بندرگاہوں، جہاز رانی اور آبی راستوں کی وزارت
بھارت کا سمندری خود انحصاری کی جانب اہم قدم: پہلی بار ملک میں تیار کردہ برآمد و درآمد کے لیے شپنگ کنٹینر :سربانند سونووال
میئرزک کی جانب سے بھارت میں تیار کردہ مزید 1000 کنٹینرز کا آرڈر، بھارت کے بڑھتے ہوئے سمندری صنعتی نظام پر اعتماد کی توثیق
ہم صرف شپنگ کنٹینر نہیں بنا رہے، بلکہ ایک عالمی سطح پر مسابقتی سمندری صنعتی نظام تشکیل دے رہے ہیں جو ایک ترقی یافتہ بھارت کی بنیاد ہے: سربانند سونووال
سی ایم پی ایس پالیسی کے تحت کنٹینر سازی کی سالانہ پیداواری صلاحیت میں دس گنا اضافے کا ہدف، جو 7.9 لاکھ ٹی ای یو تک پہنچے گا
प्रविष्टि तिथि:
03 JUL 2026 6:17PM by PIB Delhi
نئی دہلی، 3 جولائی 2026: بھارت کے بحری اور صنعتی شعبے کے لیے ایک اہم سنگِ میل کے طور پر، بندرگا ہوں، جہاز رانی اور آبی گزرگاہوں کے مرکزی وزیر جناب سربانند سونووال نے آج اتر پردیش کے دادری میں واقع میئرزک–کنکور اِن لینڈ کنٹینر ڈپو میں عالمی سطح کی بحری کمپنی اے پی مولر–میئرزک کے لیے بھارت میں تیار کردہ پہلا برآمد و درآمدی (ایگژم )شپنگ کنٹینر پیش کیا۔ یہ پیش رفت حکومتِ ہند کے اس پختہ عزم کی عکاسی کرتی ہے کہ وزیر اعظم جناب نریندر مودی کے ’’خود کفیل بھارت‘‘،’’میک اِن انڈیا‘‘ اور ’’ میری ٹائم امرت کال وژن 2047‘‘ کو عملی اور ٹھوس نتائج میں بدلا جا رہا ہے۔
بھارت کے ابھرتے ہوئے کنٹینر سازی کے نظام پر اعتماد کے مظہر کے طور پر، میئرزک نے اس موقع پر ڈی سی ایم شری رام گروپ کے ساتھ بھارت میں تیار کردہ مزید ایک ہزار شپنگ کنٹینرز کا آرڈر بھی دیا۔ یہ پیش رفت ایک طویل مدتی تجارتی شراکت داری کا آغاز ہے جس سے عالمی بحری قدر کے سلسلے میں بھارت کی پوزیشن مزید مضبوط ہونے کی توقع ہے۔
یہ کامیابی فروری 2025 میں وزیر اعظم جناب نریندر مودی اور اے پی مولر–میئرزک کے نگرانی بورڈ کے چیئرمین رابرٹ میئرزک اُگلا کے درمیان ہونے والی ملاقات کے بعد سامنے آئی، جس میں وزیر اعظم نے کمپنی کو بھارت میں عالمی معیار کی کنٹینر سازی کی ترقی میں فعال کردار ادا کرنے کی ترغیب دی تھی۔ صرف 16 ماہ کے اندر اندر اس وژن کو عملی جامہ پہناتے ہوئے ملک میں پہلی بار بین الاقوامی معیار کے مطابق تیار کردہ برآمد و درآمدی شپنگ کنٹینر کا کامیاب اجرا کیا گیا، جو حکومت کی حکمتِ عملی کو بروقت عملی اقدامات میں ڈھالنے کی صلاحیت کو ظاہر کرتا ہے۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے مرکزی وزیر سربانند سونووال نے کہا کہ وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی بصیرت افروز قیادت میں بھارت تیزی سے ایک قابل اعتماد عالمی صنعتی اور بحری طاقت کے طور پر ابھر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک بڑی عالمی شپنگ کمپنی کے لیے بھارت میں تیار کردہ پہلے برآمد ی و درآمدی(ایگژم) کنٹینر کی رونمائی خود کفیل بھارت کی سمت ایک فیصلہ کن سنگ میل ہے۔ یہ عالمی صنعت کے بھارت کی پیداواری صلاحیت پر بڑھتے ہوئے اعتماد اور عالمی معیار کے بحری ڈھانچے کی تعمیر کے عزم کی واضح علامت ہے۔
یہ پہلا بھارت میں تیار کردہ کنٹینر بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ معیار اور حفاظتی اصولوں کے مطابق تیار کیا گیا ہے، جن میں بین الاقوامی تنظیم برائے معیاری اصول (آئی ایس او) کے ضوابط اور انٹر نیشنل کنونشن فار سیف کنٹینرز (سی ایس سی) شامل ہیں، جس کے باعث یہ کنٹینر عالمی استعمال کے لیے موزوں ہے۔
مرکزی وزیر نے مزید کہا کہ یہ کامیابی اس بات کا ثبوت ہے کہ حکومت کی پالیسیوں، صنعت کے ساتھ شراکت داری اور بروقت عمل درآمد کے ذریعے کس طرح نئے مواقع پیدا کیے جا سکتے ہیں، جن سے صنعت کاری، روزگار، ہنرمندی کی ترقی اور عالمی مسابقت کو فروغ ملتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اس عزم پر قائم ہے کہ ہر تصور کو مقررہ مدت میں حقیقت میں بدلا جائے، تاکہ ایک مضبوط اور خود کفیل سمندری نظام تشکیل دیا جا سکے جو بھارت کو ایک نمایاں عالمی تجارتی ملک کے طور پر ابھارنے میں مدد دے۔
