PIB Backgrounder
azadi ka amrit mahotsav

خدمات کے شعبے میں ترقی کا اشاریہ


ہندوستان کی خدمات سے متعلق معیشت کی رفتار کا جائزہ

प्रविष्टि तिथि: 14 JUL 2026 8:57PM by PIB Delhi

خدمات کے شعبے میں ترقی کا اشاریہ: خدمات کے شعبے کی کارکردگی کی ایک جھلک

گزشتہ ایک دہائی کے دوران ہندوستان نے اپنے شماریاتی اور انتظامی اعداد و شمار کے نظام کو نمایاں طور پر مضبوط بنایا ہے۔ اس سلسلے میں کئی اہم پیش رفتیں ہوئی ہیں، جن میں اشیا اور خدمات ٹیکس (جی ایس ٹی) کے اعلیٰ تعدجد والے اعداد و شمار کی دستیابی، کارپوریٹ خدماتی شعبے کے اداروں کے سالانہ سروے کا آغاز اور ڈیجیٹل انتظامی ڈیٹا بیس کا دائرہ وسیع کرنا شامل ہے، جس سے شواہد پر مبنی پالیسی سازی کو مزید مضبوط بنیاد فراہم ہوئی ہے۔

ان اصلاحات کو آگے بڑھاتے ہوئے حکومت نے خدمات سے متعلق حصولیابی کا اشاریہ (آئی ایس پی) متعارف کرایا ہے، جو خدمات کے شعبے کی کارکردگی کی پیمائش کے لیے ایک نیا معاشی اشاریہ ہے۔ آئی ایس پی ہندوستان کا پہلا اعلیٰ تعدد والا اشاریہ ہے، جو خصوصی طور پر خدمات کے شعبے کی کارکردگی کی پیمائش کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ یہ ایک مقررہ بنیادی سال کے مقابلے میں منظم خدمات کے شعبے کی پیداوار کے حجم میں قلیل مدتی تبدیلیوں کا اندازہ پیش کرتا ہے۔

چونکہ خدمات کا شعبہ ہندوستان کی معیشت میں سب سے بڑا شراکت دار ہے، اس لیے توقع ہے کہ آئی ایس پی معاشی سرگرمیوں کی نگرانی کو مزید مؤثر بنائے گا، قومی حسابات کے تخمینوں کو بہتر کرے گا اور زیادہ باخبر اور مؤثر پالیسی سازی میں معاون ثابت ہوگا۔

خدمات کے شعبہ کی کارکردگی کے اشاریے کی پہلی تجزیاتی رپورٹ

حکومت نے اپریل 2026 کے لیے خدمات کے شعبے کی حصولیابی کے اشاریے (آئی ایس پی) کا پہلا ذیلی شعبہ جاتی تجزیاتی نسخہ جاری کیا ہے، جس میں خدماتی شعبے کے 19 ذیلی شعبوں کا احاطہ کیا گیا ہے۔ یہ اشاریہ خدمات کے شعبے کے تقریباً 60 فیصد حصے کی نمائندگی کرتا ہے۔

خدمات سے متعلق شعبے کے 19 ذیلی شعبوں میں سے 14 نے اپریل 2025 کے مقابلے میں اپریل 2026 کے دوران دو ہندسوں پر مشتمل شرح نمو درج کی۔

ماہانہ بنیاد پر سب سے زیادہ نمو ریکارڈ کرنے والے پانچ نمایاں ذیلی شعبوں میں رہائش اور خوراک کی خدمات (37.2 فیصد)، خوردہ تجارت (30.8 فیصد)، انتظامی اور معاون خدمات (28.7 فیصد)، جائیداد کا کاروبار (27.7 فیصد) اور ٹیلی مواصلات (22.8 فیصد) شامل ہیں۔

سال 2025-26 کے دوران سالانہ بنیاد پر سب سے زیادہ نمو ریکارڈ کرنے والے پانچ نمایاں ذیلی شعبوں میں رہائش اور خوراک کی خدمات (35.6 فیصد)، خوردہ تجارت (30.5 فیصد)، مرمت کی خدمات (25.1 فیصد)، تھوک تجارت (23.6 فیصد) اور سڑک کے ذریعے نقل و حمل (22.6 فیصد) شامل ہیں۔

اشاریے کی اہم خصوصیات

خدماکے شعبے کی کارکردگی کے اشاریے (آئی ایس پی)کے متعارف ہونے سے ہندوستان کا شماریاتی نظام عالمی معیار کے مطابق مزید مستحکم ہو رہا ہے۔ اس اشاریے کی چند اہم خصوصیات درج ذیل ہیں:

