کامرس اور صنعت کی وزارتہ
azadi ka amrit mahotsav

مرکزی وزیرِ تجارت و صنعت جناب پیوش گوئل کا ملک بھر کے کھلونا سازی کے مراکز میں جدید جانچ سہولیات فراہم کرنے کا یقین


پیوش گوئل کی کھلونا صنعت سے عالمی مسابقت بڑھانے کے لیے جدید پیداواری ٹیکنالوجی اپنانے کی اپیل

گوئل کی کھلونا صنعت پر آزاد تجارتی معاہدوں (ایف ٹی اے) سے وابستہ منڈیوں سے فائدہ اٹھانے اور پائیدار پیداوار کو فروغ دینے پر زور

وزیر موصوف کا بیرونِ ملک منڈیوں میں توسیع کے لیے ایکسپورٹ پروموشن مشن کی جانب سے مکمل تعاون کا یقین

پیوش گوئل نے کھلونوں کی برآمدات میں 239 فیصد اضافے کو نمایاں قرار دیتے ہوئے آئندہ برسوں میں اسے دس گنا بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا

جناب وزیر کا کہنا ہے کہ ’میک اِن انڈیا‘ اور قومی کھلونا عملی منصوبے نے ملک میں کھلونا سازی کی صنعت کو مضبوط بنیاد فراہم کی ہے

प्रविष्टि तिथि: 04 JUL 2026 1:52PM by PIB Delhi

مرکزی وزیرِ تجارت و صنعت جناب پیوش گوئل نے آج نئی دہلی میں ٹوائے ایسوسی ایشن آف انڈیا (ٹی اے آئی) کے زیرِ اہتمام منعقدہ 17ویں ٹوائے بز انٹرنیشنل بی ٹو بی نمائش 2026 سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ چند برسوں کے دوران حکومت کی مسلسل پالیسی معاونت اور صنعت کی قیادت میں ہونے والی اختراعات کے باعث ہندوستانی کھلونا صنعت نے غیر معمولی ترقی حاصل کی ہے۔

وزیر نے صنعت کو یقین دلایا کہ حکومت بیورو آف انڈین اسٹینڈرڈز (بی آئی ایس)، نیشنل ٹیسٹ ہاؤس اور دیگر سرکاری و نیم سرکاری تجربہ گاہوں کے ذریعے ملک بھر کے کھلونا سازی کے مراکز میں جدید جانچ کی سہولیات قائم کرے گی۔ انہوں نے صنعت سے وابستہ اداروں پر زور دیا کہ وہ مطلوبہ جانچ آلات کی نشاندہی کرکے حکومت کو آگاہ کریں تاکہ ہندوستان میں تیار ہونے والے کھلونے ملکی اور بین الاقوامی صارفین کے لیے اعلیٰ ترین معیار پر پورا اتر سکیں۔

پیوش گوئل نے چھوٹے، خرد اور متوسط درجے کے کاروباری اداروں (ایم ایس ایم ایز) پر زور دیا کہ وہ اپنے کاروبار کو مسلسل وسعت دیں۔ انہوں نے کہا کہ ہر خرد درجے کے ادارے کو چھوٹا، ہر چھوٹے ادارے کو متوسط اور ہر متوسط ادارے کو بڑے ادارے میں تبدیل ہونے کا ہدف رکھنا چاہیے۔ انہوں نے بتایا کہ ایم ایس ایم ای کی درجہ بندی کرتے وقت برآمدی کاروبار (ایکسپورٹ ٹرن اوور) کو شمار نہیں کیا جاتا، جس سے اداروں کو ایم ایس ایم ای کی سہولتوں سے مستفید ہوتے ہوئے اپنی برآمدات میں نمایاں اضافہ کرنے کا موقع ملتا ہے۔

وزیر نے صنعتی رہنماؤں سے اپیل کی کہ وہ مہارتوں کی ترقی کے مراکز قائم کریں اور انڈسٹریل ٹریننگ انسٹی ٹیوٹس (آئی ٹی آئیز) کے ساتھ شراکت داری کے ذریعے کارکنوں کو جدید پیداواری طریقوں اور معیاری مال سازی کے اصولوں کی تربیت فراہم کریں۔ انہوں نے عوامی و نجی شراکت داری (پی پی پی) کے ماڈل کے تحت ایسے مراکز امتیاز قائم کرنے کی تجویز بھی پیش کی، جہاں جانچ، مصنوعات کی تیاری، اختراع اور ڈیزائن سے متعلق جدید سہولیات دستیاب ہوں۔

