ایٹمی توانائی کا محکمہ
مرکزی وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے بھونیشور میں ‘نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف سائنس ، ایجوکیشن اینڈ ریسرچ’ (این آئی ایس ای آر) گریجویشن کی 15 ویں تقریب سے خطاب کیا ؛مرکزی وزیر نے ہومی بھابھا کی میراث پر زور دیا
ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہاہے کہ ان نوجوانوں کو ڈگریاں عطا کرنےمیں ، ہم اگلی نسل کو اس مشن کی ذمہ داری دے رہے ہیں جو آنجہانی ہومی بھابھا نے ہمیں سونپی تھی
ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ ڈاکٹر ہومی بھابھا کے پرامن مقاصد کے لیے تصور کردہ ہندوستان کے نیوکلائی سفر کو، وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں ایک نئی سطح پر لے جایا گیا ہے
وکست بھارت اورکاربن کے صفر اخراج کی جانب ہندوستان کے سفر میں 260 گریجویٹ طلباء شراکت دار ہوں گے:مرکزی وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ کا بیان
ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ وزیر اعظم مودی کی قیادت میں سائنس اور اختراع قوم کی تعمیر کا مرکز بن گئے ہیں
प्रविष्टि तिथि:
09 JUL 2026 6:38PM by PIB Delhi
سائنس و ٹیکنالوجی، ارضیاتی علوم، وزیراعظم کے دفتر، عملے، عوامی شکایات، پنشن، نیوکلائی توانائی اور خلاء کےمحکمۂ کے مرکزی وزیرِ مملکت (آزادانہ چارج) ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے آج کہا کہ وزیراعظم نریندر مودی کی قیادت میں بھارت کانیوکلائی پروگرام ترقی کے ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ وزیر موصوف نے نوجوان سائنس دانوں پراس بات کے لیے زور دیا کہ وہ ڈاکٹر ہومی جہاں گیر بھابھا کے تصور کردہ سائنسی ورثے کو آگے لے جائیں اور وکست بھارت 2047 اورکاربن کے صفر اخراج کے قومی اہداف کے حصول میں اپنا مؤثر رول ادا کریں۔
بھونیشور میں واقع نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف سائنس ایجوکیشن اینڈ ریسرچ (این آئی ایس ای آر) کی تقسیمِ اسنادکی پندرہویں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر موصوف نے کہا کہ نیوکلائی توانائی کےمحکمے کے تحت قائم کسی ادارے میں تقسیمِ اسنادکی تقریب محض ڈگریاں عطا کرنے کا موقع نہیں ہوتی، بلکہ یہ سائنسی برتری، اختراع اور قومی ذمہ داری کے عظیم ورثے کو نئی نسل کے سپرد کرنے کا ایک اہم مرحلہ بھی ہے۔
تقریب کےدوران بھارت کے نائب صدرجمہوریہ جناب سی. پی. رادھا کرشنن نے مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے شرکت کی۔ اس موقع پر اڈیشہ کے گورنر ڈاکٹر ہری بابو کمبھامپتی، اڈیشہ کے وزیرِ اعلیٰ جناب موہن چرن ماجھی، تعلیم کے مرکزی وزیر جناب دھرمیندر پردھان، این آئی ایس ای آر کے بورڈ آف گورنرز کے چیئرمین پروفیسر اجیت کمار موہنتی، این آئی ایس ای آر کے ڈائریکٹر اور اکیڈمک کونسل کے چیئرمین پروفیسر ہیرندر ناتھ گھوش، ممتاز سائنس دان، اساتذہ، والدین اور طلبہ بھی موجود تھے۔ تقریب میں انٹیگریٹڈ ایم ایس سی، انٹیگریٹڈ ایم ایس سی۔پی ایچ ڈی، ایم ایس سی اور پی ایچ ڈی پروگراموں کے مجموعی طور پر 260 طلبہ کو ڈگریاں تفویض کی گئیں۔
