قبائیلی امور کی وزارت
قبائلی تحقیقی اداروں کو مضبوط بنانے کے موضوع پر منعقدہ قومی ورکشاپ کے اختتام پر’’بھونیشور اعلامیہ‘‘ منظور
قبائلی تحقیقی اداروں کو تحقیق، اختراع، ثقافتی تحفظ اور شواہد پر مبنی پالیسی سازی کے مہارت کے مراکز میں تبدیل کرنے کے لیے قومی لائحۂ عمل پیش
प्रविष्टि तिथि:
08 JUL 2026 5:34PM by PIB Delhi
قبائلی امور کی وزارت اور حکومتِ اڈیشہ کے اشتراک سے منعقدہ قبائلی تحقیقی اداروں (ٹی آر آئیز) کو مضبوط بنانے کے موضوع پر منعقدہ2 روزہ قومی ورکشاپ آج بھونیشور میں ’’بھونیشور اعلامیہ‘‘ کی منظوری کے ساتھ اختتام پذیر ہوئی۔ یہ اعلامیہ قبائلی علم، تحقیق، اختراع اور شواہد پر مبنی پالیسی سازی کو فروغ دینے والے مضبوط اداروں کے ذریعے وزیر اعظم جناب نریندر مودی کے ’’وکست بھارت 2047@ ‘‘ کے وژن کو آگے بڑھانے کی سمت ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوا۔ اس ورکشاپ میں قبائلی تحقیقی اداروں، ریاستی قبائلی بہبود کے محکموں، جامعات، تحقیقی اداروں، ٹیکنالوجی تنظیموں، صنعت، ترقیاتی شراکت داروں اور سول سوسائٹی سمیت مختلف شعبوں سے تقریباً 200 شرکاء نے حصہ لیا اور بھارت کے قبائلی تحقیقی نظام کے مستقبل پر تفصیلی غور و خوض کیا۔
ورکشاپ کے پہلے دن شرکاء نے چار موضوعاتی گروپ اجلاسوں اور ماہرین کے پینل مباحثوں میں حصہ لیا، جن کا مقصد قبائلی تحقیقی اداروں کے نظام کو مزید مضبوط بنانا تھا۔پہلے اجلاس میں قبائلی تحقیقی اداروں کو متحرک علمی اور ثقافتی وسائل کے مراکز میں تبدیل کرنے پر توجہ دی گئی۔ اس دوران قبائلی زبانوں، مقامی علمی روایات اور ثقافتی ورثے کے تحفظ کے لیے منظم دستاویز سازی، ڈیجیٹل ذخائر، مقامی برادری کی شمولیت اور ادارہ جاتی شراکت داری کو مضبوط بنانے پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔دوسرے اجلاس میں قبائلی ترقی کے لیے تحقیق کو مضبوط بنانے پر غوروخوض کیا گیا، جس میں قبائلی اعداد و شمار کے مضبوط نظام، بنیادی سروے، تحقیق کے معیارات اور تحقیقی اداروں کے درمیان مؤثر تعاون کے ذریعے شواہد پر مبنی پالیسی سازی کی ضرورت پر زور دیا گیا۔تیسرے اجلاس میں مصنوعی ذہانت (اے آئی)، جغرافیائی معلوماتی نظام (جی آئی ایس) اور اختراعی ایکو نظام کو قبائلی تحقیق، منصوبہ بندی، خدمات کی فراہمی، نگرانی اور عوامی شمولیت میں بروئے کار لانے کے امکانات کا جائزہ لیا گیا، تاکہ مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ اور ٹیکنالوجی سے لیس قبائلی تحقیقی ادارے قائم کیے جا سکیں۔چوتھے اجلاس میں ادارہ جاتی استحکام، نظم و نسق، انسانی وسائل اور اسٹریٹجک شراکت داری پر غور کیا گیا۔ اس دوران ان اصلاحات پر زور دیا گیا جو قبائلی تحقیقی اداروں کو پیشہ ورانہ انداز میں چلنے والے، پائیدار اور تحقیق، علم کے انتظام، اختراع اور پالیسی معاونت فراہم کرنے کے قابل مؤثر اداروں میں تبدیل کر سکیں۔
