کابینہ
azadi ka amrit mahotsav

کابینہ نے ‘سیمی کان 2.0’ کی منظوری دی- حکومت نے بھارت میں سیمی کنڈکٹر شعبے کے لیے طویل مدتی پالیسی معاونت کے اپنے عزم کو پورا کیا

प्रविष्टि तिथि: 15 JUL 2026 3:09PM by PIB Delhi

وزیراعظم نریندر مودی کی زیرصدارت مرکزی کابینہ نے بھارت میں سیمی کنڈکٹر ڈیزائن اور مینوفیکچرنگ کے ایکو نظام کی ترقی کے لیے ’’سیمی کان 2.0‘‘ کی منظوری دے دی ہے، جس کے لیے مجموعی طور پر 1,27,500 کروڑ روپے کا بجٹ مختص کیا گیا ہے۔

بھارت میں سیمی کنڈکٹر شعبے کو مسلسل اور طویل مدتی معاونت کی ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے، اور سیمی کان 1.0 کے تحت حاصل ہونے والی پیش رفت کو مزید آگے بڑھانے کے لیے، سیمی کان 2.0 کا مقصد حکومت کے اس عزم کو مزید مضبوط بنانا ہے کہ بھارت کو سیمی کنڈکٹر کے عالمی نقشے پر ایک نمایاں مقام دلایا جائے۔

سیمی کان 2.0 کا مقصد درج ذیل چھ ستونوں کی بنیاد پر سیمی کنڈکٹر کے ایکو نظام کو جامع انداز میں فروغ دینا ہے:

پہلا ستون:ڈیزائن:سیمی کان 2.0 چِپ ڈیزائن کے شعبے میں حاصل ہونے والی ابتدائی کامیابیوں کو مزید آگے بڑھائے گا۔ اب تک 105 اسٹارٹ اپس چِپس کی تیاری کے ڈیزائن پر کام شروع کر چکے ہیں، اور اب توجہ ڈیزائن کے ایکو نظام کو مزید مضبوط بنانے پر مرکوز ہے۔ مزید برآں اسٹریٹجک اور تجارتی مصنوعات کی تیاری کے لیے بنیادی اجزا کی بھی نشاندہی کی گئی ہے۔سیمی کان 2.0 کے تحت آئی پی، چِپس کے ڈیزائن اور مختلف نظاموں کی تیاری اسی حکمت عملی کے مطابق کی جائے گی۔ اس پروگرام کے ذریعے بھارت کو سیمی کنڈکٹر چِپ ڈیزائن اور آئی پی  کے شعبے میں ایک اہم عالمی ملک کے طور پر قائم کرنے کا ہدف ہے۔

 

دوسرا ستون: مشینیں اور مواد:سیمی کنڈکٹر کی تیاری کے لیے ضروری مشینوں کی تیاری اور تحقیق و ترقی(آر اینڈ ڈی )، نیز خام مواد، کیمیائی مادّوں اور گیسوں کی پیداوار سے وابستہ کمپنیوں کو مراعات فراہم کی جائیں گی۔ اس اقدام سے سیمی کنڈکٹر صنعت کی پائیدار ترقی کے لیے مضبوط بنیاد فراہم ہوگی۔ اس کے ساتھ ہی، یہ ملک میں انتہائی دقیق مینوفیکچرنگ صنعت کے فروغ میں بھی اہم کردار ادا کرے گا۔

 

تیسرا ستون: مزید فیب یونٹس کا قیام:پہلے سیمی کنڈکٹر فیب کے 2028 میں شروع ہونے کی توقع کے ساتھ، دنیا بھارت کی سیمی کنڈکٹر حکمتِ عملی پر پہلے سے کہیں زیادہ اعتماد کا اظہار کر رہی ہے۔ مزید عالمی صنعت کاروں کو بھارت میں آ کر سیمی کنڈکٹر فیب قائم کرنے اور چِپس تیار کرنے کی ترغیب دی جائے گی۔ اس میں سلیکان فیب، کمپاؤنڈ سیمی کنڈکٹر فیب، ڈسکریٹ پرزہ جات کے فیب، ڈسپلے فیب اور دیگر متعلقہ پیداواری یونٹس شامل ہوں گے۔

 

چوتھا ستون: اے ٹی ایم پی/او ایس اے ٹی صنعت کو مزید مضبوط بنانا:اے ٹی ایم پی یونٹوں  کی کامیابی کے بعد دنیا اب بھارت کو اے ٹی ایم پی/او ایس اے ٹی یونٹوں  کے قیام کے لیے ایک متبادل مرکز کے طور پر دیکھ رہی ہے۔ اس شعبے کی بھرپور حوصلہ افزائی کی جائے گی، جبکہ توجہ اس بات پر مرکوز ہوگی کہ اے ٹی ایم پی کی جدید ترین ٹیکنالوجیز بھارت میں متعارف کرائی جائے۔

