PIB Backgrounder
ایتھنول آمیزش شدہ پٹرول پروگرام
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
प्रविष्टि तिथि:
10 JUL 2026 5:51PM by PIB Delhi
ایتھنول آمیزش شدہ پٹرول (ای بی پی) پروگرام بھارت کے توانائی کے شعبے کے اہم اقدامات میں سے ایک ہے۔ اس کا مقصد ملک کی توانائی کے تحفظ کو مضبوط بنانا، کسانوں کی معاونت کرنا اور ملک میں تیار ہونے والے قابلِ تجدید ایندھن کے زیادہ استعمال کے ذریعے ماحول پر پڑنے والے منفی اثرات کو کم کرنا ہے۔

وزارتِ پیٹرولیم و قدرتی گیس نے 23 جون 2026 کو جاری کردہ ایک تفصیلی پریس ریلیز کے ذریعے اس پروگرام سے متعلق مختلف خدشات کی وضاحت کی تھی۔ اس کے علاوہ، 4 جولائی 2026 کو منعقدہ ایک پریس کانفرنس میں گاڑیاں بنانے والی کمپنیوں نے بھی اپنے طور پر ان خدشات پر وضاحت پیش کی۔
ان وضاحتوں کے باوجود، ایتھنول آمیزش شدہ پٹرول (ای بی پی) پروگرام سے متعلق بعض خدشات اب بھی سامنے آ رہے ہیں۔ ذیل میں دیے گئے اکثر پوچھے جانے والے سوالات میں ان خدشات کے حقائق اور شواہد پر مبنی جوابات پیش کیے گئے ہیں۔
کیا ایتھنول پالیسی جلد بازی میں نافذ کی گئی؟
سوال 1: کیا ایتھنول ایک نیا ایندھن ہے جسے بھارت نے ایجاد کیا یا جلد بازی میں اختیار کیا؟
جواب: نہیں۔ ایتھنول کوئی نیا ایندھن نہیں ہے۔ ایک صدی سے بھی زیادہ عرصہ قبل ہنری فورڈ نے اپنی ماڈل ٹی گاڑی کو ایتھنول پر چلنے کے قابل بنایا تھا۔ برازیل اور امریکہ جیسے ممالک کئی دہائیوں سے پٹرول میں ایتھنول کی آمیزش کر رہے ہیں۔
بھارت میں بھی ایتھنول کے استعمال کا آغاز موجودہ حکومت سے بہت پہلے ہو چکا تھا۔ یہ دو دہائیوں سے زائد عرصے پر محیط ایک مسلسل سفر ہے۔ اس کی وقت کے حساب سے ترتیب درج ذیل ہے:
- :2001 ایتھنول آمیزش کے ایک آزمائشی پروگرام کا آغاز کیا گیا۔
- :2004 اس پروگرام کا باضابطہ اعلان کیا گیا۔
- :2006 کئی ریاستوں میں ای-5 پٹرول میں 5 فیصد ایتھنول آمیزش کا نفاذ کیا گیا۔
- جنوری 2013: بھارت کے سرکاری گزٹ میں پالیسی فریم ورک جاری کیا گیا، جس کے تحت 10 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں پٹرول میں 5 فیصد ایتھنول آمیزش کا ہدف مقرر کیا گیا۔
- اس کے باوجود، 2014 تک ایتھنول کی آمیزش تقریباً 1.5 فیصد پر ہی برقرار رہی، کیونکہ صرف گنے سے اتنی مقدار میں ایتھنول پیدا کرنا ممکن نہیں تھا۔
- مئی 2018: قومی حیاتیاتی ایندھن پالیسی کے تحت ایتھنول کی تیاری کے لیے خام مال کا دائرہ گنے سے بڑھا کر مکئی اور اضافی اناج تک وسیع کیا گیا، اور ایتھنول کی پیداوار کو حکومت کے مختلف محکموں کی مشترکہ ترجیح بنا دیا گیا۔
- جون 2021: نیتی آیوگ نے گاڑیاں بنانے والی کمپنیوں، تیل کمپنیوں اور زرعی ماہرین سے مشاورت کے بعد ایک مفصل روڈ میپ جاری کیا۔
