PIB Backgrounder
azadi ka amrit mahotsav

اکیڈمک بینک آف کریڈٹس اور اے پی اے اے آر


ہندوستان کا تاحیات تعلیمی نظام

प्रविष्टि तिथि: 04 JUL 2026 8:47PM by PIB Delhi

اکیڈمک بینک آف کریڈٹس: ایک جائزہ

اکیڈمک بینک آف کریڈٹس (اے بی سی) وزارتِ تعلیم کا ایک انقلابی اقدام ہے، جسے یونیورسٹی گرانٹس کمیشن (یو جی سی) کے ذریعے ریگولیٹ کیا جاتا ہے۔  ہر سیکھنے والے کو ان کے تعلیمی سفر میں مدد فراہم کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا، یہ طلباء کو تسلیم شدہ تعلیمی اداروں سے حاصل کردہ تعلیمی کریڈٹس کو ذخیرہ کرنے، ان کا نظم کرنے، منتقل کرنے اور استعمال کرنے کے لیے ایک ڈیجیٹل پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے۔

اے پی اے اے آر آئی ڈی (آٹومیٹڈ پرمیننٹ اکیڈمک اکاؤنٹ رجسٹری) اے بی سی سسٹم سے منسلک ایک منفرد 12 ہندسوں پر مشتمل طالب علم کا شناختی نمبر ہے۔ "ون نیشن، ون اسٹوڈنٹ آئی ڈی" پہل کے تحت متعارف کرایا گیا اے پی اے اے آر ہر سیکھنے والے کے لیے ایک واحد تعلیمی شناخت فراہم کرتا ہے۔ ڈیجی لاکر اور اے بی سی پلیٹ فارم کے ذریعے قابلِ رسائی، یہ اعلیٰ تعلیم، ہنر اور پیشہ ورانہ تعلیم، اور سیکھنے کے دیگر پیشہ ورانہ پروگراموں سے متعلق طالب علم کا تعلیمی ریکارڈ ایک ہی پلیٹ فارم پر فراہم کرتا ہے۔ مزید برآں، اسکول کے تعلیمی ریکارڈ کو بھی کریڈٹائز کیا جائے گا اور این اے ڈی-اے بی سی کے تحت اے پی اے اے آر آئی ڈی کے ساتھ  مسنلک (میپ) کیا جائے گا۔ دور دراز اور کم خدمات یافتہ علاقوں کے لیے اے پی اے اے آر آئی ڈی قریبی کامن سروس سینٹر (سی ایس سی) کے ذریعے بھی تیار کیے جا سکتے ہیں۔ 2 جولائی 2026 تک پورے ہندوستان میں 26.35 کروڑ تصدیق شدہ اے پی اے اے آر آئی ڈی تیار کیے جا چکے ہیں۔

اے بی سی اور طالب علم کا اے پی اے اے آر آئی ڈی مل کر مختلف اداروں میں اور وقت کے ساتھ اس کی تعلیمی پیش رفت کو مربوط بنانے میں مدد دیتے ہیں۔

اے بی سی کے مقاصد

اے بی سی کا بنیادی مقصد ایک لچکدار اور سیکھنے والے کے لیے سازگار تعلیمی نظام قائم کرنا ہے، جس میں سیکھنے کی کامیابیوں کو تسلیم، ذخیرہ اور پوری زندگی کے دوران استعمال کیا جا سکے۔ یہ قومی تعلیمی پالیسی (این ای پی) 2020 اور قومی کریڈٹ فریم ورک (این سی آر ایف) کے وژن کی حمایت کرتا ہے، جس میں کریڈٹ کی منتقلی، متعدد داخلے اور اخراج کے اختیارات، اور مختلف اداروں اور مضامین میں حاصل شدہ تعلیم کو تسلیم کیا جاتا ہے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی طالب علم اپنی تعلیم جزوی طور پر مکمل کرنے کے بعد اسے ترک کرنے کا انتخاب کرتا ہے، تو اس کے حاصل کردہ کریڈٹس اے بی سی ڈیٹا بینک میں محفوظ رہتے ہیں۔ مستقبل میں دوبارہ تعلیم شروع کرنے کی صورت میں وہ ان کریڈٹس کو اپنی تعلیم مکمل کرنے کے لیے استعمال کر سکتا ہے۔ یہ کریڈٹس سات سال کی مدت تک منتقلی اور استعمال (ریڈیم) کے لیے مؤثر رہتے ہیں۔