فارغ التحصیل طلبہ کو مبارکباد دیتے ہوئے ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے نائب صدرجمہوریہ کا اس بات کے لیے شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے اپنے قیمتی وقت میں سےوقت نکال کر اس تقریب میں شرکت کی۔ ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ نائب صدر کی موجودگی نے نہ صرف ادارے کوعزت بخشی بلکہ اپنے سائنسی سفر کا آغاز کرنے والے سیکڑوں نوجوان ذہنوں کو بھی نئی تحریک دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بہت سے طلبہ اس یادگار موقع کو زندگی بھر یاد رکھیں گے اور اس تقریب کی تصاویر کو اپنے تعلیمی سفر کے اہم ترین لمحات کی یاد کے طور پر ہمیشہ سنبھال کر رکھیں گے۔
ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف سائنس ایجوکیشن اینڈ ریسرچ (این آئی ایس ای آر)نیوکلائی توانائی محکمے کے تحت کام کرنے والا ایک ممتاز ادارہ ہے، جو براہِ راست وزیراعظم کو جواب دہ ہے۔وزیر موصوف نےکہا کہ اس نوعیت کے ادارے بھارت کے سائنسی ورثے کے امین ہیں۔ ان کے مطابق ایسے ادارے میں تقسیمِ اسناد کی تقریب دراصل ایک نسل سے دوسری نسل تک سائنسی ذمہ داریوں کی منتقلی کی علامت ہوتی ہے، جس کے ذریعے ملک سائنسی برتری اور خود انحصاری کی اپنی طویل روایت کو برقرار رکھتا ہے۔
بھارت کے نیوکلائی پروگرام کے معمار ڈاکٹر ہومی جہاں گیر بھابھا کے وژن کا ذکر کرتے ہوئے ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ جب ملک کے نیوکلئرپروگرام کا آغاز ہوا تو بھارت کی سائنسی صلاحیتوں پر شکوک و شبہات کا اظہار کیا جاتا تھا۔ ان حالات کے باوجود ڈاکٹر بھابھا نے پُرعزم انداز میں اعلان کیا تھا کہ بھارت کا نیوکلائی پروگرام ہمیشہ پُرامن مقاصد کے لیے وقف رہے گا۔ وزیر موصوف نے کہا کہ وقت نے اس وژن کی صداقت کو ثابت کیا ہے اور آج بھی یہی وژن بھارت کے سائنسی سفر کی رہنمائی کر رہا ہے۔
وزیرموصوف نے کہا کہ وزیراعظم نریندر مودی نے اس وژن کو آگے بڑھاتے ہوئے بھارت کے نیوکلائی پروگرام کو ایک نئی بلندی عطا کی ہے۔ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ گزشتہ چند برسوں میں کی گئی اصلاحات سے نئے مواقع پیدا ہوئے، مقامی صلاحیتوں کو تقویت حاصل ہوئی اور نیوکلائی شعبے میں وسیع تر شمولیت کی راہیں ہموار ہوئی ہیں، جس سے اہمیت کی حامل ٹیکنالوجیوں میں بھارت کے خود انحصاری کے عزم کو مزید مضبوطی حاصل ہوئی ہے۔
ملک کے نیوکلائی توانائی پروگرام کی حالیہ کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ بھارت اپنے پہلےپروٹوٹائپ فاسٹ بریڈر ری ایکٹرکی تیاری کے ساتھ نیوکلئیر پروگرام کے دوسرے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ وزیر موصوف نے کہا کہ یہ کامیابی بھارت کی مقامی سائنسی صلاحیتوں کی پختگی کا مظہر ہے اور ملک کی طویل مدتی توانائی سے سلامتی کو مزید مستحکم بناتی ہے۔
فارغ التحصیل طلبہ سے براہِ راست خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ 260 نوجوان گریجویٹس پر، وزیراعظم نریندر مودی کے دو قومی عہد‘‘وکست بھارت’’ کی تعمیر اور سائنس کی قیادت میں ‘‘ کاربن کے صفر اخراج ’’کے ہدف کے حصول کو آگے بڑھانے کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ وزیر موصوف نے کہا کہ ملک کو اپنے نوجوان سائنس دانوں سے نہ صرف تکنیکی ترقی بلکہ ابُھرتے ہوئے عالمی چیلنجز کے پائیدار حل بھی درکار ہے۔
