صحت اور خاندانی بہبود کی وزارت
مرکزی وزیر صحت جناب جے پی نڈا نے صحت کے شعبے کے لیے آروگیہ سیتو 2.0 اور دیگر ڈیجیٹل اقدامات کا آغاز کیا
ان ڈیجیٹل صحت اقدامات کا آغاز صحت کی سہولیات کو مزید مربوط، قابلِ رسائی اور شہریو ں پر مرکوز بنانے کی سمت ایک اور اہم قدم ہے: جناب جے پی نڈا
نوّے(90)کروڑ سے زائد ابھا اکاؤنٹس کے قیام اور 100 کروڑ سے زیادہ صحت کے ریکارڈوں کے منسلک ہونے کے ساتھ، بھارت آج دنیا کے سب سے بڑے ڈیجیٹل صحت کے نظاموں میں سے ایک ہے
نئی آروگیہ سیتو ایپلی کیشن ہر عمر کے افرادماؤں اور بچوں سے لے کر نوجوانوں، بزرگوں اور دائمی امراض میں مبتلا افراد تک کوصحت کی مختلف خدمات تک آسانی سے اور بلا رکاوٹ رسائی فراہم کرے گی
ڈیجیٹل صحت کے اقدامات اہم ڈیجیٹل پرتوں کے ذریعے آیوش خدمات کی رسائی کو بڑھائیں گے اور پورے شعبے میں اختراع کو فروغ دیں گے:جناب پرتاپ راؤ جادھو
خواتین اکثر اپنے خاندان کی صحت کی حفاظت کی ذمہ داری تو نبھاتی ہیں لیکن اپنی صحت کو نظر انداز کر دیتی ہیں، ایسے میں ڈیجیٹل صحت کے اقدامات انہیں اپنی صحت کی دیکھ بھال خود سنبھالنے کے قابل بنا سکتے ہیں: محترمہ انوپریا پٹیل
प्रविष्टि तिथि:
29 JUN 2026 4:57PM by PIB Delhi
صحت اور خاندانی بہبود اور کیمیکلز اور کھادوں کےمرکزی وزیر جناب جگت پرکاش نڈا نے آج ڈیجیٹل صحت کے سلسلے میں متعدد اقدامات کا آغاز کیا، جن کا مقصد بھارت کے صحت کے شعبے کے لیے ڈیجیٹل پبلک انفراسٹرکچر کو مضبوط بنانا اور ملک بھر میں باہم مربوط (انٹرآپریبل) ڈیجیٹل صحت کے حل کو تیزی سے فروغ دینا ہے۔

اس تقریب میں جن معزز شخصیات نے شرکت کی ان میں جناب پرتاپ راؤ جادھو، مرکزی وزیر مملکت برائے صحت و خاندانی بہبود اور مرکزی وزیر مملکت (آزادانہ چارج) برائے آیوش؛ محترمہ انوپریا پٹیل، مرکزی وزیر مملکت برائے صحت و خاندانی بہبود؛ ڈاکٹر ایم سرینواس، رکن (صحت)، نیتی آیوگ؛ ڈاکٹر مانک ساہا، وزیر اعلیٰ، تریپورہ؛ جناب راجندر شکلا، نائب وزیر اعلیٰ، مدھیہ پردیش؛ جناب برجییش پاٹھک، نائب وزیر اعلیٰ، اتر پردیش؛ محترمہ پونیا سلیلا سریواستوا، مرکزی سیکرٹری صحت؛ ڈاکٹر راجیو بہل، سیکرٹری، محکمہ صحت تحقیق اور ڈائریکٹر جنرل، آئی سی ایم آر؛ اور ڈاکٹر سنیل کمار برنوال، چیف ایگزیکٹو آفیسر، نیشنل ہیلتھ اتھارٹی شامل تھے۔
آج شروع کیے گئے ڈیجیٹل اقدامات میں آروگیہ سیتو 2.0، آیوشمان ایپ، آیوشمان سارتھی واٹس ایپ چیٹ بوٹ، نیشنل ہیلتھ کلیم ایکسچینج (این ایچ سی ایکس)، انشورنس پلان ایف ایچ آئی آرآبجیکٹ کریئیٹر، ای-سشروت کلینک، یونیفائیڈ ہیلتھ انٹرفیس (یو ایچ آئی )، ڈرگ رجسٹری، کامن لوئینک کوڈز فار انڈیا (سی ایل سی آئی) اور بھارت ہیلتھ ٹرمینالوجی سروس (بی ایچ ٹی ایس )شامل ہیں۔یہ اقدامات نیشنل ہیلتھ اتھارٹی (این ایچ اے) اور نیشنل ریسورس سینٹر فار ای ایچ آر اسٹینڈرڈز (این آر سی ای سی )کے تحت تیار کیے گئے ہیں، جن کا مقصد صحت کی خدمات تک رسائی، کارکردگی اور تسلسلِ علاج کو بہتر بنانا اور صحت کے پورے نظام میں معلومات کے ہموار تبادلے کو ممکن بنانا ہے۔
اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے مرکزی وزیر صحت نے اس موقع کو بھارت کے صحت مند قوم کی تشکیل کی جانب ڈیجیٹل اختراع کے ذریعے ایک اہم سنگ میل قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی دور اندیش قیادت میں حکومت نے آیوشمان بھارت جیسے انقلابی اقدامات کے ذریعے صحت کی سہولیات کے دائرہ کار کو مسلسل وسعت دی ہے، جبکہ بنیادی، ثانوی اور ترتیبی سطحوں پر علاج کے نظام کے درمیان روابط کو بھی مضبوط بنایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان ڈیجیٹل صحت اقدامات کا آغاز صحت کے نظام کو مزید مربوط، قابلِ رسائی اور شہری مرکوز بنانے کی سمت ایک اور اہم قدم ہے۔

آیوشمان بھارت ڈیجیٹل مشن (اے بی ڈی ایم)کی نمایاں پیش رفت کو اجاگر کرتے ہوئے جناب نڈا نے کہا کہ 90 کروڑ سے زائد ابھا اکاؤنٹس کے قیام اور 100 کروڑ سے زیادہ صحت کے ریکارڈوں کے منسلک ہونے کے ساتھ، بھارت آج دنیا کے سب سے بڑے ڈیجیٹل صحت کے نظاموں میں سے ایک کا حامل ہے۔ انہوں نے صحت کے شعبے میں مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے کردار پر بھی روشنی ڈالی اور بہتر صحت خدمات کی فراہمی کے لیے اے آئی پر مبنی صحیح(ایس اے ایچ آئی اور بودھی(بی او ڈی ایچ آئی) جیسے اقدامات کے آغاز کا حوالہ دیا۔ انہوں نے زور دیا کہ ڈیجیٹلائزیشن اب ایک اختیار نہیں بلکہ ضرورت بن چکی ہے، اور حال ہی میں شروع کیے گئے شہریوں پرمرکوز، مربوط اور فعال ڈیجیٹل پلیٹ فارم بکھری ہوئی صحت خدمات کو ایک ہی مربوط پلیٹ فارم پر یکجا کرتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ نئی شکل دی گئی آروگیہ سیتو ایپ ہر عمر کے افرادماؤں اور بچوں سے لے کر نوجوانوں، بزرگوں اور دائمی امراض میں مبتلا افراد تک کو صحت کی مختلف خدمات تک آسان اور بلا رکاوٹ رسائی فراہم کرے گی۔
جناب نڈا نے ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں سے اپیل کی کہ وہ ان اقدامات کو فعال طور پر نافذ کریں۔ انہوں نے زور دیا کہ صحت ایک ریاستی موضوع ہے اور مرکزی حکومت پالیسی رہنمائی اور ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچہ فراہم کرتی ہے، تاہم ان اقدامات کی کامیابی کا انحصار ریاستی سطح پر مؤثر عمل درآمد پر ہے۔ انہوں نے ڈیجیٹل صحت کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے میں ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی مسلسل حمایت پر ان کا شکریہ ادا کیا اور ان سے کہا کہ وہ ان کوششوں کو مزید مضبوط بنائیں تاکہ ایک صحت مند اور ڈیجیٹل طور پر بااختیار بھارت کے وژن کو حقیقت میں بدلا جا سکے، جو وکست بھارت @2047 کے ہدف میں بھی معاون ثابت ہوگا۔

اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے جناب پرتاپ راؤ جاودھ نے اس اقدام کو بھارت کے ڈیجیٹل صحت کے نظام کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی قیادت میں حکومت نے آیوش نظام کو جدید طبی نظام کے ساتھ مربوط کرنے کے لیے مجموعی حکومتی نقطۂ نظراپنایا ہے، جس سے ایک زیادہ جامع اور مریض مرکوز صحت کا ڈھانچہ تشکیل پا رہا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ڈیجیٹلائزیشن محض ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچہ بنانے کا نام نہیں بلکہ ہر شہری تک صحت کی سہولیات کی رسائی کو یقینی بنانے کا عمل ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدام اہم ڈیجیٹل پرتوں کے ذریعے آیوش خدمات کی رسائی کو وسعت دے گا اور اس شعبے میں اختراع کو فروغ دے گا۔ انہوں نے حکومت کے اس عزم کا اعادہ کیا کہ روایتی علمی نظام اور جدید طب کو ہم آہنگ کر کے ایک ایسا مربوط نظام تشکیل دیا جائے جو سب کے لیے قابلِ رسائی، جامع اور یکجا صحت خدمات فراہم کرے۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے محترمہ انوپریا پٹیل نے زور دیا کہ صحت کی دیکھ بھال بنیادی طور پر انسانوں سے متعلق ہے اور اس بات کو یقینی بنانا ضروری ہے کہ معیاری صحت کی سہولیات ہر فرد تک، خصوصاً خواتین تک آسانی سے پہنچ سکیں۔ انہوں نے کہا کہ خواتین اکثر اپنے خاندان کی صحت کی ذمہ داری تو نبھاتی ہیں لیکن اپنی صحت کو نظر انداز کر دیتی ہیں، ایسے میں ڈیجیٹل صحت کے اقدامات انہیں اپنی صحت کی دیکھ بھال خود سنبھالنے کے قابل بنا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل ہیلتھ ریکارڈز خواتین کو اپنے طبی ریکارڈ تک ہر جگہ اور ہر وقت آسان رسائی فراہم کریں گے، جس سے علاج کے تسلسل کو یقینی بنایا جا سکے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ اقدام فرنٹ لائن صحت کارکنان، بشمول آشا اور آنگن واڑی کارکنان، کے انتظامی بوجھ کو بھی کم کرے گا، جس سے خدمات کی فراہمی میں بہتری آئے گی۔
ڈاکٹر ایم سرینواس نے کہا کہ آیوشمان بھارت ڈیجیٹل مشن(اے بی ڈی ایم) بکھرے ہوئے ڈیجیٹل صحت کے حل کو ایک متحد قومی صحت نظام میں یکجا کر رہا ہے، جس سے ایک زیادہ مربوط، مؤثر اور شہری مرکوز صحت کا نظام تشکیل پا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ مشن کاغذی کارروائی اور دوہرے ریکارڈ کے مسئلے کو کم کرے گا، طبی فیصلوں کی بہتر معاونت فراہم کرے گا اور ملک بھر میں بنیادی صحت خدمات کی فراہمی کی کارکردگی کو بہتر بنائے گا۔ انہوں نے ڈیجیٹل صحت کی تبدیلی کے امکانات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ اقدامات تمام شہریوں کے لیے صحت کی سہولیات تک رسائی، مساوات اور علاج کے تسلسل کو بہتر بنائیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جیسے جیسے یہ مشن ترقی کرے گا، اے بی ڈی ایم کے پاس یہ صلاحیت موجود ہے کہ وہ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے ذریعے ایک مربوط اور جامع صحت نظام تشکیل دینے کے لیے عالمی سطح پر ایک مثالی ماڈل کے طور پر ابھرے۔
ڈاکٹر سنیل کمار برنوال نے کہا کہ بھارت کا ڈیجیٹل پبلک انفراسٹرکچر پہلے ہی ادائیگیوں، پہچان اور عوامی خدمات کی فراہمی جیسے اہم شعبوں کو تبدیل کر چکا ہے، اور اب صحت کا شعبہ بھی باہم مربوط پلیٹ فارموں اور شہریوں پر مرکوز خدمات کے ایک توسیع پذیر نظام کے ذریعے اسی طرح کی ڈیجیٹل تبدیلی سے گزر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج شروع کیے گئے اقدامات صحت کی خدمات تک رسائی کو بہتر بنائیں گے، کارکردگی میں اضافہ کریں گے، مریضوں کے تجربے کو بہتر بنائیں گے اور صحت فراہم کرنے والوں کو بہتر ڈیجیٹل آلات فراہم کریں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ اقدامات ہر شہری کے لیے ایک مربوط، جامع اور ڈیجیٹل طور پر بااختیار صحت نظام کی تشکیل کی سمت ایک اور اہم قدم ہیں۔
********
ش ح ۔ش آ۔ ع د
U. No. 9315
(रिलीज़ आईडी: 2279085)
आगंतुक पटल : 12