الیکٹرانکس اور اطلاعات تکنالوجی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

الیکٹرانکس اور اطلاعاتی ٹیکنالوجی کی وزارت (ایم ای آئی ٹی وائی) اور ڈرون فیڈریشن آف انڈیا نے نِدار 2.0 کا آغاز کیا


نِدار 2.0 کے تحت طلبہ کو بھارتی ساختہ چِپ سے چلنے والے جدید اور ذہین ڈرون تیار کرنے کا چیلنج

مقابلے میں 65 لاکھ روپے سے زائد کے انعامات، اسٹارٹ اپ انکیوبیشن، کلاؤڈ کریڈٹس، سافٹ ویئر معاونت اور طلبہ ٹیموں کے لیے انٹرن شپ کے مواقع فراہم کیے جائیں گے

प्रविष्टि तिथि: 13 JUL 2026 6:31PM by PIB Delhi

  الیکٹرانکس اور اطلاعاتی ٹیکنالوجی کی مرکزی وزارت (ایم ای آئی ٹی وائی) نے ڈرون فیڈریشن آف انڈیا کے اشتراک سے سوایان اقدام کے تحت نیشنل انوویشن چیلنج برائے ڈرون ایپلی کیشن اور ریسرچ (نِدار 2.0، 2026-27) کے دوسرے ایڈیشن کا آغاز کیا ہے۔

الیکٹرانکس نکیتن، نئی دہلی میں منعقدہ اس پروگرام میں طلبہ، اساتذہ، سرکاری نمائندوں اور صنعت سے وابستہ ماہرین نے بالمشافہ اور آن لائن شرکت کی۔

مرکزی وزارت کے سکریٹری ایس کرشنن نے نِدار 2.0 کے لیے مسئلہ جاتی موضوعات، پوسٹر اور قواعد نامہ جاری کیا۔ اس موقع پر ایم ای آئی ٹی وائی کے ایڈیشنل سکریٹری اور انڈیا سیمی کنڈکٹر مشن کے چیف ایگزیکٹو آفیسر امیتیش کمار سنہا نے خصوصی خطاب کیا۔ تلِکا پانڈے، سائنسداں ’جی‘ اور گروپ کوآرڈینیٹر، ایم ای آئی ٹی وائی، اور اسمت شاہ، صدر ڈرون فیڈریشن آف انڈیا نے بھی سوایان استعداد سازی پروگرام اور نِدار 2.0 کی اہم خصوصیات پر روشنی ڈالی۔ تقریب میں شہری ہوابازی، دفاع، داخلہ، ڈی جی سی اے، مسلح افواج، تعلیمی اداروں اور صنعت کے اعلیٰ حکام نے بھی شرکت کی۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ایس کرشنن نے کہا، ’’نِدار 2.0 ہمارے طلبہ کو صرف ڈرون اڑانا نہیں بلکہ ڈرون کا دماغ تیار کرنا بھی سکھاتا ہے۔ جب یہ دماغ بھارت میں تیار کردہ ویگا پروسیسر پر کام کرے گا تو ہم صرف انجینئر تیار نہیں کریں گے بلکہ خود کفیل بھارتی ڈرون صنعت کی بنیاد بھی رکھیں گے۔‘‘ انہوں نے بتایا کہ ویگا پروسیسر، ڈیجیٹل انڈیا رسک-فائیو پروگرام کے تحت تیار کیا گیا ہے، جو ایم ای آئی ٹی وائی کی ایک اہم پہل ہے اور جس کا مقصد غیر ملکی چِپ ڈیزائن اور ان کی لائسنس فیس پر انحصار کم کرنا ہے۔

نِدار 2025-26 کا پہلا ایڈیشن مارچ 2025 میں شروع کیا گیا تھا، جس میں 22 ریاستوں، چار مرکز کے زیر انتظام علاقوں اور 109 شہروں سے 3,448 طلبہ نے حصہ لیا۔ طلبہ نے قدرتی آفات سے نمٹنے اور جدید زرعی نظام کے لیے خودکار ڈرون تیار کیے۔ گرینڈ فائنل تک 93 ٹیمیں پہنچیں، جن میں سے 24 ٹیموں کو مجموعی طور پر 40 لاکھ روپے کے انعامات دیے گئے۔

نِدار 2.0 میں مقابلے کو مزید جدید بنایا گیا ہے۔ اب توجہ صرف ڈرون کے ڈھانچے پر نہیں بلکہ خودکار نظام، مقامی ایویانکس اور بنیادی ڈرون پرزوں کی تیاری پر مرکوز ہوگی۔ مقابلہ دو زمروں میں منعقد ہوگا۔

