PIB Backgrounder
پردھان منتری کرشی سنچائی یوجنا (پی ایم کے ایس وائے)
آبپاشی پر مبنی زرعی تبدیلی کی ایک دہائی
प्रविष्टि तिथि:
30 JUN 2026 5:34PM by PIB Delhi
|
گزشتہ ایک دہائی کے دوران پردھان منتری کرشی سنچائی یوجنا (پی ایم کے ایس وائے) نے ملک بھر میں آبپاشی کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے اور پانی کے مؤثر انتظام کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔یہ اسکیم آبپاشی پر مبنی زرعی تبدیلی کی ایک مؤثر محرک کے طور پر ابھری ہے، جس کے لیے مرکزی حکومت کی جانب سے64,407 کروڑ روپے سے زائد کی مالی معاونت فراہم کی گئی ہے۔سال2016-17 سے اب تک پی ایم کے ایس وائے کے تحت2 کروڑ 70 لاکھ سے زائد کسانوں کو فائدہ پہنچا ہے، جبکہ2 کروڑ 46 لاکھ 10 ہزار ہیکٹر رقبہ پر آبپاشی کی صلاحیت پیدا یا بحال کی گئی ہے۔‘‘پر ڈراپ مور کراپ ( پی ڈی ایم سی)’’ اسکیم کے تحت آغاز سے اب تک1 کروڑ 10 لاکھ 92 ہزار ہیکٹر اراضی کو مائیکرو آبپاشی کے دائرے میں لایا جا چکا ہے۔مرکزی بجٹ 2026–27 میں پی ایم کے ایس وائے کے لیے6,587 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں، تاکہ آبپاشی کی سہولیات میں توسیع، پانی کے مؤثر استعمال میں بہتری اور پائیدار آبی وسائل کے انتظام کو مزید فروغ دیا جا سکے۔
|
پانی سے محفوظ زراعت کے ذریعہ پائیدار ترقی کا فروغ
آبی تحفظ زرعی پیداوار میں اضافے، موسمیاتی تبدیلیوں کے مقابلہ میں لچک پیدا کرنے اور کسانوں کے لیے پائیدار ذریعۂ معاش کو یقینی بنانے کی بنیاد ہے۔ دستیاب آبی وسائل سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے کے لیے فصلوں کے موزوں نمونے ( سی پی) اختیار کرنا اور آبپاشی کے مؤثر طریقوں کو اپنانا نہایت ضروری ہے۔
یکم جولائی 2015 کو شروع کی گئی پردھان منتری کرشی سنچائی یوجنا (پی ایم کے ایس وائے) نے بھارت میں آبپاشی پر مبنی زرعی تبدیلی کو فروغ دیتے ہوئے دس سال سے زائد کا سفر مکمل کر لیا ہے۔اس اسکیم کا مقصد یقینی آبپاشی کے دائرۂ کار میں توسیع، کھیتوں میں پانی کے مؤثر استعمال کو بہتر بنانا اور آبی وسائل کے پائیدار تحفظ کو فروغ دینا ہے۔ یہ اسکیم جل سنچیہ (بارش کے پانی کا ذخیرہ) اور جل سنچن (پانی کے مؤثر استعمال) کے ذریعے بارش کے پانی کو محفوظ کرنے اور کھیتوں کی سطح پر مؤثر آبپاشی کے نظام کو مضبوط بناتی ہے۔
ان اقدامات کے ذریعہ پی ایم کے ایس وائے آبپاشی کی سہولیات کے دائرۂ کار میں توسیع، زرعی پیداوار میں اضافہ اور ماحولیاتی پائیداری کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ پانی کے دانشمندانہ استعمال سے مٹی کی زرخیزی بہتر ہوتی ہے، فصلوں کی پیداوار میں اضافہ ہوتا ہے، ماحولیات کو فائدہ پہنچتا ہے اور ایک ہی آبی ذریعہ سے زیادہ رقبہ کو آبپاشی کی سہولت فراہم کرنا ممکن ہوتا ہے۔
