت سے متعلق نقطۂ نظر کو کم لاگت والے بیک آفس مرکز سے تبدیل کرکے تحقیق و ترقی، تجزیہ، سائبر سیکیورٹی اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کے شعبوں میں ایک تزویراتی شراکت دار کے طور پر قائم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ یہ گلوبل کیپبیلٹی سینٹرز (جی سی سی) کے فروغ اور توسیع کو بھی تقویت دے گا۔

صحت اور تعلیم کے شعبے:بھارتی اسپتال بہتر صحت کی سہولیات فراہم کرنے اور جدید طبی ٹیکنالوجیز کو اپنانے کے لیے برطانوی اسپتالوں کے ساتھ تعاون کر سکیں گے۔ برطانیہ کے تعلیمی ادارے بھارت میں اپنے کیمپس قائم کر سکیں گے، جبکہ بھارتی ادارے برطانیہ میں اپنے آپریشنز قائم کرکے ایڈ ٹیک جیسے شعبوں میں توسیع کر سکیں گے۔

بھارتی مالیاتی ادارے:اس معاہدے سے بھارتی مالیاتی اداروں کو برطانیہ کی منڈی تک بہتر رسائی حاصل ہوگی، جس سے وہ وہاں مقیم بھارتی برادری اور کاروباری اداروں کو زیادہ مؤثر خدمات فراہم کر سکیں گے۔ غیر امتیازی سلوک سے متعلق دفعات بھارتی اداروں کے ساتھ مساوی اور منصفانہ برتاؤ کو یقینی بنائیں گی۔ اس کے علاوہ، یہ معاہدہ الیکٹرانک ادائیگیوں، فن ٹیک اور دیگر ڈیجیٹل مالیاتی حلوں کے فروغ کو بھی تقویت دے گا، جس سے مجموعی منڈی کا انضمام مزید مضبوط ہوگا۔

حکومتی خریداری:بھارتی سپلائرز کو برطانیہ کی 90 ارب پاؤنڈ (122 ارب امریکی ڈالر) مالیت کی حکومتی خریداری کی منڈی تک رسائی حاصل ہوگی، جبکہ برطانیہ کو بھارت کی 114 ارب امریکی ڈالر مالیت کی حکومتی خریداری کی منڈی تک باہمی رسائی حاصل ہوگی۔ یہ معاہدہ بھارتی سپلائرز کے ساتھ منصفانہ برتاؤ کو یقینی بناتا ہے اور انفارمیشن ٹیکنالوجی، تعمیرات، مالیاتی خدمات، بیمہ اور منتخب تعلیمی اداروں جیسے شعبوں میں نئے مواقع فراہم کرتا ہے۔

سی ای ٹی اے کے تحت مواقع

اس معاہدے سے انفارمیشن ٹیکنالوجی اور کاروباری خدمات کے شعبے میں تیز رفتار ترقی کی توقع ہے۔ اس سے بھارتی کمپنیوں کے لیے برطانیہ کی 200 ارب امریکی ڈالر مالیت کی خدماتی درآمدی منڈی میں اپنی حصہ داری بڑھانے کے مواقع پیدا ہوں گے۔ یہ بھارت کی موجودہ تقریباً 14 ارب امریکی ڈالر مالیت کی خدماتی برآمدات کو مزید وسعت دینے میں معاون ثابت ہوگا۔

بھارت–برطانیہ اقتصادی تعاون کے فروغ کی جانب پیش رفت

بھارت–برطانیہ سی ای ٹی اے دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرتا ہے۔ یہ بہتر منڈی تک رسائی کے ساتھ تجارت، سرمایہ کاری، اختراع اور پیشہ ور افراد کی نقل و حرکت کے نئے مواقع فراہم کرتا ہے۔

اس معاہدے سے بھارت کی عالمی مسابقتی صلاحیت کو مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ جامع اور پائیدار ترقی کو بھی فروغ ملنے کی توقع ہے۔ یہ معاہدہ بھارت–برطانیہ کے درمیان ایک مضبوط، لچکدار اور مستقبل کے لیے تیار شراکت داری کی بنیاد رکھتا ہے

حوالہ

وزارتِ تجارت و صنعت


https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2127321&reg=48&lang=2

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2274280&reg=48&lang=1

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2149474&reg=48&lang=2

وزارتِ خارجہ

https://www.mea.gov.in/Portal/ForeignRelation/Ind_UK_25.pdf

پی آئی بی ہیڈکوارٹرز

https://www.pib.gov.in/PressNoteDetails.aspx?ModuleId=3&NoteId=154945&reg=48&lang=2

پی ڈی ایف دیکھنے کے لیے یہاں کلک کریں

***

ش ح۔ ک ا۔ ف ر

U.NO.21

 


(रिलीज़ आईडी: 2285447) आगंतुक पटल : 7
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Bengali , Gujarati , Tamil