صحت اور خاندانی بہبود کی وزارت
صحت و خاندانی بہبود کی مرکزی وزارت نے آیوشمان آروگیہ مندروں میں بنیادی صحت کی خدمات فراہم کرنے والے پانچوں شعبوں کے عملے کے لیے ٹرینرس کی تربیت کا قومی پروگرام کامیابی سے منعقد کیا
مرکزی وزارتِ صحت نے آیوشمان آروگیہ مندروں میں بنیادی صحت کی افرادی قوت کو مضبوط بنانے کے لیے جامع تربیتی حکمتِ عملی اور ہر شعبے کے لیے مخصوص تربیتی ماڈیولز کا آغاز کیا
بنیادی صحت کی افرادی قوت کو مستحکم بنانے کے لیے منعقدہ قومی تربیتی پروگرام میں 110 سے زائد قومی اور ماسٹر ٹرینرز نے شرکت کی
प्रविष्टि तिथि:
08 JUL 2026 4:48PM by PIB Delhi
صحت و خاندانی بہبود کی مرکزی وزارت نے نئی دہلی میں واقع نیشنل ہیلتھ سسٹمز ریسورس سینٹر میں دو روزہ تربیت کاروں کی تربیت کا قومی پروگرام (نیشنل ٹریننگ آف ٹرینرز) پروگرام کامیابی سے منعقد کیا۔ یہ پروگرام آیوشمان آروگیہ مندروں میں بنیادی صحت کی خدمات فراہم کرنے والے پانچوں شعبوں کے عملے کے لیے منعقد کیا گیا۔ افتتاحی اجلاس کی صدارت صحت و خاندانی بہبود کی وزارت کی ایڈیشنل سیکریٹری اور قومی صحت مشن کی مشن ڈائریکٹرمحترمہ آرادھنا پٹنائک نے کی۔
شرکا سے خطاب کرتے ہوئے محترمہ آرادھنا پٹنائک نے سرکاری صحت مراکز میں تربیت یافتہ، باصلاحیت اور معیاری صحت سے متعلق افرادی قوت کی دستیابی کو انتہائی اہم قرار دیا۔ انہوں نے عوامی صحت کی خدمات پر لوگوں کے اعتماد کو مضبوط بنانے کے لیے معیاری تصدیق (کوالٹی سرٹیفکیشن) کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ مختلف شعبوں کے مطابق تربیت کو غیر مرکزی نفاذ کے ماڈل کے تحت نافذ کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اگست 2026 سے اس تربیتی پروگرام کو ملک بھر میں شناخت کیے گئے 100 سے زائد علاقائی تربیتی اداروں کے ذریعے مرحلہ وارانداز میں نافذ کیا جائے گا۔

انہوں نے مزید اس بات پر زور دیا کہ صحت سے متعلق مختلف پروگراموں کے درمیان بہتر ہم آہنگی اور اداروں کے باہمی تعاون کو فروغ دینا ضروری ہے تاکہ صحت کی خدمات کی فراہمی کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ صرف تکنیکی معلومات کافی نہیں ہوتیں، بلکہ صحت کے شعبے کے عملے کی تربیت میں رویہ جاتی مہارتوں، ہمدردی اور مؤثر ابلاغ کو بھی شامل کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے، تاکہ مریض پر مرکوز اور انسان دوست طبی نگہداشت کو یقینی بنایا جا سکے۔
افتتاحی اجلاس کے دوران مرکزی وزارتِ صحت نے جامع تربیتی حکمتِ عملی اور مختلف شعبوں کے لیے مخصوص تربیتی ماڈیولز کا بھی ذکر کیا، جن کا آغاز 30 اپریل 2026 کو چندی گڑھ میں منعقدہ قومی بہترین عملی نمونوں کے اجلاس کے دوران کیا گیا تھا۔ اس موقع پر صحت و خاندانی بہبود کےمرکزی وزیر جناب جگت پرکاش نڈا نے اس اقدام کا افتتاح کیا تھا۔ جامع تربیتی حکمتِ عملی، پروگرام پر مبنی اور محض معلوماتی صلاحیت سازی کے روایتی طریقۂ کار سے ہٹ کر مریض پر مرکوز اور مہارت پر مبنی تربیتی نظام کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔ اس کا مقصد آیوشمان آروگیہ مندروں کے ذریعے جامع بنیادی صحت کی خدمات فراہم کرنے والے میڈیکل افسران، اسٹاف نرسوں، کمیونٹی ہیلتھ افسران، معاون نرس و دائیوں (اے این ایم) اور تسلیم شدہ سماجی صحت کارکنوں (آشا) کی تکنیکی صلاحیتوں کے ساتھ ساتھ ضروری رویہ جاتی مہارتوں کو بھی مضبوط بنانا ہے۔
تربیت کاروں کی تربیت کاقومی پروگرام میں ملک بھر سے 110 سے زائد قومی اور ماسٹر ٹرینرز نے شرکت کی، جو معیاری اور مہارت پر مبنی صلاحیت سازی کے ذریعے بنیادی صحت کی خدمات کے معیار کو بہتر بنانے کے قومی عزم کی عکاسی کرتا ہے۔
اس تربیت کاروں کی تربیت کےقومی پروگرام کو ایک جامع اور عملی تدریسی تجربے کے طور پر ترتیب دیا گیا، جس میں کلاس روم لیکچرز، عملی مثالوں پر مبنی مباحثے اور نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ اینڈ فیملی ویلفیئر کی اسکل لیب میں عملی تربیت شامل تھی۔ اس پروگرام کا مقصد اہم طبی شعبوں میں تکنیکی مہارتوں اور نرم صلاحیتوں (سافٹ اسکلز) کو مضبوط بنانا ہے، تاکہ صفِ اول کے صحت کارکن اعلیٰ معیار کی، مریض پر مرکوز طبی خدمات فراہم کر سکیں۔
توقع ہے کہ جامع تربیتی حکمتِ عملی بنیادی صحت کی خدمات کے معیار میں نمایاں بہتری لائے گی، ملک بھر میں صلاحیت سازی کی کوششوں کو یکساں اور معیاری بنائے گی، اور صفِ اول کے صحت کارکنوں کو بدلتی ہوئی صحت کی ضروریات سے ہم آہنگ علم، مہارت اور پیشہ ورانہ رویوں سے آراستہ کرکے عوام کے صحت کے نظام پر اعتماد کو مزید مضبوط کرے گی۔
اس موقع پر مرکزی وزارتِ صحت کے جوائنٹ سیکریٹری (پالیسی) جناب سیبن سی، نیشنل ہیلتھ سسٹمز ریسورس سینٹر کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر پروفیسر (ڈاکٹر) پرگیہ شرما، وزارتِ صحت و خاندانی بہبود، ڈائریکٹوریٹ جنرل آف ہیلتھ سروسز (ڈی جی ایچ ایس)، نیشنل میڈیکل کمیشن (این ایم سی) اور مشن کرم یوگی بھارت (ایم کے بی) کے سینئر حکام بھی موجود تھے۔
) ش ح – ع ح –ن ع)
U.No. 9712
(रिलीज़ आईडी: 2282519)
आगंतुक पटल : 9