PIB Backgrounder
بھارت میں ایتھنول کی آمیزش
پالیسی کا ارتقا، کلیدی کامیابیاں، اور اکثر ظاہر کیے جانے والے خدشات
प्रविष्टि तिथि:
05 JUL 2026 3:33PM by PIB Delhi
ایتھنول بلینڈڈ پٹرول (ای بی پی) پروگرام کا جائزہ
ایتھنول بلینڈڈ پٹرول (ای بی پی) پروگرام ہندوستان کی توانائی کی منتقلی اور حیاتیاتی ایندھن کی حکمت عملی کا ایک اہم ستون بن چکا ہے۔ اس کا مقصد توانائی کی سلامتی کو مضبوط بنانا، کسانوں کی مدد کرنا اور ماحولیاتی اثرات کو کم کرنا ہے۔ یہ پروگرام مقامی طور پر تیار کردہ قابلِ تجدید ایندھن کے زیادہ سے زیادہ استعمال کو بھی فروغ دیتا ہے۔
ای بی پی پروگرام کے تحت ایتھنول کی آمیزش 2013-14 میں 1.5 فیصد سے کم سے بڑھ کر 2025-26 میں 20 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ ہندوستان نے مقررہ وقت سے پانچ سال قبل 20 فیصد آمیزش کا ہدف حاصل کر لیا۔ ایتھنول کی خریداری، ایتھنول سپلائی سال (ای ایس وائی) 2013-14 میں تقریباً 38 کروڑ لیٹر سے بڑھ کر 2025-26 میں 1200 کروڑ لیٹر (متوقع) ہو گئی ہے۔ پیداواری صلاحیت 2014 کے 421 کروڑ لیٹر سے تقریباً پانچ گنا بڑھ کر 2026 میں تقریباً 2000 کروڑ لیٹر ہو گئی ہے۔ اس توسیع سے خام تیل کی درآمدات میں کمی آئی ہے اور قیمتی زرمبادلہ کی بچت ہوئی ہے۔ اس نے گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں بھی کمی کی ہے اور نئی منڈیوں کے مواقع کے ذریعے کسانوں کی آمدنی کو مضبوط کیا ہے۔
ایتھنول کی آمیزش کے ذریعے توانائی کی سلامتی کو مضبوط بنانا
بھارت اپنی خام تیل کی ضرورت کا تقریباً 88.5 فیصد درآمد کرتا ہے۔ یہی حقیقت واضح کرتی ہے کہ ایتھنول کی آمیزش پالیسی کے ایجنڈے میں اتنی اہم کیوں ہے۔ بیرونِ ملک سے درآمد کیا جانے والا خام تیل ملک کو عالمی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور سپلائی میں رکاوٹوں کے خطرات سے دوچار کرتا ہے، جو اس کے قابو سے باہر ہوتے ہیں۔ ہندوستانی گنے، مکئی اور چاول سے تیار کیا جانے والا ایتھنول مقامی وسائل کے استعمال کے ذریعے اس انحصار کو کم کرنے کا مؤثر ذریعہ فراہم کرتا ہے۔
ایتھنول سپلائی سال (ای ایس وائی) 2014-15 کے بعد سے (مئی 2026 تک) اس پروگرام نے ایسے نتائج فراہم کیے ہیں جو پالیسی کے مقررہ اہداف سے کہیں بڑھ کر ہیں۔
|
1.90+ لاکھ کروڑ روپے
2014-15 سے زرمبادلہ کی بچت
|
310+ لاکھ ایم ٹی *
خام تیل کی جگہ لے لی گئی۔
|
~ 930 لاکھ ایم ٹی *
کاربن ڈائی آکسائیڈ (CO₂) کے اخراج میں کمی
|
1.60 + لاکھ کروڑ روپے
کسانوں کی اضافی آمدنی
|
حقائق کی درست تصویر
یہاں ایتھنول کی آمیزش سے متعلق اہم خدشات اور سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی مختلف گمراہ کن باتوں کے بارے میں شواہد پر مبنی حقائق پیش کیے گئے ہیں۔
|
دعویٰ
|
حقیقت
|
|
ای 20 سے مائلیج میں 30 فیصد کمی آتی ہے۔
|
30 فیصد کا اعداد و شمار صرف پٹرول کے مقابلے میں ایتھنول کی کم حرارتی قدر (کیلوریفک ویلیو) سے متعلق ہے، نہ کہ حقیقی حالات میں مائلیج میں ہونے والی کمی سے۔ حقیقی مائلیج کا انحصار ایندھن کی قسم کے مقابلے میں ڈرائیونگ کے انداز، ٹائروں میں ہوا کے دباؤ، گاڑی کی دیکھ بھال اور ایئر کنڈیشنر کے استعمال جیسے عوامل پر کہیں زیادہ ہوتا ہے۔
|
|
ای 20 سے انجن، خصوصاً پرانی گاڑیوں کے انجن، خراب ہو جاتے ہیں۔
|
ای 20 کے نفاذ کے بعد اس سے متعلق انجن کی خرابی کا کوئی وسیع پیمانے پر رجحان سامنے نہیں آیا۔ سوسائٹی آف انڈین آٹوموبائل مینوفیکچررز (ایس آئی اے ایم)، آٹوموٹیو ریسرچ ایسوسی ایشن آف انڈیا (اے آر اے آئی) اور انڈین آئل کارپوریشن لمیٹڈ (آئی او سی ایل) نے گاڑی ساز کمپنیوں کے تعاون سے وسیع پیمانے پر آزمائشیں مکمل کرنے کے بعد ہی ای 20 کی منظوری دی۔
|
|
ایتھنول زیادہ کارکردگی والا ایندھن نہیں ہے اور اس سے گاڑی کی کارکردگی متاثر ہوتی ہے۔
|
ایتھنول ایک اعلیٰ آکٹین ایندھن ہے، جس کی ریسرچ آکٹین نمبر (آر او این) تقریباً 108.5 ہے، جبکہ پٹرول کا آر او این تقریباً 84.4 ہوتا ہے۔ ای 20 بھارتی پٹرول کے مؤثر آکٹین نمبر کو بڑھا کر تقریباً 95 تک پہنچا دیتا ہے، جس سے جدید انجنوں میں احتراق کا عمل زیادہ مؤثر ہو جاتا ہے۔ ای 20 کے مطابق کیلیبریٹ کی گئی گاڑیاں بہتر رفتار پکڑنے کی صلاحیت(ایکسیلیریشن)، زیادہ ہموار کارکردگی اور کم اخراج فراہم کر سکتی ہیں۔
|
|
ای 20 سے ہونے والے نقصان کی صورت میں بیمہ کمپنیاں کلیم قبول نہیں کرتیں۔
|
بیمہ کمپنیوں اور اصل ساز اداروں (او ای ایم) نے واضح کیا ہے کہ بھارت میں ای 20 کے استعمال سے بیمہ یا وارنٹی کی حیثیت پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ سوسائٹی آف انڈین آٹوموبائل مینوفیکچررز (ایس آئی اے ایم) نے بھی تصدیق کی ہے کہ منظور شدہ معیار کے مطابق ای 20 استعمال کرنے والی گاڑیوں کی وارنٹی برقرار رہے گی۔
|
|
ایتھنول ملا ہوا ایندھن سستا ہونا چاہیے، مگر حکومت قیمت کا فرق خود رکھ رہی ہے۔
|
اس دعوے کے حق میں پیش کی جانے والی نیتی آیوگ کی رپورٹ 2020-21 کی ہے، جب ایتھنول واقعی پٹرول سے سستا تھا۔ اس کے بعد ایتھنول کی خریداری کی لاگت ریفائن شدہ پٹرول سے زیادہ ہو گئی، تاہم توانائی کے تحفظ، ماحولیاتی فوائد اور کسانوں کی آمدنی میں اضافے جیسے طویل مدتی فوائد کے پیش نظر ایتھنول آمیزش پروگرام جاری رکھا گیا ہے۔
|
|
حکومت نے سپریم کورٹ سے کہا ہے کہ ای 20 محض ایک "تجربہ" ہے۔
|
یہ معاملہ ایتھنول خریداری کے معاہدوں سے متعلق تھا، نہ کہ ای 20 کی افادیت یا موزونیت سے۔ 30 جون 2026 کو اٹارنی جنرل کے دفتر نے واضح کیا کہ ای 20 کو محض "تجربہ" قرار دینے کا دعویٰ حقیقت کے منافی ہے۔
|
|
گنے کا رس براہِ راست پٹرول میں ملا دیا جاتا ہے۔
|
پٹرول میں کچا گنے کا رس ملاتے ہوئے دکھائے جانے والے وائرل ویڈیوز گمراہ کن ہیں۔ ایتھنول خمیر سازی (Fermentation) اور صنعتی پراسیسنگ کے عمل سے تیار کیا جاتا ہے، جس کے بعد اس کی خصوصیات مکمل طور پر تبدیل ہو جاتی ہیں۔ پٹرول میں آمیزش سے پہلے اس کے لیے ایندھن کے معیار سے متعلق سخت تقاضوں پر پورا اترنا لازمی ہوتا ہے۔
|
|
ایک لیٹر ایتھنول تیار کرنے میں 10,000 لیٹر پانی خرچ ہوتا ہے۔
|
ایک لیٹر ایتھنول کی تیاری میں ایتھنول پلانٹ میں صرف 3 سے 5 لیٹر پراسیس شدہ پانی استعمال ہوتا ہے۔ جدید ڈسٹلریاں زیرو لیکوئیڈ ڈسچارج (Zero Liquid Discharge) نظام پر کام کرتی ہیں۔ دھان کی کاشت میں استعمال ہونے والے پورے واٹر فٹ پرنٹ کو ایتھنول کی پیداوار سے جوڑنا حقیقت کے منافی ہے۔ ایتھنول کی تیاری کے لیے صرف وہی اضافی چاول استعمال کیے جاتے ہیں جنہیں قومی غذائی تحفظ کی ضروریات پوری ہونے کے بعد محکمہ امورِ صارفین، خوراک و عوامی تقسیم (ڈی ایف پی ڈی) منظور کرتا ہے۔
|
|
ای 20 میں چینی ہونے کی وجہ سے چیونٹیاں اور شہد کی مکھیاں فیول ٹینک کے ڈھکن کے گرد جمع ہو جاتی ہیں۔
|
فیول گریڈ ایتھنول کشید (Distillation) کے عمل سے تیار کیا جاتا ہے، جس میں باقی ماندہ تمام شکر ختم ہو جاتی ہے۔ اس میں کیڑوں کو دور رکھنے والے ڈینیچرینٹس شامل کیے جاتے ہیں، پٹرول کی بو غالب رہتی ہے اور ای 20 سے عام پٹرول کے مقابلے میں کم بخارات پیدا ہوتے ہیں۔
|
|
ایتھنول کی پانی جذب کرنے کی خاصیت ایندھن کو خراب کر دیتی ہے اور فیول ٹینک کو نقصان پہنچاتی ہے۔
|
فیول ٹینک میں پانی کا داخل ہونا روکنا ہر گاڑی کے بنیادی ڈیزائن کا حصہ ہوتا ہے، خواہ اس میں ایتھنول ملا ہوا ایندھن استعمال ہو یا نہ ہو۔ جدید گاڑیوں میں پانی کے داخلے کو روکنے کے لیے مناسب ڈیزائن اور حفاظتی انتظامات پہلے سے موجود ہوتے ہیں۔
|
صنعتی شعبے کا اعتماد
ای 20 پر اعتماد کو معروف آٹوموبائل مینوفیکچررز اور توانائی کے شعبے کے ماہرین کی آرا سے تقویت ملتی ہے، جو وسیع پیمانے پر جانچ اور حقیقی دنیا کے سروس ڈیٹا پر مبنی ہیں۔
صنعتی قائدین کے چند اہم مشاہدات درج ذیل ہیں:
- جناب وکرم گلاٹی، کنٹری ہیڈ اور ایگزیکٹو نائب صدر، ٹویوٹا کرلوسکر موٹر: گاڑیاں دنیا بھر میں سخت اور آزادانہ سرٹیفکیشن کے مراحل سے گزرتی ہیں۔ ایتھنول ایک ثابت شدہ، اعلیٰ کارکردگی کا حامل ایندھن ہے، جو 1900 کی دہائی کے اوائل سے استعمال ہو رہا ہے۔ پرانی گاڑیوں پر سخت جانچ کے بعد ہی ای 20 پر منتقل ہونے کا فیصلہ کیا گیا۔
- ماروتی سوزوکی کے کارپوریٹ امور کے سینئر ایگزیکٹو آفیسر جناب راہول بھارتی: ای 10 کے لیے ڈیزائن کی گئی گاڑیوں کا ای 20 ایندھن کے ساتھ بڑے پیمانے پر تجربہ کیا گیا ہے۔ مالی سال 2025-26 میں ماروتی سوزوکی نے 2.84 کروڑ گاڑیوں کو سروس فراہم کی، جن میں 1.5 کروڑ سے زیادہ گاڑیاں تین سال سے زائد پرانی تھیں، اس لیے وہ ای 20 سے تصدیق شدہ نہیں تھیں۔ اب تک ای 20 سے متعلق کسی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ مائلیج کے حوالے سے اصل فرق معمولی ہے۔ 20 کلومیٹر فی لیٹر مائلیج دینے والی کار میں یہ کمی تقریباً 0.6 کلومیٹر فی لیٹر ہوتی ہے۔ ڈرائیونگ کی عادات اور گاڑی کی دیکھ بھال، ایندھن کی قسم کے مقابلے میں مائلیج پر کہیں زیادہ اثر انداز ہوتی ہیں۔ بہتر کارکردگی اور کم آلودگی اس معمولی فرق کی تلافی کر دیتے ہیں۔
- جناب آشوتوش ورما، چیف بزنس آفیسر، ہیرو موٹوکارپ: وسیع سروس ڈیٹا کے تجزیے میں ای 20 پر چلنے والی گاڑیوں میں سابقہ ایندھن کے مقابلے میں زیادہ نقصان کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔
- محترمہ ورتیکا شکلا، سابق چیئرمین اور منیجنگ ڈائریکٹر، انجینئرز انڈیا لمیٹڈ: ایتھنول بلینڈنگ پروگرام تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ وسیع مشاورت کے بعد تیار کیا گیا۔ اس کی بنیاد سائنسی شواہد، سخت آٹوموٹو جانچ اور عالمی بہترین طریقوں پر ہے۔ ای 20 ایندھن بی آئی ایس معیارات اور بی ایس-VI اخراج کے معیارات پر پورا اترتا ہے، اور ملک بھر کے ریٹیل آؤٹ لیٹس پر یکساں طور پر دستیاب ہے۔