پہلا زمرہ: ڈرون اختراع

اس میں طلبہ کو ایسے مکمل خودکار سوارم ڈرون تیار کرنے ہوں گے جو کسی بھی بیرونی مواصلاتی نیٹ ورک کے بغیر آفات زدہ علاقوں میں متاثرین کو تلاش کر کے طبی امدادی سامان پہنچا سکیں۔ اس کے علاوہ ایسے ڈرون بھی تیار کرنے ہوں گے جو جی پی ایس کے بغیر بند عمارتوں میں صنعتی معائنہ کر سکیں۔

دوسرا زمرہ: پرزہ جاتی اختراع

اس زمرے میں طلبہ کو ویگا پروسیسر پر مبنی مقامی فلائٹ کنٹرولر اور آٹو پائلٹ تیار کرنا ہوگا، جس میں زیادہ سے زیادہ مقامی الیکٹرانک پرزے استعمال کیے جائیں گے۔ تکنیکی جانچ کے بعد منتخب ہونے والی 100 بہترین ٹیموں کو تیاری، آزمائش اور انضمام کے لیے دو ویگا پروسیسر کٹس فراہم کی جائیں گی۔

ویگا پروسیسر، سنٹر فار ڈیولپمنٹ آف ایڈوانسڈ کمپیوٹنگ (سی-ڈیک) نے ایم ای آئی ٹی وائی کے مائیکرو پروسیسر ترقیاتی پروگرام کے تحت رسک-فائیو فن تعمیر پر تیار کیا ہے۔ نِدار 2.0 کے ذریعے طلبہ کو بھارتی ساختہ چِپس پر مبنی ڈرون کنٹرول سسٹم تیار کرنے کی ترغیب دی جا رہی ہے۔

اس بار انعامی رقم بڑھا کر 65 لاکھ روپے سے زیادہ کر دی گئی ہے۔ کامیاب ٹیموں کو کارپوریٹ انٹرن شپ، انکیوبیشن سپورٹ اور کلاؤڈ کمپیوٹنگ کریڈٹس بھی فراہم کیے جائیں گے تاکہ ان کے تیار کردہ نمونے تجارتی مصنوعات میں تبدیل ہو سکیں۔

وزارت کے مطابق، شہری اور دفاعی ڈرونز کی بنیادی ٹیکنالوجی ایک جیسی ہوتی ہے، اس لیے نِدار کے تحت سامنے آنے والی اختراعات آتم نربھر بھارت اور وکست بھارت 2047 کے وژن کے مطابق شہری اور دفاعی دونوں شعبوں کو فائدہ پہنچائیں گی۔

سوایان کے بارے میں

سوایان یعنی غیر انسان بردار فضائی نظام (ڈرون اور متعلقہ ٹیکنالوجی) کے لیے انسانی وسائل کی استعداد سازی کا منصوبہ جولائی 2022 میں ایم ای آئی ٹی وائی نے تقریباً 89.87 کروڑ روپے کی لاگت سے پانچ برس کے لیے منظور کیا تھا۔

سوایان اقدام، جسے ایم ای آئی ٹی وائی نے جولائی 2022 میں تقریباً 89.87 کروڑ روپے کی لاگت سے پانچ برس کے لیے منظور کیا تھا، بھارت کے ڈرون شعبے کے لیے ہنرمند افرادی قوت تیار کرنے کا ایک اہم پروگرام ہے۔یہ منصوبہ 30 ممتاز اداروں پر مشتمل ہب اینڈ اسپوک ماڈل کے تحت چلایا جا رہا ہے، جن میں انڈین انسٹی ٹیوٹ آف سائنس (آئی آئی ایس سی)، انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (آئی آئی ٹیز)، انڈین انسٹی ٹیوٹ آف انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی آئی آئی ٹیز)، نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (این آئی ٹیز)، سی-ڈیک اور نائیلٹ شامل ہیں۔یہ پروگرام پانچ اہم شعبوں پر مرکوز ہے: ایرو مکینکس، ڈرون الیکٹرانکس، گائیڈنس، نیویگیشن اینڈ کنٹرول (جی این سی) الگورتھمز اور سمولیشن، ڈرون ایپلی کیشنز، اور متعلقہ غیر انسان بردار فضائی نظام (یو اے ایس) ٹیکنالوجیز۔اب تک اس منصوبے کے تحت 51 ہزار سے زائد افراد کو تربیت دی جا چکی ہے۔ اس کے علاوہ ایم ٹیک اور مائنر ڈگری پروگراموں، اختیاری مضامین، آن لائن کورسز، تحقیقی مقالات اور ڈرون ٹیکنالوجی سے متعلق پیٹنٹس کی بھی حوصلہ افزائی کی گئی ہے۔نِدار اس منصوبے کا نمایاں اختراعی پلیٹ فارم ہے۔

مزید معلومات کے لیے ملاحظہ کریں  : https://swayaan.meity.gov.in

***

ش ح ۔   م  د ۔  م  ص

U : 9897 


(रिलीज़ आईडी: 2284266) आगंतुक पटल : 12
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: Gujarati , English , Marathi , हिन्दी