PIB Backgrounder
دفاتر میں مصنوعی ذہانت: پیداواری صلاحیت، روزگار اور اختراع کا فروغ
جامع ترقی، اختراع اور مہارتوں کے فروغ کے لیے مصنوعی ذہانت کا مؤثر استعمال
प्रविष्टि तिथि:
12 FEB 2026 1:38PM by PIB Delhi
اہم نکات
- اسٹینفورڈ یونیورسٹی کی 2025 گلوبل اے آئی وائبرینسی رینکنگ میں بھارت کا تیسرا مقام ہے۔
- ڈیٹا انفراسٹرکچر، کاروباری سرگرمیاں (انٹرپرینیورشپ) اور آبادیاتی خصوصیات، مصنوعی ذہانت (اے آئی) کو اپنانے کے اہم محرکات ہیں۔
- اسٹینفورڈ گلوبل اے آئی انڈیکس رپورٹ کے مطابق، بھارت میں مختلف پیشوں کے حوالے سے مصنوعی ذہانت سے متعلق مہارتوں کا تناسب عالمی اوسط کے مقابلے میں 2.5 گنا زیادہ ہے۔
- نیس کام (این اے ایس ایس سی او ایم) اے آئی ایڈاپشن انڈیکس کے مطابق، بھارت میں 87 فیصد ادارے فعال طور پر مصنوعی ذہانت پر مبنی حل استعمال کر رہے ہیں۔
|
مصنوعی ذہانت (اے آئی): ترقی کا محرک
کوڈنگ سے لے کر تخلیقی صلاحیتوں تک، مصنوعی ذہانت (اے آئی) ترقی کے روایتی اصولوں کو ازسرِنو تشکیل دے رہی ہے۔ یہ صنعتوں کو نئی توانائی فراہم کر رہی ہے، روزگار کی نوعیت کو بدل رہی ہے اور بھارت کو مستقبل کی جانب تیزی سے گامزن کر رہی ہے۔ مصنوعی ذہانت بھارت کی ڈیجیٹل معیشت، سرمایہ کاری اور روزگار کے فروغ کے لیے ایک متحرک اور مؤثر محرک کے طور پر ابھر رہی ہے۔
بھارت اُن اولین ممالک میں شامل ہے جو مصنوعی ذہانت کے مؤثر استعمال کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔ ملک نے مصنوعی ذہانت کے ماحولیاتی نظام کے پانچوں بنیادی ستونوں—ایپلی کیشنز، ماڈلز، چِپس، بنیادی ڈھانچے (انفراسٹرکچر) اور توانائی—میں منظم اور مسلسل پیش رفت کی ہے۔
بھارت کے مسابقتی کمیشن (سی سی آئی) کی شائع کردہ رپورٹ کے مطابق، عالمی سطح پر مصنوعی ذہانت کی مارکیٹ کا حجم 2020 میں 103.6 ارب امریکی ڈالر سے بڑھ کر 2024 میں 288.8 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ گیا۔ اسی عرصے میں بھارت کی مصنوعی ذہانت کی مارکیٹ 2.97 ارب امریکی ڈالر سے بڑھ کر 7.63 ارب امریکی ڈالر ہو گئی۔
توقع ہے کہ 2032 تک بھارت کی مصنوعی ذہانت کی مارکیٹ 131.31 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ جائے گی، جبکہ اس دوران سالانہ مرکب شرحِ نمو سی اے جی آر 42.2 فیصد رہنے کا امکان ہے۔
حکومتِ ہند مصنوعی ذہانت پر مبنی تبدیلیوں سے ہم آہنگ ٹیکنالوجی کی ترقی کو فعال طور پر فروغ دے رہی ہے۔ اس مقصد کے لیے تحقیق، اختراع اور مہارتوں کی ترقی کے شعبوں میں متعدد ہدفی اقدامات کیے گئے ہیں، تاکہ ‘‘سب کی فلاح، سب کی خوشحالی’’ کے عزم کو عملی جامہ پہنایا جا سکے۔
حکومت کے یہ اقدامات اس بات کو یقینی بنا رہے ہیں کہ ٹیکنالوجی نہ صرف پیداواری صلاحیت میں اضافہ کرے بلکہ روزگار کے نئے مواقع پیدا کرے اور عالمی سطح پر بھارت کی مسابقتی صلاحیت کو بھی مزید مضبوط بنائے۔
عالمی سطح پر مصنوعی ذہانت میں بھارت کی ابھرتی ہوئی قیادت
عالمی اشاریے اور معیارات ظاہر کرتے ہیں کہ مصنوعی ذہانت کے لیے تیاری کے لحاظ سے بھارت دنیا کی نسبتاً بہتر پوزیشن رکھنے والی معیشتوں میں تیزی سے ابھر رہا ہے۔
|
عالمی اشاریوں میں ہندوستان کا موقف
|
|
انڈیکس
|
ہندوستان کی درجہ بندی
|
اس کا کیا مطلب ہے؟
|
|
اسٹینفورڈ یونیورسٹی کی 2025 گلوبل اے آئی وائبرنسی
|
تیسرا ، امریکہ اور چین کے پیچھے
|
آر اینڈ ڈی، ہنر اور معیشت میں ترقی
|
|
آئی ایم ایف کا اے آئی تیاری انڈیکس
|
ہندوستان نے 49.3 کا اسکور حاصل کیا، جو کہ دیگر ابھرتی اور ترقی پذیر معیشتوں کے 42.1 اوسط سے زیادہ ہے۔
|
بھارت مصنوعی ذہانت کو اپنانے اور اس سے فائدہ اٹھانے کے لیے بہتر پوزیشن میں ہے۔
|
|
آکسفورڈ کی حکومت کا اے آئی ریڈی نیس انڈیکس 2025 ،
|
ہندوستان جنوبی اور وسطی ایشیا کی قیادت جاری رکھے ہوئے ہے اور 66.55 کے اسکور کے ساتھ 27ویں نمبر پر ہے۔
|
2025 کے دوران اقدامات اور کوششوں کی تیز رفتاری کی بنیاد پر ہندوستان کی سال بہ سال مضبوط ترقی۔
|
یہ تمام عالمی اشاریے اس حقیقت کی عکاسی کرتے ہیں کہ ہندوستان مصنوعی ذہانت کو پیداواری صلاحیت، شمولیتی ترقی اور طویل مدتی معاشی تبدیلی کے مؤثر محرک کے طور پر بروئے کار لانے کی اپنی صلاحیت میں مسلسل اضافہ کر رہا ہے۔
مصنوعی ذہانت کے دور میں ہندوستان کی اسٹریٹجک برتری
مصنوعی ذہانت کے لیے عالمی سطح پر بھارت کی تیاری کی بنیاد ایک منفرد امتزاج پر قائم ہے، جس میں نوجوان اور ڈیجیٹل مہارتوں سے آراستہ آبادی، مضبوط ڈیجیٹل عوامی بنیادی ڈھانچہ اور تیزی سے فروغ پاتا ہوا اسٹارٹ اَپ ماحولیاتی نظام شامل ہیں۔
