جدید اور قابل تجدید توانائی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

قومی گرین ہائیڈروجن مشن کے تحت بھارت نے عالمی گرین ہائیڈروجن قیادت کی سمت مزید پیش رفت کی


اے سی ایم ای گروپ نے جاپانی کمپنیوں کے ساتھ گرین امونیا اور گرین میتھانول کی خریداری کے تاریخی معاہدے کیے

प्रविष्टि तिथि: 02 JUL 2026 7:28PM by PIB Delhi

قومی گرین ہائیڈروجن مشن (این جی ایچ ایم) کے تحت ایک اہم سنگِ میل عبور کرتے ہوئے اے سی ایم ای کلین ٹیک سولیوشنز پرائیویٹ لمیٹڈ (اے سی ایم ای گروپ) نے آج جاپان کی معروف کمپنیوں آئی ایچ آئی کارپوریشن کے ساتھ گرین امونیا اور مٹسوبشی گیس کیمیکل کمپنی لمیٹڈ کے ساتھ گرین میتھانول کی طویل مدتی فراہمی کے معاہدوں پر دستخط کیے۔ یہ تقریب نئی دہلی کے اٹل اکشے اُورجا بھون میں منعقد ہوئی۔

قومی گرین ہائیڈروجن مشن، جسے جنوری 2023 میں 19,744 کروڑ روپے کے مالیاتی تخمینے کے ساتھ منظوری دی گئی تھی، کا مقصد بھارت کو گرین ہائیڈروجن اور اس سے حاصل ہونے والی مصنوعات کی پیداوار، استعمال اور برآمد کے عالمی مرکز کے طور پر فروغ دینا ہے۔ اس مشن کے تحت گرین ہائیڈروجن منتقلی کے لیے تزویراتی اقدامات (ایس آئی جی ایچ ٹی) پروگرام، سولر انرجی کارپوریشن آف انڈیا (ایس ای سی آئی) کی جانب سے شفاف بولی کے عمل کے ذریعے گرین ہائیڈروجن کی پیداوار کے لیے مالی معاونت فراہم کرتا ہے۔ اس پروگرام کے تحت اے سی ایم ای گروپ کو سالانہ 3 لاکھ 70 ہزار ٹن (370 کلو ٹن) گرین ہائیڈروجن سے متعلق پیداواری صلاحیت تفویض کی گئی ہے، جو ان برآمدی معاہدوں کی بنیاد فراہم کرتی ہے۔

آئی ایچ آئی کارپوریشن کے ساتھ ہونے والے معاہدے کے تحت اے سی ایم ای گروپ ہر سال مجموعی طور پر 4 لاکھ 5 ہزار ٹن (405 کلو ٹن) گرین امونیا فراہم کرے گا۔ اس انتظام کو جاپان کی کم کاربن امونیا کے لیے کنٹریکٹ فار ڈیفرنس (سی آئی ڈی) اسکیم کی حمایت حاصل ہے، جس کا انتظام جاپان کی وزارتِ معیشت، تجارت و صنعت (ایم ای ٹی آئی) کرتی ہے۔ اس اسکیم کے تحت جاپانی خریداروں کو قیمت میں معاونت فراہم کی جاتی ہے، جس سے اس نوعیت کی درآمدات کی طویل مدتی تجارتی پائیداری یقینی بنتی ہے۔

اس کے علاوہ، اے سی ایم ای گروپ نے مٹسوبشی گیس کیمیکل کمپنی لمیٹڈ کے ساتھ دس سالہ معاہدہ بھی کیا ہے، جس کے تحت اس کے پارادیپ میں واقع پیداواری مرکز سے ہر سال ایک لاکھ ٹن (100 کلو ٹن) گرین میتھانول فراہم کیا جائے گا۔ یہ منصوبہ عالمی سطح پر کاربن کے اخراج میں کمی کے اہداف، خصوصاً بحری نقل و حمل کے شعبے، سے ہم آہنگ ہے، اور اسے یورپی قابلِ تجدید غیر حیاتیاتی ایندھن (آر ایف این بی او) کے تقاضوں اور بین الاقوامی بحری تنظیم (آئی ایم او) کے صاف ستھرے بحری ایندھن سے متعلق معیارات کے مطابق تیار کیا گیا ہے۔