اے بی سی اور اے پی اے اے آر سیکھنے والوں کو اپنی تعلیمی کامیابیوں کا ڈیجیٹل ریکارڈ برقرار رکھنے، اداروں کے درمیان کریڈٹ کی منتقلی کو آسان بنانے، اور تعلیمی ریکارڈ کے انتظام میں شفافیت بڑھانے میں مدد دیتے ہیں۔ یہ پلیٹ فارم اسکولوں، یونیورسٹیوں، ہنر سے متعلق اداروں اور دیگر تعلیمی شراکت داروں کے ساتھ انضمام کی بھی حمایت کرتا ہے، جس سے ایک مربوط تعلیمی ماحولیاتی نظام تشکیل پاتا ہے۔

اے بی سی کیسے کام کرتا ہے

  • طلباء اے بی سی پورٹل پر اندراج کرتے ہیں اور اپنے آدھار اور ڈیجی لاکر اکاؤنٹ سے منسلک ایک منفرد اے بی سی آئی ڈی (جسے اے پی اے اے آر آئی ڈی کہا جاتا ہے) حاصل کرتے ہیں۔
  • اہل اعلیٰ تعلیمی اداروں (ایچ ای آئی) اور ہنر سے متعلق ایوارڈ دینے والے اداروں کے طلباء اے بی سی کی سہولت سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔
  • ایوارڈ دینے والے ادارے، سرٹیفکیٹ، ڈگری اور مارک شیٹ جاری کرنے کی صلاحیت کے تحت، ہر طالب علم کے اے پی اے اے آر آئی ڈی کے خلاف براہِ راست این اے ڈی-اے بی سی پورٹل پر کریڈٹ ڈیٹا اپ لوڈ کر سکتے ہیں۔
  • طلباء اپنی تعلیمی پیش رفت متاثر کیے بغیر مختلف اعلیٰ تعلیمی اداروں میں کریڈٹس جمع، منتقل اور استعمال (ریڈیم) کر سکتے ہیں۔
  • کریڈٹس زیادہ سے زیادہ سات سال یا متعلقہ تعلیمی شعبے کی مقررہ مدت تک مؤثر رہتے ہیں۔ ایک بار استعمال (ریڈیم) کیے جانے کے بعد انہیں دوبارہ منتقلی یا استعمال کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔
  • سرٹیفکیٹس اور مارک شیٹس کا اجرا تعلیمی اداروں کے ذریعے نیشنل اکیڈمک ڈپازٹری (این اے ڈی) پلیٹ فارم پر کیا جاتا ہے۔
  • این اے ڈی، اے بی سی کی ریڑھ کی ہڈی کے طور پر کام کرتا ہے اور تمام تعلیمی اسناد اور ریکارڈ کو محفوظ طریقے سے محفوظ رکھتا ہے۔

اکیڈمک بینک آف کریڈٹس: پیش رفت رپورٹ

یہ پہل پہلے ہی ملک بھر میں نمایاں پیمانے پر کامیابی حاصل کر چکی ہے۔ 2025 میں منعقد ہونے والے تمام امتحانات کے لیے یو جی سی نے تمام اعلیٰ تعلیمی اداروں کو ہدایت دی تھی کہ وہ 30 جون 2026 تک این اے ڈی-اے بی سی پورٹل پر کریڈٹ ڈیٹا اپ لوڈ کریں۔ 2 جولائی 2026 تک کی رپورٹ درج ذیل ہے:

 

تنظیم کی قسم

ادارے کی قسم

اے بی سی کے ساتھ رجسٹرڈ اداروں کی تعداد

ڈگری دینے والے ادارے کے لیے تیار کی گئی اے پی اے اے آر آئی ڈی

کریڈٹ ریکارڈز (گریڈ شیٹس) کو سیکھنے والوں کی اے پی اے اے آر آئی ڈیز کے ساتھ میپ کیا گیا (منسلک کیا گیا)ہے۔

خود مختار کالجز

خود مختار کالجز

1287

33,25,904

1,04,27,612

آزاد ادارے

آزاد ادارے

258

5,54,652

2,95,351

قومی اہمیت کے ادارے

 

 

 

 

 

 

 

 

 

ایمس

10

8,697

-

آئی آئی آئی ٹی

25

36,175

89,767

آئی آئی ایم

21

30,971

98,216

آئی آئی ایس ای آر

7

13,493

46,161

آئی آئی ٹی

23

1,09,262

3,41,666

این آئی ڈی

5

1,922

3,690

این آئی ایف ٹی ای ایم

1

1,188

5,270

این آئی پی ای  آر

6

2,240

6,334

این آئی ٹی

31

1,59,807

4,05,168

دیگر آئی این آئی

14

22,769

66,923

ایس پی اے

3

2,706

7,774

یونیورسٹی

 

 

 

سنٹرل یونیورسٹی

 

57

49,09,200

57,73,788

 

 

یونیورسٹی سمجھا جاتا ہے

141

15,45,183

42,03,142

نجی یونیورسٹی

521

34,56,172

87,17,160

ریاستی یونیورسٹی

 

489

3,37,32,125

6,73,09,371

اعلیٰ تعلیمی اداروں کی کل تعداد (ایچ ای آئیز)

2899

4,79,12,466

9,77,97,393

مہارت فراہم کرنے والے ادارے (اسکل اے بیز )

مہارت فراہم کرنے والے ادارے( اسکل اے بیز)

98

36,98,558

3,37,838

اسکول کی تعلیم

اسکولوں میں (اے پی اے اے آر ۔ آئی ڈی )

-

16.62  (کروڑ )

 

 

 

-

ان میپڈ  (غیر منسلک)

(اے پی اے اے آر آئی ڈی)

-

      3.39 (کروڑ)

-

اے بی سی اور اے پی اے اے آر میں ڈیٹا سیکیورٹی کا انتظام

یہ پلیٹ فارم ڈیٹا کی رازداری اور سالمیت کو یقینی بنانے کے لیے مضبوط حفاظتی پروٹوکول اور خفیہ کاری کے معیارات اپناتے ہیں۔ رسائی کی تصدیق اے پی اے اے آر آئی ڈی اور آدھار سے منسلک ڈیجی لاکر اسناد کے ذریعے کی جاتی ہے، جو تمام مربوط نظاموں اور ادارہ جاتی فریم ورک میں ہموار رسائی برقرار رکھتے ہوئے صارف کی معلومات کی حفاظت کرتی ہے۔