وزیرموصوف نے کہا کہ گزشتہ ایک دہائی کے دوران بھارت نے اپنے سائنسی اور تکنیکی نظام کو مضبوط بنانے میں نمایاں پیش رفت حاصل کی ہے۔ مرکزی بجٹ کا حوالہ دیتے ہوئےڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ حکومت نے چار‘‘ریئر ارتھ کوریڈورز’’ قائم کرنے کا اعلان کیا ہے، جن میں سے ایک اڈیشہ میں جبکہ باقی تین تمل ناڈو، آندھرا پردیش اور کیرالہ میں قائم کیے جائیں گے۔وزیر موصوف نے کہا کہ یہ اقدامات بھارت کے اہمیت کے حامل معدنی وسائل کے نظام کو مضبوط بنانے اور مستقبل کی ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیوں کو فروغ دینے میں اہم رول ادا کریں گے۔
ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے بتایا کہ فی الحال بھارت کی نصب شدہ نیوکلائی بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت 8,780 میگاواٹ ہے، جسے 2032 تک بڑھا کر 22,380 میگاواٹ تک پہنچانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ وزیر موصوف نے کہا کہ یہ توسیع ملک کے توانائی کے تحفظ کو یقینی بنانے اور صاف و پائیدار توانائی کے ذرائع کو فروغ دینے کے عزم کی عکاس ہے۔
ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے موجودہ دور کو بھارت کے سائنسی شعبے کے لیے سب سے امید افزا ادوار میں سے ایک قرار دیتے ہوئے کہا کہ آج نوجوان سائنس دانوں کے سامنے غیر معمولی وسعت اور تنوع کے حامل مواقع موجود ہیں۔ تحقیق، اختراع، جدید ترین ٹیکنالوجیوں اور ابھرتے ہوئے سائنسی شعبوں نے نوجوانوں کے لیے نئی راہیں کھولی ہیں، جس سے سائنسی میدان میں کیریئر بنانا پہلے سے کہیں زیادہ پرکشش ہو گیا ہے۔
قومی تعلیمی پالیسی 2020 (این ای پی 2020) کا حوالہ دیتے ہوئے ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ مذکورہ پالیسی نے صلاحیت پر مبنی اور بین شعبہ جاتی تعلیم کو فروغ دے کر بھارت کے تعلیمی نظام میں بنیادی تبدیلی پیدا کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پہلے کی نسلوں کے برعکس، جو عموماً روایتی تعلیمی شعبوں تک محدود رہتی تھیں، آج کے طلبہ کو اپنی دلچسپی، صلاحیت اور امنگوں کے مطابق مضامین منتخب کرنے کی آزادی حاصل ہے۔ وزیر موصوف نے کہا کہ این آئی ایس ای آر جیسے اداروں نے بین شعبہ جاتی تعلیم، اختراع اور تحقیق کو اپنے تعلیمی ڈھانچے میں شامل کر کے این ای پی 2020 کے حقیقی جذبے کی بھرپور عکاسی کی ہے۔
وزیرموصوف نے کہا کہ این آئی ایس ای آر نے مختصر عرصے میں سائنس کی تعلیم اور تحقیق کے میدان میں بھارت کے نمایاں اداروں میں اپنا مقام حاصل کر لیا ہے۔ انہوں نے ادارے کی اس کاوش کوبھی سراہا کہ اس نے باصلاحیت سائنس دانوں کی نئی نسل تیار کی،انہو ں نے مزید کہا کہ اس کے سابق طلبہ بھارت اور بیرونِ ملک تحقیقی اداروں، یونیورسٹیوں، اسٹریٹجک تنظیموں اور مختلف شعبوں میں نمایاں خدمات انجام دے رہے ہیں، جس سے عالمی سطح پر بھارت کی سائنسی ساکھ مزید مضبوط ہوئی ہے۔
فارغ التحصیل طلبہ کو ایک بار پھر مبارکباد دیتے ہوئے ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ وہ اس ادارے سے صرف تعلیمی ڈگریاں لے کر نہیں جا رہے بلکہ اپنے ساتھ وہ اعتماد، تجسس اور عزم بھی ساتھ لے کر جا رہے ہیں جو سائنس کے ذریعے قوم کی خدمت کے لیے ضروری ہے۔ وزیر موصوف نے اس یقین کا اظہار کیا کہ یہ فارغ التحصیل طلبہ بھارت کی شاندار سائنسی روایت کو آگے لے جائیں گے اور ایک اختراعی، خود انحصار اور ترقی یافتہ بھارت کی تعمیر میں بامعنی رول ادا کریں گے۔



***
ش ح۔ش م۔ ش ا
U NO: 9784
(रिलीज़ आईडी: 2283198)
आगंतुक पटल : 8