مواصلات اور اطلاعاتی ٹیکنالوجی کی وزارت
انڈیا پوسٹ نے پہلی سہ ماہی میں 4,000 کروڑ روپے سے زائد کی ریکارڈ آمدنی حاصل کی، سالانہ بنیاد پر 22 فیصد اضافہ: مرکزی وزیر جیوترادتیہ سندھیا
تاریخی ترقی وزیر اعظم نریندر مودی کے وژن کے تحت انڈیا پوسٹ کی مستقبل سے ہم آہنگ تبدیلی کی عکاس
प्रविष्टि तिथि:
14 JUL 2026 6:19PM by PIB Delhi
محکمہ ڈاک نے مالی سال 2026-27 کی پہلی سہ ماہی (کیو1)کے کاروباری جائزہ اجلاس کا آج وگیان بھون، نئی دہلی میں انعقاد کیا۔ اجلاس کی صدارت مواصلات اور شمال مشرقی خطے کی ترقی (ڈونر) کے مرکزی وزیر جناب جیوترادتیہ ایم۔ سندھیا نے کی، جبکہ مرکزی وزیر مملکت برائے مواصلات ڈاکٹر چندر شیکھر پیمّاسانی بھی اس موقع پر موجود تھے۔ اس اہم اجلاس میں ملک بھر کے مختلف پوسٹل سرکلز کے سربراہان نے شرکت کی، جہاں پہلی سہ ماہی کے دوران محکمہ کی کاروباری کارکردگی کا جائزہ لینے کے ساتھ ساتھ انڈیا پوسٹ کی کاروباری تبدیلی کے لیے مستقبل کی حکمت عملی پر بھی غور کیا گیا۔
محکمہ کی کارکردگی کا جائزہ لیتے ہوئے مرکزی وزیر جناب جیوترادتیہ ایم۔ سندھیا نے کہا کہ انڈیا پوسٹ نے مالی سال 2026-27 کا آغاز مثبت انداز میں کیا ہے۔ محکمہ نے سالانہ 19,803 کروڑ روپے کے ہدف کے مقابلے میں پہلی سہ ماہی کے دوران 4,009 کروڑ روپے کی آمدنی حاصل کی، جو گزشتہ مالی سال 2025-26 کی اسی مدت کے مقابلے میں 22 فیصد زیادہ ہے۔ اس کے ساتھ ہی محکمہ نے پہلی سہ ماہی کے مقررہ ہدف کا 81 فیصد حاصل کر لیا ہے۔

مرکزی وزیر نے انڈیا پوسٹ کے تمام اہلکاروں کو ان کی لگن، انتھک محنت اور غیر متزلزل عزم پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ ملک بھر میں ملازمین کی مسلسل کوششوں نے محکمہ کی خدمات کی فراہمی کو مزید مضبوط بنایا ہے اور اس کی مسلسل ترقی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ تاریخی کامیابی وزیر اعظم نریندر مودی کے ایک ڈیجیٹل طور پر بااختیار اور مستقبل سے ہم آہنگ ڈاک نظام کے وژن کے تحت محکمہ کی جدیدکاری، کاروباری تبدیلی اور صارف مرکوز خدمات کی مسلسل کوششوں کا نتیجہ ہے۔
مرکزی وزیر نے محکمہ کے تمام چھ کاروباری شعبوں — میل، پارسل، پوسٹل لائف انشورنس/دیہی پوسٹل لائف انشورنس (پی ایل آئی/آر پی ایل آئی)، پوسٹ آفس سیونگز بینک (پی او ایس بی)، بین الاقوامی تعلقات و عالمی کاروبار (آئی آر اینڈ جی بی) اور شہری خدمات (سی سی ایس) — کی کارکردگی کا جائزہ لیا۔ مجموعی کارکردگی کو حوصلہ افزا قرار دیتے ہوئے انہوں نے نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے پوسٹل سرکلز کی بہترین حکمت عملیوں کو دیگر سرکلز میں بھی اپنانے کی ہدایت دی۔