ورکشاپ کے دوسرے دن ہر ورکنگ گروپ کے نمائندوں نے پہلے دن ہونے والی اپنی مشاورت کے اہم نتائج پیش کیے۔ اس کے بعد ماہرین نے اپنے مشاہدات پیش کیے اور قبائلی امور کی وزارت کے ساتھ تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا، تاکہ ان سفارشات کو یکجا کرتے ہوئے قبائلی تحقیقی اداروں (ٹی آر آئیز) کو مضبوط بنانے کے لیے ایک مشترکہ قومی لائحۂ عمل تیار کیا جا سکے۔یہ سفارشات ایک جامع قومی روڈ میپ کی بنیاد بنیں، جس کا مقصد قبائلی تحقیقی اداروں کو تحقیق، علم کی تخلیق، ثقافتی ورثے کے تحفظ، اختراع اور شواہد پر مبنی پالیسی سازی کے مہارات کے مراکز میں تبدیل کرنا ہے۔ یہ روڈ میپ قبائلی برادریوں کی بدلتی ہوئی ضرورتوں اور جامع قبائلی ترقی کے وژن سے پوری طرح ہم آہنگ ہے۔
ورکشاپ کے مباحث کا خلاصہ پیش کرتے ہوئے قبائلی امور کی وزارت کی سکریٹری، محترمہ رنجنا چوپڑا نے کہا کہ’’قبائلی تحقیقی ادارے (ٹی آر آئیز) قبائلی برادریوں کی آواز ہیں۔ انہیں اعلیٰ معیار کی تحقیق پر مبنی اور مقامی برادریوں کی حقیقی ضروریات سے جڑے ہوئے، عالمی سطح پر تسلیم شدہ مہارت کےمراکزِ کے طور پر ترقی کرنی چاہیے۔ ان اداروں کو ادارہ جاتی اور مالیاتی خودمختاری میں مزید وسعت دی جانی چاہیے۔ انہیں ریاستی محکموں، جامعات، کثیرملکی تنظیموں اور دیگر علمی اداروں کے ساتھ قریبی تعاون کے ساتھ کام کرنا ہوگا۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ انہیں تحقیق، پالیسی سازی اور جن لوگوں کی خدمت کے لیے یہ ادارے قائم کیے گئے ہیں، ان کے درمیان موجود فاصلے کو ختم کرنا ہوگا۔اس قومی ورکشاپ کے نتیجے میں سامنے آنے والا’بھونیشور اعلامیہ‘ ایک خوش آئند اقدام ہے اوریہ مضبوط عزم کی عکاسی کرتا ہے، جو آنے والے دنوں میں قبائلی ترقی کی رفتار کو مزید تقویت دے گا۔ یہی وہ راستہ ہے جس کے ذریعے قبائلی ترقی کو مضبوط بنایا جا سکتا ہے اور ’وکست بھارت 2047@‘ کے وژن کو حقیقت کا روپ دیا جا سکتا ہے۔‘‘
ورکشاپ کے دوران ہونے والی تمام مشاورت میں شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ قبائلی تحقیقی اداروں (ٹی آر آئیز) کی ادارہ جاتی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے کے لیے نظم و نسق کے بہتر ڈھانچے، تربیت یافتہ انسانی وسائل، جامعات اور ٹیکنالوجی سے متعلق اداروں کے ساتھ مؤثر تعاون، تحقیق کے معیاری طریقۂ کار اور ریاستوں کے درمیان علم و تجربات کے تبادلے کے مضبوط نظام کو فروغ دینا ضروری ہے۔ مباحث میں اس امر پر بھی زور دیا گیا کہ ایک ایسا قومی نظام تشکیل دیا جائے، جس کے ذریعے قبائلی تحقیقی ادارے قبائلی علم و دانش کے محفوظ ذخائر کے طور پر اپنی ذمہ داریاں انجام دینے کے ساتھ ساتھ قبائلی ترقی کے پروگراموں کے لیے بروقت شواہد اور پالیسی سے متعلق مؤثر تجاویز بھی فراہم کر سکیں۔
قبائلی امور کی وزارت نے نمایاں ادارہ جاتی کارکردگی کے اعتراف میں قبائلی تحقیق، دستاویز سازی، علم کی تخلیق اور قبائلی ثقافتی ورثے کے تحفظ میں غیر معمولی خدمات انجام دینے والے سات بہترین قبائلی تحقیقی اداروں (ٹی آر آئیز) کو تعریفی اسناد سے نوازا۔ یہ اعزاز شواہد پر مبنی قبائلی ترقی کو فروغ دینے اور قومی سطح پر قبائلی تحقیقی اداروں کے نظام میں معیارِ فضیلت کو مستحکم بنانے کے لیے ان اداروں کے عزم کا اعتراف ہے۔اعزاز حاصل کرنے والے ادارے درج ذیل ہیں:
- ٹرائبل ریسرچ اینڈ ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ، چھتیس گڑھ
- شیڈیولڈ کاسٹس اینڈ شیڈیولڈ ٹرائبس ریسرچ اینڈ ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ، اڈیشہ
- ٹرائبل ریسرچ اینڈ کلچرل انسٹی ٹیوٹ، تریپورہ
- ٹرائبل ریسرچ اینڈ ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ، مہاراشٹر
- کیرالا انسٹی ٹیوٹ فار ریسرچ، ٹریننگ اینڈ ڈیولپمنٹ اسٹڈیز آف شیڈیولڈ کاسٹس اینڈ شیڈیولڈ ٹرائبس (کرٹاڈس)، کیرالا
- ٹرائبل کلچرل ریسرچ اینڈ ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ، تلنگانہ
- ڈاکٹر رام دیال منڈا ٹرائبل ویلفیئر ریسرچ انسٹی ٹیوٹ، جھارکھنڈ
ورکشاپ کا اختتام سفارشات کے جامع مجموعے کی پیشکش اور ’’بھونیشور اعلامیہ‘‘ کی منظوری کے ساتھ ہوا، جو قبائلی تحقیقی اداروں (ٹی آر آئیز) کو تحقیق، علم کی تخلیق اور شواہد پر مبنی پالیسی سازی کے مہارت کےمراکز میں تبدیل کرنے کے لیے ایک تاریخی قومی فریم ورک کی حیثیت رکھتا ہے۔
اپنے اختتامی خطاب میں قبائلی امور کی وزارت کے جوائنٹ سکریٹری، جناب اننت پرکاش پانڈے نے کہا کہ’’گزشتہ دو دنوں کے دوران ہم نے نہایت بامقصد مباحث، خیالات کے مؤثر تبادلے اور قبائلی تحقیقی اداروں کو مضبوط بنانے کے مشترکہ عزم کا مشاہدہ دیکھاہے۔ اس ورکشاپ سے سامنے آنے والی سفارشات اور ’بھونیشور اعلامیہ‘ ادارہ جاتی صلاحیتوں میں اضافے، تحقیق میں معیارکے فروغ، جدید ٹیکنالوجی کو اپنانے اور باہمی تعاون کو مزید مستحکم بنانے کے لیے ایک واضح لائحۂ عمل فراہم کرتے ہیں۔قبائلی امور کی وزارت ریاستی حکومتوں، قبائلی تحقیقی اداروں اور تمام متعلقہ فریقوں کے ساتھ مل کر ان سفارشات کو عملی جامہ پہنانے اور انہیں قبائلی ترقی کے مؤثر نتائج میں تبدیل کرنے کے لیے اپنے پختہ عزم پر قائم ہے۔‘‘
اجلاسِ عام، موضوعاتی گروپ مباحث اور ماہرین کے پینل مباحثوں میں ہونے والی مشترکہ مشاورت کی عکاسی کرتے ہوئے ’’بھونیشور اعلامیہ‘‘ قبائلی تحقیقی اداروں (ٹی آر آئیز) کو متحرک علمی مراکز میں تبدیل کرنے کے لیے ایک جامع ایجنڈا پیش کرتا ہے۔ اس میں ادارہ جاتی اصلاحات، ماڈل ٹی آر آئی فریم ورک 2030 (ریاستوں کے لیے نظم و نسق، افرادی قوت اور تحقیق کے معیار کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے رہنما خطوط)، قومی ٹی آر آئی تحقیقی ایجنڈا 2027–2032 (ریاستوں کی مشترکہ تحقیقی ترجیحات پر مبنی پانچ سالہ منصوبہ)، جدید ٹیکنالوجی کا انضمام، قبائلی زبانوں اور مقامی علمی روایات کا تحفظ، تحقیق کے معیارات میں بہتری، کارکردگی کی بنیاد پر ادارہ جاتی استحکام، اسٹریٹجک شراکت داری اور مقامی برادریوں کی زیادہ مؤثر شمولیت جیسے اہم نکات شامل ہیں۔