پی ایم کے ایس وائی کے ذریعے آبپاشی کے نظام میں انقلابی تبدیلی
پردھان منتری کرشی سنچائی یوجنا (پی ایم کے ایس وائے) آبپاشی کے دائرۂ کار میں توسیع اور پانی کے مؤثر استعمال کو یکجا کرتے ہوئے چار اہم حکمت عملی پر مبنی اجزاء کے ذریعے آبپاشی کے پورے نظام (آئی وی سی) کا احاطہ کرتی ہے۔
- تیز رفتار آبپاشی فوائد پروگرام ( اے آئی بی پی)
یہ پروگرام جاری بڑے اور درمیانے درجے کے آبپاشی منصوبوں، بشمول قومی منصوبوں، کی تیز رفتار تکمیل پر مرکوز ہے۔ اے آئی بی پی آبپاشی کے بنیادی ڈھانچے کی بروقت تعمیر کو یقینی بناتا ہے اور کسانوں کے لیے پانی کی دستیابی کو مضبوط کرتا ہے۔سال 2016–17 سے اب تک اس پروگرام کے لیے مرکزی حکومت کی جانب سے21,023 کروڑ روپے کی مالی معاونت فراہم کی جا چکی ہے، جس سے 1 کروڑ 73 لاکھ کسان مستفید ہوئے ہیں۔ مستفیدین کی تعداد کے لحاظ سے یہ اے آئی بی پی کا سب سے بڑا جزو ہے۔سال 2025–26 میں حکومت نے کمانڈ ایریا ڈیولپمنٹ اینڈ واٹر مینجمنٹ کی جدیدکاری (ایم-سی اے ڈی ڈبلیو ایم) کو پی ایم کے ایس وائے- کی ذیلی اسکیم کے طور پر منظوری دی ہے۔ اس جزو کے تحت ابتدائی طور پر1,600 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ یہ اسکیم بڑے اور درمیانے درجے کے آبپاشی منصوبوں سے دباؤ والے پائپوں (پی پی ایس) اور مائیکرو آبپاشی نظام کے ذریعے کھیتوں تک پانی پہنچانے میں اے آئی بی پی کی تکمیل کرتی ہے۔
- ہر کھیت کو پانی ( ایچ کے کے پی)
اس جزو کا مقصد معمولی سطح کے آبپاشی منصوبوں (سطحی اور زیرزمین دونوں ذرائع) کے ذریعے پانی کے نئے ذرائع پیدا کرنا اور یقینی آبپاشی کے تحت قابلِ کاشت رقبہ میں اضافہ کرنا ہے۔اس اسکیم کے آغاز سے اب تک3,462 سطحی معمولی آبپاشی (ایس ایم آئی) اور مرمت، تزئین و بحالی (آر آر آر) منصوبہ مکمل کیے جا چکے ہیں۔اس کے نتیجے میں5 لاکھ 93 ہزار ہیکٹر رقبے پر آبپاشی کی صلاحیت پیدا ہوئی، جبکہ زیر زمین پانی سے متعلق اقدامات کے ذریعے مزید 88 ہزار 550 ہیکٹر رقبہ آبپاشی کے دائرے میں شامل کیا گیا۔
اس جزو کے تحت بارش پر منحصر اور بنجر اراضی کی پیداواری صلاحیت میں اضافہ مربوط واٹرشیڈ مینجمنٹ کے ذریعے کیا جاتا ہے۔سال 2016–17 سے اب تک اس مد میں 12,432.09 کروڑ روپے کی مرکزی مالی معاونت فراہم کی گئی ہے، جس سے13 لاکھ 40 ہزار کسان مستفید ہوئے ہیں اور قدرتی وسائل کے پائیدار انتظام کو فروغ ملا ہے۔
- پر ڈراپ مور کراپ (پی ڈی ایم سی)
یہ اسکیم 2015–16 سے 2021–22 تک پی ایم کے ایس وائے کا ایک اہم جزو رہی، جس کا بنیادی مقصد کھیتوں کی سطح پر پانی کے زیادہ سے زیادہ مؤثر استعمال کو یقینی بنانا تھا۔2022–23 سے پی ڈی ایم سی کوپردھان منتری کرشی وکاس یوجنا ( پی ایم-آر کے وی وائے) میں شامل کر دیا گیا ہے۔اس اسکیم کے تحت ڈرپ آبپاشی (ڈی آئی) اور اسپرنکلر آبپاشی (ایس آئی) جیسے مائیکرو آبپاشی نظام کو فروغ دیا جاتا ہے، تاکہ کم پانی میں زیادہ پیداوار حاصل کی جا سکے۔
