شماریات اور پروگرام کے نفاذ کی وزارت
بنیادی سال2024-25 سے انڈیکس آف سروسز پروڈکشن (آئی ایس پی) کی تیاری سے متعلق ٹیکنیکل ایڈوائزری کمیٹی کی رپورٹ جاری
प्रविष्टि तिथि:
07 JUL 2026 4:00PM by PIB Delhi
- شماریات اور پروگراموں کے نفاذ کی وزارت(ایم او ایس پی آئی) نے خدمات کے شعبے کے لیے ایک 'ہائی فریکوئنسی انڈیکیٹر' کے طور پر آئی ایس پی کی تیاری کا آغاز کیا ہے، جس سے جی وی اے کی شراکت میں 50 فیصد سے زیادہ کی نمائندگی ظاہر ہوتی ہے
- ٹیکنیکل ایڈوائزری کمیٹی کی رپورٹ آئی ایس پی کی تیاری کے لیے نظریاتی اور منہجی فریم ورک کا خاکہ پیش کرتی ہے
خدمات کا شعبہ ہندستانی معیشت کا سب سے متحرک اور تیزی سے پھیلنے والا شعبہ ہے۔ اس کاحصہ ہندستان کے جی وی اےمیں تقریباً 53 فیصد ہے، بڑے پیمانے پر روزگار پیدا کرتا ہے اوریہ اقتصادی ترقی، سرمایہ کاری اور برآمدات کے ایک اہم محرک کے طور پر ابھرا ہے۔
مجوزہ انڈیکس آف سروسز پروڈکشن (آئی ایس پی) ہندستان کے شماریاتی نظام کو مضبوط بنانے اور سروسز سیکٹر کی پیمائش کو بہتر بنانے میں اہم سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے، جو ملک کی اقتصادی سرگرمیوں کے آدھے سے زیادہ حصے پر مشتمل ہے۔یہ آئی ایس پی انڈیکس آف انڈسٹریل پروڈکشن'(آئی آئی پی) کے ضمیمہ کے طور پر کام کرے گا اور پہلی بار ہندستان کی معیشت کے رسمی شعبے میں قلیل مدتی تبدیلیوں کی جامع ماہانہ پیمائش فراہم کرے گا۔
ڈیٹا کے ذرائع
جی ایس ٹی ڈیٹا کی دستیابی سے ہندستان کے شماریاتی منظر نامے کی یکسر کایا پلٹ ہوچکی ہے۔ ہر ماہ، لاکھوں کاروباری ادارے اپنی مصنوعات کی سپلائی کی رپورٹ درج کرتے ہوئے جی ایس ٹی ریٹرن فائل کرتے ہیں، جس سے اقتصادی سرگرمیوں کے بارے میں معلومات کا بھرپور ذریعہ حاصل ہوتا ہے۔ مارکیٹ پر مبنی بہت ساری خدمات کے لیے، جی ایس ٹی کے ذریعے رپورٹ کی جانے والی مصنوعات کی سپلائی براہِ راست ان کی پیداوار کی عکاسی کرتی ہیں، کیونکہ خدمات عام طور پر بیک وقت تیار اور استعمال کی جاتی ہیں۔ جی ایس ٹی پر مبنی ان سپلائیز کو مناسب قیمت کے اعشاریوں کے ساتھ ایڈجسٹ کر کے، ماہانہ بنیاد پر سروسز سیکٹر کی پیداوار میں ہونے والی حقیقی تبدیلیوں کا اندازہ لگانا ممکن ہو جاتا ہے۔ چونکہ یہ ڈیٹا ٹیکس کے نظم کے لیے پہلے ہی جمع کیا جاتا ہے، اس لیے اس طریقے سے کاروباری اداروں پر رپورٹنگ کا کوئی اضافی بوجھ نہیں پڑتا ہے۔ آئی ایس پی کی تیاری کے مقصد سے، جی ایس ٹی نے مجموعی ڈیٹا شیئر کیا ہے۔ وزارتِ شماریات (ایم او ایس پی آئی) کو اس مقصد کے لیے انفرادی یا یونٹ کی سطح کے ڈیٹا تک نہ تو رسائی حاصل ہے اور نہ ہی اس کی ضرورت ہے۔
اگرچہ جی ایس ٹی تجارت، سہولت، فوڈ سروسز، ٹیلی کمیونیکیشن، پیشہ ورانہ خدمات، رئیل اسٹیٹ اور انتظامی معاونت کی خدمات جیسی مارکیٹ پر مبنی خدمات کا وسیع احاطہ کرتا ہے، لیکن کچھ خدمات جو جی ایس ٹی سے مستثنیٰ ہیں، انہیں دیگر ذرائع سے احاطہ کرنے کی ضرورت ہے۔ ان میں صحت اور تعلیم، ریلوے کا بڑا حصہ، انفرادی لائف اور ہیلتھ انشورنس، نان اے سی پبلک ٹرانسپورٹ اور ضروری اشیاء کی نقل و حمل شامل ہیں۔ ان مستثنیٰ زمروں کے لیے، آئی ایس پی میں معلومات کے دو دیگر ذرائع سے مدد لی جائے گی ؛یعنی ریلوے، ہوا بازی، بینکنگ اور انشورنس کا انتظامی ڈیٹا، اور صحت و تعلیم کے لیے ‘‘اسیس’’ کا ڈیٹا۔ اس لحاظ سے، آئی ایس پی ڈیٹا کے متعدد ذرائع اور طریقوں کا ایک انوکھا امتزاج ہوگا جو ہندستان کی صورتحال کے عین مطابق تیار کیا گیا ہے۔