مرکزی وزیر برائے نئی اور قابلِ تجدید توانائی نیز امورِ صارفین، خوراک اور عوامی تقسیم جناب پرہلاد جوشی نے کہا: ’’میں اے سی ایم ای–آئی ایچ آئی گرین ہائیڈروجن منصوبے کے لیے جاپان کی جانب سے کنٹریکٹ فار ڈیفرنس (سی آئی ڈی) سبسڈی کی توسیع کا خیرمقدم کرتا ہوں۔ یہ بھارت کے گرین ہائیڈروجن نظام پر عالمی اعتماد میں اضافے اور صاف توانائی کی عالمی منتقلی میں ایک قابلِ اعتماد شراکت دار کے طور پر ہمارے ابھرتے ہوئے کردار کا مظہر ہے۔ وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی قیادت میں قومی گرین ہائیڈروجن مشن ایک مضبوط اور مستقبل سے ہم آہنگ ماحولیاتی نظام تشکیل دے رہا ہے۔ یہ عالمی سرمایہ کاری کو متوجہ کر رہا ہے، بین الاقوامی شراکت داریوں کو فروغ دے رہا ہے اور بھارتی گرین ہائیڈروجن اور اس سے حاصل ہونے والی مصنوعات کے لیے نئی عالمی منڈیاں کھول رہا ہے۔‘‘

اس موقع پر نئی اور قابلِ تجدید توانائی کی وزارت کے سکریٹری جناب سنتوش کمار سارانگی نے اپنے خطاب میں کہا کہ قومی گرین ہائیڈروجن مشن کے نقطۂ نظر سے ان معاہدوں نے تین اہم نتائج حاصل کیے ہیں۔ اول، گرین امونیا اور گرین میتھانول کے لیے جاپان کے ساتھ ایک مضبوط تجارتی منڈی قائم ہوئی ہے، جس سے سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھا ہے۔ دوم، ان معاہدوں نے ثابت کیا ہے کہ گرین ہائیڈروجن کا شعبہ تجارتی اعتبار سے پختگی کی جانب گامزن ہے اور بھارت میں تیار ہونے والے صاف ایندھن عالمی منڈی میں قابلِ اعتماد سپلائر کے طور پر ابھر رہے ہیں۔ سوم، ان کے ذریعے گرین ہائیڈروجن اور گرین امونیا کی بین الاقوامی قدر افزائی کی زنجیر (ویلیو چین) کی تشکیل کو تقویت ملی ہے۔

جاپان کی حکومت کی وزارتِ معیشت، تجارت و صنعت (ایم ای ٹی آئی) کے نائب وزیر مسٹر تاکے ہیکو ماتسوؤ نے بھی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ معاہدے صاف توانائی کے شعبے میں بھارت اور جاپان کے درمیان مضبوط ہوتی ہوئی شراکت داری کا نمایاں اور عملی نتیجہ ہیں۔

یہ معاہدے اب تک بھارت سے جاپان کے لیے گرین امونیا اور گرین میتھانول کی فراہمی کے سب سے بڑے وعدوں میں شمار ہوتے ہیں۔ یہ بھارت کے گرین ہائیڈروجن نظام کی بڑھتی ہوئی تجارتی پختگی کی عکاسی کرتے ہیں اور سائٹ (ایس آئی جی ایچ ٹی) پروگرام کے تحت قائم کی گئی پیداواری صلاحیت کے لیے طویل مدتی طلب کو مزید مستحکم بناتے ہیں۔ یہ شراکت داریاں جاپان کو بھارت سے کم کاربن ایندھن کی مسلسل اور قابلِ اعتماد فراہمی کے ذریعے اس کی توانائی کی منتقلی اور توانائی کے تحفظ کے اہداف کے حصول میں بھی معاون ثابت ہوں گی۔

تقریب کے دوران اے سی ایم ای گروپ نے اپنے منصوبوں کا تفصیلی تعارف پیش کیا، جس کے بعد معاہدوں پر باقاعدہ دستخط کیے گئے۔ یہ معاہدے نئی اور قابلِ تجدید توانائی کی وزارت (ایم این آر ای) کے سینئر حکام، جاپان کی حکومت اور وزارتِ معیشت، تجارت و صنعت (ایم ای ٹی آئی) کے نمائندوں، نیز اے سی ایم ای گروپ، آئی ایچ آئی کارپوریشن اور مٹسوبشی گیس کیمیکل کمپنی (ایم جی سی) کی اعلیٰ قیادت کی موجودگی میں طے پائے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image001LV91.jpg

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image0024L15.jpg

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image003R99J.jpg

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image004RC3B.jpg

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image005CGFD.jpg

******

ش ح۔ ش ا ر۔ ول

Uno-9487


(रिलीज़ आईडी: 2280555) आगंतुक पटल : 9
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Marathi , Telugu