وزارتِ تعلیم
azadi ka amrit mahotsav

مرکزی وزارت تعلیم نے اعلیٰ تعلیم سے متعلق کل ہند سروے (اے آئی ایس ایچ ای) کی 23-2022 اور 24-2023 کی رپورٹیں جاری کر دی ہیں

प्रविष्टि तिथि: 08 JUL 2026 5:56PM by PIB Delhi

مرکزی وزارت تعلیم نے آج  اعلیٰ تعلیم سے متعلق کل ہند سروے (اے آئی ایس ایچ ای)  کی23-2022 اور24-2023 کی رپورٹیں جاری کر دی ہیں۔ اے آئی ایس ایچ ای کے تحت ملک بھر کے اعلیٰ تعلیمی اداروں سے ویب پر مبنی  ڈیٹا کیپچر فارمیٹ (ڈی سی ایف)  کے ذریعے تفصیلی معلومات جمع کی جاتی ہیں۔ ادارے اے آئی ایس ایچ ای پورٹل پر طلبا کے داخلوں، اساتذہ اور دیگر عملے، بنیادی ڈھانچے، امتحانی نتائج اور دیگر متعلقہ معلومات اپ لوڈ کرتے ہیں۔ اے آئی ایس ایچ ای، بھارت میں اعلیٰ تعلیم سے متعلق سرکاری اعداد و شمار کا بنیادی ذریعہ ہے اور پالیسی سازی، منصوبہ بندی اور شعبۂ اعلیٰ تعلیم کی نگرانی کے لیے اہم معلومات فراہم کرتا ہے۔

دونوں برسوں کے دوران اعلیٰ تعلیمی اداروں نے اے آئی ایس ایچ ای میں بھرپور شرکت کی۔ سال 23-2022میں رجسٹرڈ 60,380 اداروں میں سے 56,180 نے، جبکہ 24-2023 میں رجسٹرڈ 64,756 اداروں میں سے 59,533 نے سروے میں حصہ لیا۔ دونوں برسوں میں اداروں کی شرکت کی شرح 90 فیصد سے زیادہ رہی۔

 

 سروے کی اہم جھلکیاں:

 مجموعی داخلہ شرح (جی ای آر)

مجموعی داخلہ شرح (جی ای آر) کا تعین، 18 سے 23 سال کی عمر کی مجموعی آبادی (2011 کی متوقع آبادی کی بنیاد پر) کے مقابلے میں طلبہ کے داخلوں کے تناسب سے کیا جاتا ہے۔ جی ای آر، جو 15-2014 میں 23.7 تھی، مسلسل بڑھتے ہوئے23-2022 میں 29.5 اور 24-2023میں 30 تک پہنچ گئی۔ خواتین کی جی ای آر بھی 15-2014 میں 22.9 اور23-2022 میں 30.2 سے بڑھ کر 24-2023 میں 31.2 ہو گئی۔

 گزشتہ ایک دہائی کے دوران مجموعی داخلہ شرح (جی ای آر) کا رجحان

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/Screenshot2026-07-08175853KVJ2.jpg

 

 

درج فہرست ذاتوں (ایس سی) سے تعلق رکھنے والے طلبا کی مجموعی داخلہ شرح (جی ای آر) 15-2014 میں 18.9 سے بڑھ کر24-2023 میں 27.8 ہو گئی ہے۔ اسی طرح درج فہرست قبائل (ایس ٹی) سے تعلق رکھنے والے طلبا کی مجموعی داخلہ شرح (جی ای آر) 15-2014 میں 13.5 سے بڑھ کر24-2023 میں 22.8 تک پہنچ گئی ہے۔

 

گزشتہ ایک دہائی کے دوران درج فہرست ذاتوں (ایس سی) اور درج فہرست قبائل (ایس ٹی) کے طلبا کی مجموعی داخلہ شرح (جی ای آر) کا رجحان

 

 

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/Screenshot2026-07-08175912Q3JJ.jpg

 

 

صنفی مساوات کا اشاریہ (جی پی آئی)

 

  • خواتین کی مجموعی داخلہ شرح (جی ای آر) کو مردوں کی مجموعی داخلہ شرح (جی ای آر) پر تقسیم کرکے صنفی مساوات کا اشاریہ (جی پی آئی) نکالا جاتا ہے، جو مردوں اور خواتین کی تعلیم تک نسبتاً رسائی کی پیمائش کرتا ہے۔ سال24-2023 میں جی پی آئی 1.08 رہا۔ یہ اشاریہ مسلسل سات برسوں سے 1.0 سے زیادہ برقرار ہے، جو اعلیٰ تعلیم میں خواتین کی مسلسل زیادہ شرکت کی نشاندہی کرتا ہے۔

 

