صحت اور خاندانی بہبود کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

مرکزی وزیر صحت جناب جگت پرکاش نڈا نے 16ویں سی سی ایچ ایف ڈبلیو میٹنگ کے دوران ’سمگر ششو بال سواستھ کاریہ کرم (ایس ایس بی ایس کے) کا آغاز کیا، جس کا مقصد بچے کی صحت اور بچپن کی شروعاتی نشو و نما  کو تقویت فراہم کرنا ہے


متحدہ قومی پروگرام پیدائش سے لے کر 36 مہینوں تک بلارکاوٹ مسلسل گھر اور برادری پر مبنی نگہداشت  کی خدمات فراہم کرے گا

प्रविष्टि तिथि: 29 JUN 2026 6:42PM by PIB Delhi

ملک بھر میں نوزائیدہ اور بچوں کے لیے حفظانِ صحت خدمات کے نظام کو مضبوط بنانے کی سمت میں ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے، صحت و خاندانی بہبود کے مرکزی وزیر جناب جگت پرکاش نڈا نے آج سمگر ششو بال سواستھ کاریہ کرم (ایس ایس بی ایس کے) لانچ کیا۔ یہ ایک متحدہ قومی پروگرام ہے جو ہر بچے کو پیدائش سے لے کر 36 مہینوں تک بلارکاوٹ مسلسل گھر اور برادری پر مبنی نگہداشت کی خدمات فراہم کرتا ہے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image001WOLI.jpg

یہ پروگرام موجودہ ’’نوزائیدہ بچوں کی گھر پر دیکھ بھال (ایچ بی این سی) اور چھوٹے بچے کی گھر دیکھ بھال (ایچ بی وائی سی) جیسے پروگراموں کو ایک واحد جامع فریم ورک سے جوڑ کر’’پہلے تین سال سمپورن دیکھ بھال‘‘ (پہلے تین برس مکمل نگہداشت) کی تصوریت کا مظہر ہے۔  یہ پہل قدمی نوزائیدہ بچے کی بقا کے لیے پہلے 28 دنوں اور دماغ کی بہترین نشوونما کے لیے پہلے تین برسوں کی اہم اہمیت کو تسلیم کرتا ہے، جبکہ ایک مربوط نقطہ نظر کے ذریعے بچوں کی بقا، غذائیت، صحت مند نشوونما اور ابتدائی بچپن کی نشوونما کو مضبوط کرتا ہے۔

ایس ایس بی ایس کے کی ایک اہم خصوصیت ان نوزائیدہ اور چھوٹے بچوں کے لیے خطرے کی درجہ بندی پر مبنی طریقہ کار کا آغاز ہے، جن کی شناخت مختلف وجوہات کی بنا پر 'خطرے سے دوچار' بچوں کے طور پر کی گئی ہو۔ ان وجوہات میں پیدائش کے وقت کم وزن، وقت سے پہلے پیدائش، ماں کا دودھ پلانے میں تاخیر، نوزائیدہ بچوں کے نگہداشت کے مراکز سے چھٹی، غذائی قلت، بار بار بیمار ہونا یا نشو و نما میں تاخیر شامل ہیں۔ ان بچوں کو ان کے خطرے کی سطح کے مطابق اضافی گھریلو دوروں کے ذریعے سخت نگرانی اور دیکھ بھال فراہم کی جائے گی۔ اس پروگرام کے تحت، 'خطرے سے دوچار' نوزائیدہ بچوں کو زندگی کے پہلے 42 دنوں کے دوران 9 گھر کے دورے فراہم کیے جائیں گے، جبکہ 'خطرے سے دوچار' بچوں کو 36 ماہ کی عمر تک 8 اضافی گھریلو دورے فراہم کیے جائیں گے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image002MV75.jpg

 

یہ پروگرام ایکریڈیٹڈ سوشل ہیلتھ ایکٹیوسٹس (آشا کارکنان)، آکسیلری نرس مڈوائف (اے این ایم)، کمیونٹی ہیلتھ آفیسرز (سی ایچ اوز) اور آنگن واڑی ورکرز (اے ڈبلیو ڈبلیو) کے باہمی ہم آہنگ گھریلو دوروں کے ذریعے دیکھ بھال کے تسلسل کو مزید مضبوط بناتا ہے۔ 'خطرے سے دوچار' نوزائیدہ بچوں کے لیے پیدائش کے تیسرے  اور ساتویں دن، اور 'خطرے سے دوچار' بچوں کے لیے تیسرے اور چھٹے مہینے کے دوران اے این ایم اور سی ایچ اوز کے مشترکہ گھریلو دوروں کو شامل کیا گیا ہے۔ یہ باہمی ہم آہنگ اقدامات اس طرح ترتیب دیے گئے ہیں تاکہ وقت پر جانچ، مشاورت اور ضرورت پڑنے پر (اعلیٰ ہسپتال) منتقل کرنے (ریفیرل) کے عمل کو آسان بنایا جا سکے۔

کمزور بچوں کی جلد شناخت اور انتظام کو مضبوط بنانے کے لیے، ایس ایس بی ایس کے ہر گاؤں کی صحت، صفائی اور تغذیہ کے دن (وی ایچ ایس این ڈی)اور آیوشمان آروگیہ مندروں میں ماہانہ شیشو شیویر پر ’ویل-بیبی‘ سیشنز متعارف کرواتا ہے۔ یہ پلیٹ فارم کمیونٹی کے اندر نوزائیدہ اور چھوٹے بچوں کی باقاعدہ اسکریننگ، ترقیاتی تشخیص اور جامع انتظام میں سہولت فراہم کریں گے۔

زچگی اور بچے کی بہبود کے درمیان قریبی باہمی انحصار کو تسلیم کرتے ہوئے، ایس ایس بی ایس کے نے بعد از پیدائش زچگی کی ذہنی صحت کی اسکریننگ کو کمیونٹی کی بنیاد پر دیکھ بھال کے ایک لازمی جزو کے طور پر شامل کیا ہے۔ آشا کارکنان جلد اسکریننگ کریں گے اور جب بھی ضروری ہو مزید تشخیص اور مدد کے لیے بروقت ریفرل کی سہولت فراہم کریں گے۔ یہ پروگرام ذمہ دار نگہداشت، ابتدائی سیکھنے کے مواقع، عمر کے لحاظ سے مناسب کھیل، بچوں کی حفاظت اور ہر گھر کے دورے اور کمیونٹی کے تعامل کے دوران فعال خاندانی مشغولیت کو فروغ دے کر ابتدائی بچپن کی نشوونما کے لیے پرورش کی دیکھ بھال (ای سی ڈی) کو مرکزی دھارے میں شامل کرتا ہے۔

یہ پروگرام خدمات کی فراہمی، نگرانی اور دیکھ بھال کے تسلسل کو بہتر بنانے کے لیے ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز کے وسیع استعمال کا تصور کرتا ہے۔ فیصلے میں معاونت کے نظام، ہر بچے کے حساب سے ڈیجیٹل ٹریکنگ، مریض کی منتقلی (ریفیرل) کے طریقہ کار اور الرٹ سسٹمز 'خطرے سے دوچار' نوزائیدہ بچوں اور بچوں کی مسلسل دیکھ بھال اور کیس مینجمنٹ کو مضبوط بنائیں گے۔ ان ڈیجیٹل سسٹمز کو قومی ڈیجیٹل ہیلتھ پلیٹ فارمز کے ساتھ جوڑا جائے گا، جن میں جننی  پورٹل، یو-وِن پورٹل، ایم پی سی ڈی ایس آر پورٹل، آر بی ایس کے 2.0 پورٹل اور پوشن ٹریکر شامل ہیں، جس سے ابھا  اور بال-ابھا آئی ڈیز کے ذریعے ڈیٹا کا بلا تعطل تبادلہ ممکن ہو سکے گا۔ اس پروگرام میں شہری علاقوں میں گھر پر مبنی دیکھ بھال کو مضبوط بنانے کے لیے مخصوص حکمتِ عملیاں بھی شامل ہیں، خاص طور پر کچی آبادیوں، مہاجرین کی بستیوں اور دیگر پسماندہ برادریوں میں رہنے والے بچوں کے لیے۔

یہ ہدایات ڈیجیٹل دور سے منسلک نئے ابھرتے ہوئے چیلنجوں پر بھی توجہ دیتی ہیں، جس کے تحت بچپن کے ابتدائی دور میں اسکرین کا حد سے زیادہ استعمال اور جسمانی میل جول میں کمی کو دماغی نشو و نما، جذباتی صحت اور سماجی مہارتوں کے لیے ممکنہ خطرات تسلیم کیا گیا ہے۔ اسی مناسبت سے، ایس ایس بی ایس کے بچوں کی علمی، جسمانی، جذباتی اور سماجی نشو و نما میں مدد کے لیے زندگی کے پہلے تین سالوں کے دوران عمر کے حساب سے کھیل کود، جسمانی سرگرمیوں اور ذہنی محرکات (مثبت مشغلو‌ں) کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔

سمگر شیشو بال سواستھ کاریہ کرم کا آغاز، ایک نگہداشت پر مبنی، جامع اور ڈیجیٹل طور پر لیس طریقہ کار کے ذریعے ماں، نوزائیدہ بچے اور بچوں کی صحت کی دیکھ بھال کے تسلسل کو مضبوط بنانے کی حکومتی کوششوں میں ایک اہم سنگِ میل ہے۔

*****

 (ش ح –ا ب ن)

U.No:9325


(रिलीज़ आईडी: 2279218) आगंतुक पटल : 6
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , Tamil , Telugu