انہوں نے تجویز پیش کی کہ ان مراکز امتیاز میں الگ ڈیزائن مراکز، نئی مصنوعات کی جانچ کی سہولیات اور اعلیٰ معیار کی نئی متعارف کرائی گئی مصنوعات کی نمائش کے لیے خصوصی جگہیں بھی قائم کی جائیں۔ انہوں نے کھلونا ساز اداروں کو اپنے برانڈز کی تشہیر اور مضبوطی پر توجہ دینے کی تلقین کی اور یقین دلایا کہ حکومت ایکسپورٹ پروموشن مشن کے ذریعے انہیں ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی۔

معیار کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے پیوش گوئل نے کہا کہ اگر اعلیٰ معیار کو برقرار رکھا جائے تو ہندوستان تقریباً 120 ارب امریکی ڈالر مالیت کی عالمی کھلونا منڈی میں اپنی حصہ داری نمایاں طور پر بڑھا سکتا ہے۔

ٹیکنالوجی میں ترقی کی ضرورت پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے صنعت کاروں پر زور دیا کہ وہ مصنوعات کے معیار، درستگی اور پیداواری استعداد میں اضافہ کرنے کے لیے کمپیوٹر ایڈیڈ ڈیزائن اور کمپیوٹر ایڈیڈ مینوفیکچرنگ (سی اے ڈی۔سی اے ایم) اور سی این سی مشیننگ جیسی جدید ٹیکنالوجیز کو اختیار کریں۔ وزیر نے کہا کہ سی اے ڈی۔سی اے ایم کو سی این سی پر مبنی مینوفیکچرنگ کے ساتھ مربوط کرنے سے صنعت زیادہ درستگی اور بہتر کارکردگی کے ساتھ اعلیٰ معیار کی مصنوعات تیار کرنے کے قابل ہوگی۔ انہوں نے جدید مشینری کے استعمال اور پیداواری عمل میں مسلسل بہتری کی ضرورت پر بھی زور دیتے ہوئے کہا کہ تکنیکی جدید کاری سے ہندوستانی کھلونا ساز عالمی منڈی میں اپنی مسابقتی صلاحیت کو مزید مضبوط بنا سکیں گے اور اپنی ایک منفرد شناخت قائم کریں گے۔

وزیر نے عمدہ سلائی، اعلیٰ معیار کے دھاگے، مشین سے تیار کردہ مصنوعات اور تیاری کے ہر مرحلے میں باریک بینی کو بھی عالمی منڈی میں کامیابی کے لیے انتہائی اہم قرار دیا۔ انہوں نے مشرقِ وسطیٰ کو مصنوعات برآمد کرنے والے برآمد کنندگان کی ستائش کرتے ہوئے صنعت پر زور دیا کہ وہ ہندوستان کے حالیہ آزاد تجارتی معاہدوں (ایف ٹی ایز) کے نتیجے میں ترقی یافتہ منڈیوں میں پیدا ہونے والے نئے مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھائے۔

وزیرِ اعظم جناب نریندر مودی کی قیادت میں طے پانے والے نو آزاد تجارتی معاہدوں (ایف ٹی ایز) کا ذکر کرتے ہوئے پیوش گوئل نے کہا کہ ان معاہدوں کے ذریعے ہندوستان کو ترقی یافتہ اور اعلیٰ آمدنی والی منڈیوں تک رسائی حاصل ہوئی ہے، جہاں معیاری مصنوعات کو بہتر قیمت اور زیادہ قدر حاصل ہوتی ہے۔

انہوں نے کھلونا ساز اداروں پر زور دیا کہ وہ دنیا بھر میں، بالخصوص ہندوستان کے نو آزاد تجارتی معاہدوں کے دائرے میں شامل 38 ممالک میں تجارتی وفود بھیجیں۔ انہوں نے صنعت کو ترغیب دی کہ وہ عالمی سطح پر ہندوستان کی صلاحیتوں کو اجاگر کرے اور بیرونِ ملک مقامی صنعتوں، معروف برانڈز، سپر مارکیٹوں اور ای کامرس پلیٹ فارمز کے ساتھ براہِ راست کاروباری روابط استوار کرے۔