یہ بنیادی قوتیں بھارت کو مصنوعی ذہانت کی تیاری، اس کے مؤثر نفاذ اور بڑے پیمانے پر اس کے نظم و نسق کے حوالے سے ایک پائیدار اسٹریٹجک برتری فراہم کرتی ہیں۔
آبادیاتی برتری(ڈیموگرافی)
ہندوستان دنیا کے اُن ممالک میں شامل ہے جہاں نوجوان افرادی قوت کا تناسب سب سے زیادہ ہے۔ ملک کی 65 فیصد سے زائد آبادی کی عمر 35 سال سے کم ہے۔ ٹیکنالوجی سے واقف یہ وسیع انسانی سرمایہ مصنوعی ذہانت پر مبنی صنعتوں کے لیے مہارت یافتہ بنایا جا سکتا ہے، جو اختراع، ڈیجیٹل خدمات اور مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ روزگار کے مواقع کے لیے مضبوط بنیاد فراہم کرتا ہے۔
ہندوستان کی تیز رفتار ڈیجیٹل تبدیلی ایک مضبوط بنیادی ڈھانچے کی مرہونِ منت ہے، جہاں ڈیٹا سینٹرز اور وسیع انٹرنیٹ رابطہ کلاؤڈ کمپیوٹنگ، مصنوعی ذہانت کے نفاذ اور ڈیٹا پر مبنی طرزِ حکمرانی کو فروغ دینے میں کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔
ہندوستان کے ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے کا ایک اہم ستون جدید ڈیٹا سینٹرز کی توسیع اور ترقی ہے۔ یہ مراکز کلاؤڈ کمپیوٹنگ، ڈیٹا ذخیرہ کرنے اور مصنوعی ذہانت و مشین لرننگ (اے آئی /ایم ایل)ایپلی کیشنز کی بڑھتی ہوئی ضروریات کو پورا کرنے میں نہایت اہم ہیں۔
نیشنل انفارمیٹکس سینٹر (این آئی سی) نے دہلی، پونے، بھونیشور اور حیدرآباد میں جدید ترین نیشنل ڈیٹا سینٹرز (این ڈی سیز) قائم کیے ہیں، جو مرکزی وزارتوں، ریاستی حکومتوں اور سرکاری شعبے کے اداروں (پی ایس یوز) کو مضبوط کلاؤڈ خدمات فراہم کر رہے ہیں۔
نیشنل ڈیٹا سینٹرز میں ذخیرہ کرنے کی مجموعی صلاحیت بڑھا کر تقریباً 100 پیٹا بائٹ (پی بی)کر دی گئی ہے، جس میں آل فلیش انٹرپرائز کلاس اسٹوریج، آبجیکٹ اسٹوریج اور یونیفائیڈ اسٹوریج شامل ہیں۔ مصنوعی ذہانت کے ماڈلز کی تربیت، تعیناتی اور میزبانی کے لیے وسیع ڈیٹا ذخیرہ بنیادی اہمیت رکھتا ہے، جبکہ ڈیٹا سینٹرز میں اضافہ اس شعبے میں حائل رکاوٹوں کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہو رہا ہے۔
اہم کامیابیاں:
- جون 2025 تک بھارت میں انٹرنیٹ کنکشنز کی تعداد 100.29 کروڑ سے تجاوز کر گئی، جو مارچ 2014 میں 25.15 کروڑ تھی۔ اس عرصے میں 298.77 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
- 40 کروڑ سے زائد 5جی صارفین کے ساتھ بھارت دنیا کی دوسری سب سے بڑی 5جی صارفین کی منڈی بن چکا ہے اور 5جی ٹیکنالوجی اپنانے والے تیز ترین ممالک میں شامل ہے۔
- آپٹیکل فائبر کیبل (او ایف سی ) نیٹ ورک کی لمبائی 2019 کے 19.35 لاکھ روٹ کلومیٹر سے بڑھ کر 42.36 لاکھ روٹ کلومیٹر تک پہنچ گئی ہے۔
- ملک کی 2,14,843 گرام پنچایتوں کو براڈ بینڈ کنیکٹیویٹی فراہم کی جا چکی ہے۔
- دسمبر 2025 تک 5جی/6جی، مصنوعی ذہانت، کوانٹم کمیونیکیشن اور دیگر ابھرتی ہوئی ٹیلی کام ٹیکنالوجیز سے متعلق 136 منصوبوں کے لیے 550 کروڑ روپے کی مالی معاونت فراہم کی جا چکی ہے۔
- مصنوعی ذہانت کو ترجیح دیتے ہوئے بھارت نے 2024 میں 38 ہزار گرافکس پروسیسنگ یونٹس (جی پی یو) حاصل کیے، جو ملک کو مصنوعی ذہانت کے عالمی رہنما کے طور پر ابھارنے کی کوششوں کا مظہر ہے۔
کاروباری اختراع (اینٹرپرینیورشپ)
ہندوستان میں اسٹارٹ اَپس اور اختراع پر مبنی کاروباری اداروں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ گزشتہ ایک دہائی کے دوران ملک کے اسٹارٹ اَپ ماحولیاتی نظام نے غیر معمولی ترقی کی ہے، اور صنعت و داخلی تجارت کے فروغ کے محکمے (ڈی پی آئی آئی ٹی) کی جانب سے ملک بھر میں دو لاکھ سے زائد اسٹارٹ اَپس کو تسلیم کیا جا چکا ہے۔
اسٹارٹ اَپس اور مصنوعی ذہانت کے شعبے سے وابستہ کاروباری افراد بھارت کے مستقبل کی تعمیر میں اہم شراکت دار ہیں۔ یہ فروغ پاتا ہوا کاروباری ماحولیاتی نظام اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ مصنوعی ذہانت پر مبنی حل مقامی ضروریات سے ہم آہنگ، بڑے پیمانے پر قابلِ نفاذ اور عالمی سطح پر مسابقتی ہوں۔
|
اے آئی سے وابستہ اسٹارٹ اَپس
انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ 2026 کی تیاریوں کے سلسلے میں فاؤنڈیشن ماڈل پِلر کے تحت منتخب کیے گئے 12 بھارتی مصنوعی ذہانت (اے آئی) اسٹارٹ اَپس نے وزیر اعظم نریندر مودی کی صدارت میں منعقدہ ایک گول میز اجلاس (راؤنڈ ٹیبل) میں شرکت کی، جہاں انہوں نے اپنے خیالات، اختراعی منصوبوں اور کام کا تفصیلی جائزہ پیش کیا۔
یہ اسٹارٹ اَپس متعدد جدید شعبوں میں کام کر رہے ہیں، جن میں ہندوستانی زبانوں پر مبنی فاؤنڈیشن ماڈلز، کثیر لسانی بڑے لسانی ماڈلز، اسپیچ ٹو ٹیکسٹ، ٹیکسٹ ٹو آڈیو اور ٹیکسٹ ٹو ویڈیو ٹیکنالوجیز شامل ہیں۔
اس کے علاوہ یہ ادارے جنریٹو اے آئی کے ذریعے ای کامرس، مارکیٹنگ اور ذاتی نوعیت کے مواد کی تخلیق کے لیے 3ڈی مواد تیار کر رہے ہیں۔ ان کی سرگرمیوں میں انجینئرنگ سمولیشنز، نئے مواد پر تحقیق، جدید تجزیاتی نظام اور مختلف صنعتوں میں ڈیٹا پر مبنی فیصلہ سازی کو فروغ دینا بھی شامل ہے۔
یہ اسٹارٹ اَپس صحت کی تشخیص ، طبی تحقیق اور دیگر متعدد جدید شعبوں میں بھی مصنوعی ذہانت پر مبنی اختراعی حل فراہم کر رہے ہیں۔
|
مصنوعی ذہانت: روزگار کی منڈی میں نئے مواقع
اگرچہ دنیا بھر میں مصنوعی ذہانت ( اے آئی) کو اکثر افرادی قوت کے لیے ایک چیلنج یا ممکنہ خلل کے طور پر دیکھا جاتا ہے، لیکن ہندوستان کے لیے یہ شمولیتی ترقی، اختراع اور معاشی پیش رفت کو فروغ دینے کا ایک منفرد موقع فراہم کرتی ہے۔
مصنوعی ذہانت سے متعلق مہارتوں اور روزگار کی بڑھتی ہوئی مانگ
مصنوعی ذہانت (اےا ٓئی) سے متعلق مہارتوں کی مانگ تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ جنوبی ایشیا میں جنوری 2023 سے مارچ 2025 کے درمیان اے آئی سے متعلق ملازمتوں کے اشتہارات کا تناسب دوگنے سے بھی زیادہ ہو کر تمام آسامیوں کے 2.9 فیصد سے بڑھ کر 6.5 فیصد تک پہنچ گیا۔
اسی عرصے کے دوران اےا ٓئی سے متعلق مہارتوں کی مانگ، غیراے آئی شعبوں کے مقابلے میں 75 فیصد زیادہ تیزی سے بڑھی، جس کی بڑی وجہ شہری علاقوں میں اعلیٰ تنخواہوں والی وائٹ کالر ملازمتوں میں اضافہ ہے۔
مجموعی طور پراے آئی سے متعلق روزگار میں تیز رفتار اضافہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ لیبر مارکیٹ تیزی سے اعلیٰ مہارت پر مبنی شہری روزگار کی طرف منتقل ہو رہی ہے، جبکہ ہندوستان مصنوعی ذہانت کے استعمال اور باصلاحیت افرادی قوت کے ایک اہم عالمی مرکز کے طور پر اپنی شناخت مستحکم کر رہا ہے۔
ہندوستان کی لیبر مارکیٹ میں مثبت تبدیلی
مصنوعی ذہانت سے متعلق ملازمتوں میں تیزی سے اضافہ ہندوستان کی لیبر مارکیٹ میں ایک مثبت اور دور رس تبدیلی کا مظہر ہے۔
اسٹینفورڈ یونیورسٹی کی اے آئی انڈیکس رپورٹ 2025 کے مطابق:
- مصنوعی ذہانت کے شعبے میں نئی بھرتیوں کی سالانہ شرح تقریباً 33 فیصد کے ساتھ ہندوستان دنیا میں سرفہرست ہے۔
- گٹ ہب پر جغرافیائی تقسیم کے لحاظ سےاے آئی منصوبوں کے عالمی اعداد و شمار کے مطابق، 2024 میں ہندوستان دنیا کا دوسرا بڑا شراکت دار رہا، جس کا حصہ تمام اے آئی منصوبوں کا 19.9 فیصد تھا۔
- مختلف پیشوں میں اےا ٓئی مہارتوں کی موجودگی عالمی اوسط کے مقابلے میں 2.5 گنا زیادہ رہی۔
جارج ٹاؤن یونیورسٹی کے مطابق، 2015 سے 2025 کے دوران ہندوستان میں مصنوعی ذہانت سے متعلق 2,62,404 تحقیقی مقالات شائع ہوئے، جس سے ہندوستان اے آئی تحقیق میں دنیا کے نمایاں ممالک میں شامل ہو گیا۔ اقتصادی جائزہ 2025-26 بھی اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ ہندوستان مصنوعی ذہانت کے شعبے میں مضبوط تکنیکی افرادی قوت کا حامل ہے۔
امریکہ کے بعد دنیا کی سب سے زیادہ اےا ٓئی سے واقف افرادی قوت رکھنے والے ممالک میں شامل ہونے کے ساتھ ساتھ ہندوستان کو صحت، زراعت، مالیات، تعلیم اور عوامی انتظامیہ جیسے شعبوں میں اپنے وسیع مقامی ڈیٹا ماحولیاتی نظام کی بدولت نمایاں تقابلی برتری بھی حاصل ہے۔
یہ پیش رفت ٹیکنالوجی، خدمات، مینوفیکچرنگ اور تخلیقی صنعتوں میں اعلیٰ معیار کی نئی ملازمتوں کے مواقع پیدا کر رہی ہے۔اے آئی کے بڑھتے ہوئے استعمال کے ساتھ اے آئی ٹرینرز، سیفٹی ٹیسٹرز اور پرامپٹ انجینئرز جیسے نئے پیشوں کی مانگ بھی مسلسل بڑھ رہی ہے۔
یہ تنوع تجربہ کار پیشہ ور افراد اور نئے افراد دونوں کے لیے اسکل انڈیا، ڈیجیٹل انڈیا اور فیوچر اسکلز پرائم جیسے پروگراموں کے ذریعے مہارتوں میں اضافہ اور نئی مہارتوں کی تربیت کے مواقع فراہم کر رہا ہے۔
جنوبی ہندوستان: مصنوعی ذہانت کا ابھرتا ہوا مرکز
ورلڈ بینک کی جنوبی ایشیا ڈیولپمنٹ اپ ڈیٹ رپورٹ کے مطابق، جنوبی ایشیا میں مصنوعی ذہانت سے متعلق ملازمتوں کے زیادہ تر مواقع ہندوستان اور سری لنکا میں موجود ہیں، جن میں ہندوستان کا حصہ سب سے زیادہ ہے۔
ہندوستان میں 2025 کے دوران وائٹ کالر ملازمتوں کی 5.8 فیصد آسامیوں میں اے آئی مہارت لازمی قرار دی گئی۔ ان میں سب سے زیادہ مواقع جنوبی ہندوستان کے ٹیکنالوجی کوریڈور میں دیکھے گئے، جہاں:بنگلورو میں اے آئی ملازمتوں کا حصہ11فیصد رہا۔حیدرآباد میں یہ حصہ 9.57 فیصد رہا۔پونے میں 6.95 فیصد اورچنئی میں 6.62 فیصد اے آئی سے متعلق روزگار کے مواقع ریکارڈ کیے گئے۔
یہ رجحان ظاہر کرتا ہے کہ جنوبی ہندوستان مصنوعی ذہانت، اختراع اور ہنرمند افرادی قوت کا ایک اہم قومی مرکز بن کر ابھر رہا ہے۔
زیادہ اجرت اور لیبر مارکیٹ میں نئے مواقع
مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے متعلق ملازمتیں بہتر تنخواہوں کے نمایاں مواقع فراہم کر رہی ہیں، جو جدید مہارتوں کی عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی مانگ کی عکاسی کرتی ہیں۔ ورلڈ بینک کی رپورٹ کے مطابق، ڈیجیٹل مہارتوں کی متقاضی ملازمتوں میں اوسطاً 12 فیصد زیادہ اجرت دی جاتی ہے، جبکہ اے آئی سے متعلق عہدوں پر یہ اضافہ 28 فیصد تک پہنچ جاتا ہے۔
جوں جوں مصنوعی ذہانت سے متعلق مہارتیں فروغ پائیں گی، ہندوستان زیادہ قدر والی سرمایہ کاری اور ٹیکنالوجی پر مبنی منصوبوں کو اپنی جانب متوجہ کرنے کی بہتر پوزیشن میں ہوگا، جس سے زیادہ تنخواہوں والی ملازمتیں پیدا ہوں گی اور عالمی ڈیجیٹل معیشت میں ملک کی حیثیت مزید مستحکم ہوگی۔
ہندوستان کے لیے روزگار کے تحفظ کا موقع
ہندوستان کے پاس یہ موقع موجود ہے کہ وہ اپنی افرادی قوت کو نئی مہارتیں سکھائے اور مصنوعی ذہانت کو بتدریج، شمولیتی اور پیداواری صلاحیت میں اضافے کے انداز میں مختلف شعبوں میں شامل کرے۔ زراعت، صحت اور لاجسٹکس جیسے شعبے، جہاں انسانی مہارت بدستور بنیادی اہمیت رکھتی ہے، بھی تیزی سے مصنوعی ذہانت کو اپنا رہے ہیں۔
پیداواری صلاحیت میں اضافہ اور مہارتی خلا میں کمی
دستیاب شواہد ظاہر کرتے ہیں کہ بھارت میں مصنوعی ذہانت کے استعمال سے پیداواری صلاحیت میں نمایاں اضافہ ہو رہا ہے۔
- ناسکام(این اے ایس ایس سی او ایم) اے آئی (ایڈاپشن انڈیکس دسمبر 2025) کے مطابق ہندوستان نے4میں سے 2.45 اسکور حاصل کیا، جبکہ87فیصد ادارے فعال طور پر مبنی حل استعمال کر رہے ہیں۔
- میکنزی کی جانب سے 1,993 اداروں پر کیے گئے سروے کے مطابق2025میں88فیصد اداروں نے بتایا کہ وہ اپنے کم از کم ایک کاروباری شعبے میں مصنوعی ذہانت کا استعمال کر رہے ہیں۔
- مطالعات سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ جنریٹو اے آئی کے استعمال سے مجموعی پیداواری صلاحیت میں14فیصد اضافہ ہوتا ہے، جبکہ نئے یا نسبتاً کم مہارت رکھنے والے کارکنوں میں یہ اضافہ34فیصد تک پہنچ جاتا ہے۔ اس سے مہارتی خلا کم کرنے، کارکردگی بہتر بنانے اور صارفین کو زیادہ معیاری خدمات فراہم کرنے میں مدد ملتی ہے۔
خدمات کے شعبے میں مصنوعی ذہانت کی قیادت میں ترقی
سال 2024-25میں ہندوستان کی مجموعی قدرِ افزائش(گراس ویلیو ایڈیڈ –جی وی اے) میں55.3 فیصد حصہ رکھنے والا خدمات کا شعبہ ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔
اطلاعاتی ٹیکنالوجی، مالیاتی خدمات، صحت، تعلیم اور مواصلات جیسے اہم شعبے تیزی سے مصنوعی ذہانت کو اپنا رہے ہیں، جس سے پیداواری صلاحیت، اختراع اور پائیدار کاروباری طریقوں کو فروغ مل رہا ہے۔ انہی مضبوط بنیادوں کے باعث ہندوستان کمپنیاں اے آئی کے استعمال کے ذریعے عالمی سطح پر اپنی مسابقتی صلاحیت کو مزید مضبوط بنانے کی بہتر پوزیشن میں ہیں۔
مصنوعی ذہانت ہندوستان میں کام کی نوعیت کو تیزی سے تبدیل کر رہی ہے۔ یہ انسانی صلاحیتوں میں اضافہ کرتے ہوئے اعلیٰ معیار کے روزگار کے نئے مواقع پیدا کر رہی ہے، جبکہ فیصلہ سازی اور تخلیقی عمل میں انسان کو مرکزی حیثیت حاصل رہے گی۔مصنوعی ذہانت کا بنیادی مقصد انسانی کام کی جگہ لینا نہیں بلکہ اسے مزید مؤثر بنانا ہے، خصوصاً ایسے پیچیدہ اور حالات کے مطابق فیصلوں پر مبنی کاموں میں جہاں انسان فہم و ادراک ناگزیر ہے۔توقع ہے کہ اے آئی پیداواری صلاحیت میں اضافہ کرے گی، کارکنوں کو تخلیقی، تجزیاتی اور باہمی روابط پر مبنی ذمہ داریوں پر زیادہ توجہ دینے کا موقع فراہم کرے گی اور انسان اور مشین کے باہمی تعاون کے ذریعے شمولیتی ترقی کو فروغ دے گی، نہ کہ انسانی افرادی قوت کی جگہ لے گی۔
ہندوستان کی ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کی صنعت اس وقت 60 لاکھ سے زائد افراد کو روزگار فراہم کر رہی ہے اور مسلسل ترقی کر رہی ہے۔ یہ اس امر کا ثبوت ہے کہ ہندوستان اپنی افرادی قوت کی حکمت عملی میں مصنوعی ذہانت اور انسانی صلاحیتوں کے درمیان متوازن ہم آہنگی کو فروغ دے رہا ہے، جہاں توجہ ملازمتوں کے خاتمے کے بجائے ان کی جدید صورت میں تبدیلی پر مرکوز ہے۔
مختلف شعبوں میں مصنوعی ذہانت اور مستقبل کا روزگار
خدمات کے شعبے سے آگے بڑھتے ہوئے، مصنوعی ذہانت کی تبدیلی لانے والی صلاحیت مینوفیکچرنگ، پیداوار، سپلائی چین اور صارفین سے براہِ راست وابستہ سرگرمیوں تک پھیلی ہوئی ہے، جہاں یہ بہتر کارکردگی اور ذاتی نوعیت کی خدمات کو فروغ دیتی ہے۔
مصنوعی ذہانت کا وسیع پیمانے پر استعمال روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے، لیبر مارکیٹ کی تشکیلِ نو کرنے اور مسلسل مہارتوں میں اضافےکو فروغ دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس کے نتیجے میں ایسی متحرک، جدید اور شمولیتی افرادی قوت تشکیل پائے گی، جو انسانی مہارت اور جدید ٹیکنالوجی کو مؤثر انداز میں یکجا کرے گی۔
مصنوعی ذہانت کے ذریعے کام کی نوعیت میں تبدیلی
ہندوستان مصنوعی ذہانت(اے آئی) کے فروغ کے لیے ایک جامع اور حکمت عملی پر مبنی انداز میں آگے بڑھ رہا ہے۔ یہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ ٹیکنالوجی کو عوام کی دسترس میں لانا وقت کی اہم ضرورت ہے، اور حکومتِ ہند متعدد قومی پروگراموں اور مہارتوں میں اضافے کے اقدامات کے ذریعے ٹیکنالوجی کو پیداواری صلاحیت، شمولیتی ترقی اور روزگار کے فروغ کا مؤثر ذریعہ بنا رہی ہے۔
نیتی آیوگ نے اپنی رپورٹ ‘‘دی اپورچونیٹی فار ایکسلریٹیڈ ایکونامک گروتھ’’ میں نشاندہی کی ہے کہ مصنوعی ذہانت سے پیدا ہونے والی قدر(ویلیو کریشن) کا ایک اہم نتیجہ یہ ہوگا کہ ہندوستان2035 تک مصنوعی ذہانت سے متعلق مہارتوں کے فرق کو ترقی یافتہ ممالک کے مقابلے میں نمایاں حد تک کم کرنے میں کامیاب ہو سکتا ہے۔
اسی طرح بین الاقوامی مالیاتی فنڈ(آئی ایم ایف) کی ایک رپورٹ کے مطابق، ترقی یافتہ معیشتوں میں ہر 10 میں سے ایک اور ابھرتی ہوئی معیشتوں میں ہر 20 میں سے ایک ملازمت کے اشتہار میں کم از کم ایک نئی مہارت درکار ہوتی ہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ لیبر مارکیٹ میں مہارتوں کی نوعیت تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے۔اس ہدف کا حصول ایک ایسی افرادی قوت کی تیاری سے ممکن ہے جو جدید مہارتوں سے آراستہ ہو، تحقیقی صلاحیتوں کو مضبوط بنائے اور مصنوعی ذہانت کے ماڈلز اور اختراعات کی ترقی میں فعال کردار ادا کرے۔ یہ رجحان اس امر کو مزید واضح کرتا ہے کہ بدلتی ہوئی دنیا میں اپنی اہمیت برقرار رکھنے کے لیے مسلسل مہارتوں میں اضافہ ناگزیر ہے۔اسی تبدیلی کو مدنظر رکھتے ہوئے ہندوستان مصنوعی ذہانت کے دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ اپنی ہنرمند افرادی قوت تیار کرنے کے لیے متعدد ہدفی مہارت سازی پروگراموں پر عمل درآمد کر رہا ہے۔
وکست بھارت وژن 2047 کے تحت مصنوعی ذہانت کو ڈیجیٹل تبدیلی کا ایک بنیادی محرک تصور کیا گیا ہے۔ مختلف صنعتوں میں اے آئی کے انضمام کے ذریعے ہندوستان افرادی قوت کی پیداواری صلاحیت میں اضافہ، روزگار کے نئے مواقع کی تخلیق اور مہارتوں کے خلا کو کم کرنے کا ہدف رکھتا ہے۔ اس حکمتِ عملی کے ذریعے اعلیٰ مہارت رکھنے والے اور ابتدائی سطح کے کارکنوں، دونوں کو بااختیار بنایا جائے گا تاکہ وہ بدلتی ہوئی ڈیجیٹل معیشت میں مساوی طور پر شریک ہو سکیں۔
ہندوستان کی وزارتِ الیکٹرانکس و اطلاعاتی ٹیکنالوجی (ایم ای آئی ٹی وائی) نے قومی مصنوعی ذہانت پروگرام کا تصور پیش کیا ہے۔ یہ پروگرام ملک میں مصنوعی ذہانت کے فروغ، شمولیتی ترقی، اختراع اور سماجی اثرات کے لیے اے آئی کے مؤثر استعمال کی ایک جامع حکمتِ عملی فراہم کرتا ہے۔
اس پروگرام کے چار بنیادی ستون درج ذیل ہیں:
- قومی مرکز برائے مصنوعی ذہانت
- ڈیٹا مینجمنٹ آفس
- مصنوعی ذہانت میں مہارت سازی
- ذمہ دارانہ مصنوعی ذہانت
#اے آئی فار آلکے اصول کے تحت حکومت ہر عمر کے افراد کو ڈیجیٹل تبدیلی سے ہم آہنگ کرنے کے لیے خود آموز آن لا ئن پروگراموں پر خصوصی توجہ دے رہی ہے۔ اس پروگرام کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے:
- مصنوعی ذہانت سے بنیادی آگاہی
- مصنوعی ذہانت کی افادیت اور استعمال سے واقفیت
بھاشِنیاقدام مصنوعی ذہانت کی مدد سے36سے زائد زبانوں میں خدمات فراہم کر رہا ہے، جبکہ اس کی موبائل ایپ12لاکھ سے زیادہ مرتبہ ڈاؤن لوڈ کی جا چکی ہے۔ یہ اقدام ڈیجیٹل معیشت میں زبان کی رکاوٹوں کو دور کرنے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے، جس کے نتیجے میں خصوصاً غیر انگریزی بولنے والے علاقوں کے افراد کی افرادی قوت میں شمولیت بڑھ رہی ہے، جبکہ مقامی کاروباری افراد اور ڈیجیٹل کارکن بھی بااختیار ہو رہے ہیں۔