داخلے

  • اعلیٰ تعلیم میں داخلوں کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔ یہ تعداد 15-2014 میں 3.42 کروڑ سے بڑھ کر23-2022 میں 4.46 کروڑ اور 24-2023 میں 4.50 کروڑ تک پہنچ گئی، جو 15-2014 کے مقابلے میں 31.5 فیصد اضافہ ہے۔اسی طرح اعلیٰ تعلیم میں طالبات کے داخلوں میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ طالبات کی تعداد 15-2014 میں 1.57 کروڑ سے بڑھ کر23-2022 میں 2.18 کروڑ اور 24-2023 میں 2.24 کروڑ ہو گئی، جو 15-2014 کے مقابلے میں 42.2 فیصد اضافہ ظاہر کرتی ہے۔

 

گزشتہ ایک دہائی کے دوران اعلیٰ تعلیم میں داخلوں کا رجحان

 

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/Screenshot2026-07-08175958025R.jpg

گزشتہ ایک دہائی کے دوران اعلیٰ تعلیم میں داخلوں میں اضافہ

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/Screenshot2026-07-081802173KOE.jpg

 

درج فہرست ذاتوں (ایس سی) سے تعلق رکھنے والے طلبا کے داخلوں کی تعداد15-2014  میں 46.07 لاکھ سے بڑھ کر 24-2023 میں 69.72 لاکھ ہو گئی، جو 15-2014 کے مقابلے میں 51.4 فیصد اضافہ ہے۔ اسی طرح درج فہرست قبائل (ایس ٹی) کے طلبا کے داخلے 15-2014  میں 16.41 لاکھ سے بڑھ کر 24-2023 میں 28.83 لاکھ تک پہنچ گئے، جو 75.7 فیصد اضافے کی عکاسی کرتے ہیں۔ اسی طرح دیگر پسماندہ طبقات (او بی سی) سے تعلق رکھنے والے طلبا کے داخلے بھی 15-2014  میں 1.13 کروڑ سے بڑھ کر 24-2023 میں 1.80 کروڑ ہو گئے، جو 60.2 فیصد اضافہ ہے۔

 

سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور ریاضی  میں داخلے

 

  • گزشتہ ایک دہائی کے دوران سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور ریاضی  کے شعبوں میں داخلوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ یہ تعداد15-2014  میں 91.5 لاکھ سے بڑھ کر24-2023 میں 1.02 کروڑ تک پہنچ گئی، جو ملک میں سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور ریاضی کی تعلیم پر بڑھتے ہوئے زور کی عکاسی کرتی ہے۔
  • اسٹیم کے شعبوں میں طالبات کی شمولیت میں بھی مسلسل بہتری آئی ہے۔ طالبات کا تناسب 15-2014  میں 38.4 فیصد سے بڑھ کر 24-2023میں 44 فیصد ہو گیا، جو ملک میں سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور ریاضی کی تعلیم میں صنفی شمولیت کے فروغ کی نشاندہی کرتا ہے۔

 

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/Screenshot2026-07-08180240J6FC.jpg

سال24-2023 میں اعلیٰ تعلیمی اداروں میں اساتذہ کی مجموعی تعداد بڑھ کر 17.32 لاکھ ہو گئی، جن میں 55.1 فیصد مرد اور 44.9 فیصد خواتین شامل ہیں۔ خواتین اساتذہ کی تعداد15-2014 میں 5.69 لاکھ سے بڑھ کر 2022-23 میں 7.37 لاکھ اور 2023-24 میں مزید بڑھ کر 7.78 لاکھ ہو گئی۔

سروے سے متعلق نوٹ

اے آئی ایس ایچ ای میں شرکت رضاکارانہ بنیاد پر ہوتی ہے اور اعلیٰ تعلیمی ادارے اپنی معلومات اے آئی ایس ایچ ای کے ویب پورٹل پر خود درج کرتے ہیں۔ اگرچہ وزارتِ تعلیم داخلی توثیقی نظام اور جانچ کے مختلف مراحل کے ذریعے ضروری چھان بین کرتی ہے، تاہم فراہم کردہ معلومات کے معیار کی بنیادی ذمہ داری متعلقہ اعلیٰ تعلیمی اداروں پر عائد ہوتی ہے۔ مزید برآں، چونکہ اے آئی ایس ایچ ای ایک سروے ہے، اس لیے بڑے پیمانے پر کیے جانے والے سرویز کی فطری حدود اس کے نتائج پر معمولی اثر ڈال سکتی ہیں۔

 

تفصیلی رپورٹ درج ذیل  لنک پر دستیاب ہے: https://www.dohe-education.gov.in/documents/reports/aishe-report-MzN1EjMtQWa?pageTitle=AISHE-Report

 

) ش ح – ع ح –ن ع)

U.No. 9717

 


(रिलीज़ आईडी: 2282557) आगंतुक पटल : 14
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , Marathi , हिन्दी , Tamil