پائیدار ترقی کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے وزیر نے صنعت کاروں سے کہا کہ وہ ماحول دوست مصنوعات اور پائیدار پیداواری طریقوں کو فروغ دیں۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ کھلونا سازی میں استعمال ہونے والی موٹروں، الیکٹرانک پرزہ جات، ڈائز اور سانچوں (مولڈز) کی ملک کے اندر ہی تیاری کی صلاحیت کو فروغ دیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ خود کفیل صنعتی نظام اور بڑے پیمانے پر پیداوار سے مسابقت میں اضافہ ہوگا اور پیداواری لاگت میں کمی آئے گی۔

بازار میں موجود مواقع کا ذکر کرتے ہوئے پیوش گوئل نے کہا کہ اب یورپ کی منڈیوں تک صفر کسٹم ڈیوٹی کے ساتھ رسائی حاصل ہو گئی ہے۔ انہوں نے صنعتی نمائندوں کو بتایا کہ ہندوستان۔برطانیہ آزاد تجارتی معاہدہ (انڈیا-یو کے ایف ٹی اے) 15 جولائی سے نافذ العمل ہو جائے گا۔ انہوں نے صنعت کاروں پر زور دیا کہ وہ برطانیہ کی منڈی میں دستیاب مواقع کا جائزہ لینے کے لیے فوری طور پر تجارتی وفود روانہ کریں۔

یورپی یونین کی منڈی کا حوالہ دیتے ہوئے وزیر نے کہا کہ ڈیوٹی سے پاک رسائی کا دائرہ 27 ممالک تک وسیع ہوگا، جن میں اٹلی، فرانس، جرمنی، اسپین اور پرتگال شامل ہیں۔ انہوں نے ان ممالک کو بڑی اور اعلیٰ قدر کی منڈیاں قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان میں ہندوستانی مصنوعات بہتر قیمت حاصل کر سکتی ہیں۔ انہوں نے صنعت کاروں پر زور دیا کہ وہ عالمی سطح پر پہچان رکھنے والے ہندوستانی کھلونوں کے ایسے برانڈز تیار کریں جو بین الاقوامی کمپنیوں کا کامیابی سے مقابلہ کر سکیں۔

پیوش گوئل نے وزیرِ اعظم جناب نریندر مودی کے آئندہ آسٹریلیا، انڈونیشیا اور نیوزی لینڈ کے دورے کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ ممالک ہندوستانی مصنوعات کے لیے نمایاں تجارتی امکانات رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ ترقی یافتہ منڈیاں ہیں، جہاں آسٹریلیا کے لیے برآمدات پر پہلے ہی ڈیوٹی سے پاک رسائی حاصل ہے، جبکہ نیوزی لینڈ کے لیے بھی اسی نوعیت کی سہولت سال کے اختتام تک متوقع ہے۔

وزیر نے مزید بتایا کہ خلیجی تعاون کونسل (جی سی سی) کے رکن ممالک، میکسیکو، برازیل اور کینیڈا کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدوں سے متعلق مذاکرات میں بھی سال کے اختتام تک نمایاں پیش رفت کی توقع ہے، جس سے ہندوستانی برآمد کنندگان کے لیے مزید نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ کھلونا صنعت کے روشن مستقبل پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس شعبے کی کامیابی ہندوستان کی مجموعی ترقی میں براہِ راست معاون ثابت ہوگی۔ انہوں نے صنعت کاروں پر زور دیا کہ وہ بہتر معیار، مضبوط برانڈنگ اور مؤثر مارکیٹنگ کے ذریعے آئندہ برسوں میں اپنی ترقی کو دس گنا بڑھانے کا ہدف مقرر کریں۔

بین الاقوامی سطح پر رسائی بڑھانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے پیوش گوئل نے صنعت کاروں سے کہا کہ وہ بیرونِ ملک منعقد ہونے والی تجارتی نمائشوں میں بھرپور شرکت کریں۔ انہوں نے یقین دلایا کہ حکومت ایکسپورٹ پروموشن مشن کے ذریعے انہیں ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی۔ انہوں نے بیرونِ ملک گودام (ویئر ہاؤس) قائم کرنے کی بھی تجویز پیش کی اور کہا کہ حکومت ابتدائی برسوں میں اس نوعیت کے منصوبوں کی معاونت کر سکتی ہے، تاکہ بروقت ترسیل کو یقینی بنایا جا سکے اور عالمی منڈیوں تک رسائی مزید آسان بنائی جا سکے۔