زرعی ترقی کے لیے آبپاشی کی سہولیات میں توسیع
حکومت نے پردھان منتری کرشی سنچائی یوجنا ( پی ایم کے ایس وائے) کو2021–26 کی مدت کے لیے 93,068.56 کروڑ روپےکے مجموعی مالیاتی تخمینہ کے ساتھ جاری رکھنے کی منظوری دی ہے۔مرکزی بجٹ 2026–27 میں پی ایم کے ایس وائے کے لیے6,587 کروڑ روپےمختص کیے گئے ہیں، تاکہ آبپاشی کی سہولیات میں توسیع، پانی کے مؤثر استعمال میں بہتری اور آبی وسائل کے پائیدار انتظام کو مزید فروغ دیا جا سکے۔
اگست 2025 تک پردھان منتری کرشی سنچائی یوجنا ( پی ایم کے ایس وائے) کے تحت آبپاشی، مائیکرو آبپاشی، واٹرشیڈ اور زیرزمین پانی سے متعلق اقدامات کے ذریعہ2 کروڑ 70 لاکھ سے زائد کسان مستفید ہو چکے ہیں جن کے لیے64,407 کروڑ روپے کی مالی معاونت فراہم کی گئی۔ ان تمام اقدامات کے نتیجے میں مجموعی طور پر2 کروڑ 46 لاکھ 10 ہزار ہیکٹر سے زائد رقبہ پر آبپاشی کی سہولیات فراہم کی گئیں یا انہیں ترقی دی گئی، جس سے آبی تحفظ کو مضبوط بنانے اور پائیدار زرعی ترقی کو فروغ دینے میں اہم مدد ملی۔
|
ہر قطرہ قیمتی: اسپرنکلر آبپاشی نے کس طرح ایک زرعی کاروبار میں انقلابی تبدیلی پیدا کی
اتر پردیش کے ضلع بارہ بنکی میں برادراوما شنکر ورما اورسبھاش ورما 1990 کی دہائی کے آغاز سے زراعت سے وابستہ تھے۔ وہ روایتی سیلابی آبپاشی کے طریقے سے دھان، گندم، سرسوں، کیلا اور پودینہ (مینتھا) جیسی فصلیں کاشت کرتے تھے۔ تاہم اس طریق آبپاشی میں پانی اور محنت دونوں کی زیادہ ضرورت پڑتی تھی، جس کے باعث فصلوں کی نشوونما یکساں نہیں ہوتی تھی اور پیداوار بھی متاثر ہوتی تھی۔
سال 2016میں پردھان منتری کرشی سنچائی یوجنا (پی ایم کے ایس وائے) کے تحتاسپرنکلر آبپاشی کا نظام اختیار کرنے سے ان کی کاشتکاری میں نمایاں تبدیلی آئی۔ اس جدید نظام نے وسائل کے مؤثر استعمال کو یقینی بنایا اور زرعی پیداوار میں خاطر خواہ بہتری پیدا کی۔
اسپرنکلر آبپاشی اپنانے کے بعد فصلوں کی پیداوار میں 25 سے 30 فیصد اضافہ ہوا۔ اس نظام کے ذریعے فصلوں کی یکساں نشوونما ممکن ہوئی اور جڑوں کی صحت بھی بہتر ہوئی۔
اس نئی ٹیکنالوجی کے استعمال سے پانی، بجلی، مزدوری اور کھاد کے استعمال میں تقریباً50 فیصد کمی آئی۔ مزدوری کی ضرورت 50 سے 60 فیصد تک کم ہو گئی، جس سے کاشت کی لاگت میں نمایاں کمی واقع ہوئی، جبکہ کھاد کا استعمال بھی پہلے کے مقابلے میں تقریباًایک چوتھائی رہ گیا۔
نتیجتاً ان کسانوں نےفی ہیکٹر تقریباً 60 ہزار سے 70 ہزار روپےمنافع حاصل کیا۔ ان کی کامیابی دیکھ کر آس پاس کے دیگر کسان بھی اسپرنکلر آبپاشی کے فوائد سے متاثر ہوئے اور اس نظام کو اپنانے میں دلچسپی لینے لگے۔