مینوفیکچرنگ اور توانائی کے شعبوں میں صنعتی قائدین کا پیغام واضح اور یکساں ہے: ای 20 محفوظ، اچھی طرح آزمایا ہوا ایندھن ہے، جس کی مؤثریت کی تائید حقیقی دنیا کے ڈیٹا سے ہوتی ہے۔
ایتھنول کی آمیزش عالمی سطح پر ثابت شدہ ایندھن کی حکمتِ عملی ہے
ایتھنول کی آمیزش اپنانے میں ہندوستان تنہا نہیں ہے، بلکہ یہ اب عالمی سطح پر ایک تسلیم شدہ عمل بن چکا ہے۔ کئی بڑی معیشتوں نے ایتھنول کو اپنی ایندھن کی حکمتِ عملی کا اہم حصہ بنایا ہے۔
- ریاستہائے متحدہ امریکہ: ای 10 ملک بھر میں معیاری ایتھنول آمیزہ ایندھن ہے۔ ای 15 کا استعمال بھی تیزی سے بڑھ رہا ہے، جسے امریکی حکومت کی حمایت حاصل ہے۔ لاکھوں گاڑیاں پہلے ہی فلیکس فیول صلاحیت رکھتی ہیں اور ای 85 تک کے آمیزے پر چل سکتی ہیں۔
- برازیل: ایتھنول کے استعمال میں برازیل عالمی رہنما ہے۔ وہاں اس وقت ای 27 کو معیاری پٹرول آمیزہ کے طور پر لازمی قرار دیا گیا ہے، جسے مزید بڑھا کر تقریباً 35 فیصد کیا جا رہا ہے۔ فروخت ہونے والی 80 فیصد سے زیادہ نئی گاڑیاں فلیکس فیول ہیں، جو ای 27، ای 30 یا خالص ہائیڈرس ایتھنول پر چل سکتی ہیں۔
- جاپان: جاپان نے بھی مرحلہ وار ای 10 رول آؤٹ کے ذریعے اپنے ایندھن میں ایتھنول کی آمیزش متعارف کرائی ہے۔
- کینیڈا، تھائی لینڈ اور کئی یورپی ممالک نے بھی اپنی صاف ایندھن کی حکمتِ عملی کے حصے کے طور پر ایتھنول کی آمیزش کو اپنایا ہے۔
ہندوستان کے توانائی کے مستقبل کو نئی رفتار دینے والا ای بی پی پروگرام
ایتھنول بلینڈڈ پٹرول (ای بی پی) پروگرام ہندوستان کی توانائی کی حکمتِ عملی کا ایک اہم ستون بن چکا ہے۔ اس کی پیش رفت حکومت، صنعت اور تحقیقی اداروں کے درمیان سائنسی جانچ، مرحلہ وار نفاذ اور باہمی تعاون کی عکاس ہے۔ اس پروگرام نے توانائی کی سلامتی کو مضبوط کیا ہے، اخراج میں کمی لائی ہے اور کسانوں کے لیے آمدنی کے نئے مواقع پیدا کیے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ خام تیل کی درآمدات میں بھی کمی آئی ہے اور مقامی طور پر تیار کردہ قابلِ تجدید ایندھن کے استعمال کو فروغ ملا ہے۔ ای بی پی پروگرام مستقبل میں بھی ایک صاف، زیادہ پائیدار اور خود کفیل ٹرانسپورٹ ایندھن کے ماحولیاتی نظام کی تشکیل میں اپنا اہم کردار ادا کرتا رہے گا۔
حوالہ جات
وزارتِ پیٹرولیم اور قدرتی گیس
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2155858®=3&lang=2
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2277210®=3&lang=1
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2268671®=3&lang=1
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2268889®=20&lang=1
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2281142®=3&lang=1
https://x.com/BPCLimited/status/2072565311484600790?s=20
https://x.com/HardeepSPuri/status/2063080493034488232?s=20
وزارتِ قانون و انصاف
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2279625®=48&lang=2
پی ڈی ایف دیکھنے کے لیے یہاں کلک کریں
***
(ش ح۔اس ک )
UR-9577
(रिलीज़ आईडी: 2281350)
आगंतुक पटल : 13