ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

مرکزی وزیر ماحولیات نے کوئمبٹور میں ڈبلیو آئی آئی-سیکان کے تحت انسانی–جنگلی حیات تنازع سے متعلق سینٹر آف ایکسیلنس کا افتتاح کیا اور قومی پورٹل بھی لانچ کیا


ماحولیاتی پائیداری کے لیے تنازع نہیں بلکہ بقائے باہمی اور ہم آہنگی ہمارا بنیادی  منتر ہونا چاہیے: بھوپیندر یادو

انسانی–جنگلی حیات تنازع سے مؤثرطریقے سے نمٹنے کے لیے درپیش چیلنجز، اختراعی اقدامات اور باہمی تعاون پر مبنی حل پر غور و خوض کے لیے قومی ورکشاپ کا انعقادکیا گیا

प्रविष्टि तिथि: 10 JUL 2026 11:26AM by PIB Delhi

ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کے مرکزی وزیر جناب بھوپیندر یادو نے آج کوئمبٹور میں انسانی–جنگلی حیات سے متعلق تنازع  سے متعلق  سینٹر آف ایکسیلنس کا افتتاح کیا۔ افتتاحی تقریب کے بعد انسانی–جنگلی حیات تنازع کے موضوع پر ایک قومی ورکشاپ کا انعقاد بھی کیا گیا، جس میں ملک بھر سے سینئر پالیسی ساز، جنگلاتی انتظامیہ کے افسران، سائنس دان، محققین، ٹیکنالوجی کے ماہرین اور جنگلی حیات کے تحفظ سے وابستہ ماہرین نے شرکت کی۔ ورکشاپ میں انسانی–جنگلی حیات تنازعات کے مؤثر تدارک کے لیے قابلِ عمل حکمتِ عملیوں پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔  اس موقع پر ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کےمرکزی وزیرِ مملکت جناب کیرتی وردھن سنگھ بھی موجود تھے اور انہوں نے تقریب کی رونق میں اضافہ کیا۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image001N7AE.jpg

 

 اس موقع پر کلیدی خطاب کرتے ہوئے مرکزی وزیر جناب بھوپیندر یادو نے کہا کہ قدرتی مساکن کے بکھراؤ، زمین کے استعمال کے بدلتے ہوئے رجحانات اور انسانی سرگرمیوں کے پھیلاؤ کے باعث انسانوں اور جنگلی حیات کے درمیان بڑھتے ہوئے رابطوں نے انسانی–جنگلی حیات تنازع کو بھارت میں تحفظِ ماحول اور ترقی سے متعلق اہم ترین چیلنجز میں شامل کر دیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہمارا نقطۂ نظر مسائل پر نہیں بلکہ ان کے حل پر مرکوز ہونا چاہیے اور اس مقصد کے لیے جدید ٹیکنالوجی سے حاصل ہونے والی پیش رفت سے بھرپور استفادہ کرنا چاہیے۔

 جناب بھوپیندر یادو نے بتایا کہ وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی جانب سے نیشنل بورڈ فار وائلڈ لائف کے ساتویں اجلاس میں کیے گئے اعلان کے مطابق قائم کیا گیا یہ نیا سینٹر آف ایکسیلنس انسانی–جنگلی حیات تنازع کے سائنسی اور شواہد پر مبنی مؤثر انتظام کو فروغ دینے کے لیے قومی سطح پر تحقیق، اختراع، پالیسی معاونت، استعداد سازی اور بہترین عملی تجربات کے فروغ و اشاعت کا مرکزی ادارہ ہوگا۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image002LQ7V.jpg

 

مرکزی وزیر نے اس خواہش کا بھی اظہار کیا کہ ادارہ ٹائیگر ریزروز سے باہر پائے جانے والے شیروں، تیندوؤں اور ہاتھیوں کے انسانوں کے ساتھ پیدا ہونے والے تنازعات کے مؤثر انتظام کے لیے ایک جامع پالیسی وضع کرنے پر خصوصی توجہ دے۔ انہوں نے کہا کہ شہری اور دیہی دونوں علاقوں میں مشن موڈ کے تحت وسیع پیمانے پر عوامی آگاہی مہم چلانے کی ضرورت ہے تاکہ لوگوں کو انسانی–جنگلی حیات کے آمنا سامنا کی صورت میں مناسب طرزِ عمل سے آگاہ کیا جا سکے۔ ان کے مطابق، انسانی–جنگلی حیات تنازع سے نمٹنے کے لیے ایسی حکمتِ عملی اختیار کی جانی چاہیے جس میں ہر علاقے اور ہر جنگلاتی انواع کی مخصوص ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے اقدامات کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ اس سے معاشرے میں پھیلنے والی بے چینی اور خوف و ہراس میں نمایاں کمی آئے گی۔

جناب بھوپیندر یادو نے ملک بھر کے جنگلات پر بھی زور دیا کہ وہ انسانی آبادیوں، املاک اور زرعی فصلوں کو جنگلی حیات سے پہنچنے والے نقصانات اور تنازعات کی روک تھام کے لیے پیشگی اور مؤثر اقدامات کریں۔ انہوں نے کہا کہ اس مقصد کے لیے متعلقہ مقامی برادریوں کے ساتھ قریبی اشتراک اور مختلف شراکت داروں سے مشاورت کے ذریعے مربوط انداز میں مسائل کا حل تلاش کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ جنگلی حیات کے تحفظ میں جدید ترین ٹیکنالوجی سے استفادہ کرتے ہوئے اختراعی اور کامیاب عملی طریقۂ کار وضع کیے جائیں اور انہیں وسیع پیمانے پر عملی سطح پر نافذ کیا جائے۔اپنے خطاب کے اختتام پر مرکزی وزیر نے کہاکہ ماحولیاتی پائیداری کے لیے تنازع نہیں بلکہ بقائے باہمی اور ہم آہنگی ہی ہمارا بنیادی منتر ہونا چاہیے۔

