مکانات اور شہری غریبی کے خاتمے کی وزارت
تلنگانہ نے رویّوں میں تبدیلی اور عوامی شمولیت کے ذریعے صاف ستھرے شہروں کے جانب مضبوط پیش رفت کی
प्रविष्टि तिथि:
29 JUN 2026 1:46PM by PIB Delhi
تلنگانہ سوچھ بھارت مشن–اربن(ایس بی ایم-یو) 2.0کے تحت روز مرہ کی عوامی شمولیت کے ذریعے شہروں کی صفائی کے فروغ میں نمایاں پیش رفت کر رہا ہے۔ اس مقصد کے لیے شروع کی گئی 100 روزہ معلومات، تعلیم اور مواصلات (آئی ای سی) کی مہم کے ذریعے مقامی لوگوں اور شہری بلدیاتی اداروں (یو ایل بی) نے مل کر صفائی، عوامی صحت اور پائیدار طرزِ عمل میں بڑے پیمانے پر بہتری کو یقینی بنایا۔

سوچھ بھارت مشن صفائی ستھرائی کے معاملے میں رویّوں میں تبدیلی لانے والی دنیا کی سب سے بڑی عوامی تحریک کے طور پر اپنی منفرد شناخت رکھتا ہے۔ سوچھ بھارت مشن اربن 2.0 کے آغاز کے ساتھ اس انقلابی سفر نے مزید عزم اور وسعت اختیار کر لی ہے۔ اس مشن کا بنیادی مقصد شہریوں میں فضلہ کے ذمہ دارانہ انتظام سے متعلق مثبت طرزِ فکر اور عملی رویّوں کو فروغ دینا ہے۔ اس تبدیلی کو عملی جامہ پہنانے میں معلومات، تعلیم اور مواصلات (آئی ای سی) پر مبنی سرگرمیوں نے نہایت اہم کردار ادا کیا ہے۔ ان اقدامات کے ذریعے نہ صرف عوام میں بیداری پیدا کی گئی بلکہ ان کے طرزِ فکر میں مثبت تبدیلی لائی گئی اور شہری برادریوں میں سوچھتا کے حوالے سے احساسِ ذمہ داری، اپنائیت اور فخر کو فروغ دیا گیا۔ اس اجتماعی شعور کے نتائج آج ملک بھر کے شہروں میں نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں- جہاں صاف ستھری سڑکیں، بحال شدہ عوامی مقامات اور کبھی کچرے کے ڈھیروں سے گندے رہنے والے علاقوں کی نئی صورتِ حال اس کامیابی کی گواہ ہے۔ملک بھر میں ریاستوں اور شہری بلدیاتی اداروں (یو ایل بی) نے غیر معمولی تخلیقی صلاحیتوں کے ذریعے - ایسی منفرد پہل اور مسلسل عوامی بیداری کے پروگرام نافذ کر کے اس چیلنج پر قابو پایا ہے، جو صرف معلومات کی فراہمی تک محدود نہیں بلکہ شہریوں کو بھارت کی صاف ستھری شہری تحریک کا سرگرم حصہ بننے کی ترغیب بھی دے رہے ہیں۔
ایس بی ایم-یو 2.0 کے مقاصد سے ہم آہنگ رہتے ہوئے ریاست تلنگانہ نے شہری صفائی کی اپنی حکمتِ عملی میں عوامی شمولیت اور رویّوں میں مثبت تبدیلی کو ہمیشہ بنیادی ستون کے طور پر اہمیت دی ہے۔ اس حقیقت کو تسلیم کرتے ہوئےکہ پائیدار سوچھتا کے اہداف سرگرم عوامی شمولیت اور زمینی سطح پر رویوں میں تبدیلی کے ذریعے ہی حاصل کیے جا سکتے ہیں، ریاست نے 100 روزہ ایکشن پلان( 2 جون سے 10 ستمبر 2025 تک) مرتب کر کے نافذ کیا ہے- جو معلومات، تعلیم، مواصلات (آئی ای سی) پر مبنی ایک منظم اور مقررہ مدت کا پروگرام تھا اور اس مہم کو ریاست کے تمام شہری بلدیاتی اداروں میں نافذ کیا ۔مہم کو اس طرح تیار کیا گیا کہ مربوط منظم بیداری اور اجتماعی سرگرمیوں کے ذریعے صفائی، ماحولیاتی تحفظ اور عوامی صحت سے متعلق اہم معیارات میں بڑے پیمانے پر بہتری لائی جا سکے۔