یہ پیش رفت مودی حکومت کی ان کوششوں سے بھی ہم آہنگ ہے جن کا مقصد ملکی صنعت کو فروغ دینا ہے، جس کے تحت مرکزی بجٹ 2026 میں اعلان کردہ دس ہزار کروڑ روپے کے کنٹینر سازی کے فروغ کے منصوبے کا فریم ورک شامل ہے۔ اس اقدام کا مقصد بھارت کا درآمد شدہ کنٹینروں پر انحصار کم کرنا، سپلائی چین کو مزید مضبوط بنانا اور ایک عالمی سطح پر مسابقتی صنعتی نظام قائم کرنا ہے۔ اس اسکیم کے تحت نئی صنعتی تنصیبات کے قیام اور پہلے سے موجود یونٹوں کی توسیع کے لیے مالی معاونت فراہم کی جائے گی، جبکہ فی کنٹینر لاگت کے فرق کو کم کرنے کے لیے عملی مدد بھی دی جائے گی تاکہ ملکی صنعت زیادہ مسابقتی بن سکے۔ اس کے ساتھ تحقیق و ترقی، جانچ، ہنرمندی اور استعداد سازی کے فروغ کے لیے بھی معاونت فراہم کی جائے گی۔
حکومت کی جانب سے استعداد سازی کے حوالے سے سربانند سونووال نے کہا کہ اس منصوبے کے تحت سالانہ پیداواری صلاحیت میں دس گنا اضافہ کرتے ہوئے اسے 7.5 لاکھ ٹی ای یو تک لے جانے کا ہدف ہے، جس کی حمایت مالی معاونت، عملی ترغیبات، تحقیق، جانچ اور ٹیکنالوجی کی ترقی کے ذریعے کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدام ایک مضبوط ملکی پیداواری نظام قائم کرے گا، روزگار کے مواقع پیدا کرے گا، ٹیکنالوجی کی منتقلی کو فروغ دے گا اور سپلائی چین کی مضبوطی میں نمایاں کردار ادا کرے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ مقصد بالکل واضح ہے: بھارت کو کنٹینر سازی میں خود کفیل بنانا اور ملک کو اعلیٰ معیار کے کنٹینروں کا ایک عالمی برآمدی مرکز بنانا۔
حکومت اس سنگِ میل کو بھارت کے بحری صنعتی نظام میں ایک بڑے اور ہمہ گیر تبدیلی کے آغاز کے طور پر دیکھتی ہے۔ عالمی شپنگ کمپنیوں کی بڑھتی ہوئی شمولیت، سازگار پالیسی ماحول اور ملکی صلاحیتوں میں مسلسل اضافہ کے ساتھ بھارت اس قابل ہے کہ وہ شپنگ کنٹینر سازی کا ایک نمایاں عالمی مرکز بن سکے۔
مودی حکومت نے اس شعبے میں کئی اہم اور تاریخی قوانین نافذ کیے ہیں جن میں مرچنٹ شپنگ ایکٹ 2025، کوسٹل شپنگ ایکٹ 2025 اور انڈین پورٹس ایکٹ 2025 شامل ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ کاروبار میں آسانی پیدا کرنے کے لیے کئی انقلابی ڈیجیٹل اقدامات بھی متعارف کرائے گئے ہیں جن میں ون نیشن ون پورٹ پروسیس، میری ٹائم سنگل ونڈو اور ای-سمدر شامل ہیں۔ اس شعبے کو مزید مضبوط بنانے کے لیے 70 ہزار کروڑ روپے کے شپ بلڈنگ مالی معاونتی پیکیج اور مجوزہ بھارت کنٹینر شپنگ لائن بھی معاون ثابت ہو رہے ہیں۔
بھارت کے دنیا کا سب سے بڑا شپ ری سائکل کرنے والے ملک کے طور پر ابھرنے کے ساتھ ساتھ، 2025 کے کنٹینر پورٹ پرفارمنس انڈیکس میں ملک کی تین بندرگاہیں عالمی سطح پر ٹاپ 30 میں شامل ہو چکی ہیں۔ اس کے علاوہ بڑے بنیادی ڈھانچے کے منصوبے جیسے ودھاون بندرگاہ، گالاتھیہ بے میں بین الاقوامی کنٹینر ٹرانس شپمنٹ پورٹ، تونا ٹیکرا کنٹینر ٹرمینل اور آؤٹر ہاربر کنٹینر ٹرمینل تیزی سے پیش رفت کر رہے ہیں۔ حکومت اس عزم کا اعادہ کرتی ہے کہ ایک عالمی معیار کا بحری نظام قائم کیا جائے گا جو بھارت کی اقتصادی ترقی اور عالمی مسابقت کو مزید مستحکم کرے گا۔
اس موقع پر مختلف معزز شخصیات بھی موجود تھیں جن میں ہالینڈ کی سفیر محترمہ ماریسا گیرارڈز، بھارتیہ جنتا پارٹی کے قومی ترجمان گوپال کرشنا اگروال، اے پی مولر میئرزک کے منیجنگ ڈائریکٹر تھامس تھیووز، میئرزک کے سینئر نائب صدر احمد حسن اور بندرگاہوں، جہاز رانی و آبی گزرگاہوں کی وزارت کے اعلیٰ حکام کے ساتھ ساتھ بحری صنعت کے نمائندگان، میئرزک، ڈی سی ایم شری رام گروپ، کنکور اور دیگر متعلقہ فریقوں کے نمائندے شامل تھے۔






********
ش ح۔ م م۔ ش ب ن
U-NO-9527
(रिलीज़ आईडी: 2280865)
आगंतुक पटल : 8