ٹوائے ایسوسی ایشن آف انڈیا سے قائدانہ کردار ادا کرنے کی اپیل کرتے ہوئے وزیر نے کہا کہ اگرچہ اس وقت ایسوسی ایشن کے تقریباً 1,200 ارکان ہیں، تاہم ملک بھر میں قریب 21 ہزار کھلونا ساز ادارے سرگرم عمل ہیں۔ انہوں نے ایسوسی ایشن پر زور دیا کہ وہ تمام صنعت کاروں کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر لائے، کیونکہ وسیع تر رکنیت سے صنعت کی اجتماعی آواز مزید مضبوط ہوگی۔

کوالٹی کنٹرول آرڈرز (کیو سی اوز)  کے حوالے سے پیوش گوئل نے ایک بار پھر اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت اعلیٰ معیار کو یقینی بنانے کے لیے پوری طرح پرعزم ہے۔ انہوں نے صنعت کو یقین دلایا کہ غیر منصفانہ درآمدات اور ڈمپنگ کے خلاف انہیں مکمل تحفظ فراہم کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس نوعیت کے مسائل کا سامنا کرنے والے صنعت کار بروقت کارروائی اور تعاون کے لیے ڈائریکٹوریٹ جنرل آف ٹریڈ ریمیڈیز (ڈی جی ٹی آر)، صنعت و اندرونی تجارت کے فروغ کا محکمہ (ڈی پی آئی آئی ٹی) یا دیگر متعلقہ اداروں سے رجوع کر سکتے ہیں۔

وزیر نے صنعت سے وابستہ تمام فریقوں پر زور دیا کہ وہ اعلیٰ معیار اور صارفین کے اطمینان کو اپنی اولین ترجیح بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستانی صارفین بھی اتنے ہی اہم ہیں جتنے بیرونِ ملک صارفین۔ انہوں نے 140 کروڑ آبادی پر مشتمل ہندوستانی منڈی کو ملک کی ایک بڑی طاقت قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ وسیع منڈی بڑے پیمانے پر پیداوار کے فوائد فراہم کرتی ہے، لہٰذا ضروری ہے کہ معاشرے کے ہر طبقے کے بچوں کو مناسب قیمت پر اعلیٰ معیار کے کھلونے دستیاب ہوں۔

کوالٹی کنٹرول آرڈرز کے تحت عبوری انتظامات کی وضاحت کرتے ہوئے پیوش گوئل نے کہا کہ ان اقدامات کا مقصد سرمایہ کاری، برانڈ سازی اور منڈی کی ترقی کی حوصلہ افزائی کرنا ہے، تاکہ ہندوستان کو عالمی مینوفیکچرنگ مرکز کے طور پر مزید مستحکم بنایا جا سکے۔ انہوں نے ہندوستان کی آٹوموبائل صنعت کی ترقی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ زیادہ مسابقت اور بین الاقوامی برانڈز کی آمد سے معیار میں بہتری آئی، صارفین کے لیے انتخاب کے مواقع بڑھے اور مقامی صنعت کار بھی مزید مضبوط ہوئے۔

وزیر نے کہا کہ کھلونا صنعت میں بھی سرمایہ کاری، روزگار کے مواقع، کنٹریکٹ مینوفیکچرنگ اور ٹیکنالوجی کی منتقلی کے ذریعے اسی نوعیت کے امکانات موجود ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت متوازن پالیسی پر عمل کرتے ہوئے ملکی صنعت کاروں کے مفادات کو ہمیشہ اولین ترجیح دیتی رہے گی۔

ہندوستانی صنعت کاروں کی صلاحیتوں پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے پیوش گوئل نے کہا کہ ان میں عالمی کمپنیوں کا کامیابی سے مقابلہ کرنے کی بھرپور استعداد اور صلاحیت موجود ہے۔ انہوں نے صنعت سے وابستہ افراد پر زور دیا کہ وہ بیرونِ ملک صنعتوں، معروف برانڈز، سپر مارکیٹوں اور ای کامرس پلیٹ فارمز کے ساتھ براہِ راست روابط قائم کریں، تاکہ ہندوستانی مصنوعات کو عالمی سطح پر مزید وسیع شناخت حاصل ہو۔

