لوک سبھا سکریٹریٹ
azadi ka amrit mahotsav

لوک سبھا اسپیکر نے مغربی بنگال کے ارکانِ اسمبلی سے اپیل کی کہ وہ جمہوری روایات کو مضبوط کریں اور ریاست کی نشاۃ ثانیہ میں رہنمائی کا کردار ادا کریں


عوامی نمائندوں کو حلقۂ انتخاب کی سیاست سے بالاتر ہو کر پوری ریاست کے عوامی جذبات کی نمائندگی کرنی چاہیے: لوک سبھا اسپیکر

قانون ساز اسمبلی میں بحث ومباحثہ کا محور حل تلاش کرنا ہونا چاہیے، محض تنقید نہیں: لوک سبھا اسپیکر

مسلسل سیکھنا ایک مؤثر قانون ساز کی نمایاں خصوصیت ہے: لوک سبھا اسپیکر

ایوان میں حاضری سب سے بڑا تعلیمی تجربہ ہے: لوک سبھا اسپیکر

ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت قانون ساز اداروں کو تبدیل کر رہی ہیں: لوک سبھا اسپیکر

جمہوریت مکالمے، اتفاقِ رائے اور باوقار اختلافِ رائے سے فروغ پاتی ہے: لوک سبھا اسپیکر

لوک سبھا اسپیکر نے کولکاتا میں مغربی بنگال قانون ساز اسمبلی کے نو منتخب ارکان کے لیے واقفیت پروگرام کا افتتاح کیا

प्रविष्टि तिथि: 03 JUL 2026 4:04PM by PIB Delhi

کولکاتا؛ 3 جولائی 2026: آج کولکاتا میں مغربی بنگال قانون ساز اسمبلی کے نو منتخب ارکان کے لیے منعقدہ دو روزہ واقفیت پروگرام کا افتتاح کرتے ہوئے لوک سبھا کے اسپیکر جناب اوم برلا نے ارکانِ اسمبلی پر زور دیا کہ وہ جمہوری روایات کو مضبوط کریں اور ریاست کی نشاۃِ ثانیہ کی قیادت کریں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ منتخب نمائندے عوامی توقعات کے امین ہوتے ہیں، اس لیے انہیں باخبر قانون سازی، تعمیری  بحث اور بہتر حکمرانی میں فعال کردار ادا کرنا چاہیے، ساتھ ہی مغربی بنگال کے شاندار جمہوری اور ثقافتی ورثے کو بھی محفوظ رکھنا چاہیے۔

اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ قانون سازی سے متعلق بحث و مباحثہ  کا مقصد محض تنقید نہیں بلکہ مسائل کے حل پر مرکوز ہونا چاہیے، جناب برلا نے کہا کہ تعمیری بحث و مباحثہ ایک مضبوط اور فعال جمہوریت کی پہچان ہے۔ اگرچہ تنقید قانون سازی کے عمل کا اہم حصہ ہے، تاہم ہر بحث میں عوامی مسائل کے عملی حل بھی پیش کیے جانے چاہییں۔ انہوں نے کہا کہ ارکانِ اسمبلی کو اپنی گفتگو کو حقائق، تحقیق اور مدلل دلائل پر مبنی بنانا چاہیے تاکہ جمہوری مکالمے کا معیار بلند ہو سکے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ہر رکنِ اسمبلی نہ صرف اپنے حلقے کا نمائندہ ہوتا ہے بلکہ ریاستی سطح پر عوامی توقعات کا امین بھی ہوتا ہے۔ اس لیے قانون سازی سے متعلق  ذمہ داریاں صرف مقامی مسائل تک محدود نہیں رہتیں بلکہ ہر بحث، ہر قانون اور ہر پالیسی کوعوامی فلاح کے جذبے سے  تحریک یافتہ ہونا چاہیے  اور اس کا نتیجہ شہریوں کے مسائل کا عملی حل کی صورت میں نکلنا چاہیے ۔ انہوں نے کہا کہ بامقصد جمہوری مکالمہ تنقید سے آگے بڑھ کر تعمیری اور قابلِ عمل حل پیش کرنے کا متقاضی ہے۔ نومنتخب ارکان کو مبارکباد دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عوام نے ان پر بے حد اعتماد کا اظہار کیا ہے اور ان سے ذمہ دار، جواب دہ اور بصیرت افروز قیادت کی توقع رکھتے ہیں۔ ہر رکنِ اسمبلی اگرچہ اپنے حلقے کی نمائندگی کا ذمہ دار ہے، لیکن وہ ساتھ ہی ریاست کی مجموعی ترقی میں بھی مؤثر قانون سازی اور پالیسی سازی کے ذریعے کردار ادا کرنے کا پابند ہے۔ارکان کو زندگی بھر سیکھنے کا عادی بننے کی تلقین کرتے ہوئے جناب برلا نے کہا کہ وہ مسلسل سابقہ  بحث و مباحثہ، اہم قانون سازی اور ملکی و عالمی پارلیمانی طریقۂ کار کا مطالعہ کرتے رہیں۔ انہوں نے کہا کہ مسلسل سیکھنا، نئی سوچ کے لیے آمادگی اور خود کو بہتر بنانے کی کوشش ایک مؤثر عوامی نمائندے کی بنیادی خصوصیات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ اسمبلی میں پہلی بار منتخب ہونے والے ارکان اور نوجوان ارکان کی بڑی تعداد موجود ہے، جو نئی سوچ، جدت  طرازی اور عوام دوست طرزِ حکمرانی کے فروغ کے لیے ایک اہم موقع ہے۔ انہوں نے نوجوان اور خواتین قیادت کی بڑھتی ہوئی شمولیت کو بھی سراہا۔