- اگست 2021: انڈین آئل کارپوریشن لمیٹڈ (آئی او سی ایل)، بھارت پیٹرولیم کارپوریشن لمیٹڈ (بی پی سی ایل) اور ہندوستان پیٹرولیم کارپوریشن لمیٹڈ (ایچ پی سی ایل) نے نجی سرمایہ کاری کی دعوت دی تاکہ مخصوص ایتھنول پلانٹس قائم کیے جائیں، جن کے لیے خریداری کی ضمانت اور بینکوں سے مالی معاونت کی سہولت بھی فراہم کی گئی۔
سوال 2: بھارت اتنی تیزی سے 20 فیصد ایتھنول آمیزش تک کیسے پہنچ گیا؟
- جواب: 2021 میں پٹرول میں 10 فیصد ایتھنول آمیزش کا ہدف حاصل کرنے کے لیے بھارت کو سالانہ تقریباً 500 سے 600 کروڑ لیٹر ایتھنول درکار تھا۔ نئی سرمایہ کاری کے نتیجے میں پیداواری صلاحیت میں اضافہ ہوا اور سالانہ ایتھنول کی دستیابی تقریباً 1,200 کروڑ لیٹر تک پہنچ گئی۔ جب مطلوبہ مقدار میں ایتھنول دستیاب ہو گیا تو 20 فیصد آمیزش کی جانب پیش رفت ایک منطقی اور ذمہ دارانہ اگلا قدم بن گئی۔
- ایتھنول آمیزش میں ہونے والا اضافہ خود اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ پیش رفت اچانک نہیں بلکہ مرحلہ وار، متوازن اور منصوبہ بندی کے ساتھ کی گئی۔
|
ایتھنول کی فراہمی کا سال
|
آمیزش کا حصول
|
|
2020-21
|
8.1فیصد
|
|
2021-22
|
10.0 فیصد
|
|
2022-23
|
12.1 فیصد
|
|
2023-24
|
14.6 فیصد
|
|
2024-25
|
19.2 فیصد
|
|
2025-26 (نومبر تا جون)
|
20 فیصد
|
برازیل نے دنیا میں پہلی مرتبہ بڑے پیمانے پر ایتھنول کا مربوط نظام قائم کیا، جس میں فطری طور پر کئی دہائیاں لگیں۔ بھارت کو اس تجربے سے سیکھنے کا فائدہ حاصل ہوا۔ جو پیش رفت بظاہر بہت تیز دکھائی دیتی ہے، وہ درحقیقت دو دہائیوں کی تیاری اور اس کے بعد منظم اور مرحلہ وار عمل درآمد کا نتیجہ ہے۔
گاڑیوں کی مطابقت اور صارفین کا انتخاب
سوال 3: میں پٹرول پمپ پر خالص پٹرول، ای-10 اور ای-20 میں سے اپنی پسند کا ایندھن کیوں نہیں چن سکتا، جیسے پریمیم پٹرول کا انتخاب کرتا ہوں؟
جواب: بھارت میں ایک لاکھ سے زائد پٹرول پمپ وسیع ریفائنریوں، ٹرمینلز اور پائپ لائنوں کے مربوط نیٹ ورک کے ذریعے ایندھن حاصل کرتے ہیں۔ اگر ملک بھر میں تین الگ الگ بنیادی اقسام کے پٹرول کی فراہمی کی جائے تو اخراجات کئی گنا بڑھ جائیں گے اور ہر پٹرول پمپ پر معیار کو برقرار رکھنا بھی زیادہ پیچیدہ ہو جائے گا۔
پریمیم پٹرول سے اس کا موازنہ درست نہیں، کیونکہ وہ صرف اضافی اجزا سے بہتر بنایا گیا ایک محدود مقدار میں فروخت ہونے والا ایندھن ہے، نہ کہ ملک بھر میں فراہم کیا جانے والا الگ بنیادی پٹرول۔
اس کے علاوہ پہلے سے کی گئی سرمایہ کاری بھی ایک اہم پہلو ہے۔ سرکاری شعبے کے بینکوں نے ایتھنول پلانٹس، ذخیرہ کرنے کی سہولیات اور رسد کے نظام کے لیے تقریباً ایک لاکھ کروڑ روپے سالانہ کی مالی معاونت فراہم کی ہے۔ اگر اب دوبارہ ای-10 کی طرف لوٹا جائے تو یہ سرمایہ کاری متاثر ہوگی اور ان کسانوں اور کاروباری افراد کو نقصان پہنچے گا جنہوں نے اعتماد کے ساتھ اس شعبے میں سرمایہ کاری کی ہے۔
