بندرگاہوں، جہاز رانی اور آبی راستوں کی وزارت
مرکزی وزیر سربانند سونووال نے مغربی ایشیا میں سمندری نگرانی کو تیز کرتے ہوئے ‘سمندری ملاحوں کی سلامتی کو اولین ترجیح’ دینے کا حکم دیا ہے
مرکزی وزیر سربانند سونووال نے ہلاک ہونے والے سمندری ملاح کے اہل خانہ سے گہری تعزیت کا اظہار کیااور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا
ہر متاثرہ ہندوستانی ملاح کے لیے وقف ایک رابطہ افسر تقرر کرنے ورمرکزی وزیر سونووال نے خلیج کے سمندر میں جہاز بہ جہاز نگرانی کرنے اور 24 گھنٹے رابطہ قائم رکھنے کا حکم دیا ہے
متاثرہ علاقے میں ہر ہندوستانی ملاح کا جہاز کے جھنڈے سے قطع نظر انفرادی طور پر جائزہ لیا جائےگا: سربانند سونووال
प्रविष्टि तिथि:
14 JUL 2026 10:20PM by PIB Delhi
آبنائے ہرمز میں دو تجارتی جہازوں پر حملوں کے بعد مغربی ایشیا میں بڑھتے ہوئے سمندری سلامتی بحران کے درمیان ، بندرگاہوں ، جہاز رانی اور آبی گزرگاہوں (ایم او پی ایس ڈبلیو) کے مرکزی وزیر سربانند سونووال نے تنازع سے دوچار خطے میں کام کرنے والے ہر ہندوستانی ملاح کی حفاظت کے لیے ایک بے مثال مکمل حکومتی نقطہ نظر کی ہدایت دیتے ہوئےایک جامع ‘سی فیریر-فرسٹ’ ردعمل یعنی ‘سمندری ملاحوں کی سلامتی کو اولین ترجیح’دینے کا آغاز کیا ہے ۔
آج یہاں ایک اعلی سطحی بین وزارتی جائزہ میٹنگ کی صدارت کرتے ہوئے سونووال نے جہاز بہ جہاز نگرانی کرنے ، ہر متاثرہ ہندوستانی ملاح کے لیے وقف رابطہ افسران کی تقرری اور بندرگاہوں ، جہاز رانی اور آبی گزرگاہوں (ایم او پی ایس ڈبلیو)کی وزارت کے ذریعے وزارت خارجہ (ایم ای اے) پیٹرولیم اور قدرتی گیس کی وزارت (ایم او پی این جی) کیمیکل اور کھاد کی وزارت ، ہندوستانی بحریہ ، ڈائریکٹوریٹ جنرل آف شپنگ (ڈی جی ایس) ایران اور عمان میں ہندوستانی مشنوں کے تعاون سے چوبیس گھنٹے تعاون کا حکم دیا ہے۔
یہ اجلاس آبنائے ہرمز میں ایم ٹی البہیہ اور ایم ٹی ممباسا نامی دو تجارتی جہازوں پر حملوں کے بعد منعقد کیا گیا ہے۔ دونوں جہازوں کے مجموعی عملے میں 46 افراد شامل تھے، جن میں 30 بھارتی ملاح تھے۔ایم ٹی البہیہ پر ایک بھارتی ملاح ہلاک جبکہ ایک زخمی ہوا، جبکہ ایم ٹی ممباسا پر 9 بھارتی شہری زخمی ہوئے، جن میں دو کی حالت تشویشناک بتائی گئی ہے۔
اجلاس میں بندرگاہوں، جہاز رانی و آبی گزرگاہوں کے مرکزی وزیر مملکت شانتنو ٹھاکر، وزارت کے اعلیٰ حکام، وزارتِ خارجہ، بھارتی بحریہ، ڈائریکٹوریٹ جنرل آف شپنگ، ایران اور عمان میں بھارتی سفارت خانوں کے نمائندوں اور دیگر متعلقہ بحری اداروں نے شرکت کی۔ اجلاس میں خلیج فارس، آبنائے ہرمز اور خلیج عمان کی بدلتی ہوئی سکیورٹی کی صورتحال، بھارتی ملاحوں کو لاحق خطرات اور ہنگامی ردعمل کے انتظامات کا جائزہ لیا گیا۔
سربانند سونووال نے اس واقعے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بھارت نے نہتے تجارتی جہازوں پر ہونے والے حملوں پر سخت اعتراض درج کرایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ حملے غیر ذمہ دارانہ، بلاجواز اور ناقابل قبول ہیں، جن کے نتیجے میں عالمی سپلائی چین کو برقرار رکھنے والے بھارتی ملاح اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے یا زخمی ہوئے۔ انہوں نے جاں بحق ملاح کے اہل خانہ سے تعزیت کا اظہار کیااور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کرتے ہوئے یقین دلایا کہ حکومت متاثرہ خاندانوں کی ہر ممکن مدد فراہم کرے گی۔