ان کا تجربہ پردھان منتری کرشی سنچائی یوجنا (پی ایم کے ایس وائے) کے ‘‘پر ڈراپ مور کراپ’’ (ہر قطرہ، زیادہ پیداوار) کے تصور کی عملی مثال ہے، جس کا مقصد پانی کے تحفظ کو فروغ دینا، زرعی پیداوار میں اضافہ کرنا اور کسانوں کی آمدنی میں بہتری لانا ہے۔
|
مائیکرو آبپاشی ٹیکنالوجی کے ذریعہ آبپاشی کی کارکردگی میں بہتری
پردھان منتری کرشی سنچائی یوجنا (پی ایم کے ایس وائے) کے تحت ہر کھیت کو پانی ( ایچ کے کے پی) اورتیز رفتار آبپاشی فوائد پروگرام (اے آئی بی پی) جیسے اجزاء آبپاشی کے بنیادی ڈھانچے میں توسیع اور کھیتوں تک پانی کی دستیابی بڑھانے پر توجہ دیتے ہیں۔ اس کے برعکس ‘‘پر ڈراپ مور کراپ ( پی ڈی ایم سی) کھیتوں کی سطح پرمائیکرو آبپاشی کی جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے پانی کے مؤثر استعمال کو فروغ دیتا ہے۔
اس جزو کے تحت ڈرپ، اسپرنکلر اور دیگر جدید طریقوں کے ذریعے پانی کی مؤثر ترسیل اور ضرورت کے مطابق درست مقدار میں آبپاشی کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے۔ ڈرپ آبپاشی میں پانی اور غذائی اجزا براہ راست پودے کی جڑوں تک مطلوبہ مقدار میں پہنچائے جاتے ہیں، جبکہ اسپرنکلر آبپاشی میں پائپوں اور اسپرے ہیڈز کے ذریعے قدرتی بارش کی طرز پر پانی کا چھڑکاؤ کیا جاتا ہے۔ یہ جدید ٹیکنالوجیز پانی کے تحفظ، آبپاشی کی کارکردگی میں اضافے اور فصلوں کی پیداوار بہتر بنانے میں معاون ثابت ہوتی ہیں۔
ان ٹیکنالوجیز کو فروغ دینے کے لیے نیشنل بینک فار ایگریکلچر اینڈ رورل ڈیولپمنٹ (این اے بی اے آر ڈی- نابارڈ) کے تحت مائیکرو آبپاشی فنڈ قائم کیا گیا ہے۔
مائیکرو آبپاشی، جس میں ڈرپ اوراسپرنکلر نظام شامل ہیں، ایک جدید آبپاشی ٹیکنالوجی ہے جو کھیتوں کی سطح پر فصلوں کو انتہائی مؤثر انداز میں پانی فراہم کرتی ہے۔ اس طریقے میں پانی براہِ راست پودوں کی جڑوں تک پہنچایا جاتا ہے، جس سے پانی کے ضیاع میں کمی آتی ہے، مٹی میں نمی برقرار رہتی ہے، فصلوں کی پیداوار بہتر ہوتی ہے اور موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کی صلاحیت میں اضافہ ہوتا ہے۔
‘‘پر ڈراپ مور کراپ (پی ڈی ایم سی)’’کے تحت چھوٹے اور حاشیہ پر موجود کسانوں کو مائیکرو آبپاشی نظام نصب کرنے کے لیے 55 فیصد مالی معاونت فراہم کی جاتی ہے، جبکہ دیگر کسانوں کو45 فیصد مالی امداد دی جاتی ہے۔
اس اسکیم کے آغاز سے اب تک 1 کروڑ 10 لاکھ 92 ہزار ہیکٹر رقبہ مائیکرو آبپاشی کے دائرے میں لایا جا چکا ہے، جو بھارت کے مجموعی خالص زیرِ کاشت رقبہ کا تقریباً 7.98 فیصد بنتا ہے۔
ہر سال تقریباً9 لاکھ 30 ہزار کسان اس اسکیم کے تحت مالی معاونت حاصل کرتے ہیں، جو پانی کے مؤثر استعمال کو فروغ دینے اور کسانوں کے ذرائع معاش کو مضبوط بنانے میں اس اسکیم کے اہم کردار کی عکاسی کرتا ہے۔
ترقی کو سیراب کرتی پی ایم کے ایس وائے: ایک انقلابی تبدیلی
