سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

خوشبودار کیوڑا پیدا کرنے والا پودا انسانی تہذیب سے بھی قدیم ہے اور ہمالیہ کے وجود میں آنے سے پہلے کا ہے

प्रविष्टि तिथि: 15 JUL 2026 4:09PM by PIB Delhi

شمال مشرقی ریاست آسام میں واقع ایک کوئلے کی کان سے برآمد فوسل پتوں (زیر زمین قدیمی پتھروں پر ملے نشان) سے انکشاف ہواہے کہ مٹھائیوں، روایتی ادویات اور مندروں میں بھی استعمال ہونے والی کیوڑے کی خوشبو، برصغیرہند میں کم از کم 24 ملین سال سے موجود ہے اور یہ بھارت کے قدیم گرم خطوں کے جنگلات کا ایک زندہ بچ جانے والا ورثہ ہے۔

یہ مطالعہ قدیم نباتاتی اقسام کے تحفظ میں بھارت کے کردار، موسمیاتی تبدیلیوں کے ادوار میں حیاتیاتی تنوع کے ارتقا کے ساتھ ساتھ مستقبل میں ماحولیاتی نظام کے ردِعمل کو سمجھنے میں مددگار ثابت ہوگا۔

شمال مشرقی ہندوستان کے مالا مال فوسل نباتاتی ذخائر کا مسلسل مطالعہ کرنے والے سائنس دانوں کو اتفاقاً ایسے فوسل پتے ملے، جن میں موجودہ دور کے کیوڑا پودے سے غیر معمولی مماثلت پائی گئی۔ کیوڑا پودے کے یہ فوسل ریکارڈ دنیا بھر میں انتہائی نایاب ہیں۔

اس دریافت نے محکمہ سائنس و ٹیکنالوجی (ڈی ایس ٹی) کے ایک خود مختار ادارے بیربل ساہنی انسٹی ٹیوٹ آف پیلیوسائنسز(بی ایس آئی پی)، لکھنؤ کے سائنس دانوں کو اس ثقافتی اہمیت رکھنے والے پودے کی ارتقائی تاریخ کا سراغ لگانے کی جانب راغب کیا۔

ہرشیتا بھاٹیہ اور گورو سری واستو نے آسام کے ماکم کوئلے کی کان کی ٹیکک پربت تشکیل سے حاصل ہونے والے چار محفوظ شدہ فوسل پتوں کو جمع کیا، جو تقریباً 24 ملین سال قدیم ہیں۔ انہوں نے ان پتوں کا تفصیلی ظاہری ساختی اور خوردبینی تجزیہ کیا۔

یہ فوسل پتے (زیر زمین قدیمی پتھروں پر ملے پتوں کےنشان) موجودہ دور کے کیوڑا پودے کے پتوں سے بہت زیادہ مشابہت رکھتے ہیں۔ ان میں وہ نمایاں خصوصیات محفوظ ہیں جو آج بھی کیوڑا کے پودوں میں پائی  جاتی ہیں، جن میں لمبے تلوار نما پتے، متوازی رگیں اور کناروں پر مخصوص کانٹے شامل ہیں۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image001JHIP.jpg

تصویر1: نقشہ جس میں فوسل پائے جانے والےمقام (ماکم کوئلے کی کان، آسام) دکھایا گیا ہے، جہاں سے تقریباً 24 ملین سال قدیم فوسل پتے حاصل کیے گئے۔

ان فوسل پتوں کا موازنہ نباتاتی ذخیرہ گاہوں اور نباتاتی معلوماتی ڈیٹا بیس میں محفوظ جدید کیوڑا اقسام کے ساتھ کیاگیا، نیز دنیا کے مختلف حصوں سے پہلے دریافت کیے گئے فوسل ریکارڈز کا بھی جائزہ لیاگیا۔

جدید اقسام اور دنیا بھر میں دستیاب فوسل ریکارڈز کے تفصیلی تقابلی مطالعے سے تصدیق ہوئی کہ یہ پودا کیوڑا خاندان (پینڈانیشیا)سے تعلق رکھتا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پودوں کی یہ قدیم نسل انسانوں کے زمین پر وجود میں آنے سے لاکھوں سال پہلے ہی بھارت میں قائم ہو چکی تھی۔

ان پودوں کی ارتقائی تاریخ اور قدیم ماحول کی تشکیل نو کے لیے ارضیاتی، قدیم نباتاتی اور قدیم آب و ہوا سے متعلق شواہد کو یکجا کرکے ان کا مطالعہ کیا گیا۔

آج پینڈینس پودا زیادہ تر استوائی اور نیم استوائی علاقوں تک محدود ہے۔ تاہم، یورپ اور شمالی امریکہ سے ملنے والے فوسل شواہد، جوکہ 85 سے 66 ملین سال قدیم ہیں، ظاہر کرتے ہیں کہ اس کے آبائی پودے کبھی شمالی نصف کرۂ ارض کے بہت وسیع علاقوں میں پائے جاتے تھے۔تقریباً 34 ملین سال پہلے عالمی آب و ہوا کے بتدریج سرد ہونے کے بعد یہ پودے کئی علاقوں سے آہستہ آہستہ ختم ہوتے گئے اور بالآخر صرف گرم استوائی خطوں تک محدود ہو گئے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image002W937.jpg

تصویر2: پینڈینس کے فوسل پتے میں کناروں پر موجود کانٹے (سیاہ تیر)، ایم شکل کی عرضی سطح اور درمیانی رگ (پیلا تیر) سے پینڈانیشیا خاندان کی نمایاں خصوصیات کو ظاہر کیا گیا ہے۔ پیمانے کی لکیر: غیر واضح جگہ پر 1 سینٹی میٹر۔

آسام سے ملنے والے یہ فوسل شواہد ظاہر کرتے ہیں کہ بھارت نے ایک اہم پناہ گاہ کا کردار ادا کیا، جہاں پودوں کی یہ قدیم نسل اس وقت بھی زندہ رہی جب یہ دنیا کے کئی دوسرے حصوں سے ختم ہو چکی تھی۔

یہ دریافت، جو جریدہ جیو بایوس میں شائع ہوئی ہے، اس خاندان کی ارتقائی تاریخ میں موجود ایک اہم خلا کو پُر کرتی ہے۔ اس مطالعہ نے یورپ اور شمالی امریکہ سے ملنے والے قدیم فوسل ریکارڈز (85 سے 66 ملین سال قدیم) کو استوائی ایشیا اور آسٹریلیا سے حاصل ہونے والے نسبتاً نئے ریکارڈز کے ساتھ جوڑ دیا ہے۔

یہ مطالعے یہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ عالمی موسمیاتی تبدیلیوں کے ادوار میں بھارت نے قدیم استوائی نباتاتی نسلوں کے لیے ایک اہم پناہ گاہ کا کردار ادا کیا۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ کیوڑا پودا ہندوستانی نباتات کا کوئی حالیہ حصہ نہیں بلکہ برصغیر ہند میں اس کی ایک گہری ارتقائی تاریخ موجود ہے۔

یہ مطالعہ استوائی پودوں کے ارتقا، ہندوستانی حیاتیاتی تنوع کی تشکیل اور ماضی کی ماحولیاتی تبدیلیوں کے دوران پودوں کے ردعمل کی تاریخ کو سمجھنے میں مدد فراہم کرتاہے۔

اشاعت کا لنک: https://doi.org/10.1016/j.geobios.2026.05.001

*******

) ش ح –م ش-  ش ہ ب )

U.No. 9980


(रिलीज़ आईडी: 2285014) आगंतुक पटल : 8
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी