سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت
سی ایس آئی آر-آئی آئی سی ٹی حیدرآباد میں ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے 44.46 کروڑ روپے کی لاگت کے ہاسٹل کا سنگ بنیاد رکھا، چار جدید تحقیق و ترقی مراکز کا افتتاح کیا
زرعی تحقیق اور صنعت کی شراکت داری بھارت کی آئندہ اقتصادی ترقی کو نئی رفتار دے گی: ڈاکٹر جتیندر سنگھ
زرعی تحقیق، ویسٹ ٹو ویلتھ ٹیکنالوجیز اور تحقیقی اختراعات کو عملی شکل دینے سے کسانوں، ایم ایس ایم ایز اور اسٹارٹ اپس کے لیے نئے مواقع پیدا ہو رہے ہیں: ڈاکٹر جتیندر سنگھ
प्रविष्टि तिथि:
30 JUN 2026 5:41PM by PIB Delhi
مرکزی وزیر مملکت (آزادانہ چارج) برائے سائنس و ٹیکنالوجی اور ارضیاتی علوم، نیز وزیر مملکت برائے دفتر وزیراعظم برائے عملہ، عوامی شکایات، پنشن، ایٹمی توانائی و خلائی امور ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا ہے کہ زرعی تحقیق اور صنعت کے درمیان مضبوط شراکت داری سائنسی اختراعات کو اقتصادی قدر میں تبدیل کرتے ہوئے بھارت کی آئندہ اقتصادی ترقی کو نئی رفتار دے گی۔
انہوں نے کہا کہ بھارت کے زرعی شعبے میں بے پناہ غیر استعمال شدہ امکانات موجود ہیں اور وزیراعظم نریندر مودی کی قیادت میں ملک کی سائنسی ترجیحات صرف فصلوں کی بہتری تک محدود نہیں رہیں بلکہ اب زرعی کچرے اور باقیات کو قیمتی اور قابلِ استعمال مصنوعات میں تبدیل کرنے والی ٹیکنالوجیز کی ترقی پر بھی توجہ دی جا رہی ہے، جس سے کسانوں، صنعت اور معیشت کے لیے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔
ڈاکٹر جتیندر سنگھ حیدرآباد میں سی ایس آئی آر۔انڈین انسٹی ٹیوٹ آف کیمیکل ٹیکنالوجی (سی ایس آئی آر-آئی آئی سی ٹی) میں چار جدید تحقیق و ترقی (آر اینڈ ڈی) مراکز کا افتتاح اور 200 طلبہ کی گنجائش والے جدید ہاسٹل کمپلیکس کا سنگ بنیاد رکھنے کے بعد سائنس دانوں سے خطاب کر رہے تھے۔
اس موقع پر انہوں نے فلورو کیمیکلز کے لیے ایڈوانسڈ آر اینڈ ڈی سہولت کا افتتاح کیا، جبکہ سیری پورم ہینڈلوم کلسٹر کے لیے 500 کے ایل ڈی صلاحیت کے غیر مرکزی ایفلوئنٹ ٹریٹمنٹ پلانٹ، کنٹینیوئس پروسیسنگ پلیٹ فارم فار انڈسٹریل کیمیکلز اور سسٹین ایبل انجینئرنگ کمپلیکس کو ورچوئل طور پر قوم کے نام وقف کیا۔
وزیر موصوف نے 44.46 کروڑ روپے کی لاگت سے تعمیر ہونے والے جدید ہاسٹل کمپلیکس کا سنگ بنیاد بھی رکھا، جس سے نوجوان محققین کے لیے رہائشی سہولیات میں اضافہ ہوگا۔
اس تقریب میں سائنس دانوں، صنعتی نمائندوں، ٹیکنالوجی شراکت داروں، اسٹارٹ اپس، محققین اور طلبہ نے شرکت کی، جس سے سائنسی تحقیق کو صنعتی اختراع اور اقتصادی ترقی سے جوڑنے پر حکومت کی توجہ نمایاں ہوئی۔
ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ موجودہ دور میں تحقیقی اداروں اور صنعت کے درمیان اشتراک ناگزیر ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تحقیقی تجربہ گاہیں اب تنہا کام نہیں کر سکتیں بلکہ انہیں صنعت، چھوٹی و درمیانی صنعتوں (ایم ایس ایم ایز)، اسٹارٹ اپس اور ٹیکنالوجی شراکت داروں کے ساتھ مل کر اختراعات اور ان کی تجارتی شکل دینے کے عمل کو تیز کرنا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ زراعت کے شعبے میں پوری ویلیو چین پر سائنسی تحقیق، بہتر ٹیکنالوجی اور زرعی باقیات کے مؤثر استعمال کے ذریعے ویلیو ایڈیشن، دیہی صنعت کاری اور پائیدار صنعتی ترقی کے نئے امکانات پیدا کیے جا سکتے ہیں۔
وزیر نے کہا کہ بھارت اس وقت سائنسی انقلاب کے دور سے گزر رہا ہے، جہاں اختراع قومی ترقی کا بنیادی محرک بنتی جا رہی ہے۔ دفاعی پیداوار، ہوابازی، خلائی تحقیق اور جدید ٹیکنالوجی میں حالیہ کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بھارت اب صرف ٹیکنالوجی استعمال کرنے والا ملک نہیں بلکہ اسے ترقی دینے والا ملک بن رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ سی ایس آئی آر نے ہمیشہ قومی ضروریات کے مطابق ایسی ٹیکنالوجیز تیار کی ہیں جو صنعت اور سماج دونوں کے لیے عملی حل فراہم کرتی ہیں۔ انہوں نے خوراک اور زرعی فضلے سے کمپریسڈ بایو گیس تیار کرنے اور کاربن ڈائی آکسائیڈ کو ڈائی میتھائل ایتھر میں تبدیل کرنے والی ٹیکنالوجیز کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ اختراعات صاف توانائی، مدور معیشت اور فضلے کو قومی وسائل میں تبدیل کرنے کے بھارتی عزم کی عکاس ہیں۔