پردھان منتری کرشی سنچائی یوجنا ( پی ایم کے ایس وائے) نے پائیدار آبی وسائل کے انتظام اور آبپاشی کے دائرۂ کار میں توسیع کے ذریعے بھارت کے زرعی شعبے میں نمایاں تبدیلی پیدا کی ہے۔یہ اسکیم ‘‘پر ڈراپ مور کراپ (پی ڈی ایم سی) (جو اس وقت پردھان منتری راشٹریہ کرشی وکاس یوجنا (پی ایم – آر کے وی وائے) کا حصہ ہے،ہر کھیت کو پانی ( ایچ کے کے پی) اورواٹرشیڈ ترقی جیسے اجزاء کے ذریعے پانی کے مؤثر استعمال کو فروغ دیتی ہے۔جدید آبپاشی ٹیکنالوجیز، خصوصاً مائیکرو آبپاشی نے موسمیاتی تبدیلیوں سے ہم آہنگ، پائیدار اور زیادہ مؤثر زرعی طریقوں کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔پی ایم کے ایس وائے سے ملک بھر میں لاکھوں کسان، بالخصوص چھوٹے اور حاشیہ پر موجود کاشتکار، مستفید ہوئے ہیں۔ اس اسکیم نے آبپاشی کی صلاحیت میں اضافہ کیا، دیہی آبادی کے ذرائع معاش کو بہتر بنایا اور ماحولیاتی پائیداری کو فروغ دینے میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔
حوالہ جات
Ministry of Agriculture and Farmer’s Welfare
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2120360
https://pmksy.gov.in/pdflinks/Guidelines_English.pdf
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=1524067®=48&lang=2#:~:text=It%20was%20restructured%20and%20renamed,with%20AIBP%20since%20XII%20Plan.
https://agritech.tnau.ac.in/agricultural_engineering/agriengg_faq_swc.html
https://sameti.assam.gov.in/schemes/pradhan-mantri-krishi-sinchayee-yojana-pmksy \
https://sansad.in/getFile/loksabhaquestions/annex/185/AU1388_YiT1U8.pdf?source=pqals
https://sansad.in/getFile/loksabhaquestions/annex/185/AU1424_eZX914.pdf?source=pqals
Ministry of Information and Broadcasting
https://www.youtube.com/watch?v=Np56e2GwCQo
Ministry of Jal Shakti
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2157479
https://sansad.in/getFile/loksabhaquestions/annex/184/AU4423_eMn2Zt.pdf?source=pqals
https://sansad.in/getFile/loksabhaquestions/annex/184/AU1406_B0zGM0.pdf?source=pqals&utm
https://sansad.in/getFile/annex/259/AU364.pdf?source=pqars
https://sansad.in/getFile/annex/268/AU2808_Uj2WID.pdf?source=pqars
Ministry of Finance
https://www.indiabudget.gov.in/doc/OutcomeBudgetE2026_2027.pdf
Ministry of Rural Development
https://sansad.in/getFile/loksabhaquestions/annex/184/AS117_iDl9s0.pdf?source=pqals
PIB Backgrounders
https://static.pib.gov.in/WriteReadData/specificdocs/documents/2022/jul/doc20227169101.pdf
Click to See In PDF
********
ش ح- ظ الف-ع ن
UR-9381
(रिलीज़ आईडी: 2279775)
आगंतुक पटल : 8