یہ اعلامیہ اس مشترکہ عزم کا اعادہ کرتا ہے کہ باہمی تعاون پر مبنی، مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ ایک ایساتحقیقی نظام تشکیل دیا جائے جو بھارت کے قبائلی ثقافتی ورثے کے تحفظ کو یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ شواہد پر مبنی پالیسی سازی کو فروغ دے اور ’’وکست بھارت 2047@ ‘‘ کے وژن کی تکمیل میں مؤثر کردار ادا کرے۔
قبائلی تحقیقی اداروں (ٹی آر آئیز) کو مضبوط بنانے کے بارے میں
بھونیشور، اڈیشہ میں7 تا 8 جولائی 2026کے دوران منعقدہ قبائلی تحقیقی اداروں (ٹی آر آئیز) کو مضبوط بنانے سے متعلق قومی ورکشاپ میں منظور شدہ
ہم، قبائلی تحقیقی اداروں (ٹی آر آئیز)، ریاستی قبائلی بہبود کے محکموں، جامعات، تحقیقی تنظیموں، ٹیکنالوجی اداروں، غیر سرکاری تنظیموں، بین الاقوامی ترقیاتی ایجنسیوں اور نجی شعبے کے شراکت داروں کے تمام نمائندگان، 7 تا 8 جولائی 2026 کو اڈیشہ کے شہر بھونیشور میں قبائلی تحقیقی اداروں کو مضبوط بنانے سے متعلق قومی ورکشاپ میں جمع ہوئے۔
اس حقیقت کو تسلیم کرتے ہوئے کہ قبائلی تحقیقی ادارے (ٹی آر آئیز) قبائلی ترقی کے لیے ریاستوں کے اہم علمی اور پالیسی مشاورتی ادارے ہیں، وکست بھارت کے وژن کی تکمیل میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں اور قبائلی ثقافتی ورثے کے محافظ ہیں؛
اور گزشتہ دو روز کے دوران اجلاسِ عام، ماہرین کی مشاورت اور موضوعاتی ورکنگ گروپس کے ذریعے قبائلی تحقیقی اداروں کے تحقیقی نظام، ادارہ جاتی صلاحیتوں اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کو مضبوط بنانے کی حکمتِ عملی پر تفصیلی غور و خوض کرنے کے بعد؛
ہم اس اعلامیے کو متفقہ طور پر منظور کرتے ہیں اور درج ذیل عزم کا اظہار کرتے ہیں:
- قبائلی تحقیقی اداروں (ٹی آر آئیز) کو مہارت کےمراکز کے طور پر ترقی دی جائے تاکہ وہ خصوصی تحقیق، موضوعاتی منصوبوں اور اعلیٰ سطح پر علم کی ترویج کی قیادت کر سکیں۔ اس کے ساتھ ہی، نئے اداروں کی رہنمائی اور ان کی صلاحیتوں میں اضافے کے لیے تجربہ کار قبائلی تحقیقی اداروں کی سرپرستی پر مبنی نوڈل ٹی آر آئی نظام کو دوبارہ متعارف کرایا جائے۔
- مقامی برادری کی سطح پر ضروریات کا باقاعدہ تجزیہ لازمی قرار دیا جائے، تاکہ قبائلی تحقیقی اداروں کی تحقیق اور اقدامات براہِ راست زمینی حقائق اور عوامی ضروریات کی بنیاد پر مرتب ہوں۔ اس کے علاوہ، کامیاب مقامی اختراعی اقدامات کو آزمانے اور وسیع پیمانے پر نافذ کرنے کے لیے ٹی آر آئی انوویشن نیٹ ورک قائم کیا جائے۔
- تمام قبائلی تحقیقی اداروں کے لیے این ٹی آر پی پورٹل کے ذریعے نتائج اور درجہ بندی کا نظام نافذ کیا جائے، تاکہ کارکردگی کی بنیاد پر ترقی، جوابدہی اور ریاستوں کے درمیان صحت مند مسابقت کو فروغ حاصل ہو۔
- تحقیق کے نتائج کو عام فہم اور قابلِ استعمال بنانے کے لیے تحقیقی نتائج کی اشاعت اور استعمال کی حکمتِ عملی تیار کی جائے، تاکہ پیچیدہ تحقیقی معلومات کو آسان ڈیش بورڈز، پالیسی خلاصوں اور تدریسی مواد کی صورت میں پالیسی سازوں اور عوام تک پہنچایا جا سکے۔