فلورو کیمیکلز کے لیے قائم نئی تحقیقاتی سہولت کو انہوں نے قومی اہمیت کا حامل قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے فلورینیشن ٹیکنالوجی میں بھارت کی خود انحصاری مضبوط ہوگی اور دواسازی، زرعی کیمیکلز، خصوصی کیمیکلز، ریفریجرینٹس، الیکٹرانک کیمیکلز اور جدید مواد کی تیاری کو فروغ ملے گا، جبکہ درآمدات پر انحصار بھی کم ہوگا۔
انہوں نے سیری پورم ہینڈلوم کلسٹر کے لیے قائم 500 کے ایل ڈی ایفلوئنٹ ٹریٹمنٹ پلانٹ کو اس بات کی مثال قرار دیا کہ کس طرح سائنسی اختراع روایتی صنعتوں اور مقامی معیشت کو مضبوط بنا سکتی ہے۔ ان کے مطابق یہ کم توانائی استعمال کرنے والی مقامی ٹیکنالوجی آلودگی کم کرے گی، زیر زمین پانی کا تحفظ کرے گی، پانی کے دوبارہ استعمال کو فروغ دے گی اور ماحول دوست ٹیکسٹائل صنعت کی راہ ہموار کرے گی۔
ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کنٹینیوئس پروسیسنگ پلیٹ فارم کو کیمیکل اور دواسازی صنعت کا مستقبل قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے پیداوار کا معیار بہتر ہوگا، حفاظت میں اضافہ ہوگا، ماحول پر منفی اثرات کم ہوں گے اور تحقیقی نتائج کو تیزی سے تجارتی ٹیکنالوجی میں تبدیل کیا جا سکے گا۔
انہوں نے پائیدار انجینئرنگ کمپلیکس کو مستقبل پر مبنی ایک اہم منصوبہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہاں پلاسٹک، بایوماس، زرعی فضلے اور صنعتی باقیات کو ایندھن، ہائیڈروجن، جدید مواد اور دیگر قیمتی مصنوعات میں تبدیل کیا جائے گا، جو مدور معیشت اور خالص صفر اخراج کے حکومتی ہدف کے حصول میں اہم کردار ادا کرے گا۔
وزیر موصوف نے کہا کہ ان چاروں منصوبوں کی مشترکہ خصوصیت یہ ہے کہ یہ لیبارٹری کی تحقیق کو صنعت سے جوڑتے ہیں اور اسٹارٹ اپس، ایم ایس ایم ایز، کاروباری اداروں اور صنعتوں کو مقامی ٹیکنالوجی کے فروغ میں مدد فراہم کریں گے۔ ان کے مطابق سائنسی کامیابی کا اصل معیار تحقیقی مقالے نہیں بلکہ ایسی ٹیکنالوجیز ہیں جو روزگار پیدا کریں، صنعت کو مضبوط کریں اور عام شہریوں کی زندگی بہتر بنائیں۔
انہوں نے سی ایس آئی آر-آئی آئی سی ٹی میں حال ہی میں تقریباً 90 مستقل ملازمین، جن میں قریب 70 سائنس دان اور تکنیکی ماہرین شامل ہیں، کی تقرری کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ اعلیٰ معیار کی تحقیقی سہولیات اور رہائشی ڈھانچہ نوجوان سائنس دانوں کی صلاحیتوں کو نکھارنے کے لیے یکساں طور پر ضروری ہیں۔
ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ انوسندھان نیشنل ریسرچ فاؤنڈیشن اور جدید ٹیکنالوجیز کے فروغ کے لیے حکومتی اقدامات کے ذریعے ایسا ماحول تیار کیا جا رہا ہے جہاں تحقیقی ادارے، جامعات، اسٹارٹ اپس اور صنعت مل کر عالمی معیار کی ٹیکنالوجیز تیار کریں۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کا مقصد یہ ہے کہ بھارتی تجربہ گاہیں عالمی سائنسی تحقیق میں قیادت کریں، بھارتی صنعتیں اعلیٰ قدر والی ٹیکنالوجیز تیار کریں اور بھارتی اختراعات دنیا کے بڑے چیلنجز کا حل فراہم کریں۔
آخر میں ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے سی ایس آئی آر-آئی آئی سی ٹی کے سائنس دانوں، محققین اور عملے کو مبارکباد دیتے ہوئے ان پر زور دیا کہ وہ صنعت کے ساتھ تعاون کو مزید فروغ دیں، نوجوان کاروباری افراد کی رہنمائی کریں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ ہر اہم تحقیقی اختراع مارکیٹ تک پہنچے۔ انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ ادارہ مستقبل میں بھی تحقیق کو صنعت، صنعت کو اقتصادی ترقی اور اختراع کو عوام کے بہتر معیارِ زندگی میں تبدیل کرنے میں قائدانہ کردار ادا کرتا رہے گا۔




***********
ش ح ۔ م د ۔ م ص
(U :9361 )
(रिलीज़ आईडी: 2279581)
आगंतुक पटल : 7