سوال 4: کیا ای-20 کے نفاذ سے پہلے گاڑیاں بنانے والی کمپنیوں سے واقعی مشاورت کی گئی تھی؟
جواب: جی ہاں، اس تبدیلی کے آغاز ہی سے گاڑیاں بنانے والی کمپنیوں سے مشاورت کی گئی تھی، بعد میں نہیں۔ ای-10 سے مطابقت کے بارے میں 21-2020 ہی میں کمپنیوں سے بات چیت شروع ہو گئی تھی، اور بھارت نے جون 2022 میں مقررہ وقت سے پانچ ماہ پہلے ہی ای-10 کا ہدف حاصل کر لیا تھا۔
ای-20 کے لیے یہ عمل مزید جامع تھا۔ پٹرول پمپوں پر ایندھن کی فراہمی سے قبل انجن کی ترتیب، ایندھن کے نظام، ربڑ کے پرزوں، اخراج اور ایندھن کی بچت سمیت مختلف پہلوؤں کا کئی مراحل میں تفصیلی جائزہ اور آزمائش کی گئی۔ اگر گاڑیاں بنانے والی کمپنیاں اس کی حفاظت اور مطابقت سے مطمئن نہ ہوتیں تو وہ ای-20 استعمال کرنے والی گاڑیوں کی وارنٹی برقرار نہ رکھتیں۔
سوال 5: کیا ای-20 کے استعمال سے میری گاڑی کا مائلیج کم ہو جائے گا یا اس کی کارکردگی متاثر ہوگی؟
جواب: بعض گاڑیوں میں ای-20 کے استعمال سے ایندھن کی بچت میں 3 سے 5 فیصد تک کمی آ سکتی ہے۔ تاہم، عملی طور پر گاڑی کا مائلیج زیادہ تر ڈرائیونگ کے انداز، ٹائروں میں ہوا کے درست دباؤ، بروقت سروسنگ اور ایئر کنڈیشنر کے استعمال جیسے عوامل پر منحصر ہوتا ہے، نہ کہ صرف ایندھن کی قسم پر۔ اس لیے مائلیج ہی کارکردگی کا واحد پیمانہ نہیں ہے۔
ایندھن کی بچت کے علاوہ ای-20 کئی اہم کارکردگی اور ماحولیاتی فوائد بھی فراہم کرتا ہے، جن میں شامل ہیں:
- اس کا ریسرچ آکٹین نمبر (آر او این) تقریباً 108.5 ہے، جبکہ عام پٹرول کا 84.4 ہوتا ہے۔
- یہ بھارتی پٹرول کی مؤثر آکٹین درجہ بندی کو تقریباً 95 تک بڑھا دیتا ہے، جس سے جدید انجنوں میں ایندھن بہتر انداز میں جلتا ہے۔
- ای-20 کے مطابق ترتیب دی گئی گاڑیوں میں رفتار پکڑنے کا عمل زیادہ ہموار ہوتا ہے۔
- ای-20 میں اینٹی ناک (انجن میں غیر معمولی دھماکوں کی روک تھام) کی بہتر خصوصیات موجود ہیں۔
- اس کے استعمال سے انجن زیادہ صاف رہتا ہے اور ذراتی آلودگی (پارٹیکیولیٹ اخراج) میں نمایاں کمی آتی ہے۔
- ای-20 اپنی پوری زندگی کے دورانیے کے حساب سے کاربن کے اخراج میں تقریباً 40 فیصد تک کمی لا سکتا ہے۔
سوال 6: میری گاڑی کی ہدایت نامہ کتابچہ میں ‘‘ای-10 کے مطابق’’ لکھا ہے۔ کیا اس کا مطلب ہے کہ ای-20 میری گاڑی کے لیے غیر محفوظ ہے؟
جواب: نہیں۔ گاڑی کے ہدایت نامے میں درج ایندھن کی مطابقت اُس معیار کی عکاسی کرتی ہے جو گاڑی کی منظوری کے وقت رائج تھا۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ بعد میں، جامع آزمائشوں اور ضابطہ جاتی منظوری کے بعد، ایندھن کا معیار تبدیل ہونے پر وہ گاڑی اچانک غیر محفوظ ہو جائے۔
