سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت
سیٹلائٹ آپریشنز کے لیے زمین کے قریب خلائی ماحول کے پوشیدہ رازوں سے پردہ اٹھانا نہایت اہم
प्रविष्टि तिथि:
08 JUL 2026 3:30PM by PIB Delhi
زمین کے قریب خلائی ماحول کی درست ماڈلنگ کے لیے ایک اہم پیش رفت کے طور پر، محققین نے پہلی بار زمینی اور خلائی مشاہدات کو یکجا کرتے ہوئے بھارتی خطے کے بالائی آئنوسفیئر کی ازسرِنو تشکیل کا ایک نیا طریقہ تیار کیا ہے۔ یہ طریقہ سیٹلائٹ آپریشنز، مواصلاتی نظام اور نیویگیشن خدمات کو زیادہ مؤثر اور قابلِ اعتماد بنانے میں نہایت اہم کردار ادا کرے گا۔
آئنوسفیئر زمین کے اوپر کے ماحول کا ایک پیچیدہ اور برق بار ذرات پر مشتمل حصہ ہے، جو فضائی اور آئنوسفیئر کی برقی حرکیاتی سرگرمیوں میں بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ الیکٹران کی کثافت میں روزانہ آنے والی تبدیلیاں مختلف تعددی حدود میں ریڈیو لہروں کی ترسیل کو نمایاں طور پر متاثر کرتی ہیں، خصوصاً ہائی فریکوئنسی کی حد میں، جہاں بار بار منعکس ہونے والے سگنلز فضائی لہروں کے ذریعے طویل فاصلے تک ریڈیو مواصلات ممکن بناتے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ سیٹلائٹ پر مبنی نیویگیشن نظام، جیسے جی پی ایس اور بھارت کا ناوک (این اے وی آئی سی) نظام، میں سگنلز کی ترسیل کو بھی متاثر کرتا ہے۔
آئنوسفیئر میں مختلف بلندیوں پر الیکٹران کی کثافت میں آنے والی تبدیلیوں کو سمجھنا قابلِ اعتماد مواصلاتی اور نیویگیشن نظام کے لیے نہایت ضروری ہے، خصوصاً خطِ استوا کے قریب واقع علاقوں میں، جہاں آئنوسفیئر کی حرکیات انتہائی پیچیدہ ہوتی ہیں۔ تقریباً ایک ہزار کلومیٹر کی بلندی تک الیکٹران کی کثافت کے درست اعداد و شمار آئنوسفیئر کی مسلسل نگرانی کے لیے لازمی ہیں، کیونکہ زمین کے نچلے مدار (ایل ای او) میں گردش کرنے والے زیادہ تر سیٹلائٹس اسی بلندی کی حد میں کام کرتے ہیں۔
ماضی کی بیشتر تحقیقات اور روایتی ماڈلز میں قابلِ اعتماد معلومات کی کمی، بالخصوص بھارتی خطے کے حوالے سے، سادگی کی خاطر آئنوسفیئر کے بالائی حصے کے اسکیل ہائٹ کو مستقل تصور کیا جاتا تھا۔ اس محدودیت کے باعث بالائی آئنوسفیئر کی حقیقی ساخت کی درست عکاسی ممکن نہیں ہو پاتی تھی۔
اس خامی کو دور کرتے ہوئے، محکمۂ سائنس و ٹیکنالوجی (ڈی ایس ٹی) کے خودمختار ادارے انڈین انسٹی ٹیوٹ آف جیو میگنیٹزم (آئی آئی جی) نے ایک نیا طریقہ تیار کیا ہے۔ اس طریقے میں کاسمک ریڈیو آکلٹیشن پیمائشوں سے حاصل کردہ اسکیل ہائٹ میں بلندی کے لحاظ سے ہونے والی تبدیلیوں، جو بالائی آئنوسفیئر کی ماڈلنگ کا ایک اہم پیمانہ ہے، کو آئنوسونڈ کے ذریعے حاصل ہونے والے زیریں آئنوسفیئر کے مشاہدات کے ساتھ یکجا کیا گیا ہے، تاکہ بالائی آئنوسفیئر میں الیکٹران کی کثافت کے پروفائل کی زیادہ حقیقی اور درست تصویر حاصل کی جا سکے۔
