نائب صدر جمہوریہ ہند کا سکریٹریٹ
نائب صدر جمہوریہ جناب سی پی رادھا کرشنن نے راجستھان قانون ساز اسمبلی کے 75 سال مکمل ہونے کے موقع پر منعقدہ "ودھائی گورو یاترا" کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انتخابات جیتنا اہم ضرور ہے، لیکن عوام کی خدمت اس سے کہیں زیادہ اہم ہے
انہوں نے کہا کہ جمہوریت میں اختلافِ رائے فطری امر ہے، تاہم تمام عوامی نمائندوں کو عوام اور آئین کے تئیں اپنی وابستگی برقرار رکھنی چاہیے
نائب صدر نے کہا کہ ریاستی قانون ساز اسمبلیاں ہندوستانی جمہوریت کی زندہ روح ہیں اور یہی ادارے عوامی امنگوں کی حقیقی ترجمانی کرتے ہیں
انہوں نے کہا کہ بحث، تبادلۂ خیال یا اختلاف کا مقصد بالآخر کسی نتیجے اور فیصلے تک پہنچنا ہونا چاہیے، کیونکہ مؤثر قانون سازی اسی عمل سے ممکن ہوتی ہے
جناب رادھا کرشنن نے کہا کہ عوامی خدمت ہی وہ عمل ہے جو دیرپا احترام دلاتا ہے، صرف انتخابی کامیابی نہیں
انہوں نے مہارانا پرتاپ اور ان کے وفادار گھوڑے چیتک کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ تاریخ صرف عظیم شخصیات ہی نہیں بلکہ ہر مخلص کردار اور ہر سچے تعاون کو بھی یاد رکھتی ہے
प्रविष्टि तिथि:
15 JUL 2026 5:56PM by PIB Delhi
نائب صدر جمہوریہ ہند جناب سی پی رادھا کرشنن نے آج جے پور میں راجستھان قانون ساز اسمبلی کے 75 سال مکمل ہونے کی تقریبات کے سلسلے میں منعقدہ "ودھائی گورو یاترا: سابق اور موجودہ اراکینِ اسمبلی کانکلیو" کی اختتامی تقریب سے خطاب کیا۔ یہ پروگرام راجستھان قانون ساز اسمبلی میں منعقد ہوا۔
نائب صدرجمہوریہ جناب سی پی رادھا کرشنن نے راجستھان کی قربانی، بہادری اور حب الوطنی کی عظیم روایت کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ریاست کی ہر نسل نے ملک کی جمہوری اقدار کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت اسی وقت پروان چڑھتی ہے جب قومی مفاد کو ہر دوسری ترجیح پر فوقیت دی جائے اور اختلافِ رائے باوقار انداز میں پیش کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ انتخابات میں کامیابی حاصل کرنا اہم ضرور ہے، لیکن عوام کی خدمت اس سے کہیں زیادہ اہم ہے۔ ووٹ انتخابات جتوا سکتے ہیں، مگر عوام کا مستقل اعتماد، احترام اور محبت صرف مخلصانہ خدمت سے حاصل ہوتی ہے۔ انہوں نے سابق اور موجودہ اراکینِ اسمبلی کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنے کے اقدام کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس سے ادارہ جاتی یادداشت محفوظ رہتی ہے اور نئے عوامی نمائندے اپنے پیش روؤں کے تجربات سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ اس موقع پر انہوں نے اسپیکر جناب واسودیو دیونانی کو اس کانکلیو کے تصور پر مبارک باد دی۔
نائب صدر نے کہا کہ جمہوریت میں اختلافِ رائے فطری بات ہے، لیکن عوام اور آئین کے تئیں غیر متزلزل وابستگی سب کی مشترکہ ذمہ داری ہونی چاہیے۔ انہوں نے راجیہ سبھا میں دیے گئے اپنے پیغام کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بحث، تبادلۂ خیال یا کبھی کبھی احتجاج کا مقصد بھی بالآخر کسی نتیجے اور فیصلے تک پہنچنا ہونا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ ہندوستانی جمہوریت کی مضبوطی صرف آئینی اداروں پر منحصر نہیں بلکہ معیاری مباحث، باوقار طرزِ عمل اور آئینی اقدار سے وابستگی بھی اس کی بنیاد ہیں۔ انہوں نے قانون سازوں پر زور دیا کہ وہ ان اصولوں پر پوری دیانت داری سے عمل کریں۔