ای-20 کے نفاذ سے پہلے حکومت نے آٹوموٹیو ریسرچ ایسوسی ایشن آف انڈیا (اے آر اے آئی)، سوسائٹی آف انڈین آٹوموبائل مینوفیکچررز (سیام)، گاڑیاں بنانے والی کمپنیوں اور تیل کمپنیوں پر مشتمل ماہر کمیٹیاں تشکیل دی تھیں۔ 2021 میں نیتی آیوگ کے جاری کردہ روڈ میپ میں ای-10 سے ای-20 کی منتقلی کا تفصیلی جائزہ پیش کیا گیا تھا اور گاڑیاں بنانے والی کمپنیوں کو کئی سال پہلے ہی اس کی پیشگی اطلاع دے دی گئی تھی۔
سوال 7: کیا ای-20 پرانی گاڑیوں میں ربڑ کے پرزوں، ایندھن کی نالیوں یا انجن کو نقصان پہنچاتا ہے؟
جواب: بھارت میں ای-15 یا اس سے زیادہ ایتھنول آمیزش والا ایندھن ساڑھے تین سال سے زائد عرصے سے استعمال ہو رہا ہے۔ ای-20 کو مارکیٹ میں متعارف کرانے سے پہلے انجن کی پائیداری، زنگ سے حفاظت اور گاڑی کی کارکردگی کے حوالے سے اس کی وسیع پیمانے پر تجربہ گاہوں اور عملی حالات میں آزمائش کی گئی تھی۔
اس کا سب سے مضبوط ثبوت عملی تجربات سے ملتا ہے۔ مالی سال 2025-26 کے دوران ماروتی سوزوکی نے 2.84 کروڑ گاڑیوں کی سروس کی، جن میں سے 1.5 کروڑ ایسی پرانی گاڑیاں تھیں جنہیں اصل میں ای-20 کے لیے منظور نہیں کیا گیا تھا۔ ان میں ای-20 سے متعلق کسی قسم کا نقصان سامنے نہیں آیا۔ اگر ای-20 واقعی ربڑ کی نالیوں، ایندھن کی لائنوں یا انجن کو نقصان پہنچاتا تو وارنٹی دعوؤں اور شکایات کی بڑی تعداد سامنے آتی، لیکن ایسا نہیں ہوا۔
اس کے علاوہ بھارت میں ایتھنول کی فراہمی کا نظام بھی سخت نگرانی کے تحت ہے۔ ایتھنول اور ایتھنول آمیزش شدہ پٹرول دونوں کے لیے بھارتی معیارات کے ادارے (بی آئی ایس) کے مقرر کردہ سخت معیار پر عمل کرنا لازمی ہے، اور ڈسٹلری سے لے کر ڈپو اور پھر پٹرول پمپ تک ہر مرحلے پر اس کی جانچ کی جاتی ہے۔ تمام ریاستوں کے چیف سیکریٹریوں کو ایندھن میں آمیزش کے خلاف صفر برداشت کی پالیسی پر سختی سے عمل درآمد کی ہدایت دی گئی ہے۔
قیمت اور صارف کے لیے افادیت
سوال 8: ایتھنول تو نسبتاً سستا ایندھن ہونا چاہیے، پھر ای-20 کی قیمت خالص پٹرول سے کم کیوں نہیں ہے؟
جواب: حکومت اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ ایتھنول پروگرام کے تحت کسانوں کو ان کے فراہم کردہ ایتھنول کی مناسب قیمت ملے۔ مثال کے طور پر مکئی سے تیار کردہ ایتھنول تقریباً 71.86 روپے فی لیٹر کے حساب سے خریدا جاتا ہے، جس میں اشیا و خدمات ٹیکس (جی ایس ٹی)، نقل و حمل اور ذخیرہ کرنے کے اخراجات شامل نہیں ہوتے۔
جب عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت تقریباً 70 امریکی ڈالر فی بیرل ہو تو ای-20 کی تیاری کی لاگت خالص پٹرول کے برابر یا بعض اوقات اس سے بھی زیادہ ہو سکتی ہے۔ ایتھنول اس وقت نسبتاً سستا متبادل بنتا ہے جب خام تیل کی قیمت نمایاں طور پر بڑھ کر عموماً 120 سے 130 امریکی ڈالر فی بیرل یا اس سے زیادہ ہو جائے۔