  • آئی ایس پی کے لیے 2024-25 کو بنیادی سال منتخب کیا گیا ہے۔ یہ دیگر ذیلی شعبوں کے ساتھ ہم آہنگ ہے، جہاں صارف قیمت اشاریہ (سی پی آئی) کی 2024 پر مبنی نئی سیریز استعمال کی جا رہی ہے۔
  • آئی ایس پی سے فائدہ اٹھانے والوں میں قومی حسابات، اقتصاد کی وزارتیں اور محکمے، محققین اور متعلقہ شعبوں کے ماہرین شامل ہیں۔
  • تجزیات ماہانہ اشاریے باقاعدگی سے تقریباً 60 دن کی تاخیر کے ساتھ جاری کیے جائیں گے۔ اعداد و شمار ہر ماہ کی 29 تاریخ کو یا اگر 29 تاریخ تعطیل ہو تو اس کے اگلے کاری دن جاری کیے جائیں گے۔
  • فی الحال آئی ایس پی کی تیاری کے لیے مختلف قیمتی تعدیلی اشاریے استعمال کیے جاتے ہیں۔
  • تھوک تجارت کے لیے تھوک قیمت اشاریہ (ڈبلیو پی آئی) استعمال کیا جاتا ہے۔
  • بیشتر دیگر شعبوں کے لیے متعلقہ صارف قیمت اشاریہ (سی پی آئی) یا اس سے قریب ترین موزوں سی پی آئی استعمال کیا جاتا ہے۔
  • سی پی آئی (عمومی)کا اطلاق مرمت و دیکھ بھال، بینکاری اور بیمہ کے شعبوں پر کیا جاتا ہے۔
  • جن شعبوں کے لیے مخصوص سی پی آئی دستیاب نہیں، وہاں سی پی آئی (خدمات) استعمال کیا جاتا ہے۔

 

قیمتی تعدیلی اشاریے کی ضرورت

خدمات کے شعبہ کی کارکردگی کا اشاریہ (آئی ایس پی) خدماتی شعبے کی پیداوار کے حجم میں قلیل مدتی تبدیلیوں کی پیمائش کرتا ہے۔ چونکہ خدمات سے متعلق بنیادی اعداد و شمار عموماً مالی قدر کی بنیاد پر جمع کیے جاتے ہیں، اس لیے ان میں قیمتوں میں تبدیلی اور پیداوار سے حاصل ہونے والی قدر میں اضافے، دونوں کے اثرات شامل ہوتے ہیں۔ اسی وجہ سے قیمتی تعدیلی اشاریہ استعمال کرنا ضروری ہوتا ہے تاکہ خدمات سے حاصل ہونے والی برائے نام آمدنی سے قیمتوں میں تبدیلی کے اثرات کو الگ کیا جا سکے۔

قیمتی تعدیلی اشاریہ مالی قدر پر مبنی (برائے نام) اعداد و شمار کو حجم پر مبنی (حقیقی) اعداد و شمار میں تبدیل کرتا ہے، جس سے وقت کے ساتھ پیدا ہونے والی حقیقی تبدیلیوں کی درست پیمائش ممکن ہوتی ہے۔

ہندوستان کے آئی ایس پی فریم ورک کی تشکیل

وزارت برائے شماریات و پروگرام عمل درآمد (ایم او ایس پی آئی) نے مئی 2025 میں خدمات سے متعلق شعبے کی کارکردگی کے اشاریے (آئی ایس پی) کے نظریاتی اور طریقۂ کار پر مبنی فریم ورک کی تیاری کے لیے ایک تکنیکی مشاورتی کمیٹی (ٹی اے سی)تشکیل دی۔ اس کمیٹی میں جامعات، صنعتی انجمنوں، وزارتوں اور خدماتی شعبے کی نمائندگی کرنے والے مختلف محکموں کے ماہرین شامل تھے۔ مجوزہ فریم ورک کو عالمی سطح پر رائج بہترین طریقۂ کار کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کیا گیا ہے۔

اقتصادی تعاون و ترقی کی تنظیم (او ای سی ڈی) کی جانب سے 2007 میں شائع کردہ خدمات کے شعبہ کی کارکردگی کے اشاریے کی تیاری سے متعلق رہنما کتابچہ آئی ایس پی کی تیاری کے لیے سب سے جامع رہنما اصول فراہم کرتا ہے۔ اسی طرح یوروسٹیٹ، جو یورپی یونین کا شماریاتی ادارہ ہے، بھی آئی ایس پی کے حوالے سے ایک اہم عالمی رہنما ادارہ تصور کیا جاتا ہے۔