 

پانچواں ستون: تحقیق و ترقی:سیمی کنڈکٹر کے سفر کا آغاز 28 نینو میٹر سے 110 نینو میٹر تک کے نوڈز سے ہوا ہے۔ اب توجہ بھارت اور بیرونِ ملک کے ممتاز تحقیق و ترقی کے مراکز کے اشتراک سے مزید جدید نوڈز اور دیگر جدید ٹیکنالوجیز کی ترقی پر مرکوز ہوگی۔

 

چھٹا ستون: افرادی صلاحیتوں کی ترقی:جدید ترین الیکٹرانک ڈیزائن آٹومیشن (ای ڈی اے) ٹولز کی مدد سے 315 جامعات میں طلبہ کو پیچیدہ چِپ ڈیزائن کی تربیت دی جا رہی ہے، اور اب تک تقریباً 68 ہزار طلبہ تربیت حاصل کر چکے ہیں۔ اس پروگرام کو مزید وسعت دی جائے گی تاکہ دوران تعلیم ہی طلبہ کو اعلیٰ سطح کی تربیت فراہم کی جا سکے۔ اس کے علاوہ، صنعت کے اشتراک سے کلین روم، فیب یونٹس کی تعمیر اور سیمی کنڈکٹر کے ایکو نظام سے متعلق دیگر شعبوں میں بھی تربیت کو مزید مضبوط بنایا جائے گا۔

مزید برآں، سیمی کان 2.0 معیشت کے تمام شعبوں کی ترقی میں معاون ثابت ہوگا، مضبوط سپلائی چین کے ذریعے قومی سلامتی کو مزید مستحکم کرے گا اور اہم شعبوں میں تکنیکی قیادت قائم کرنے میں مدد دے گا۔ مکمل سیمی کنڈکٹرایکو نظام کی تعمیر پر مبنی یہ حکمت عملی بھارت میں سیمی کنڈکٹر ڈیزائن اور مینوفیکچرنگ کو نئی رفتار فراہم کرے گی۔

آئی ایس ایم 1.0 کی پیش رفت:

مینوفیکچرنگ: اب تک مجموعی طور پر 1.64 لاکھ کروڑ روپے سے زائد کی سرمایہ کاری کے ساتھ 12 مینوفیکچرنگ یونٹوں کی منظوری دی جا چکی ہے۔ ان میں ایک سلیکان فیب، ایک سلیکان کاربائیڈ فیب، ایک مربوط گیلیم نائٹرائیڈ مائیکرو ایل ای ڈی ڈسپلے فیب اور 9 پیکیجنگ یونٹس شامل ہیں، جو گھریلو برقی آلات، صنعتی الیکٹرانکس، آٹوموبائل، پاور الیکٹرانکس، ٹیلی مواصلات، ایرو اسپیس اور دیگر شعبوں کی چِپس کی ضروریات پوری کریں گے۔ منظور شدہ 12 منصوبوں میں سے مائیکرون، کینیس اور سی جی سیمی نے تجارتی پیداوار شروع کر دی ہے، جبکہ ایک اور کمپنی کے 2026 کے دوران تجارتی پیداوار شروع کرنے کی توقع ہے۔

ڈیزائن: اسٹارٹ اپس اور ایس ایم ای کے سیمی کنڈکٹر ڈیزائن سے متعلق 24 منصوبوں کو مالی معاونت کے لیے منظوری دی جا چکی ہے، جبکہ 105 اسٹارٹ اپس اور ایم ایس ایم ای کو صنعت میں استعمال ہونے والے معیاری الیکٹرانک ڈیزائن آٹومیشن (ای ڈی اے) ٹولز تک رسائی فراہم کی گئی ہے۔ یہ کمپنیاں سیٹلائٹ مواصلات، ڈرونز، نگرانی کے کیمرے، انٹرنیٹ آف تھنگز (آئی او ٹی) آلات، ایل ای ڈی ڈرائیورز، مصنوعی ذہانت پر مبنی نظام، ٹیلی مواصلاتی آلات اور اسمارٹ میٹرز سمیت مختلف اسٹریٹجک اور تجارتی استعمال کے لیے چِپس اور ایس او سی کے ڈیزائن پر کام کر رہی ہیں۔ یہ کمپنیاں ڈیزائن اور تیاری کے مختلف مراحل میں ہیں اور کامیاب نمونہ سازی (پروٹوٹائپنگ) کے بعد عملی نفاذ کے مرحلے میں داخل ہوں گی۔

 

********

) ش ح ۔ ش آ۔ ن ع)

U.No. 9966


(रिलीज़ आईडी: 2284854) आगंतुक पटल : 13
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Marathi , Assamese , Bengali , Bengali-TR , Gujarati , Tamil , Telugu , Kannada , Malayalam