کلیدی خصوصیات اور نتائج

  • تعلیمی نقل و حرکت: طلباء متعدد اعلیٰ تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کر سکتے ہیں اور اپنے کریڈٹس کو مختلف پروگراموں اور اداروں کے درمیان بغیر کسی رکاوٹ کے منتقل کر سکتے ہیں۔
  • اے بی سی طلباء کو ایک ہموار، رضامندی پر مبنی دستاویزاتی تبادلے کا نظام فراہم کرتا ہے، جو تصدیق کے عمل کو آسان بناتا ہے اور کارروائی کے وقت میں نمایاں کمی لاتا ہے۔
  • ملٹی پل انٹری، ملٹی پل ایگزٹ (ایم ای ایم ای): اے بی سی، این ای پی 2020 کے تحت ایم ای ایم ای فریم ورک کو ممکن بناتا ہے۔ اس کے تحت ایک سال مکمل ہونے پر سرٹیفکیٹ، دو سال بعد ڈپلومہ، اور تین یا چار سال بعد ڈگری حاصل کرنے کی سہولت موجود ہے۔ 700 سے زائد یونیورسٹیاں اور 6,600 کالج ملٹی پل انٹری، ملٹی پل ایگزٹ کا اختیار فراہم کر رہے ہیں۔
  • طلباء اپنے تعلیمی ریکارڈ اور ڈیجیٹل سرٹیفکیٹس تک کہیں سے بھی، کسی بھی وقت رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔
  • ڈراپ آؤٹ کی شرح میں کمی اور مسلسل سیکھنے کی حوصلہ افزائی میں بہتری۔
  • اے بی سی رسمی، غیر رسمی اور تجرباتی تعلیم کے درمیان فرق کو کم کر رہا ہے۔
  • اس پہل کے تحت طلباء کے لیے متعدد فوائد دستیاب ہیں۔ اے پی اے اے آر آئی ڈی کی تصدیق کے بعد 13 سے 30 سال کی عمر کے طلباء خصوصی سفری سہولیات حاصل کر سکتے ہیں، جن میں بنیادی ہوائی کرایے پر 10 فیصد رعایت اور اضافی 10 کلوگرام سامان الاؤنس شامل ہے۔
  • سویم انضمام: طلباء سویم آن لائن پلیٹ فارم سے 40 فیصد تک کریڈٹس حاصل کر سکتے ہیں۔ تقریباً 450 یونیورسٹیوں نے اس ضابطے کو اپنایا ہے، جس سے معیاری تعلیم تک رسائی میں اضافہ ہوا ہے۔
  • نیشنل کریڈٹ فریم ورک (این سی آر ایف): این سی آر ایف قومی تعلیمی پالیسی (این ای پی) 2020 سے ہم آہنگ ہے اور اس میں تعلیمی، پیشہ ورانہ اور تجرباتی تعلیم شامل ہے۔ 2026 تک ہندوستان بھر کی 196 یونیورسٹیوں نے این سی آر ایف کو اپنا لیا ہے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image003LECM.png

اے بی سی ڈیجیٹل پبلک انفراسٹرکچر

اے بی سی، ڈیجیٹل انڈیا پروگرام کے تحت تعلیم کے لیے ہندوستان کے ڈیجیٹل پبلک انفراسٹرکچر (ڈی پی آئی) کا ایک اہم جزو ہے۔

  • این اے ڈی-ڈیجی لاکر کے ساتھ انضمام طلباء کو کسی بھی وقت اپنے تصدیق شدہ تعلیمی ریکارڈ تک محفوظ رسائی فراہم کرتا ہے۔
  • ڈیجیٹل انڈیا کارپوریشن/این ای جی ڈی (الیکٹرانکس اور آئی ٹی کی وزارت) نے نومبر 2024 میں اپنی ڈیجیٹل انڈیا "آسک آور ایکسپرٹس" سیریز میں اے بی سی-این اے ڈی کو نمایاں کیا۔
  • اے بی سی کے انضمام کے لیے سمرتھ ای آر پی (کلاؤڈ پر مبنی ای-گورننس پلیٹ فارم) کی تعیناتی طلباء اور یونیورسٹی انتظامیہ کے لیے ایک معیاری اور متحد گیٹ وے فراہم کرتی ہے۔
  • اے بی سی، طلباء کے اے پی اے اے آر آئی ڈی کی تصدیق اور این اے ڈی-اے بی سی پر ریکارڈ جاری کرنے کے لیے ادارہ جاتی پلیٹ فارمز کے انضمام کی خاطر اے پی آئی فراہم کرتا ہے۔
  • طلباء، تصدیق کرنے والے ادارے اور ان کے تعلیمی پلیٹ فارم سنگل سائن آن کے ذریعے بھی اے پی اے اے آر آئی ڈی ماڈیول میں لاگ اِن کر سکتے ہیں۔
  • دور دراز دیہات میں کامن سروس سینٹرز (سی ایس سی) اب اے بی سی اور اے پی اے اے آر رجسٹریشن کے زمینی مراکز کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں، جس سے ڈیجیٹل فرق کم ہو رہا ہے۔

