مکانات اور شہری غریبی کے خاتمے کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

آبی تحفظ سے لیس شہروں کی جانب: ہاؤسنگ و شہری امور کی وزارت نے  ہندوستان کے شہروں میں 'کیچ دی رین' مہم تیز کر دی ہے


'کیچ دی رین' کے تحت 900 سے زیادہ شہری مقامی ادارے متحرک: 1.21 لاکھ ایکڑ آبی ذخائر اور 12,750 ایکڑ سبز زمین کو نئی زندگی دی جا رہی ہے

प्रविष्टि तिथि: 13 JUL 2026 6:53PM by PIB Delhi

ہاؤسنگ و شہری امور  کی وزارت (ایم او ایچ یو اے) وزیراعظم  جناب نریندر مودی کی "کیچ دی رین – جہاں بارش ہو، جب بارش ہو" مہم کی رفتار برقرار رکھنے کی اپیل کے مطابق امرت 2.0 کے تحت ملک بھر کے شہری علاقوں میں پانی کے تحفظ، زیرِ زمین آبی ذخائر کی بحالی اور آبی ذخائر کی تجدید سے متعلق متعدد اقدامات پر عمل درآمد کر رہی ہے۔

امرت 2.0 کے تحت ملک کے مختلف شہروں میں بارش کے پانی کو محفوظ کرنے، زیرِ زمین پانی کی سطح بڑھانے اور پائیدار آبی انتظام کو فروغ دینے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں، تاکہ آبی تحفظ کو مضبوط بنانے اور موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کی صلاحیت میں اضافہ ہو۔ اس مہم میں 27 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے تقریباً 900 شہری بلدیاتی ادارے (یو ایل بیز) سرگرم حصہ لے رہے ہیں۔

ایم او ایچ یو اے نے وزارت جل شکتی (ایم او جے ایس) کے اشتراک سے جل شکتی ابھیان–جن بھاگیداری (جے ایس جے بی) 2.0 کے تحت 79 میونسپل کارپوریشنوں میں 1,99,278 زیرِ زمین پانی کی ری چارج ساختوں پر کام شروع کیا ہے، جبکہ 738 شہری بلدیاتی اداروں میں 73,036 ری چارج ڈھانچوں پر عمل درآمد جاری ہے، جو شہری علاقوں میں زیرِ زمین پانی کی بحالی اور پانی کے تحفظ میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

ان کوششوں کو مزید تقویت دینے کے لیے امرت 2.0 کے تحت شیلو ایکویفر مینجمنٹ (ایس اے ایم) پروگرام نافذ کیا جا رہا ہے، جس کا مقصد سائنسی بنیادوں پر آبی تہوں (ایکویفرز) کی نقشہ بندی اور ہدفی اقدامات کے ذریعے زیرِ زمین پانی کی سطح میں اضافہ کرنا ہے۔

اس پروگرام کے تحت مختلف شہروں میں نمایاں نتائج سامنے آئے ہیں۔ بردوان (مغربی بنگال) اور وجیا نگرم (آندھرا پردیش) میں بارش کے پانی کو گہرے آبی ذخائر تک پہنچانے کے لیے ری چارج پٹس کو انجیکشن بورویلز کے ساتھ مربوط کیا گیا ہے۔ ایٹانگر (اروناچل پردیش) میں ذخیرہ کرنے کی سہولت کے ساتھ چھتوں پر بارش کے پانی کو محفوظ کرنے کے نظام نصب کیے گئے ہیں، جو پانی کے تحفظ اور زیرِ زمین آبی ذخائر کی بحالی میں مددگار ثابت ہو رہے ہیں۔اسی طرح کوربا (چھتیس گڑھ) اور ورنگل (تلنگانہ) میں مانسون سے قبل ہی ری چارج ڈھانچے فعال کر دیے گئے ہیں، تاکہ موسمی بارش کے پانی کو مؤثر طریقے سے محفوظ کر کے زیرِ زمین آبی ذخائر کی بھرپائی کے لیے استعمال کیا جا سکے۔

 

مغربی بنگال کے بردوان اور آندھرا پردیش کے وجیانگرم میں انجکشن بور ویل کے ساتھ ریچارج پٹس تعمیر کیے گئے

چھتیس گڑھ کے کوربا اور تلنگانہ کے ورنگل میں مانسون سے پہلے ریچارج اسٹرکچرز زیرِ تعمیر ہیں

ایٹانگر میں چھت کے بارش کے پانی کی ذخیرہ اندوزی کے لیے اسٹوریج ٹینک کی سہولت کے ساتھ ریچارج پٹ

 

امرت 2.0 کے تحت آبی ذخائر کی بحالی (واٹر باڈی ریجووینیشن - ڈبلیو بی آر) جزو کے تحت تقریباً 1.21 لاکھ ایکڑ رقبے پر آبی ذخائر کی بحالی کا کام کیا جا رہا ہے، تاکہ پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت میں اضافہ ہو، زیرِ زمین پانی کی سطح بہتر بنے اور شہری علاقوں میں سیلاب سے نمٹنے کی صلاحیت مضبوط ہو۔ ان اقدامات میں آبی ذخائر سے گاد نکالنا، پانی کے داخلے اور اخراج کے راستوں کو بہتر بنانا، کناروں کا تحفظ، خوبصورتی بڑھانے کے لیے شجرکاری اور حیاتیاتی تنوع کو فروغ دینا شامل ہے۔

ان کوششوں کو مزید مؤثر بنانے کے لیے ملک بھر کے شہری علاقوں میں 1,800 ایکڑ سے زائد رقبے پر پارکوں اور سبز مقامات کی ترقی کے منصوبے بھی جاری ہیں۔ یہ منصوبے ماحولیاتی پائیداری کو فروغ دینے، زیرِ زمین پانی کی بحالی، شہری علاقوں میں گرمی کے اثرات کم کرنے اور عوام کے لیے بہتر اور پُرکشش عوامی مقامات فراہم کرنے میں مددگار ثابت ہو رہے ہیں۔

ان تمام اقدامات کے ذریعے وزارتِ ہاؤسنگ و شہری امور (ایم او ایچ یو اے) وزیراعظم کی مہم "کیچ دی رین – جہاں بارش ہو، جب بارش ہو" کے وژن کو عملی جامہ پہنانے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔

"آج محفوظ کیا گیا پانی کا ہر قطرہ، آنے والی نسلوں کے آبی تحفظ میں ایک سرمایہ کاری ہے۔"

***

ش ح ۔   م  د ۔  م  ص

U :9898 


(रिलीज़ आईडी: 2284278) आगंतुक पटल : 10
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , Marathi , हिन्दी , Gujarati