اسپیکر نے ارکان کو مشورہ دیا کہ وہ زیادہ سے زیادہ وقت ایوان کے اندر گزاریں، خواہ وہ اظہارِ خیال کے لیے فہرست میں شامل نہ بھی ہوں، کیونکہ دیگر ارکان کی گفتگو اور دلائل کو غور سے سننا قانون سازی کی سمجھ بوجھ کو بڑھاتا ہے اور باخبر قیادت کی تشکیل میں مدد دیتا ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ موجودہ اسمبلی کے فیصلے نہ صرف موجودہ نسل بلکہ آنے والی نسلوں پر بھی اثر انداز ہوں گے، اس لیے ارکان کو اپنی آئینی ذمہ داریاں حکمت، دیانت اور دور اندیشی کے ساتھ ادا کرنی چاہییں۔ انہوں نے کہا کہ ہر منتخب نمائندے کی بنیادی ذمہ داری عوام کی آواز بننا ہے، خصوصاً محروم اور کمزور طبقات کی۔ قانون سازوں کو مؤثر قوانین بنانا، عوامی مفاد پر مبنی پالیسیاں تشکیل دینا اور حکمرانی کی مسلسل نگرانی کرنا چاہیے تاکہ ہر فیصلے میں عوامی فلاح کو مرکزیت حاصل رہے۔

ڈیجیٹل دور کے بڑھتے ہوئے کردار کو اجاگر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی نے ارکانِ اسمبلی کے لیے قانون سازی سے متعلق بحث و مباحثہ، پالیسی دستاویزات اور بہترین طریقۂ کار تک رسائی کو غیر معمولی طور پر آسان بنا دیا ہے۔ انہوں نے ڈیجیٹل پلیٹ فارم کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اب ارکان پارلیمانی علم اور مختلف قانون ساز اداروں کے تجربات سے بھرپور فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔

اسپیکر نے کہا کہ جمہوریت میں اتفاق اور اختلاف دونوں فطری عناصر ہیں۔ تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اختلافِ رائے ہمیشہ مدلل، باوقار اور باہمی احترام پر مبنی مباحث کے ذریعے ہی ظاہر ہونا چاہیے۔ ان کے مطابق قانون ساز ادارے وہ جگہ ہونی چاہیے جہاں خیالات کا مقابلہ ہو، مگر جمہوری اقدار غالب رہیں۔

مغربی بنگال کو بھارت کے فکری، ثقافتی اور قومی شعور کی تشکیل کرنے والی سرزمین قرار دیتے ہوئے جناب برلا نے کہا کہ اس ریاست نے ہمیشہ ملک کو نئی سوچ، تحریک اور سمت عطا کی ہے۔ انہوں نے راجہ رام موہن رائے، سوامی وویکانند، بنکم چندر چٹوپادھیائے، گرو دیو رابندر ناتھ ٹیگور، نیتا جی سبھاش چندر بوس اور ڈاکٹر شیاما پرساد مکھرجی جیسی عظیم شخصیات کی خدمات اور قربانیوں کو یاد کیا جن کے افکار اور جدوجہد آج بھی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔ انہوں نے مغربی بنگال کی بے پناہ صلاحیتوں پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس ریاست کا شاندار ثقافتی، روحانی، تعلیمی، صنعتی اور فکری ورثہ جدید ترقی کے ساتھ دوبارہ زندہ کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کی نظریں بنگال پر امید اور توقع کے ساتھ مرکوز ہیں اور انہیں یقین ہے کہ یہ ریاست ایک بار پھر ثقافتی نشاۃِ ثانیہ، جدت اور معاشی ترقی کا مرکز بنے گی۔