قابلِ اعتماد ڈیجیٹل تعلیمی ماحولیاتی نظام کی طرف

اے بی سی اور اے پی اے اے آر مل کر تعلیمی ریکارڈ کے لیے ایک قابلِ اعتماد ڈیجیٹل ماحولیاتی نظام تشکیل دے رہے ہیں، جس سے تعلیم ہر سیکھنے والے کے لیے زیادہ لچکدار، شفاف اور قابلِ رسائی بن رہی ہے۔ بلا رکاوٹ کریڈٹ کی منتقلی، محفوظ ریکارڈ مینجمنٹ، اور زندگی بھر سیکھنے کے مواقع کو ممکن بنا کر یہ اقدامات مستقبل کے لیے تیار تعلیمی نظام کی بنیاد رکھ رہے ہیں۔

جیسے جیسے یہ پلیٹ فارم مسلسل ترقی کر رہے ہیں اور وسعت اختیار کر رہے ہیں، ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز ڈیجیٹل تعلیمی اسناد کی سلامتی اور صداقت کو مزید مضبوط بنانے کے نئے مواقع فراہم کر رہی ہیں۔ اس تناظر میں، بھارت پرمان چین ایک امید افزا اگلا قدم ہے۔ ڈیجیٹل انڈیا کارپوریشن (ڈی آئی سی) کی جانب سے تیار کردہ یہ ہندوستان کا خودمختار بلاک چین پلیٹ فارم ہے، جسے بڑے پیمانے پر محفوظ، قابلِ تصدیق اور چھیڑ چھاڑ سے محفوظ ڈیجیٹل اسناد کو ممکن بنانے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔

تیزی سے تعیناتی کے لیے بھارت پرمان چین کو ڈی آئی سی کے منظم بلاک چین انفراسٹرکچر کے ذریعے اپنایا جا سکتا ہے، جبکہ اداروں کے پاس زیادہ خود مختاری اور لچک کے لیے وقف بلاک چین نوڈز چلانے کا اختیار بھی موجود ہے۔ یہ پلیٹ فارم اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ تعلیمی ڈیٹا ہندوستان کے خودمختار ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کے اندر محفوظ رہے اور ڈیجیٹل پرسنل ڈیٹا پروٹیکشن ایکٹ کے ساتھ مکمل طور پر مطابقت رکھے۔

حوالہ جات

وزارتِ تعلیم

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/NEP_Final_English_0.pdf

https://www.abc.gov.in/about-us

https://www.abc.gov.in

https://www.abc.gov.in/faq

https://apaar.education.gov.in/

https://www.pib.gov.in/PressReleaseIframePage.aspx?PRID=2003802&lang=2&reg=48&utm

https://www.facebook.com/photo/?fbid=1452271933596230&set=a.358256662997768

وزارتِ الیکٹرانکس اور آئی ٹی

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2072877&reg=48&lang=2

وزارتِ خزانہ

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2219936&reg=3&lang=1

یونیورسٹی گرانٹس کمیشن

https://www.ugc.gov.in/pdfnews/5572622_Academic-Bank-of-Credits-Regulation.pdf

https://www.ugc.gov.in/pdfnews/9363820_Academic-Bank-of-Credits-(ABC).pdf

https://www.ugc.gov.in/pdfnews/9028476_Report-of-National-Credit-Framework.pdf

پی آئی بی  بیک گراؤنڈر

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/specificdocs/documents/2025/jul/doc2025729593701.pdf

https://www.pib.gov.in/PressNoteDetails.aspx?NoteId=154950&ModuleId=3&reg=3&lang=1

پی ڈی ایف دیکھنے کے لیے یہاں کلک کریں

پی آئی بی ریسرچ

***

 

(ش ح۔اس ک  )

UR-9569


(रिलीज़ आईडी: 2281304) आगंतुक पटल : 12
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Bengali , Bengali-TR , Gujarati