انڈیکس آف سروسز پروڈکشن سےمتعلق ٹیکنیکل ایڈوائزری کمیٹی
آئی ایس پی کی تیاری میں رہنمائی کے واسطے، وزارتِ شماریات (ایم او ایس پی آئی) نے مئی 2025 میں نیتی آیوگ کی ممتاز فیلو، محترمہ دیبجانی گھوش کی صدارت میں 'ٹیکنیکل ایڈوائزری کمیٹی آن انڈیکس آف سروسز پروڈکشن' تشکیل دی تھی۔ اس کمیٹی میں ماہرینِ تعلیم اور صنعتی تنظیموں کے نمائندوں کے علاوہ، سروسز سیکٹر سے وابستہ وزارتوں اور محکموں کے ارکان بھی شامل ہیں۔
گزشتہ ایک سال کے دوران، کمیٹی نے آئی ایس پی کی تیاری کے نظریاتی، طریقہ کار اور عملی پہلوؤں پر تفصیلی غور و خوض کیا۔ مشاورتی عمل کے ضمن میں، متعلقہ فریقوں سے آراء اور تجاویز حاصل کرنے کے لئے 27 اپریل 2026 کو آئی ایس پی کی تیاری سے متعلق 'اپروچ پیپر' (طریقہ کار کا خاکہ) عوامی سطح پر جاری کیا گیا تھا ۔
اب طویل بحث و مباحثے اور مشاورت کے بعدٹی اے سی-آئی ایس پی کی رپورٹ کو حتمی شکل دے دی گئی ہے۔ یہ رپورٹ معیشت کے باضابطہ (فارمل) شعبے کے لیے ماہانہ آئی ایس پی (ISP) کی تیاری کا ایک جامع فریم ورک فراہم کرتی ہے۔
رپورٹ
یہ رپورٹ آئی ایس پی کی تیاری کے مختلف نظریاتی اور طریقہ جاتی پہلوؤں پر ٹیکنیکل ایڈوائزری کمیٹی (ٹی اے سی) کے غور و خوض اور سفارشات کو پیش کرتی ہے۔ ان پہلوؤں میں شعبہ جاتی احاطہ ، ڈیٹا کے مناسب ذرائع کی شناخت، قیمت کے اعشاریوں کا انتخاب، ویٹیج کا ڈھانچہ، انڈیکس کی تیاری کا طریقہ کار اور اس کی تشہیر کا فریم ورک شامل ہیں۔ یہ رپورٹ اس شعبے کی متحرک نوعیت کو ظاہر کرنے کے لیے 'یونیورس اپروچ' اپنانے کی منطق کو بھی دستاویزی شکل دیتی ہے۔ کمیٹی نے بنیادی سال 2024-25 سے ایک 'لاسپیرس والیوم انڈیکس، 2-ڈیجیٹ 'این آئی سی 2025 کی سطح پر انڈیکس کی تیاری، اورجی وی اے کے وزن کا استعمال کرتے ہوئے اس کی مجموعی شکل کی سفارش کی ہے۔
رپورٹ میں سفارش کی گئی ہے کہ متعلقہ فریقوں سے آراء حاصل کرنے، دیگر سہ ماہی یا سالانہ ڈیٹا سیٹ کے استعمال سے اس طریقہ کار کی تصدیق کرنے اور انڈیکس کی پائیداری کا مطالعہ کرنے کے لیے، شروع میں تجرباتی بنیاد پر مجموعی اور ذیلی شعبوں کے آئی ایس پی جاری کیے جائیں۔
بروقت تشہیر کو یقینی بنانے کے واسطے کمیٹی نے شعبہ جاتی انڈیکس کی ماہانہ تیاری اور متعلقہ مہینے کے ختم ہونے کے 60 دنوں کے اندر آئی ایس پی جاری کرنے کی سفارش کی ہے۔ ساتھ ہی یہ ہندستان کی سروسز اکانومی میں قلیل مدتی تبدیلیوں کی نگرانی کے لیے مضبوط اور بین الاقوامی سطح پر قابلِ موازنہ فریم ورک فراہم کرتی ہے۔
اس رپورٹ کو جاری کرنے کا مقصد یہ ہے کہ صارفین 14 جولائی 2026 کو آئی ایس پی کی تجرباتی سیریز کے باضابطہ اجراء سے پہلے، مجوزہ آئی ایس پی فریم ورک کو بہتر طور پر سمجھ سکیں اور اپنا سکیں۔
ش ح۔ م ش ع۔ ج
Uno-9656
(रिलीज़ आईडी: 2282071)
आगंतुक पटल : 10