اگرچہ ای-20 کی قیمت خالص پٹرول کے برابر ہو، پھر بھی صارفین کو اس سے فائدہ پہنچتا ہے، کیونکہ بھارت میں فروخت ہونے والے ہر لیٹر پٹرول کا تقریباً 20 فیصد حصہ اب ملک میں تیار کردہ ایتھنول پر مشتمل ہوتا ہے۔ خام تیل کے برعکس ایتھنول کی قیمتیں برینٹ خام تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ، جنگوں یا عالمی بحری ترسیل میں رکاوٹوں سے براہِ راست متاثر نہیں ہوتیں۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ گاڑی کے ایندھن کے ہر ٹینک کا تقریباً پانچواں حصہ ملک میں تیار ہونے والے مستحکم ایندھن سے حاصل ہوتا ہے، جس سے عالمی تیل کی قیمتوں میں اچانک اضافے کے اثرات کم ہوتے ہیں اور بھارت کی توانائی کا تحفظ مزید مضبوط ہوتا ہے۔
سوال 9: کیا ایتھنول کی آمیزش نے بھارت میں پٹرول کی قیمتوں کو دیگر ممالک کے مقابلے میں زیادہ مستحکم رکھنے میں مدد دی ہے؟
جواب: جی ہاں۔ اس کے نتائج اس بات سے واضح ہیں کہ بھارت میں پٹرول کی قیمتوں میں ہونے والی تبدیلیاں دنیا کے کئی دیگر ممالک کے مقابلے میں زیادہ مستحکم رہی ہیں۔ ایتھنول کی آمیزش کے باعث درآمدی خام تیل پر انحصار کم ہوا ہے، جس سے عالمی منڈی میں قیمتوں کے اتار چڑھاؤ کے اثرات کسی حد تک محدود ہوئے ہیں اور ملک میں ایندھن کی قیمتوں کو نسبتاً مستحکم رکھنے میں مدد ملی ہے۔
سوال 9: کیا ایتھنول کی آمیزش نے بھارت میں پٹرول کی قیمتوں کو دیگر ممالک کے مقابلے میں زیادہ مستحکم رکھنے میں مدد دی ہے؟
جواب: جی ہاں۔ اس کے نتائج اس بات سے واضح ہوتے ہیں کہ عالمی سطح پر دیگر ممالک کے مقابلے میں بھارت میں پٹرول کی قیمتوں میں کس طرح تبدیلی آئی ہے۔
|
ملک
|
پٹرول، جون 2026
|
پٹرول، جون 2026
|
اضافہ
|
|
پاکستان
|
92.64
|
129.48
|
39.77فیصد
|
|
بنگلہ دیش
|
76.97
|
109.82
|
42.69 فیصد
|
|
سر ی لنکا
|
90.43
|
123.59
|
36.66 فیصد
|
|
نیپال
|
113.99
|
137.19
|
20.35 فیصد
|
|
فرانس
|
174.18
|
205.08
|
17.74 فیصد
|
|
جرمنی
|
163.18
|
194.26
|
19.05 فیصد
|
|
اٹلی
|
166.85
|
197.52
|
18.39 فیصد
|
|
انڈیا(دہلی)
|
96.72
|
102.12
|
5.58 فیصد
|
قیمتیں: روپے فی لیٹر
پٹرول میں ملایا جانے والا ایتھنول کا ہر لیٹر چار اہم فوائد فراہم کرتا ہے:
- خام تیل کی درآمد میں کمی۔
- زرمبادلہ کے اخراجات میں کمی۔
- بھارتی کسانوں کی آمدنی میں اضافہ۔
- صارفین کے لیے پٹرول کی قیمتوں میں نسبتاً زیادہ استحکام۔
ایتھنول کی آمیزش ایک عالمی عمل ہے
ایتھنول کی آمیزش اپنانے والا بھارت واحد ملک نہیں ہے، بلکہ یہ دنیا بھر میں تسلیم شدہ طریقۂ کار بن چکا ہے۔ کئی بڑی معیشتوں نے ایتھنول کو اپنی ایندھن کی حکمتِ عملی کا مستقل حصہ بنا لیا ہے۔