کاروباری شعبوں میں شہری خدمات (سی سی ایس) نے سالانہ بنیاد پر 86 فیصد کی سب سے زیادہ ترقی درج کی، جبکہ پارسل میں 50 فیصد، میل میں 42 فیصد، بین الاقوامی تعلقات و عالمی کاروبار (آئی آر اینڈ جی بی) میں 34 فیصد، پوسٹل لائف انشورنس/دیہی پوسٹل لائف انشورنس (پی ایل آئی/آر پی ایل آئی) میں 20 فیصد اور پوسٹ آفس سیونگز بینک (پی او ایس بی) میں 10 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جو محکمہ کے تمام کاروباری شعبوں میں متوازن ترقی کی عکاسی کرتا ہے۔
مالی سال 2026-27 کی پہلی سہ ماہی میں انڈیا پوسٹ نے 4,951 کروڑ روپے کے سہ ماہی ہدف کے مقابلے میں 4,009 کروڑ روپے کی آمدنی حاصل کی، جو مقررہ ہدف کا 81 فیصد اور گزشتہ مالی سال 2025-26 کی اسی مدت کے مقابلے میں 22 فیصد زیادہ ہے۔ مجموعی کارکردگی کے لحاظ سے آندھرا پردیش، چھتیس گڑھ اور مغربی بنگال سرفہرست تین پوسٹل سرکلز رہے۔
مختلف کاروباری شعبوں میں بہترین کارکردگی دکھانے والے پوسٹل سرکلز اور ان کی ہدف کے مقابلے میں کامیابی کی شرح درج ذیل رہی:
- شہری خدمات (سی سی ایس): مغربی بنگال 107 فیصد، اتر پردیش 106 فیصد
- پارسل: بہار 121 فیصد، تمل ناڈو 115 فیصد
- میل: آندھرا پردیش 106 فیصد
- پوسٹل لائف انشورنس/دیہی پوسٹل لائف انشورنس (پی ایل آئی/آر پی ایل آئی): مغربی بنگال 97 فیصد، جموں و کشمیر 96 فیصد
- پوسٹ آفس سیونگز بینک (پی او ایس بی): چھتیس گڑھ 124 فیصد، آندھرا پردیش 110 فیصد، جھارکھنڈ 107 فیصد
- بین الاقوامی تعلقات و عالمی کاروبار (آئی آر اینڈ جی بی): کیرالہ 83 فیصد، راجستھان 81 فیصد

مرکزی وزیر نے ڈاک کے نیٹ ورک کی عملی کارکردگی کا بھی جائزہ لیا اور برانچ پوسٹ آفسز (بی اوز) کی سرگرمیوں میں سال بہ سال نمایاں بہتری کو سراہا۔ مالی سال 2026-27 کی پہلی سہ ماہی کے دوران پوسٹ آفس سیونگز بینک (پی او ایس بی) میں صفر کاروباری لین دین والے برانچ پوسٹ آفسز کی تعداد میں 92 فیصد سے زیادہ، پوسٹل لائف انشورنس/دیہی پوسٹل لائف انشورنس (پی ایل آئی/آر پی ایل آئی) میں 97 فیصد اور اسپیڈ پوسٹ و پارسل میں 99 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جو گزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے مقابلے میں نمایاں پیش رفت ہے۔ جناب جیوترادتیہ ایم۔ سندھیا نے نچلی سطح پر کاروباری سرگرمیوں میں اس قابل ذکر اضافے کو سراہتے ہوئے تمام پوسٹل سرکلز کو ہدایت دی کہ وہ مؤثر نگرانی، صارفین سے رابطے اور ہر برانچ پوسٹ آفس میں کاروبار بڑھانے کے اقدامات کے ذریعے اس رفتار کو برقرار رکھیں۔