وزیرموصوف نے ڈائریکٹوریٹ جنرل آف شپنگ کو ہدایت دی کہ خلیج فارس، آبنائے ہرمز اور خلیج عمان میں موجود ہر اس جہاز کاریئل ٹائم آپریشنل ڈیش بورڈ تیار کیا جائے جس پر بھارتی ملاح تعینات ہوں، خواہ جہاز کسی بھی ملک کے پرچم تلے رجسٹرڈ ہو۔ اس ڈیش بورڈ میں جہاز کی موجودہ پوزیشن، ملکیت، سامان، عملے کی تعداد، ملاحوں کی فلاح و بہبود، خطرات کی سطح، مجوزہ سفر، اگلی بندرگاہ اور دستیاب سہولیات سے متعلق معلومات شامل ہوں گی۔
جناب سونووال نے واضح کیا کہ متاثرہ خطے میں موجود ہر بھارتی ملاح کا انفرادی طور پر ریکارڈ رکھا جائے گا اور ان کی حفاظت پر کسی بھی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔متاثرہ خاندانوں کی مسلسل معاونت کو یقینی بنانے کے لیے ہر متاثرہ بھارتی ملاح کے ساتھ ایک رابطہ افسرمقرر کیا جائے گا، جو خاندان کے لیے واحد رابطہ ہوگا۔ یہ افسر طبی معلومات، سفری دستاویزات، وطن واپسی، سی فیئررز ویلفیئر فنڈ، بقایا اجرت، معاہداتی حقوق اور دیگر معاوضوں سے متعلق معاملات کی نگرانی کرے گا۔
وزیر موصوف نے متعلقہ حکام کو ہدایت دی کہ ایران، عمان، متحدہ عرب امارات اور دیگر متعلقہ ممالک میں بھارتی سفارت خانوں اور وزارتِ خارجہ کے ساتھ قریبی رابطہ رکھا جائے تاکہ جہاز رانی کی سلامتی، ساحلی ریاستوں کی ہدایات، بحری راستوں کی صورتحال، محفوظ بندرگاہوں، اسپتالوں، طبی انخلا، وطن واپسی، جاں بحق افراد کی لاشوں کی واپسی اور جاری تحقیقات سے متعلق مستند اور بروقت معلومات حاصل کی جا سکیں۔
بندرگاہوں ، جہاز رانی اور آبی گزرگاہوں کےمرکزی وزیر جناب سربانند سونووال نے کہا کہ حکومتِ ہند نے بین الاقوامی میری ٹائم آرگنائزیشن (آئی ایم او) سمیت تمام متعلقہ بین الاقوامی فورمز اور متعلقہ پرچم بردار ممالک سے رابطہ قائم کیا ہے تاکہ بین الاقوامی بحری قوانین، ملاحوں کی سلامتی اور تجارتی جہازوں کے محفوظ گزرنے کے حق کی خلاف ورزی کے معاملات کو مؤثر طریقے سے اٹھایا جا سکے۔انہوں نے ہدایت دی کہ متاثرہ علاقے سے گزرنے والے ہر جہاز کو تازہ ترین خطرات کا جائزہ لینے، جہاز کے کپتان کی پیشہ ورانہ رائے اور متعلقہ بحری حکام کے ساتھ مکمل ہم آہنگی کے بعد ہی روانہ کیا جائے۔
وزیر موصوف نے یہ بھی ہدایت دی کہ جہازوں کے مالکان، جہاز چلانے والی کمپنیاں اور بھارتی ملاحوں کی بھرتی کرنے والی آر پی ایس ایل (آر پی ایس ایل) ایجنسیاں فوری طور پر تعمیلی رپورٹ پیش کریں اور اس بات کی تصدیق کریں کہ کسی بھی بھارتی ملاح کو مناسب معلومات، تحفظ اور سہولت فراہم کیے بغیر سفر پر مجبور نہیں کیا جا رہا ہے۔
حکومت نے متاثرہ ملاحوں اور ان کے اہل خانہ کی مدد کے لیے 24 گھنٹے فعال شکایتی امدادی نظام بھی قائم کیا ہے۔ملک کے اندر ٹول فری نمبر: 1800-889-7768
بین الاقوامی ٹول فری نمبر: +1-888-988-0256 واٹس ایپ نمبر: +91 8655856830 پر میسیج بھیج سکتے ہیں۔یا ای میل: enavik.24x7[at]gov[dot]in. پر بھی میسیج بھیج سکتے ہیں۔
اجلاس کے اختتام پر مرکزی وزیر سربانند سونووال نے کہا کہ حکومت کا پورا ردعمل ‘‘سی فیئرر فرسٹ’’ اصول یعنی سمندری ملاحوں کی سلامتی کو اولین ترجیح دینے کے اصول پر مبنی رہے گا، جس کے تحت مختلف وزارتیں اور بحری ادارے مل کر بھارتی ملاحوں کی جانوں کے تحفظ، بین الاقوامی بحری قوانین کے احترام اور دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں عالمی تجارت کے بلا تعطل تسلسل کو یقینی بنائیں گے۔






*****
ش ح۔م م ع۔ش ا
Urdu No-9952
(रिलीज़ आईडी: 2284704)
आगंतुक पटल : 4