 

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image0038LSO.jpg

 

 اس موقع پر حاضرین سے خطاب کرتے ہوئے ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کے مرکزی وزیر مملکت جناب کیرتی وردھن سنگھ نے کہا کہ جنگلی حیات کے تحفظ کی کوششوں کی کامیابی کے نتیجے میں انسانوں اور جنگلی حیات کے درمیان روابط میں اضافہ ہوا ہے۔ اس صورتِ حال نے جنگلی حیات کے تحفظ کے مسئلے کے ساتھ ساتھ ایک وسیع تر سماجی و معاشی چیلنج بھی پیدا کر دیا ہے، جو طویل مدت میں لوگوں کے روزگار اور ذریعۂ معاش کو متاثر کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنگلی حیات کے تحفظ اور ملک کی سماجی و معاشی ترقی کے درمیان متوازن ہم آہنگی قائم کرتے ہوئے دیرپا اور مؤثر حل تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔

 وزیرِ مملکت نے امید ظاہر کی کہ انسانی–جنگلی حیات تنازع سے متعلق قائم کیا گیا سینٹر آف ایکسیلنس سرکاری اہلکاروں اور مقامی برادریوں کی استعداد سازی میں اہم کردار ادا کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ مرکز جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے اعداد و شمار کی دستاویز بندی اور مؤثر انتظام میں مددگار ثابت ہوگا، جبکہ جنگلی حیات کے تحفظ اور انسان و جنگلی حیات کے پُرامن بقائے باہمی سے متعلق روایتی علم و تجربات کے تحفظ کو بھی فروغ دے گا۔

 

 افتتاحی اجلاس کے دوران وزیر موصوف نے ’’قومی انسانی–جنگلی حیات تنازع پورٹل‘‘کا بھی افتتاح کیا۔ یہ ایک ڈیجیٹل پلیٹ فارم ہے، جسے ملک بھر میں انسانی–جنگلی حیات تنازعات کے مؤثر تدارک کے لیے اعداد و شمار کے انتظام، معلومات اور تجربات کے تبادلے، اور فیصلہ سازی میں معاونت فراہم کرنے کے مقصد سے تیار کیا گیا ہے۔

 اس موقع پر  ’’بھارت میں انسانی–جنگلی حیات تنازع کی موجودہ صورتِ حال: ایک جائزہ‘‘  کے عنوان سے اشاعتی سلسلے کی پہلی جلد بھی جاری کی گئی، جس میں بھارت میں انسانی–جنگلی حیات تنازع کی موجودہ کیفیت، رجحانات اور ابھرتے ہوئے چیلنجز کا جامع تجزیہ پیش کیا گیا ہے۔

 

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image004H8Z8.jpg

 

 ورکشاپ کے تکنیکی اجلاسوں میں سب سے پہلے ’’قومی انسانی–جنگلی حیات تنازع پورٹل’’کا عملی مظاہرہ پیش کیا گیا، جس کے بعد ماہرین کی جانب سے خصوصی خطابات اور پینل مباحثے منعقد ہوئے۔ ان مباحثوں میں درج ذیل موضوعات پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا:

  • انسان اور ہاتھیوں کے درمیان تنازع
  • انسان اور بڑی بلیوں (شیر، تیندوے وغیرہ) کے درمیان تنازع
  • انسانی–جنگلی حیات تنازعات کے تدارک کے لیے ٹیکنالوجی اور اختراعی حل

 ورکشاپ میں ہونے والی یہ مشاورت قومی سطح پر انسانی–جنگلی حیات تنازعات کے مؤثر انتظام کے لیے حکمتِ عملیوں کو مزید مضبوط بنانے، جدید ٹیکنالوجی اور اختراعات کے فروغ، مختلف شراکت داروں کے درمیان بہتر ہم آہنگی پیدا کرنے اور انسانوں و جنگلی حیات کے درمیان پُرامن بقائے باہمی کو فروغ دینے کے لیے قابلِ عمل سفارشات مرتب کرنے میں معاون ثابت ہوگی۔

سینٹر آف ایکسلینس کا قیام اس امر کا واضح مظہر ہے کہ حکومتِ ہند حیاتیاتی تنوع کے تحفظ اور انسانی جان و مال اور روزگار کے تحفظ کے درمیان متوازن ہم آہنگی برقرار رکھنے کے لیے سائنسی بنیادوں، جدید ٹیکنالوجی اور مقامی برادریوں کی شمولیت پر مبنی حکمتِ عملی اختیار کرنے کے اپنے عزم پر قائم ہے۔

 تقریب میں وزارتِ ماحولیات، جنگلات و موسمیاتی تبدیلی کے سیکریٹری، ڈائریکٹر جنرل آف فاریسٹس و خصوصی سیکریٹری، ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل (وائلڈ لائف)، وائلڈ لائف انسٹی ٹیوٹ آف انڈیا کے ڈائریکٹر، وزارت کے سینئر افسران، مختلف ریاستوں کے محکمہ ہائے جنگلات، تعلیمی و تحقیقی اداروں اور شراکت دار تنظیموں کے نمائندوں نے شرکت کی۔

***


ش ح۔ع ح۔ م ش

Uno-9785


(रिलीज़ आईडी: 2283224) आगंतुक पटल : 8
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Bengali , Gujarati , Tamil , Kannada