محنت اور روزگار کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

مرکزی وزیر ڈاکٹر منسکھ مانڈویہ کی برکس ممالک کے ہم منصب وزراء سے دوطرفہ ملاقات، محنت، ہنرمندی اور ڈیجیٹل عوامی بنیادی ڈھانچے میں تعاون بڑھانے پر زور

प्रविष्टि तिथि: 15 JUL 2026 8:57PM by PIB Delhi

بھارت کی برکس صدارت 2026 کے تحت حیدرآباد میں برکس کے محنت و روزگار کے وزراء کا 12واں اجلاس کامیابی کے ساتھ منعقد ہوا۔ اجلاس میں برکس ممالک کے محنت و روزگار کے وزراء، مختلف ممالک کے وفود کے سربراہان، آجر اور مزدور تنظیموں کے نمائندوں اور اہم اداروں کے شراکت داروں نے شرکت کی۔ اس موقع پر مستقبل کی دنیا میں کام، روزگار اور سماجی تحفظ سے متعلق اہم امور پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔

اجلاس کے بعد محنت اور روزگار  کے مرکزی وزیرڈاکٹر منسکھ مانڈویہ نے انڈونیشیا، ایران، روس، متحدہ عرب امارات اور بین الاقوامی سماجی تحفظ ایسوسی ایشن (آئی ایس ایس اے) کے اپنے ہم منصبوں اور نمائندوں سے دوطرفہ ملاقاتیں کیں۔

اجلاس میں شامل رہنماؤں نے اس بات پر تبادلۂ خیال کیا کہ ڈیجیٹل سہولتوں کے مؤثر استعمال کے ذریعے روزگار کے مواقع کو کس طرح زیادہ جامع، شفاف اور مؤثر بنایا جا سکتا ہے۔ بھارت نے ای۔شرم اور نیشنل کیریئر سروس ( این سی ایس) پورٹل کو ڈیجیٹل عوامی بنیادی ڈھانچے ( ڈی پی آئی) کی نمایاں مثالوں کے طور پر پیش کیا، جو سماجی تحفظ، روزگار کی خدمات اور بین الاقوامی سطح پر افرادی قوت کی نقل و حرکت کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔بات چیت میں برکس کنیکٹ کے ذریعے جنوبی ممالک کے درمیان تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر بھی زور دیا گیا، تاکہ ہنرمندی، افرادی قوت کی منصوبہ بندی اور ڈیجیٹل اختراعات کے شعبوں میں باہمی اشتراک کو فروغ دیا جا سکے۔

متحدہ عرب امارات کے وزیر برائے انسانی وسائل و اماراتائزیشن ڈاکٹر عبدالرحمن العور کے ساتھ ملاقات میں افرادی قوت کی نقل و حرکت کو مزید آسان بنانے، بھارت کی ڈیجیٹل عوامی بنیادی ڈھانچے (ڈی پی آئی) میں پیش رفت اور اس شعبے میں مستقبل کے تعاون کے امکانات پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔اس موقع پر متحدہ عرب امارات کو بھارت اور بین الاقوامی محنت تنظیم ( آئی ایل او) کی جانب سے عالمی پیشہ ورانہ درجہ بندی (آئی آر سی او) کی تیاری سے متعلق جاری عملی امکان کے جائزے میں شامل ہونے کی دعوت بھی دی گئی۔ ملاقات میں اس بات پر زور دیا گیا کہ عالمی سطح پر قابل قبول پیشہ ورانہ درجہ بندی کا مؤثر نظام تیار کرنے کے لیے بین الاقوامی اشتراک ناگزیر ہے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image001ROHU.jpg

روس کے وزیر برائے محنت و سماجی تحفظ انتون کوتیاکوف کے ساتھ ملاقات میں بھارت اور روس کے درمیان روزگار اور سماجی تحفظ کے شعبوں میں تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ اس دوران پالیسی سطح پر رابطوں میں اضافہ، ہنرمندی کے فروغ میں باہمی تعاون اور لیبر مارکیٹ کے مؤثر نظم و نسق کے لیے ڈیجیٹل حل ایک دوسرے کے ساتھ شیئر کرنے پر زور دیا گیا۔روس کو بھی بھارت اور بین الاقوامی محنت تنظیم (آئی ایل او) کی جانب سے عالمی پیشہ ورانہ درجہ بندی (آئی آر سی او) کی تیاری سے متعلق جاری عملی امکان کے جائزے میں شریک ہونے کی دعوت دی گئی۔ملاقات میں یہ بھی کہا گیا کہ دونوں ممالک کے درمیان سماجی تحفظ کے معاہدے (ایس ایس اے) پر دستخط کے امکانات کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image002E5AH.jpg

انڈونیشیا کے وزیر برائے افرادی قوت یاسی اَرلی کے ساتھ ملاقات میں بھارت اور انڈونیشیا کے درمیان روزگار، افرادی قوت کی ترقی اور ڈیجیٹل عوامی بنیادی ڈھانچے (ڈی پی آئی) کے شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔بھارت نے ڈیجیٹل پبلک کی تیاری اور فروغ کے اپنے تجربات انڈونیشیا کے ساتھ مشترک کرنے کی پیشکش کی۔ اس کے ساتھ ہی بھارت نے اس بات کا اظہار بھی کیا کہ وہ انڈونیشیا کے ساتھ مل کر ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے مؤثر استعمال کے ذریعے محنت اور روزگار سے متعلق خدمات کو مزید مضبوط اور مؤثر بنانے کے لیے تعاون کا خواہاں ہے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image003HU92.jpg

