پنچایتی راج کی وزارت
نئی دہلی میں گرام پنچایتوں کے لیے پانی کے بجٹ پر نیشنل ماسٹر ٹرینرز پروگرام کا آغاز
آبی تحفظ سے متعلق رہنما کتابچہ جاری؛ پہلے مرحلے میں 10 ریاستوں، 100 اضلاع اور 1,000 گرام پنچایتوں کا احاطہ کیا جائے گا
प्रविष्टि तिथि:
13 JUL 2026 6:03PM by PIB Delhi
پنچایتی راج کی وزارت (ایم او پی آر) کی جانب سے نئی دہلی میں گرام پنچایتوں کے لیے آبی بجٹ سازی اور آبی تحفظ منصوبہ بندی سے متعلق ماسٹرٹرینرز کی پہلی قومی سطح کی تربیت کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔ یہ چار روزہ رہائشی تربیتی پروگرام 13 سے 16 جولائی 2026 تک جاری رہے گا۔ یہ پروگرام ملک گیر سطح پر صلاحیت سازی کی اس پہل کا آغاز ہے جس کا مقصد ریاست، ضلع اور بلاک سطح پر ماسٹر تربیت کاروں کا ایک مضبوط نظام تیار کرنا ہے۔ یہ تربیت یافتہ ماہرین گرام پنچایتوں کو تکنیکی طور پر مضبوط، شواہد پر مبنی اور عوامی شمولیت کے ساتھ آبی تحفظ منصوبے تیار کرنے میں معاونت فراہم کریں گے۔اس پہل کا مقصد آبی بجٹ سازی کے ذریعے گرام پنچایتوں کی صلاحیتوں کو مزید مستحکم کرنا اور ‘‘آبی طور پر خود کفیل گرام پنچایتوں’’ کے تصور کو آگے بڑھانا ہے۔ اس موقع پر وزارت نے ‘‘آبی طور پر خود کفیل پنچایتوں کا تربیتی رہنما کتابچہ’’ (مرحلہ اول اور مرحلہ دوم) بھی جاری کیا۔ یہ کتابچہ گرام پنچایتوں کو عوامی شراکت، سائنسی معلومات اور موسمیاتی تبدیلیوں کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے مؤثر آبی تحفظ منصوبے تیار کرنے میں عملی رہنمائی فراہم کرے گا۔
پنچایتی راج کی وزارت کے سکریٹری جناب وویک بھاردواج نے کلیدی خطاب کرتے ہوئے پائیدار دیہی ترقی کے لیے آبی تحفظ کو ایک اہم ستون قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ گرام پنچایتوں اور مقامی برادریوں کو اپنے علاقوں میں پانی سے متعلق مسائل کا براہِ راست اور گہرا علم حاصل ہے اور اس تربیتی پروگرام کا مقصد آبی بجٹ سازی کے ذریعے اس مقامی علم کو ایک منظم عملی منصوبے میں تبدیل کرنا ہے۔ جناب بھاردواج نے برادری کی شمولیت، عوامی ملکیت کے احساس اور رویّوں میں تبدیلی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے اعتماد ظاہر کیا کہ یہ پہل نچلی سطح پر پائیدار اور عوامی شراکت پر مبنی آبی نظم و نسق کو مضبوط بنانے میں مددگار ثابت ہوگی اور مستقبل کے چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے مؤثر ثابت ہوگی۔ پنچایتی راج کی وزارت کے ایڈیشنل سکریٹری جناب سشیل کمار لوہانی نے گرام پنچایت ترقیاتی منصوبوں (جی پی ڈی پی) میں آبی تحفظ کو شامل کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ مؤثر آبی انتظام جامع دیہی ترقی کے لیے ایک محرک کا کام کرتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس پروگرام کا مقصد ملک بھر میں ماسٹر تربیت کاروں کا ایک مضبوط نیٹ ورک تیار کرنا ہے، جو ریاستوں، اضلاع اور گرام پنچایتوں کو آبی تحفظ منصوبے تیار کرنے میں مدد فراہم کرے گا۔ یہ پروگرام مرحلہ وار نافذ کیا جائے گا، جس میں پانی کی قلت سے متاثرہ علاقوں کو ترجیح دی جائے گی تاکہ طویل مدتی اور پائیدار آبی نظم و نسق کو فروغ دیا جا سکے۔
ماسٹر ٹرینرز کی قومی سطح کی تربیت کا مقصد سائنسی طریقۂ کار، تکنیکی جدتوں اور عوامی شراکت پر مبنی منصوبہ بندی کے ذریعے آبی نظم و نسق کو مضبوط بنانا ہے۔یہ تربیتی پروگرام عملی مشقوں اور باہمی تبادلۂ خیال پر مبنی انداز میں تیار کیا گیا ہے، جس کے تحت شرکاء کو آبی بجٹ سازی، مقامی آبی وسائل اور پانی کی ضروریات کے جائزے، مناسب حفاظتی اقدامات کی نشاندہی اور موسمیاتی تبدیلیوں کے تقاضوں سے ہم آہنگ و جامع آبی تحفظ منصوبے تیار کرنے کی عملی مہارت فراہم کی جائے گی۔اس تربیت میں ان منصوبوں کو گرام پنچایت ترقیاتی منصوبوں (جی پی ڈی پی) کے ساتھ مربوط کرنے اور گاؤں کی سطح پر عمل درآمد کی حکمت عملی تیار کرنے پر بھی خصوصی توجہ دی جائے گی۔ نصاب میں تربیت کے بعد جائزے اور مختلف مراحل کے درمیان دی جانے والی عملی ذمہ داریاں بھی شامل ہیں، تاکہ بنیادی سطح تک صلاحیت سازی کے عمل کو مؤثر انداز میں آگے بڑھایا جا سکے۔ اس پہل کے پہلے مرحلے میں 10 ریاستوں، یعنی بہار، چھتیس گڑھ، جھارکھنڈ، کرناٹک، مدھیہ پردیش، مہاراشٹر، اوڈیشہ، راجستھان، تمل ناڈو اور مغربی بنگال کے 100 اضلاع، 100 بلاکس اور 1,000 گرام پنچایتوں کو شامل کیا جائے گا۔ اس افتتاحی تربیتی بیچ میں بہار، چھتیس گڑھ، جھارکھنڈ، مدھیہ پردیش اور مغربی بنگال کے شرکاء شامل ہیں، جو بعد ازاں ریاست، ضلع اور بلاک سطح پر تربیتی پروگراموں کی قیادت کریں گے اور آئندہ پیپلز پلان کیمپئن (پی پی سی) کے دوران گرام پنچایتوں کو آبی تحفظ منصوبے تیار کرنے میں معاونت فراہم کریں گے۔
*********
ش ح۔ض ر۔ش ت
Urdu No-9895
(रिलीज़ आईडी: 2284246)
आगंतुक पटल : 13