- امریکہ: پورے ملک میں ای-10 معیاری ایتھنول آمیزش شدہ ایندھن ہے، جبکہ امریکی حکومت کی سرپرستی میں ای-15 کا استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ لاکھوں گاڑیاں پہلے ہی فلیکس فیول ٹیکنالوجی سے لیس ہیں، جو ای-85 تک ایتھنول آمیزش والے ایندھن پر چل سکتی ہیں۔
- برازیل: ایتھنول کے استعمال میں برازیل اب بھی دنیا کا قائد ہے۔ اس وقت وہاں ای-27 معیاری پٹرول کے طور پر لازمی ہے، جسے بڑھا کر تقریباً 35 فیصد کرنے کی تیاری ہے۔ فروخت ہونے والی نئی گاڑیوں میں 80 فیصد سے زیادہ فلیکس فیول گاڑیاں ہیں، جو ای-27، ای-30 یا خالص آبی ایتھنول پر چل سکتی ہیں۔
- جاپان: جاپان نے بھی مرحلہ وار ای-10 کے نفاذ کے ذریعے ایتھنول کو اپنے ایندھن کے نظام میں شامل کر لیا ہے۔
کینیڈا، تھائی لینڈ اور یورپ کے متعدد ممالک بھی صاف ستھرے ایندھن کی اپنی حکمتِ عملی کے تحت ایتھنول کی آمیزش کو اپنا چکے ہیں۔
توانائی کے تحفظ کی جانب ایک آزمودہ راستہ
بھارت میں ایتھنول کا سفر دو دہائیوں سے زیادہ عرصے پر محیط ہے۔ اس کا آغاز 2001 میں آزمائشی منصوبوں سے ہوا اور بعد ازاں پالیسی اصلاحات، صنعت کے اشتراک اور مسلسل سرمایہ کاری کے ذریعے یہ آگے بڑھتا رہا۔ مالی سال 2025-26 میں پٹرول میں 20 فیصد ایتھنول آمیزش کا ہدف حاصل کرنا کسی اچانک فیصلے کا نتیجہ نہیں، بلکہ محتاط منصوبہ بندی اور مرحلہ وار مؤثر عمل درآمد کا ثمر ہے۔
ای-20 کے نفاذ کے ہر مرحلے میں گاڑیاں بنانے والی کمپنیوں، آزمائشی اداروں، ایندھن فراہم کرنے والے اداروں اور کسانوں کو شامل رکھا گیا۔ انجن یا دیگر پرزوں کو نقصان پہنچنے سے متعلق دعووں کا جائزہ ماروتی سوزوکی اور ہیرو موٹو کارپ کی جانب سے کروڑوں گاڑیوں کے سروس ریکارڈ کی بنیاد پر لیا گیا، لیکن دستیاب شواہد نے ان دعوؤں کی تائید نہیں کی۔
ایتھنول آمیزش شدہ پٹرول (ای بی پی) پروگرام نے بھارت کے توانائی کے تحفظ کو مضبوط بنایا ہے، خام تیل کی درآمدات میں کمی کی ہے، کاربن کے اخراج کو گھٹایا ہے اور کسانوں کی آمدنی میں اضافہ کیا ہے۔ ای-20 ایک محفوظ، نسبتاً صاف اور مکمل طور پر آزمودہ ایندھن ہے، جسے سائنسی جانچ، مرحلہ وار نفاذ اور صنعت و تحقیقی اداروں کے باہمی تعاون کی بنیاد پر متعارف کرایا گیا ہے۔ یہ خود کفیل، پائیدار اور توانائی کے اعتبار سے محفوظ بھارت کی جانب ایک اہم پیش رفت کی نمائندگی کرتا ہے۔
حوالہ جات:
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2283118®=3&lang=1
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2281287®=3&lang=1
پی ڈی ایف دیکھنے کیلئے یہاں کلک کریں
***
(ش ح۔ش ت۔م ذ)
U.R .9800
(रिलीज़ आईडी: 2283417)
आगंतुक पटल : 11