اپنے خطاب کے اختتام پر انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ تمام ارکان مل کر مغربی بنگال کے عوام کی امیدوں کو پورا کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ارکان کو بنگال کے شاندار ورثے کو محفوظ رکھتے ہوئے ترقی اور جدت کو اپنانا چاہیے اور 2047 تک ایک ترقی یافتہ بھارت کے قومی وژن کی تکمیل میں فعال کردار ادا کرنا چاہیے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ واقفیتی پروگرام ارکان کو پارلیمانی طریقۂ کار، آئینی اقدار اور قانون سازی کی ذمہ داریوں کی گہری سمجھ عطا کرے گا، جس سے وہ اپنی ذمہ داریاں زیادہ مؤثر اور خلوص کے ساتھ ادا کر سکیں گے۔

مغربی بنگال کے وزیر اعلیٰ جناب سُووینْدو ادھیکاری، پارلیمانی و اقلیتی امور کے مرکزی وزیر جناب کرن رجیجو، راجیہ سبھا کے نائب چیئرمین جناب ہری ونش، مغربی بنگال قانون ساز اسمبلی میں حزبِ اختلاف کے رہنما جناب رتبرتا بنرجی اور دیگر معزز شخصیات نے افتتاحی اجلاس میں شرکت کی اور خطاب کیا۔ مغربی بنگال قانون ساز اسمبلی کے اسپیکر جناب رتھندر بوس نے خیر مقدمی خطاب کیا جبکہ ریاستی حکومت کے پارلیمانی امور کے وزیر ڈاکٹر شنکر گھوش نے شکریے کی تحریک پیش کی۔

دو روزہ واقفیتی پروگرام کے دوران مختلف تکنیکی نشستیں ترتیب دی گئی ہیں جن میں قانون سازوں کی مؤثر کارکردگی، ارکان کے لیے روایات، آداب اور پارلیمانی طریقۂ کار، سوالات اور دیگر پارلیمانی ذرائع کے ذریعے انتظامیہ کی جواب دہی، پارلیمانی کمیٹی نظام، قانون سازی کا عمل بشمول نجی ارکان کے بل، مالیاتی امور اور بجٹ سازی کا طریقۂ کار، پارلیمانی استحقاق اور اخلاقیات اور قومی ای- قانون سازی نظام شامل ہیں۔ ان نشستوں کی صدارت اور خطاب ملک بھر  کی ریاستی اسمبلیوں کے پریزاڈنگ افسران ، ارکانِ پارلیمان، آئینی ماہرین اور سینئر پارلیمانی تجربہ کار کریں گے۔ اس پروگرام کا مقصد خیالات اور بہترین طریقۂ کار کے تبادلے کو فروغ دینا اور شرکاء کی پارلیمانی طریقۂ کار، ادارہ جاتی نظام اور جمہوری حکمرانی کی سمجھ کو مزید بہتر بنانا ہے۔

یہ واقفیتی پروگرام 4 جولائی 2026 کو اختتامی اجلاس کے ساتھ مکمل ہوگا، جس میں مغربی بنگال کے گورنر جناب آر۔ این۔ روی تاریخی ایوان میں اختتامی خطاب کریں گے۔ اس اجلاس سے لوک سبھا کے اسپیکر جناب اوم برلا، ہریانہ کے گورنر پروفیسر اشیِم کمار گھوش، راجیہ سبھا کے  ڈپٹی چیئرمین جناب ہری ونش، مغربی بنگال قانون ساز اسمبلی کے اسپیکر جناب رتھندر بوس اور دیگر معزز شخصیات بھی خطاب کریں گی۔

یہ پروگرام پارلیمانی تحقیق و تربیتی ادارہ برائے جمہوریت ( پی آر آئی ڈی ای-پرائیڈ)، لوک سبھا سیکریٹریٹ اور مغربی بنگال قانون ساز اسمبلی کے اشتراک سے منعقد کیا جا رہا ہے۔

********

ش ح۔ م م۔ ش ب ن

U-NO-9513


(रिलीज़ आईडी: 2280803) आगंतुक पटल : 5
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Bengali , Gujarati