قابل ذکر ہے کہ فرانس، اسپین اور سلووانیہ سمیت کئی ترقی یافتہ معیشتیں باقاعدگی سے خدماتی پیداوار کا اشاریہ یعنی خدمات کے شعبہ کی کارکردگی کے اشارے یا اس کے مساوی اشاریے جاری کرتی ہیں۔ یورپی یونین سے باہر جنوبی کوریا ہر ماہ خدمات سے متعلق صنعت کی سرگرمیوں کا اشاریہ شائع کرتا ہے، جبکہ برطانیہ ایک جامع ماہانہ خدماتی اشاریہ مرتب کرتا ہے۔

خدمات سے متعلق کارکردگی کے اشاریے کا شعبہ جاتی دائرۂ کار

ابتدائی مرحلے میں خدمات سے متعلق کارکردگی کا اشاریہ (آئی ایس پی)اُن خدماتی ذیلی شعبوں کا احاطہ کرتا ہے جن کے بارے میں قابلِ اعتماد اور اعلیٰ تعدد والے اعداد و شمار دستیاب ہیں۔

خدمات کے شعبے میں کارکردگی کے اشاریے (آئی ایس پی) میں شامل نہ کیے گئے خدمات کے ذیلی شعبوں میں سرکاری انتظامیہ اور دفاع، بینکاری اور بیمہ کے علاوہ مالیاتی خدمات (جیسے مرکزی بینک اور منی مارکیٹ فنڈز کی سرگرمیاں)، رہائش کے بغیر سماجی بہبود کی خدمات، رکنیت پر مبنی تنظیموں کی خدمات، ذاتی خدمات، گھریلو ملازمین رکھنے والے نجی گھروں کی سرگرمیاں، بین الاقوامی اداروں کی سرگرمیاں، حکومت کی جانب سے فراہم کی جانے والی صحت اور تعلیم کی خدمات، نیز جوا اور شرط بندی سے متعلق سرگرمیاں شامل ہیں۔

یہ شعبے یا تو حکومت کی بنیادی ذمہ داریوں سے متعلق ہیں یا ان میں غیر منڈی سرگرمیوں اور غیر رسمی شعبے کا غلبہ ہے۔

آئی ایس پی کو تقویت دینے والے اعداد و شمار کا نظام

انڈیکس آف سروسز پروڈکشن( آئی ایس پی) کی تیاری کے لیے تین اہم ڈیٹا ذرائع انتظامی اعدادوشمار، جی ایس ٹی اور اے ایس آئی ایس ایس ای کا استعمال کیا جاتا ہے—

  • ہوائی نقل و حمل، ریلوے نقل و حمل، بینکاری اور بیمہ کے شعبوں کے آئی ایس پی کی تیاری کے لیے انتظامی یا ثانوی اعداد و شمار استعمال کیے جاتے ہیں۔
  • کارپوریٹ خدمات کے شعبے کے اداروں کے سالانہ سروے (اے ایس آئی ایس ایس ای)کے اعداد و شمار (دستیاب ہونے پر) صحت اور تعلیم کے شعبوں (حکومتی شعبے کے علاوہ) کے لیے استعمال کیے جائیں گے۔ اس سروے کا آغاز اپریل 2026 میں کیا گیا تھا اور اس کا مقصد کارپوریٹ خدماتی شعبے کا ایک جامع اعداد و شمار کا ذخیرہ تیار کرنا ہے۔

 

کیا آپ جانتے ہیں؟

شماریاتی مقاصد کے لیے پہلی بار اشیا و خدمات ٹیکس (جی ایس ٹی) کے اعداد و شمار استعمال کیے جائیں گے۔

اشیا و خدمات ٹیکس (جی ایس ٹی) کے اعداد و شمار تھوک تجارت، خوردہ تجارت، مرمت اور دیکھ بھال، رہائش اور خوراک کی خدمات، سڑک اور آبی نقل و حمل، گودام داری اور نقل و حمل سے متعلق معاون سرگرمیوں، ڈاک اور کورئیر خدمات، ٹیلی مواصلات، اطلاعات و نشریات، جائیداد کے کاروبار، اطلاعاتی اور کمپیوٹر سے متعلق خدمات، پیشہ ورانہ، سائنسی اور تکنیکی خدمات (جن میں تحقیق و ترقی بھی شامل ہے)، انتظامی اور معاون خدمات، نیز فنون، تفریح اور ثقافتی سرگرمیوں سمیت دیگر شعبوں کے لیے استعمال کیے جائیں گے۔

