ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کی وزارت
جناب بھوپیندریادو نےکوئمبٹورمیں قومی معاوضہ افزائی جنگلاتی انتظامیہ (کیمپا)کے گورننگ باڈی کے ساتویں اجلاس کی صدارت کی، اتھارٹی کی مجموعی کارکردگی کا جائزہ لیا
کیمپاگورننگ باڈی نے ڈولفن، برفانی چیتا، جنگلی آبی بھینسا اور بھارتی گینڈے کے تحفظ کے چار نئے جنگلی حیاتیات و جنگلاتی تحفظ سے متعلق منصوبوں کی منظوری دی
प्रविष्टि तिथि:
10 JUL 2026 1:18PM by PIB Delhi
قومی جنگلاتی معاوضہ افزائش و تحفظ اتھارٹی (کیمپا)کی گورننگ باڈی کا ساتواں اجلاس آج کوئمبٹورکے مرکزی جنگلاتی خدمات تربیتی ادارے میں ماحولیات، جنگلات و موسمیاتی تبدیلی کے مرکزی وزیرجناب بھوپیندر یادو کی صدارت میں منعقد ہوا۔
اجلاس میں قومی جنگلاتی معاوضہ افزائش و تحفظ اتھارٹی کی مجموعی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا اور ملک بھر میں معاوضہ جاتی شجرکاری، جنگلات کے تحفظ اور جنگلی حیات کے فروغ کو مزید مضبوط بنانے کے مقصد سے متعدد نئی تجاویز اور اقدامات پر غور کیا گیا۔
اجلاس میں مرکزی وزیر مملکت برائے ماحولیات، جنگلات و موسمیاتی تبدیلی جناب کیرتی وردھن سنگھ، وزارت کے سینئر افسران اور گورننگ باڈی کے دیگر اراکین بھی شریک ہوئے۔

گورننگ باڈی نے ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں خالص موجودہ قدر اور معاوضہ جاتی شجرکاری سے متعلق سرگرمیوں کی پیش رفت کا جائزہ لیا۔ اس کے ساتھ ہی مالی سال 26-2025کے دوران کیمپا فنڈ کے موصول ہونے، منظوری اور ریاستوں و مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو منتقل کی جانے والی رقوم کی صورتحال پر بھی غور کیا گیا۔ گورننگ باڈی نے مالی سال 25-2024 کے لیے قومی کیمپا اتھارٹی کے سالانہ حسابوں کے تصدیقی آڈٹ کا بھی نوٹس لیا، جو بھارت کے کنٹرولر و آڈیٹر جنرل نے انجام دیا۔ آڈٹ میں قومی کیمپا اتھارٹی کی 31 مارچ 2025 کو ختم ہونے والے مالی سال کی مالی حالت اور کارکردگی کو درست اور منصفانہ قرار دیا گیا۔
گورننگ باڈی نے قومی کیمپا کی اہم ڈیجیٹل طرزِ حکمرانی سے متعلق پہل کا جائزہ لیتے ہوئے مالی سال 27-2026 کے لیے ڈیجیٹل سالانہ عملی منصوبہ کے نفاذ کو سراہا۔ اس نظام کے تحت اب ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو اپنے سالانہ عملی منصوبے صرف آن لائن، مربوط کارروائی پر مبنی نظام کے ذریعے تیار کرکے جمع کرانے ہوں گے۔ اس نظام میں منصوبوں کی تیاری، جانچ اور منظوری کے تمام مراحل شامل ہیں، جبکہ فنڈ کے استعمال اور شجرکاری کی کارکردگی کی نگرانی کے لیے مربوط معلوماتی ڈیش بورڈ بھی فراہم کیے گئے ہیں۔ اس کے مؤثر نفاذ سے قبل ریاستی اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے محکمۂ جنگلات کی استعداد بڑھانے کے لیے مغربی، شمال مشرقی، جنوبی، وسطی/مشرقی اور شمالی خطوں میں پانچ علاقائی تربیتی ورکشاپس کا انعقاد کیا گیا۔
گورننگ باڈی نے قومی کیمپا اتھارٹی کے لیے ایک مخصوص جغرافیائی معلوماتی نگرانی و جائزہ نظام (جی آئی ایس لیب) کے قیام کا بھی جائزہ لیا۔ یہ ایک متحدہ، جدید ٹیکنالوجی پر مبنی نظام ہے، جس میں سیٹلائٹ تصاویر، جغرافیائی معلوماتی پلیٹ فارم اور زمینی تصدیق کو یکجا کرکے معاوضہ جاتی شجرکاری، خالص موجودہ قدر سے معاونت یافتہ سرگرمیوں اور کیمپا فنڈ سے جاری مختلف منصوبوں کی شفاف اور سائنسی نگرانی کو یقینی بنایا جائے گا۔