شکلA ( (a: ترو نیلویلی کے اوپر حاصل کردہ ایک عام آئونوگرام (تعدد بمقابلہ فرضی بلندی کا خاکہ) اور اس کی بنیاد پر ازسرِنو تیار کیے گئے عمودی الیکٹران کثافت کے پروفائل۔ اس خاکے میں فرضی بلندی کا پروفائل (فیروزی رنگ)، موزوں بنایا گیا منحنی (سرخ نقطے والی لکیر)، حقیقی بلندی پر زیریں آئنوسفیئر کا پروفائل (سیاہ ٹھوس لکیر) اور بالائی آئنوسفیئر کے دو ازسرِنو تشکیل شدہ پروفائل—الفا-چیپ مین (نیلی ٹھوس لکیر) اور ایپسٹین (گلابی ٹھوس لکیر)—دکھائے گئے ہیں۔ سوارم سیٹلائٹ سے براہِ راست حاصل کردہ الیکٹران کثافت کی قدر کو توثیق کے لیے ستارے کی علامت سے ظاہر کیا گیا ہے۔
شکلA ( (b: سال 2014 کے دوران ناپی گئی اور ازسرِنو تشکیل دی گئی الیکٹران کثافت کے درمیان باہمی تعلق کا تجزیہ، جو مجوزہ بالائی آئنوسفیئر کی تشکیلِ نو کے طریقۂ کار کی مضبوطی اور قابلِ اعتماد ہونے کی تصدیق کرتا ہے۔
شکل B: سال 2014 کے دوران ترو نیلویلی کے اوپر مختلف موسمی ادوار میں، مختلف اوقات کے مطابق ازسرِنو تشکیل دیے گئے الیکٹران کثافت کی پروفائل۔
اس نئے طریقۂ کار کے ذریعے بالائی آئنوسفیئر کی زیادہ بہتر انداز میں ازسرِنو تشکیل ممکن ہوئی ہے، جس سے نہ صرف اس حصے کی ساخت اور رویّے کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد ملتی ہے بلکہ مختلف خطوں کے لیے بالائی آئنوسفیئر کے اسکیل ہائٹ گریڈینٹ کے زیادہ درست تخمینے بھی حاصل کیے جا سکتے ہیں۔
یہ طریقہ خاص طور پر جغرافیائی مقناطیسی خطِ استوا کے علاقوں میں نہایت اہمیت رکھتا ہے، جہاں زمین کے مقناطیسی میدان کی ساخت کے باعث آئنوسفیئر کی حرکیات انتہائی پیچیدہ ہوتی ہیں۔
کے سیبا کرن گرو، ایس سری پاتھی اور آر کے براڑ کی اس تحقیق نے زمینی اور خلائی مشاہدات کو مؤثر انداز میں یکجا کرتے ہوئے بھارتی خطے کے بالائی آئنوسفیئر کی خصوصیات کو زیادہ درست طریقے سے سمجھنے کی جانب ایک اہم سنگِ میل قائم کیا ہے۔ مجوزہ طریقۂ کار مختلف خلائی موسمی حالات میں علاقائی آئنوسفیئر کی ماڈلنگ کی درستگی میں نمایاں اضافہ کرتا ہے۔ اے جی یو ریڈیو سائنس جریدے میں شائع ہونے والی اس تحقیق کے طریقۂ کار کو دنیا کے دیگر خطوں میں بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس نوعیت کی پیش رفت خلائی موسم کی پیش گوئی کو زیادہ مؤثر بنانے اور مواصلاتی و نیویگیشن نظام کی قابلِ اعتماد کارکردگی کو یقینی بنانے کے لیے نہایت اہم ہے۔
اشاعت کالنک: https://doi.org/10.1029/2025RS008356
******
(ش ح ۔ م ع۔م ا(
UR.No-9707
(रिलीज़ आईडी: 2282439)
आगंतुक पटल : 13