آئی ایس پی کیوں اہم ہے؟

گزشتہ چند دہائیوں کے دوران ہندوستان کی معیشت میں نمایاں ساختی تبدیلی آئی ہے۔ یہ تبدیلی معاشی اصلاحات، تکنیکی ترقی اور عالمی منڈیوں کے ساتھ بڑھتے ہوئے انضمام کے نتیجے میں ممکن ہوئی ہے۔ اس دوران خدمات کا شعبہ معاشی ترقی اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کا ایک اہم محرک بن کر ابھرا ہے۔

  • خدمات کاشعبہ ہندوستان کی مجموعی گھریلو پیداوار میں سب سے بڑاشراکت دار ہے اور 2013-14 سے مجموعی قدر افزوده (جی وی اے) میں اس کا حصہ 50 فیصد سے زیادہ رہا ہے۔ 2024-25 میں مجموعی قدرِ افزوده میں خدماتی شعبے کا حصہ تقریباً 52.9 فیصد تھا۔
  • یہ شعبہ ملک میں مجموعی روزگار کا تقریباً 30 فیصد فراہم کرتا ہے اور گزشتہ چھ برسوں کے دوران تقریباً 4 کروڑ روزگار کے مواقع پیدا کیے ہیں۔
  • مالی سال 27-2026 میں ہندوستان کے خدمات کے شعبے کی برآمدات نے اپنی مضبوط رفتار برقرار رکھی۔ اپریل تا جون 27-2026 کے دوران خدمات کے شعبے کی برآمدات کا تخمینہ 103.41 بلین امریکی ڈالر رہا، جو سال بہ سال بنیاد پر 6.16 فیصد اضافے کی نشاندہی کرتا ہے۔
  • حکومت کا ہدف ہے کہ 2047 تک خدمات سے متعلق عالمی تجارت میں ہندوستان کا حصہ 10 فیصد تک پہنچایا جائے اور اسے خدمات  کےشعبے میں عالمی رہنما کے طور پر قائم کیا جائے۔

چونکہ خدمات کا شعبہ ہندوستان کی معاشی ترقی کا بنیادی ستون ہے، اس لیے اس کی کارکردگی کی قلیل مدتی نگرانی کے لیے ایک مخصوص اشاریے کی ضرورت محسوس کی جا رہی تھی۔ صنعتی کارکردگی کا اشاریہ (آئی آئی پی) صرف صنعتی سرگرمیوں کی پیمائش کرتا ہے اور خدمات کے شعبے کے قلیل مدتی رجحانات کی عکاسی نہیں کرتا۔ اسی خلا کو پُر کرنے کے لیے حکومت نے خدمات سے متعلق پیداوار یعنی کارکردگی کا اشاریہ (آئی ایس پی) متعارف کرایا ہے۔

ہندوتان کی معاشی پیمائش میں ایک نیاسنگ میل

آئی ایس پی کا آغاز تیزی سے بدلتی ہوئی معیشت کے مطابق اپنے شماریاتی ڈھانچے کو جدید بنانے کے لیے ہندوستان کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔ تیز رفتار اعداد و شمار(ہائی فریکوینسی ڈیٹا)اور مضبوط طریقہ کار کو یکجا کر کے، آئی ایس پی ہندوستان کے سب سے بڑے معاشی شعبے کے بارے میں بروقت معلومات فراہم کرتا ہے۔ ایک ماہانہ اشارے کے طور پر، یہ معاشی نگرانی کو مضبوط کرتا ہے، پالیسی ردعمل کو بہتر بناتا ہے اور ہندوستان کی ترقی کی رفتار کی سمجھ کو مزید گہرا کرتا ہے۔

حوالہ جات

Ministry of Statistics & Programme Implementation

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2284450&reg=48&lang=1

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2277392&reg=3&lang=1

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2255933&reg=3&lang=1

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2269286&reg=48&lang=1

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2249336&reg=3&lang=1

 

Ministry of Commerce & Industry

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2284139&reg=3&lang=1

 

PIB Archives

https://www.pib.gov.in/PressNoteDetails.aspx?NoteId=157804&ModuleId=3&reg=48&lang=2

 

Click here to see pdf

 

 

 

) ش ح –   م ع ن-  م ش )

U.No. 9948


(रिलीज़ आईडी: 2284712) आगंतुक पटल : 4
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Gujarati