اپنے لوک سبھا کے دور کا ذکر کرتے ہوئے جناب رادھا کرشنن نے کہا کہ پارلیمانی ذیلی کمیٹی برائے ٹیکسٹائل کی سفارشات بعد میں ٹیکنالوجی اپ گریڈیشن فنڈ اسکیم کی بنیاد بنیں۔ انہوں نے کہا کہ تعمیری تجاویز اور کمیٹیوں میں فعال کردار بڑی پالیسی اصلاحات کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔
تروکّورل کے ایک شعر کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جو رہنما عوام کے لیے قابلِ رسائی اور خوش اخلاق ہوتے ہیں، وہی عوام کا دیرپا اعتماد حاصل کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عوام کی بات ہمدردی سے سننا اور ان کے ساتھ احترام سے پیش آنا اچھی پالیسی سازی جتنا ہی اہم ہے۔
نائب صدر نے ریاستی قانون ساز اسمبلیوں کو ہندوستانی جمہوریت کی ’’زندہ دھڑکن‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ جہاں پارلیمنٹ پورے ملک کی امنگوں کی نمائندگی کرتی ہے، وہیں ریاستی اسمبلیاں ہر گاؤں، قصبے اور خاندان کی آواز بنتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہر منتخب رکن پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے، کیونکہ جب کوئی شہری ووٹ دیتا ہے تو وہ جمہوریت پر اپنا اعتماد ظاہر کرتا ہے، اور اس اعتماد کا احترام دیانت داری، انکساری اور عوامی خدمت کے ذریعے ہر روز کیا جانا چاہیے۔
جناب رادھا کرشنن نے راجستھان کی سیاسی قیادت کے ساتھ اپنی طویل وابستگی کا ذکر کرتے ہوئے سابق وزرائے اعلیٰ جناب بھیروں سنگھ شیخاوت، محترمہ وسندھرا راجے اور جناب اشوک گہلوت کی خدمات کو سراہا، جبکہ مرحوم جناب راجیش پائلٹ کے ساتھ اپنی یادوں کا بھی تذکرہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ عوامی زندگی صبر کا تقاضا کرتی ہے اور مخلصانہ خدمت کا اعتراف بالآخر ضرور ہوتا ہے۔ مہارانا پرتاپ اور ان کے وفادار گھوڑے چیتک کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تاریخ صرف عظیم شخصیات ہی نہیں بلکہ ہر مخلص کردار کو بھی یاد رکھتی ہے۔ انہوں نے بھگود گیتا کا حوالہ دیتے ہوئے قانون سازوں پر زور دیا کہ وہ صلہ کی فکر کیے بغیر اپنے فرائض انجام دیں، کیونکہ دیانت دار عوامی خدمت کا اعتراف وقت آنے پر ضرور ہوتا ہے۔
نائب صدر نے تمام قانون سازوں سے اپیل کی کہ وہ قانون ساز اداروں کے وقار کا تحفظ کریں، تعمیری مکالمے کو فروغ دیں اور آنے والی نسلوں کے لیے مضبوط جمہوری ادارے چھوڑ کر جائیں۔ انہوں نے کہا کہ وکست بھارت 2047 کے خواب کی تعبیر کے لیے دیانت داری، انکساری اور خدمت کا جذبہ ناگزیر ہے اور وکست راجستھان، وکست بھارت کا لازمی حصہ ہے۔
اس موقع پر نائب صدر نے راجستھان قانون ساز اسمبلی کے سابق اسپیکروں، سابق نائب اسپیکروں، سابق اور موجودہ اراکینِ اسمبلی کو ریاست کی جمہوری اور قانون سازی کی روایت میں ان کی خدمات کے اعتراف میں اعزازات سے نوازا۔
تقریب میں راجستھان کے گورنر جناب ہری بھاؤ کسان راؤ باگڑے، وزیر اعلیٰ جناب بھجن لال شرما، پنجاب کے گورنر جناب گلاب چند کٹاریا، راجستھان قانون ساز اسمبلی کے اسپیکر جناب واسودیو دیونانی، پارلیمانی امور، قانون و انصاف کے وزیر جناب جوگارام پٹیل، قائدِ حزبِ اختلاف جناب ٹیکارام جولی سمیت سابق اور موجودہ اراکینِ اسمبلی موجود تھے۔









************
ش ح ۔ م د ۔ م ص
(U :9993 )
(रिलीज़ आईडी: 2285134)
आगंतुक पटल : 9