اقتصادی جائزہ 2025-26 کے مطابق، حکومت ‘‘اے آئی اکنامک کونسل’’ کے قیام کا ارادہ رکھتی ہے، جو ملک میں مصنوعی ذہانت کے استعمال کی رفتار کو متوازن انداز میں آگے بڑھانے کا کام کرے گی۔
یہ کونسل اس بات کو یقینی بنائے گی کہ مصنوعی ذہانتکا فروغ انسانی ذہانتکی قیمت پر نہ ہو۔ اس کے ساتھ ہی یہ ایک مربوط ادارے کے طور پر کام کرتے ہوئے ٹیکنالوجی کے نفاذ کو ہندوستان کے تعلیمی اور مہارت سازی کے نظام کی ترقی کے ساتھ ہم آہنگ کرے گی، جبکہ وسائل کی دستیابی اور قومی ترقیاتی ترجیحات کو بھی پیشِ نظر رکھا جائے گا۔
یہ تمام قومی پروگرام مشترکہ طور پر ہندوستان میں کام کی نوعیت کو نئی شکل دے رہے ہیں اور ملک کو اس قابل بنا رہے ہیں کہ وہ بدلتے ہوئے ڈیجیٹل دور میں مصنوعی ذہانت سے پیداواری صلاحیت، شمولیتی ترقی اور پائیدار روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے بھرپور فائدہ اٹھا سکے۔
مہارتوں کی ترقی کے اقدامات
- قومی تعلیمی پالیسی(این ای پی 2020): قومی تعلیمی پالیسی 2020 میں ڈیجیٹل خواندگی اور مصنوعی ذہانت (اے آئی ) سے متعلق آگاہی کو تعلیم کے ہر مرحلے پر بنیادی صلاحیتوں کے طور پر شامل کیا گیا ہے۔ نصاب میں کمپیوٹیشنل تھنکنگ اور مصنوعی ذہانت کی تعلیم کو شامل کر کے اس بات کو یقینی بنایا جا رہا ہے کہ ہندوستان کی نئی نسل بدلتے ہوئے تکنیکی ماحول کے مطابق افرادی قوت میں مؤثر کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہو۔
- اسکل انڈیا مشن: ہنرمندی کی وزارت نے ترقی و صنعت کاری(این ایس ڈی ای) کی قیادت میں اسکل انڈیا مشن اپنے تربیتی نظام میں مصنوعی ذہانت اور دیگر ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کو شامل کر رہا ہے۔دسمبر 2025 تک ایس او اے آر(اسکلنگ فار اے آئی ریڈینیس) اقدام کے تحت 1.34 لاکھ طلبہ اور اساتذہ کا اندراج کیا جا چکا ہے۔ اس پروگرام کے تحت مائیکروسافٹ ، ایچ سی ایل ٹیکنالوجیز اور ناسکام (این اے ایس ایس سی او ایم) کے اشتراک سے مصنوعی ذہانت سے متعلق بنیادی اور عملی تربیتی کورسز فراہم کیے جا رہے ہیں، تاکہ طلبہ اور اساتذہ کواےا ٓئی کی ضروری مہارتوں سے آراستہ کیا جا سکے۔
- صدرجمہوریہ ہند نے بھی ایس او اےا ٓر(اسکلنگ فار اے آئی ریڈینیس) پروگرام کے تحت # اسکل دی نیشن مہم کا آغاز کیا، جس کا مقصد مصنوعی ذہانت کے لیے تیاری کے حوالے سے عوامی آگاہی کو فروغ دینا ہے۔ وائی یو وی اے آئی (یوتھ فار انتی ودھ اے آئی) الیکٹرانکس و اطلاعاتی ٹیکنالوجی کی وزارت(ایم ای آئی ٹی وائی) اور نیشنل ای گورننس ڈویژن (این ای جی ڈی) کی جانب سے شروع کیا گیا وائی یو وی اے آئی پروگرام8ویں سے 12ویں جماعت تک کے طلبہ کو مصنوعی ذہانت، جدید ٹیکنالوجی اور سماجی مہارتوں سے جامع انداز میں آراستہ کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔
اس پروگرام کا مقصد نوجوان طلبہ کو ایک ایسا پلیٹ فارم فراہم کرنا ہے جہاں وہ8مختلف موضوعاتی شعبوں میں مصنوعی ذہانت پر مبنی حل تیار کرنے، ان کا عملی اطلاق کرنے اور اپنی اختراعی صلاحیتوں کو فروغ دینے کے مواقع حاصل کر سکیں۔
|
وائی یو وی اےا ٓئی کے آٹھ موضوعاتی علاقے
|
|
کرشی (زراعت)
|
آروگیہ (صحت)
|
شکشا (تعلیم)
|
پریاورن (ماحول)
|
|
پریواہن (ٹرانسپورٹ)
|
گرامین ترقی (دیہی ترقی)
|
اسمارٹ سٹیز
|
ودھی اور نیائے (قانون اور انصاف)
|
- ‘یووا اے آئی فار آل’: یووا اے آئی فار آل ایک مفت قومی آن لائن کورس ہے، جس کا مقصد مصنوعی ذہانت سے متعلق بنیادی آگاہی کو ہر شہری کی بنیادی زندگی کی مہارت بنانا اور ایک کروڑ (10 ملین) شہریوں کو مصنوعی ذہانت کی بنیادی مہارتوں سے آراستہ کرنا ہے۔یہ کورس 11 ہندوستانی زبانوں—آسامی، بنگالی، گجراتی، ہندی، کنڑ، ملیالم، مراٹھی، اوڑیا، پنجابی، تمل اور تیلگومیں دستیاب ہے۔ اسے فیوچر اسکلز پرائم ، آئی جی او ٹی کرمایوگی ، دِکشا(ڈی آئی کے ایس ایچ اے) اور دیگر معروف ایڈ ٹیک پلیٹ فارمز پر پیش کیا جا رہا ہے۔
- مصنوعی ذہانت اور کمپیوٹیشنل تھنکنگ:مصنوعی ذہانت اور کمپیوٹیشنل تھنکنگ(اے آئی اینڈ سی ٹی ) مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ تعلیم کے بنیادی اجزا ہیں۔ یہ اقدام سیکھنے، سوچنے اور تدریس کے جدید تصورات کو فروغ دیتا ہے اور بتدریج ‘‘عوامی مفاد کے لیے مصنوعی ذہانت ’’ کے تصور کی جانب پیش رفت کر رہا ہے۔اس منصوبے کے تحت مصنوعی ذہانت کے اخلاقی اور ذمہ دارانہ استعمال کو فروغ دینے کے لیے اسے تیسری جماعت سے ہی تدریجی طور پر نصاب کا حصہ بنایا جا رہا ہے، تاکہ طلبہ ابتدائی مرحلے سے ہی اس ٹیکنالوجی سے واقف ہو سکیں۔