ایران کے وزیر برائے تعاون، محنت اور سماجی فلاح و بہبود ڈاکٹر احمد میداری کے ساتھ ملاقات میں بھارت اور ایران کے درمیان روزگار، محنت کے انتظامی نظام اور ڈیجیٹل تبدیلی کے شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے کے امکانات کا جائزہ لیا گیا۔اس موقع پر بھارت نے ڈیجیٹل عوامی بنیادی ڈھانچے (ڈی پی آئی) کی تعمیر اور ترقی کے اپنے تجربات سے آگاہ کیا اور اس بات کا اظہار کیا کہ وہ ایران کے ساتھ مل کر ٹیکنالوجی پر مبنی جدید حل اپنانے کے لیے تعاون کرنے کو تیار ہے، تاکہ محنت اور روزگار سے متعلق خدمات کو مزید مؤثر، شفاف اور عوام دوست بنایا جا سکے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image004IWKS.jpg

بین الاقوامی سماجی تحفظ ایسوسی ایشن (آئی ایس ایس اے) کےسکریٹری جنرل ڈاکٹر محمد اعظم کے ساتھ ملاقات میں بھارت اور آئی ایس ایس اے کے درمیان سماجی تحفظ کے نظام کو مزید مضبوط بنانے اور دنیا بھر کے کامیاب تجربات سے باہمی طور پر استفادہ کرنے کے امکانات پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔مرکزی وزیر ڈاکٹر منسکھ مانڈویہ نے 2025 میں سماجی تحفظ کے دائرۂ کار میں نمایاں توسیع پر بھارت کو آئی ایس ایس اے کی جانب سے دیے گئے اعزاز کو سراہتے ہوئے اسے ملک کے لیے باعثِ فخر قرار دیا۔اس موقع پر یہ بھی بتایا گیا کہ 2026 میں بھارت میں سماجی تحفظ کی سہولیات حاصل کرنے والے افراد کی تعداد ایک ارب (100 کروڑ) سے تجاوز کر چکی ہے، جو ہر شہری تک جامع اور مساوی سماجی تحفظ کی فراہمی کے لیے حکومت کے مسلسل عزم اور مؤثر کوششوں کا مظہر ہے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image0053TH3.jpg

مجموعی طور پر ان دوطرفہ ملاقاتوں اور تبادلۂ خیال سے اس بات کی بھرپور تائیدہوتی ہے کہ برکس کنیکٹ عملی تعاون کو فروغ دینے، بہترین عالمی تجربات کے تبادلے اور ایسے جامع، مضبوط اور مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ لیبر مارکیٹ کی تشکیل کے لیے ایک مؤثر پلیٹ فارم ثابت ہو سکتا ہے۔

مرکزی وزیر مملکت برائے محنت و روزگارمحترمہ شوبھا کرندلاجے کی جانب سے مختلف ممالک کے نمائندوں کے ساتھ ہونے والی دوطرفہ ملاقاتوں میں درج ذیل اہم نکات سامنے آئے:

  • برازیل کی وفاقی جمہوریہ کے نائب وزیر برائے محنت و روزگار فرانسسکو ماسیانا دا سلوا کے ساتھ ملاقات میں بھارت اور برازیل کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ اس سلسلے میں ہنرمندی کے فروغ، روزگار سے متعلق ڈیجیٹل خدمات، لیبر مارکیٹ معلوماتی نظام اور سماجی تحفظ کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا گیا۔ملاقات کے دوران عالمی پیشہ ورانہ درجہ بندی (آئی آر سی او) کی تیاری سے متعلق جاری عملی امکان کے جائزےمیں برازیل کی شرکت کو سراہا گیا۔ دونوں فریقوں نے علم اور تجربات کے تبادلے اور صلاحیت سازی کے ذریعے برکس کنیکٹ کو مزید مؤثر اور مضبوط بنانے کے اپنے عزم کا اعادہ بھی کیا۔
  • چین کی وزارتِ انسانی اورسائل و سماجی تحفظ کے نائب وزیر یو جیا ڈونگ کے ساتھ ملاقات میں مستقبل کے تقاضوں کے مطابق ہنرمندی، روزگار سے متعلق ڈیجیٹل خدمات، لیبر مارکیٹ کے مؤثر نظم و نسق اور سماجی تحفظ کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔اس موقع پر محنت کے شعبے میں خواتین کی زیادہ سے زیادہ شمولیت کو فروغ دینے اور لیبر گورننس کو مؤثر بنانے کے لیے بھارت کی ڈیجیٹل عوامی بنیادی ڈھانچے (ڈی پی آئی) سے متعلق پہل کو سراہا گیا۔دونوں فریقوں نے برکس کنیکٹ کو مزید مضبوط بنانے اور ایسے جامع، مضبوط اور مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ لیبر مارکیٹ کی تشکیل کے لیے باہمی تعاون جاری رکھنے کے عزم کا بھی اعادہ کیا۔

اعلامیے کی کامیاب منظوری اور برکس کنیکٹ کے آغاز نے محنت اور روزگار کے شعبے میں بریکس ممالک کے درمیان تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم پیش رفت کی ہے۔اجلاس اس مشترکہ عزم کے ساتھ اختتام پذیر ہوا کہ بریکس ممالک مستقبل میں بھی ایک ساتھ مل کر ایسے عالمی نظامِ محنت کے فروغ کے لیے کام کرتے رہیں گے، جو سماجی انصاف، باوقار روزگار، اختراع، مضبوطی اور سب کے لیے جامع ترقی کو یقینی بنائے۔

*****

ش ح۔ م م ع  ۔ ص ج

U. No-07

 


(रिलीज़ आईडी: 2285245) आगंतुक पटल : 5
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Gujarati