وزیر نے بتایا کہ گزشتہ چار برسوں کے دوران کھلونوں کی برآمدات میں 239 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے صنعت پر زور دیا کہ وہ اس رفتار کو برقرار رکھتے ہوئے آئندہ برسوں میں دس گنا ترقی کا ہدف مقرر کرے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ اسی عرصے کے دوران کھلونوں کی درآمدات میں 32 فیصد کمی آئی، جو اس شعبے کی مضبوط کارکردگی کا ثبوت ہے۔

پیوش گوئل نے وزیرِ اعظم جناب نریندر مودی کے سال 2020 میں ریڈیو پروگرام ’’من کی بات‘‘ میں کیے گئے خطاب کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وزیرِ اعظم نے اس وقت ہندوستان کو عالمی کھلونا سازی کا مرکز بنانے کی صلاحیت پر زور دیا تھا اور شہریوں سے خود انحصاری (آتم نربھر بھارت) اور ووکل فار لوکل کے وژن کے تحت ملک میں تیار کردہ مصنوعات کو ترجیح دینے کی اپیل کی تھی۔

وزیر نے کہا کہ ’’میک اِن انڈیا‘‘ مہم کے گزشتہ گیارہ برسوں کے دوران کھلونا صنعت کو نمایاں سرکاری معاونت فراہم کی گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ قومی کھلونا ایکشن پلان، جو 2020 میں شروع کیا گیا، نے اس شعبے کی ترقی کے لیے ایک واضح لائحۂ عمل فراہم کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ملک بھر میں کھلونا سازی کے 50 سے زائد صنعتی کلسٹرز قائم کیے جا چکے ہیں، جبکہ تقریباً 21 ہزار ایم ایس ایم ای یونٹس اس صنعت سے وابستہ ہیں، جن میں سے کئی ہندوستانی اور بین الاقوامی برانڈز کے لیے کنٹریکٹ مینوفیکچرنگ بھی انجام دے رہے ہیں۔

پیوش گوئل نے کہا کہ اس شعبے میں نمایاں تبدیلی آئی ہے۔ پہلے ہندوستانی کھلونوں کی منڈی کا صرف تقریباً 12 فیصد حصہ مقامی طور پر تیار کردہ کھلونوں سے پورا ہوتا تھا، جبکہ اب تقریباً 18 ہزار کروڑ روپے کی اس منڈی میں درآمدات کا حجم گھٹ کر صرف 2,500 سے 3,000 کروڑ روپے رہ گیا ہے اور باقی طلب مقامی صنعت کار پوری کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ معیار میں نمایاں بہتری آئی ہے، تاہم صنعت کو کسی قسم کی خود اطمینانی کا شکار نہیں ہونا چاہیے۔

وزیر نے صنعت کاروں پر زور دیا کہ وہ مصنوعات کے معیار، خام مال، فنشنگ اور مینوفیکچرنگ کے معیارات میں مسلسل بہتری لانے کی کوشش جاری رکھیں۔ انہوں نے اعلیٰ معیار کے رنگ، بہترین فنشنگ، محفوظ کناروں اور پائیدار مصنوعات کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ صنعت کو جانچ کے مطلوبہ آلات کی ایک جامع فہرست تیار کرنی چاہیے تاکہ معیاری سرٹیفکیشن کا عمل مزید مؤثر بنایا جا سکے۔ انہوں نے تجویز دی کہ مصنوعات کی مضبوطی، رنگوں کے معیار، فنشنگ، نیز بیٹری سے چلنے والے اور الیکٹرانک کھلونوں کی کارکردگی کی بیچ وار جانچ کی جائے، کیونکہ اعلیٰ معیار کی تصدیق یافتہ مصنوعات صنعت کاروں کو مضبوط برانڈ قائم کرنے اور منڈی میں زیادہ حصہ حاصل کرنے میں مدد دیں گی۔

اس نمائش میں 400 سے زائد ’’میک اِن انڈیا‘‘ کھلونا برانڈز، 15 ہزار سے زیادہ کاروباری مندوبین، 50 سے زائد ممالک کے نمائندے اور کھلونا سازی کی صنعت سے وابستہ مختلف شعبوں کے فریقین نے شرکت کی۔

******

ش ح۔ ش ا ر۔ ول

Uno-9545­


(रिलीज़ आईडी: 2281075) आगंतुक पटल : 9
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , Marathi , हिन्दी , Gujarati , Tamil