- فیوچر اسکلز پرائم: الیکٹرانکس و اطلاعاتی ٹیکنالوجی کی وزارت(ایم ای آئی ٹی وائی) اور ناسکام(این اے ایس ایس سی او ایم) کے اشتراک سے شروع کیے گئے فیوچر اسکلز پرائم اقدام کا مقصد پیشہ ور افراد کو مصنوعی ذہانت، بگ ڈیٹا، کلاؤڈ کمپیوٹنگ اور دیگر ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز میں جدید مہارتیں فراہم کرنا ہے۔اس پلیٹ فارم کے تمام کورسز نیشنل آکیوپیشنل اسٹینڈرڈز(این او ایس) اور نیشنل اسکلز کوالیفیکیشن فریم ورک (این ایس کیو ایف)کے مطابق تیار کیے گئے ہیں، تاکہ سیکھنے والے افراد ایسی مہارتیں حاصل کریں جن کی آج کی صنعت میں بھرپور مانگ ہے۔اس پلیٹ فارم پر 25.3 لاکھ سے زائد رجسٹرڈ سیکھنے والے موجود ہیں، جبکہ 3,000 سے زیادہ کورسز اور لرننگ پاتھ ویز دستیاب ہیں، جو مختلف شعبوں میں روزگار کے مواقع، مہارتوں اور پیداواری صلاحیت میں اضافہ کر رہے ہیں۔
- انڈیا اے آئی فیوچر اسکلز:انڈیا اے آئی مشن (2024) کے تحت شروع کیا گیا انڈیا اے آئی فیوچر اسکلز پروگرام مختلف تعلیمی مراحل بیچلر، پوسٹ گریجویٹ اور پی ایچ ڈی پر مصنوعی ذہانت میں مہارت رکھنے والے افراد کا مضبوط ماحولیاتی نظام تشکیل دینے کے لیے ہدفی اقدامات کر رہا ہے۔اس پروگرام کے اہم اجزا میں:بیچلر، دوہری ڈگری، پوسٹ گریجویٹ اور پی ایچ ڈی طلبہ کے لیے فیلوشپ پروگرام،ڈیٹا اور مصنوعی ذہانت کی لیبارٹریوں کا قیام اور مہارتوں میں اضافے کے لیے خصوصی تربیتی کورسز شامل ہیں۔دسمبر 2025 تک حکومت:500 پی ایچ ڈی اسکالرز،5,000 پوسٹ گریجویٹ طلبہ اور 8,000 انڈرگریجویٹ طلبہ کی مصنوعی ذہانت سے متعلق تعلیم اور تحقیق میں معاونت کر رہی ہے۔نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف الیکٹرانکس اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی(این آئی ای ایل آی ٹی ) کے ذریعے درجہ دوم اور درجہ سوم (ٹیئر-2 اورٹیئر-3) شہروں میں 27 انڈیا اے آئی ڈیٹا اور اے آئی لیبارٹریاں قائم کی گئی ہیں، جہاں مصنوعی ذہانت، ڈیٹا کیوریشن، ڈیٹا اینوٹیشن، ڈیٹا کلیننگ اور اطلاقی ڈیٹا سائنس کے کورسز کرائے جا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ 27 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں 174 آئی ٹی آئی اور پولی ٹیکنک اداروں کو اضافی انڈیا اے آئی ڈیٹا اور اے آئی لیبارٹریاں قائم کرنے کی منظوری دی جا چکی ہے۔
- اسکل انڈیا ڈیجیٹل ہب (سدھ-ایس آئی ڈی ایچ): ہنرمندی کی ترقی و صنعت کاری کی وزارت(ایم اسی ڈی ای )نے اسکل انڈیا ڈیجیٹل ہب (ایس آئی ڈی ایچ) بھی متعارف کرایا ہے، جو مہارتوں کی ترقی کے لیے ایک جامع ڈیجیٹل پلیٹ فارم ہے۔اس پلیٹ فارم پر مصنوعی ذہانت اور مشین لرننگ سے متعلق ابتدائی، درمیانی اور اعلیٰ سطح کے متنوع کورسز دستیاب ہیں، تاکہ ہر سطح کے سیکھنے والے اپنی ضرورت اور استعداد کے مطابق جدید مہارتیں حاصل کر سکیں۔
مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ اور شمولیتی افرادی قوت کی جانب
ہندوستان مصنوعی ذہانت(اے آئی ) پر مبنی تبدیلی کے عمل میں صفِ اول میں کھڑا ہے، جہاں جدید ٹیکنالوجی پیداواری صلاحیت، اختراع اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے میں کلیدی کردار ادا کر رہی ہے۔ مضبوط ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے، نوجوان افرادی قوت اور ترقی پسند پالیسیوں کی بدولت ملک شمولیتی ترقی کے لیے مصنوعی ذہانت سے بھرپور استفادہ کرنے کی مضبوط پوزیشن میں ہے۔
حکومت کا یہ مربوط اور جامع نقطۂ نظر اس بات کو یقینی بنا رہا ہے کہ مصنوعی ذہانت مختلف شعبوں میں روزگار کے مواقع میں اضافہ کرے، افرادی قوت کی استعداد کو بہتر بنائے اور مہارتوں کے موجودہ خلا کو پُر کرے۔
ٹیکنالوجی کو شمولیتی ترقی کے ساتھ ہم آہنگ کرتے ہوئے ہندوستان ایک ایسی مضبوط، پائیداراور مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ افرادی قوت تشکیل دے رہا ہے، جو تیزی سے بدلتی ہوئی عالمی معیشت میں ملک کی پائیدار ترقی اور عالمی مسابقت کو مزید تقویت بخشے گی۔
حوالہ جات
Competition Commission of India
https://www.cci.gov.in/economics-research/market-studies/details/47/0
Niti Aayog
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2177440