- ماڈل ٹی آر آئی فریم ورک 2030 کو حتمی شکل دی جائے، جس میں قبائلی تحقیقی اداروں کے بنیادی فرائض، ادارہ جاتی خصوصیات اور ٹیکنالوجی پلیٹ فارمز کی وضاحت ہو۔ ہر ریاست کو اس فریم ورک کی بنیاد پر اپنے قبائلی تحقیقی ادارے کا جائزہ لینے اور مقررہ مدت کے اندر ادارہ جاتی بہتری کا منصوبہ نافذ کرنے کی ترغیب دی جائے۔
- قومی ٹی آر آئی تحقیقی ایجنڈا (2032-2027) مرتب کیا جائے، تاکہ قومی ترقیاتی اہداف اور پالیسی ضروریات سے ہم آہنگ قبائلی تحقیق کے اہم اور مؤثر موضوعات کی نشاندہی اور ترجیح بندی کی جا سکے۔ ساتھ ہی، لازمی ہم مرتبہ جائزے ، اخلاقی اصولوں اور ڈیٹا مینجمنٹ کے معیارات پر مبنی تحقیقی معیارات کا فریم ورک نافذ کیا جائے، تاکہ نتائج اور پیداوار پر مبنی نظام کے تحت اعلیٰ معیار کی تحقیق کو یقینی بنایا جا سکے۔
- قبائلی مقامی علم، فنون، زبانوں، روایات، موسیقی، روایتی سازوں، قبائلی کھانوں اور معدوم ہوتی ثقافتی روایات کو منظم دستاویز سازی اور قبائلی نوجوانوں کی فعال شمولیت کے ذریعے محفوظ کیا جائے۔
- قبائلی تحقیقی اداروں میں ماہر محققین، موضوعاتی ماہرین اور تکنیکی پیشہ ور افراد کو راغب کرنے، برقرار رکھنے اور ان کی صلاحیتوں میں مسلسل اضافہ کرنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں، تاکہ ادارہ جاتی معیارِ فضیلت کو یقینی بنایا جا سکے۔
- جامعات، تعلیمی اداروں، غیر سرکاری تنظیموں، ٹیکنالوجی اداروں اور صنعت کے ساتھ شراکت داری کو ادارہ جاتی شکل دے کر کاروباری مواقع، ہنرمندی اور روزگار کے فروغ کو تقویت دی جائے، تاکہ مشترکہ اقدامات اور باہمی سیکھنے کے پائیدار نظام قائم کیے جا سکیں۔
- مصنوعی ذہانت (اے آئی)، تجزیاتی پلیٹ فارمز اور انوویشن/ٹیک ہبز سمیت جدید ٹیکنالوجی کے بنیادی ڈھانچے کے لیے مشترکہ خدمات کا ماڈل اپنایا جائے، تاکہ غیر ضروری اخراجات سے بچا جا سکے اور قبائلی معلومات کا ایک مضبوط مرکزی ذخیرہ قائم کیا جا سکے۔
ہم اس عزم کا اعادہ کرتے ہیں کہ اس ورکشاپ کے جذبے اور مقاصد کو اپنے اپنے اداروں اور دائرۂ اختیار میں آگے بڑھائیں گے اور قبائلی تحقیقی اداروں، جامعات، تحقیقی اداروں اور سول سوسائٹی کی تنظیموں کے ساتھ باہمی تعاون کے ذریعے قبائلی تحقیقی اداروں کو بھارت میں قبائلی ترقی کے لیے متحرک پالیسی مشاورتی مراکز، قبائلی ثقافتی ورثے کے محافظ اور علم پر مبنی مؤثر اداروں کی حیثیت سے فروغ دینے کے وژن کو عملی جامہ پہنائیں گے۔
8 جولائی 2026 کو بھونیشور، اڈیشہ میں متفقہ طور پر منظور کیا گیا۔
(یہ اعلامیہ ورکشاپ کے دوران منعقدہ اجلاسِ عام، چار موضوعاتی ورکنگ گروپس اور ماہرین کے پینل مباحثوں میں ہونے والی مشترکہ مشاورت کی عکاسی کرتا ہے، جسے مزید غور و خوض اور باضابطہ منظوری کے لیے قبائلی امور کی وزارت کے سامنے پیش کیا جائے گا)۔
قبائلی تحقیقی ادارے (ٹی آئی آئیز)قبائلی برادریوں کی آواز ہیں، جو زمینی سطح کی ضروریات کو قومی پالیسی سے جوڑتے ہیں اور قبائلی مقامی علم و دانش کے تحفظ کو یقینی بناتے ہیں۔












******
(ش ح ۔ م ع۔م ا(
UR.No-9715
(रिलीज़ आईडी: 2282551)
आगंतुक पटल : 12