ہریت سنکلپ پورٹل (شجرکاری کے لیے منظوری، نرسری معلومات اور ربط کا نظام) کی پیش رفت بھی پیش کی گئی، جسے بھارت میں اقوام متحدہ کے ادارۂ خوراک و زراعت کے اشتراک سے تیار کیا گیا ہے۔ اس پورٹل کے ذریعے بیجوں کے ذرائع، نرسریوں اور شجرکاری کے مواد کو منفرد شناخت اور کیو آر کوڈ کی بنیاد پر قابلِ سراغ بنایا گیا ہے۔ اس کے علاوہ قومی سطح سے لے کر جنگلاتی رینج تک بر وقت میں نگرانی کے لیے ذمہ داریوں پر مبنی معلوماتی ڈیش بورڈ اور کیمپا سے معاونت یافتہ منصوبوں کے لیے انتظامی معلوماتی نظام بھی فراہم کیا گیا ہے، جس سے شفافیت اور بروقت نگرانی کو مزید تقویت ملے گی۔
گورننگ باڈی نے جنگلات کی افزائش اور بحالی سے متعلق اہم منصوبوں کا جائزہ لیتے ہوئے بتایا کہ ساحلی رہائش گاہوں اور پائیدار آمدنی کے لیے مینگرووز اقدام ( ایم آئی ایس ایچ ٹی آئی-مشٹی) کے تحت اب تک چھ ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں مینگرووز کی شجرکاری اور بحالی کے لیے 88 کروڑ 40 لاکھ روپے جاری کیے جا چکے ہیں۔ گورننگ باڈی نے اس منصوبے کی نظرثانی شدہ مالی گنجائش اور مزید تین برس، یعنی 2029 تک توسیع کی منظوری دی، جس کے لیے 500 کروڑ روپے کی اضافی رقم مختص کی گئی ہے۔ اس طرح ساحلی علاقوں کی بحالی کے لیے مختلف ماحولیاتی نظاموں پر مبنی جامع حکمتِ عملی کے تحت اس منصوبے کی مجموعی مالیت 600 کروڑ روپے ہو جائے گی۔
نگر وَن یوجنا کے تحت اب تک 652 شہری جنگلات اور شہری باغات قائم کیے جا چکے ہیں، جن کے لیے 571 کروڑ 50 لاکھ روپے جاری کیے گئے ہیں، جبکہ شجرکاری پر مبنی سبز رقبے میں اضافے کے لیے گرین کریڈٹ اسکیم کے تحت بھارتی کونسل برائے جنگلاتی تحقیق و تعلیم کو 7 کروڑ 28 لاکھ روپے فراہم کیے گئے ہیں۔ گورننگ باڈی نے ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں پر زور دیا کہ وہ ان منصوبوں کو مزید وسعت دیں۔
اجلاس میں آستھا وَن سنرکشن یوجنا کی بھی منظوری دی گئی، جس کے لیے مالی سال 27-2026 سے31-2030 تک پانچ برسوں میں 3,000 کروڑ روپے کا ابتدائی فنڈ مختص کیا گیا ہے۔ اس منصوبے کے تحت ملک بھر میں تقریباً 15 ہزار مقدس جنگلات (آستھا وَن) کے تحفظ اور احیا کا کام کیا جائے گا۔ اس کے ساتھ ہی قومی فنڈ سے معاونت یافتہ ایک نئی اسکیم کی بھی منظوری دی گئی، جس کا مقصد قدرتی مناظر کی بحالی، زمین کی زرخیزی میں کمی کا مقابلہ اور حیاتیاتی تبدیلی سے ہونے والے نقصانات کو روکنا ہے۔
گورننگ باڈی نے قومی کیمپا اتھارٹی کی ایگزیکٹو کمیٹی کی سفارش پر جنگلی حیات اور جنگلاتی تحفظ سے متعلق کئی نئے منصوبوں کی منظوری بھی دی۔ ان میں دریائی ڈولفن کے تحفظ اور بحالی کے عملی منصوبے پر مطالعہ، پروجیکٹ برفانی چیتا کے دوسرے مرحلے (جس میں آبادی کے دوسرے جامع تخمینے کا عمل بھی شامل ہے)، ہندوستانی گینڈے کے تحفظ کا عملی منصوبہ اور جنگلی آبی بھینسے کے تحفظ کے لیے ملک گیر حکمتِ عملی شامل ہیں اس کے علاوہ، گورننگ باڈی نے منی پور کے سنگائی ہرن (بھورے سینگوں والے ہرن) کے تحفظ کے لیے جاری تعاون کو بھی برقرار رکھنے کی منظوری دی۔
اجلاس میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ قومی کیمپا اتھارٹی جدید ٹیکنالوجی، اختراعی اقدامات اور عوامی شراکت پر مبنی طریقۂ کار کے ذریعے بھارت کے جنگلات کے تحفظ اور بحالی کی مسلسل حمایت جاری رکھے گی، تاکہ ماحولیاتی تحفظ، حیاتیاتی تنوع کے فروغ اور موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کی قومی صلاحیت کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔
***
ش ح۔ع و ۔ ش ب ن
U-9791
(रिलीज़ आईडी: 2283283)
आगंतुक पटल : 15