https://niti.gov.in/sites/default/files/2025-09/AI-for-Viksit-Bharat-the-opportunity-for-accelerated-economic-growth.pdf
https://niti.gov.in/sites/default/files/2025-10/Roadmap_On_AI_for_Inclusive_Societal_Development.pdf
https://niti.gov.in/sites/default/files/2025-10/Roadmap_for_Job_Creation_in_the_AI_Economy.pdf
https://www.niti.gov.in/sites/default/files/2023-03/National-Strategy-for-Artificial-Intelligence.pdf
International Monetary Fund
https://www.imf.org/en/Blogs/Articles/2024/01/14/ai-will-transform-the-global-economy-lets-make-sure-it-benefits-humanity
https://www.imf.org/en/blogs/articles/2026/01/14/new-skills-and-ai-are-reshaping-the-future-of-work
PHD Chamber of Commerce and Industry
https://www.phdcci.in/wp-content/uploads/2024/04/Viksit-Bharat@2047-A-Blueprint-of-Micro-and-Macro-Economic-Dynamics.pdf
International Labour Organisation
https://www.ilo.org/media/38031/download
Ministry of Information & Broadcasting
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx/pib.gov.in/Pressreleaseshare.aspx?PRID=2082144
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2216958®=3&lang=1
DD News
https://ddnews.gov.in/en/centre-boosts-internet-connectivity-across-india-under-digital-india-initiative/
Department for Promotion of Industry and Internal Trade
https://www.startupindia.gov.in/content/sih/en/Prabhaav.html
World Bank
https://openknowledge.worldbank.org/server/api/core/bitstreams/39588063-e63b-4350-ba39-ccf329143a65/content
https://blogs.worldbank.org/en/endpovertyinsouthasia/labor-market-implications-of-ai-adoption-in-south-asia-in-five-c
Economic Survey
https://www.indiabudget.gov.in/budget2025-26/economicsurvey/doc/eschapter/echap13.pdf https://www.indiabudget.gov.in/economicsurvey/doc/eschapter/echap14.pdf
Ministry of Finance
https://www.pib.gov.in/PressReleaseIframePage.aspx?PRID=2098048
Indian Council for Research on International Economic Relations
https://icrier.org/pdf/ES/ES-Implications_of_AI_on_the_Indian_Economy.pdf
Ministry of Electronics and Information Technology
https://www.digitalindia.gov.in/initiative/national-program-on-artificial-intelligence/
https://bhashini.gov.in/
https://www.futureskillsprime.in/
https://indiaai.gov.in/hub/indiaai-futureskills
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2206767®=3&lang=1
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2214120®=3&lang=1
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2198216®=3&lang=1
Ministry of Education
https://ai-for-all.in/#/home
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2184211®=3&lang=1
Ministry of Skill Development and Entrepreneurship
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2150228
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2204136®=3&lang=1
Ministry of Labour and Employment
https://sansad.in/getFile/annex/268/AU3299_IiQ1Vk.pdf?source=pqars
President of India
https://presidentofindia.nic.in/press_releases/president-india-launches-skillthenation-ai-challenge-and-virtually-inaugurates-ignou
Prime Minister’s Office
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2212390®=3&lang=1
Others
https://www.nber.org/papers/w31161
https://x.com/JM_Scindia/status/2012015160781914541?utm
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2209737&lang=1®=3
https://hai.stanford.edu/assets/files/hai_ai_index_report_2025.pdf
https://hai.stanford.edu/ai-index/global-vibrancy-tool
https://oxfordinsights.com/wp-content/uploads/2026/01/Government-AI-Readiness-Report-2025-1.pdf
https://cat.eto.tech/?expanded=Summary-metrics
https://www.pib.gov.in/PressNoteDetails.aspx?NoteId=157247&ModuleId=3®=3&lang=1
پی ڈی ایف دیکھنے کے لیے کلک کریں
********
ش ح۔ ش ت۔ ش ب ن
Uno.9594
(रिलीज़ आईडी: 2281554)
आगंतुक पटल : 10