مالی استحکام کا جائزہ لیتے ہوئے مرکزی وزیر نے بتایا کہ اخراجات کی تکمیل کے تناسب (ایکسپینڈیچر کوریج ریشو - ای سی آر) میں بھی نمایاں بہتری آئی ہے۔ مالی سال 2025-26 کی پہلی سہ ماہی کے مقابلے میں پنشن سمیت یہ شرح 28 فیصد سے بڑھ کر 32 فیصد اور پنشن کو چھوڑ کر 41 فیصد سے بڑھ کر 47 فیصد ہوگئی، جو عملی کارکردگی اور مالی نظم و نسق میں مسلسل بہتری کی عکاسی کرتی ہے۔ انہوں نے دہلی، تلنگانہ اور چھتیس گڑھ کی بہتر کارکردگی کو سراہتے ہوئے تمام پوسٹل سرکلز کو ہدایت دی کہ وہ اخراجات پر قابو رکھتے ہوئے آمدنی بڑھانے کی کوششیں مزید تیز کریں۔
مرکزی وزیر برائے مواصلات جناب جیوترادتیہ ایم۔ سندھیا نے مختلف کاروباری شعبوں میں بہترین کارکردگی دکھانے والے پوسٹل سرکلز کی تعریف کی اور تمام سرکلز کو باہمی تجربات سے سیکھتے ہوئے کامیاب کاروباری ماڈلز اپنانے کی تلقین کی۔ انہوں نے ریاستوں کو تین کلسٹرز میں تقسیم کرنے کی تجویز بھی پیش کی تاکہ ہر کلسٹر مخصوص ترجیحی شعبوں پر توجہ دے سکے، جس سے ہدف پر مبنی اقدامات، معلومات کے تبادلے اور بہتر نتائج حاصل کرنے میں مدد ملے گی۔
انہوں نے کہا کہ اگرچہ پہلی سہ ماہی میں حوصلہ افزا پیش رفت ہوئی ہے، تاہم پارسل، میل اور بین الاقوامی تعلقات و عالمی کاروبار (آئی آر اینڈ جی بی) کے شعبوں میں باقی سہ ماہیوں کے دوران خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے متعلقہ پوسٹل سرکلز کو ہدایت دی کہ نئے صارفین کو جوڑنے، کارپوریٹ اور ادارہ جاتی صارفین کے ساتھ روابط مضبوط بنانے، تزویراتی شراکت داری کو وسعت دینے اور باقاعدہ نگرانی و بروقت اصلاحی اقدامات کے ذریعے عمل درآمد کو مزید مؤثر بنایا جائے۔ انہوں نے زور دیا کہ ماہانہ کارکردگی کا جائزہ، اعداد و شمار پر مبنی فیصلے، جوابدہی میں اضافہ اور زمینی سطح پر مضبوط عمل درآمد ہی مالی سال 2026-27 کے بلند اہداف کے حصول کی بنیاد ہوں گے۔
مرکزی وزیر مملکت برائے مواصلات ڈاکٹر چندر شیکھر پیمّاسانی نے بھی محکمہ کی کاروباری کارکردگی میں نمایاں بہتری کو سراہتے ہوئے اس کا سہرا باقاعدہ جائزہ اجلاسوں، منظم نگرانی اور ملک بھر کے ڈاک ملازمین کے سر باندھا۔ انہوں نے کہا کہ یہ مضبوط ترقی مؤثر قیادت، جوابدہی اور اجتماعی کوششوں کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے تمام پوسٹل سرکلز پر زور دیا کہ نظم و ضبط، ٹیم ورک اور مسلسل نگرانی کے ذریعے اس رفتار کو برقرار رکھیں، کیونکہ ہر سرکل کی مستقل اور مؤثر کارکردگی ہی محکمہ کے بلند آمدنی کے اہداف حاصل کرنے اور انڈیا پوسٹ کی خدمات، عوامی رسائی اور ادارہ جاتی تبدیلی کو مزید مضبوط بنانے میں کلیدی کردار ادا کرے گی۔

************
ش ح ۔ م د ۔ م ص
(U : 9937 )
(रिलीज़ आईडी: 2284639)
आगंतुक पटल : 9