100 روزہ ایکشن پلان کا باضابطہ آغاز بڑے پیمانے پر عوامی شرکت اور بیداری کے ساتھ کیا گیا، جو ریاست کے اس پختہ عزم کا مظہر تھا کہ سوچھتا کو ایک ہمہ گیر عوامی تحریک کی شکل دی جائے۔ مہم کے آغاز پر 250 کلومیٹر طویل ریلیوں میں 36,900 شہریوں نے حصہ لیا، جس نے صفائی مہم کے لیے عوامی وابستگی، احساسِ ذمہ داری اور اجتماعی شمولیت کا بھرپور اظہار کیا۔ اس شاندار آغاز نے پوری مہم کے دوران عوام پر مبنی اور پائیدار سرگرمیوں کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کی۔
مہم کے ایک اہم جزو کے طور پر گھر گھر جا کر عوامی بیداری کی خصوصی مہم بھی چلائی گئی، جس کا بنیادی مقصد گھروں ہی میں کچرے کی علیحدگی اور گھریلو سطح پرفضلہ سے کھاد بنانے کے طریقوں کو فروغ دینا شامل تھا۔ اس پہلے کے تحت تلنگانہ کے شہری علاقوں میں 27.09 لاکھ کنبوں کو اس کے تئیں حساس بنایا گیا اور انہیں ذمہ دارانہ فضلہ کے انتظام کے بارے میں آگاہ کیا گیا۔ اس مہم کا مقصد ہر گھر میں فضلہ کے بہتر انتظام کی عادت کو فروغ دینا تھا، جو سوچھ بھارت مشن اربن 2.0 کے تحت مقررہ فضلہ انتظامی اہداف کے حصول کی جانب ایک نہایت اہم اور بنیادی قدم ہے۔
ماحولیاتی تحفظ کے اہداف سے ہم آہنگ رہتے ہوئے مہم کے تحت ‘‘امرت متر –خواتین برائے شجرکاری’’ اقدام بھی نافذ کیا گیا۔ اس کے تحت اپنی مدد آپ گروپوں (ایس ایچ جی) سے وابستہ 10,704 خواتین ارکان کی فعال شرکت سے 24,708 پودے لگائے گئے۔ یہ اقدام اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ ریاست شہری علاقوں میں خواتین کو ماحولیاتی تحفظ اور سرسبز ماحول کے فروغ میں ایک مؤثر اور فعال شراکت دار کے طور پر آگے لا رہا ہے۔ اس عزم کو مزید تقویت دیتے ہوئے عالمی یومِ ماحولیات کے موقع پر تلنگانہ کے مختلف شہری بلدیاتی اداروں (یو ایل بی) میں 13,488 شہریوں نے 113 کلومیٹر پر محیط ریلیوں میں شرکت کی۔ ان سرگرمیوں نے ایک سرسبز، صاف ستھرے اور پائیدار شہری مستقبل کے لیے ریاست کے عزم کا بھرپور اظہار کیا۔

شہری صفائی میں صفِ اول کے صفائی کارکنوں کے ناگزیر کردار کو تسلیم کرتے ہوئے مہم میں ان کی صحت اور فلاح و بہبود کے لیے ایک خصوصی پروگرام بھی شامل کیا گیا۔ اس کے تحت ریاست بھر میں منعقد کیے گئے طبی صحت کیمپوں کے ذریعے 25,386 صفائی کارکنوں کا طبی معائنہ کیا گیا اور انہیں ضروری طبی سہولیات اور معاون خدمات فراہم کی گئیں۔ یہ اقدام شہری صفائی کی خدمات انجام دینے والے ان کارکنوں کے وقار ، صحت اور فلاح و بہبود کو یقینی بنانے کے لیے ریاست کے مضبوط عزم کی عکاسی کرتا ہے۔
شہری بنیادی ڈھانچے کی بہتر دیکھ بھال کے مقصد کے تحت پورےتلنگانہ میں 18,351 کلومیٹر طویل برساتی نالوں اور پانی کی نکاسی کے ذرائع کی صفائی کی گئی۔ یہ وسیع پیمانے پر کی جانے والی کارروائی شہری علاقوں میں سیلابی صورتحال کے خطرات کو کم کرنے، پانی کی نکاسی کے نظام کو مؤثر بنانے اور آلودہ پانی اور اس سے پھیلنے والی بیماریوں کی روک تھام میں نہایت اہم کردار ادا کرتی ہے، جو سوچھ بھارت مشن–اربن 2.0 کے صحتِ عامہ اور صفائی کے مقاصد سے مکمل طور پر ہم آہنگ ہے۔مہم میں عوامی صحت کے فروغ کو بھی خصوصی اہمیت دی گئی۔ موسمی بیماریوں سے بچاؤ کی مہم کے تحت تلنگانہ بھر میں 15,02,819 کنبوں تک رسائی حاصل کر کے انہیں احتیاطی تدابیر سے آگاہ کیا گیا۔ اسی کے ساتھ ریاست میں اونچائی پر نصب 621 پینے کے پانی کی ٹنکیوں کی صفائی بھی کی گئی، تاکہ شہریوں کو محفوظ اور صاف پینے کے پانی کی فراہمی کو یقینی بنایا جاسکے۔ یہ تمام اقدامات اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ اسی بی ایم – یو 2.0 کے تحت تلنگانہ نے صفائی، ماحولیاتی تحفظ اور صحتِ عامہ کو ایک مربوط حکمتِ عملی کے تحت آگے بڑھاتے ہوئے پائیدار اور صحت مند شہری زندگی کے فروغ کو اپنی ترجیح بنایا ہے۔
100 روزہ ایکشن پلان کو روزگار کے فروغ اور خواتین کو معاشی طور پر بااختیار بنانے کے اہداف سے بھی مؤثر انداز میں جوڑا گیا، جس میں اپنی مدد آپ گروپو (ایس ایچ جی) کی بھرپور شمولیت کو یقینی بنایا گیا۔ اس کے تحت 8,546 اپنی مدد آپ گروپوں کو مجموعی طور پر 1,045.04 کروڑ روپے کے قرضے فراہم کیے گئے، جس سے خواتین کی قیادت میں کام کرنے والے ان گروپوں کی مالی استعداد میں نمایاں اضافہ ہوا۔اس کے علاوہ، مہم کے دوران منعقد کیے گئے اسٹریٹ فوڈ فیسٹیولز اور میلوں میں اپنی مدد آپ گروپس کی تیار کردہ مصنوعات کی نمائش اور فروخت کا بھی انتظام کیا گیا، جس سے 77.12 لاکھ روپے کی فروخت ہوئی۔ یہ اقدام اس بات کی ایک مؤثر مثال ہے کہ صفائی ستھرائی کی مہمات کو مقامی معاشی ترقی اور خواتین کے اقتصادی استحکام سے بھی کامیابی کے ساتھ جوڑا جا سکتا ہے۔
تلنگانہ کا 100 روزہ ایکشن پلان، ایس بی ایم-یو 2.0 کے تحت معلومات، تعلیم اور مواصلات (آئی ای سی) پر مبنی سرگرمیوں اور عوامی شمولیت کے ایک منظم، نتیجہ خیز اور مؤثر ماڈل کے طور پر سامنے آیا ہے۔ اسی کامیابی کو آگے بڑھاتے ہوئے ریاست نے مارچ تا جون 2026 کے دوران ایک خصوصی 99 روزہ ایکشن پلان کا آغاز کیا ہے، جس کا مقصد شہریوں کے رویّوں میں مزید مثبت تبدیلی لانا اور صفائی، پینے کے پانی کی فراہمی، شدید گرمی سے نمٹنے، عوامی شمولیت اور طرزِ حکمرانی میں اصلاحات کے شعبوں میں شہری خدمات کو مزید مضبوط بنانا ہے۔ اس منصوبے میں واضح اور بڑے اہداف مقرر کیے گئے ہیں، جن میں کچرے سے پاک سڑکیں، محفوظ پینے کے پانی کی فراہمی، مؤثر شکایات کے ازالے کا نظام اور شہریوں کی زیادہ سے زیادہ شرکت شامل ہیں۔ یہ تمام اقدامات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ریاست اب محض عارضی مہمات کے بجائے رویّوں میں دیرپا اور پائیدار تبدیلی کو فروغ دینے کی جانب گامزن ہے۔ وسیع پیمانے پر عوامی رابطہ سرگرمیوں کے تحت 6.5 لاکھ سے زائد کنبوں تک گھر گھر جا کر فضلے کی علیحدگی اور گھریلو طور پر فضلہ سے کھاد بنانے کے بارے میں آگاہی فراہم کی گئی۔ اس کے لیے سوچھتا ریلیاں، 194 صفائی مہمات، سنڈے فن ڈے سرگرمیاں، صفائی کارکنوں کے لیے طبی صحت کیمپ، اور صفائی کے لیے حلف دلانے کے پروگرام بھی منعقد کیے گئے، جن میں 22,482 سے زیادہ شہریوں نے حصہ لیا۔ یہ تمام اقدامات اس حقیقت کو اجاگر کرتے ہیں کہ تلنگانہ نے شہریوں کی فعال شمولیت کو بنیاد بنا کر صاف ستھرے، صحت مند اور زیادہ جواب دہ شہری نظام کی تشکیل کی سمت ایک مضبوط اور پائیدار پیش رفت کی ہے۔
******
ش ح۔ م ش۔خ م
UN-NO-9299
(रिलीज़ आईडी: 2279005)
आगंतुक पटल : 13