ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

نیشنل بایوڈائیورسٹی اتھارٹی کی طرف سے خطرے سے دوچار انواع کی شناخت اور نوٹیفکیشن کے لیے ایس او پی جاری

प्रविष्टि तिथि: 26 JUN 2026 6:40PM by PIB Delhi

نیشنل بایوڈائیورسٹی اتھارٹی (این بی اے) نے ملک میں حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کو مضبوط بنانے کی سمت میں اہم قدم اٹھاتے ہوئے خطرات سے دوچار انواع کی نشاندہی اور نوٹیفکیشن کے لیے معیاری عملی طریقہ کار (ایس او پی) جاری کیا ہے۔

یہ ایس او پی بایوڈائیورسٹی ایکٹ 2002 کی دفعہ 38 کے تحت جاری کیا گیا ہے، جس کا مقصد ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں میں خطرے سے دوچار انواع کی شناخت، جانچ اور نوٹیفکیشن کے عمل کو یکساں، شفاف اور سائنسی لحاظ سے خاکہ بند بنانا ہے۔

ہندستان دنیا کے اُن ممالک میں شامل ہے جہاں حیاتیاتی تنوع بہت زیادہ ہے، یعنی یہاں پودوں، جانوروں اور مختلف ماحولیاتی نظاموں کی بڑی تعداد موجود ہے۔ تاہم یہ انواع مختلف خطرات جیسے کہ آماجگاہ  کی تباہی،  وسائل کا بے تحاشہ استعمال، آلودگی، غیر مقامی حملہ آور انواع اور موسمیاتی تبدیلی کے باعث خطرات کی زد میں ہیں۔ ان انواع کا تحفظ ماحولیاتی توازن برقرار رکھنے، قدرتی نظام کی خدمات کو محفوظ رکھنے اور آنے والی نسلوں کے لیے حیاتیاتی تنوع کو بچانے کی خاطر نہایت ضروری ہے۔

حیاتیاتی تنوع ایکٹ 2002 کی دفعہ 38 کے تحت مرکزی حکومت، متعلقہ ریاستی حکومت سے مشاورت کے بعد کسی بھی ایسی نوع کو جو معدوم ہونے کے قریب ہو یا مستقبل قریب میں معدوم ہونے کے خطرے سے دوچار ہو، خطرے سے دوچار زمرہ قرار دے سکتی ہے۔ اس نوٹیفکیشن کے ذریعہ اس نوع کے جانوروں کا شکارکرنے، کلیکشن یا استعمال پر پابندی لگانے یا اسے منضبط کرنے کا التزام ہے اور اس کے تحفظ و باز آبادکاری کے لیے خصوصی اقدامات کیے جاتے ہیں۔ یہ اختیار ریاستی حکومتوں کو بھی منتقل کیا جا سکتا ہے۔اب تک وزارتِ ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی نے 17 ریاستوں اور 3 مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں سے تعلق رکھنے والی 159 نباتی  انواع اور 173 حیوانی انواع کو خطرے سے دوچار قرار دیا ہے۔

یہ ایس او پی ریاستی حیاتیاتی تنوع بورڈ  اور وفاقی خطوں کی حیاتیاتی تنوع کی کونسل کی مدد کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ اس کا مقصد خطرے سے دوچار انواع  کی شناخت کو مستقل، شفاف اور سائنسی اعتبار سے مضبوط طریقے سے انجام دینا اور نوٹیفکیشن کے لیے ریاستی حکومت کو اس کی سفارش کرنا ہے۔ یہ ایک واضح اور مرحلہ وار فریم ورک فراہم کرتا ہے جس میں سائنسی جائزہ، متعلقہ فریقوں سے مشاورت، توثیق، نوٹیفکیشن، تحفظ کی منصوبہ بندی، نگرانی اور وقتاً فوقتاً جائزہ لینا شامل ہے۔

یہ ایس او پی دستیاب بہترین سائنسی شواہد، زمینی جائزوں اور روایتی معلومات کے استعمال کو فروغ دیتا ہے۔ ساتھ ہی یہ مقامی برادریوں، حیاتیاتی تنوع کی انتظامی کمیٹیوں ، بوٹینیکل سروے آف انڈیا ، زولوجیکل سروے آف انڈیا ، تعلیمی اداروں اور متعلقہ ماہرین کی شرکت کو بھی یقینی بناتا ہے۔

یہ اقدام 'حیاتیاتی تنوع ریگولیشن، 2025'(حیاتیاتی وسائل اور ان سے متعلق معلومات تک رسائی اور فوائدکی مناسب اور مساوی تقسیم کا ضابطہ )کے تناظر میں اور بھی اہم ہو جاتا ہے۔ یہ ریگولیشن فوائد کی منصفانہ تقسیم  کی ذمہ داریوں کو طے کرنے میں مختلف طریقہ کار فراہم کرتے ہیں، خاص طور پر وہاں جہاں حیاتیاتی وسائل کا تعلق ایسی انواع سے ہو جنہیں ایکٹ کی دفعہ 38 کے تحت خطرے سے دوچار قرار دیا گیا ہو۔

ایس او پی میں نوٹیفکیشن کے بعد انواع کی بازآبادکاری اور تحفظ کا ایکشن پلان تیار کرنے پر بھی زور دیا گیا ہے، تاکہ تحفظ کے نتائج اور نئے خطرات کا اندازہ لگانے کے لیے باقاعدہ نگرانی اور وقتاً فوقتاً جائزہ لیا جا سکے۔ یہ اقدامات معدوم ہونے کے خطرے کا سامنا کرنے والی انواع کی بحالی کے لیے بروقت اور ہدف پر مبنی کارروائیوں کو ممکن بنائیں گے۔

اس ایس او پی کا اجراء حیاتیاتی تنوع کے تحفظ اور انواع کو معدوم  ہونے سے بچانے کی ہندستان کی کوششوں میں ایک اہم سنگِ میل ہے۔ یہ 'بائیولوجیکل ڈائیورسٹی ایکٹ، 2002'، 'قومی حیاتیاتی تنوع حکمتِ عملی اور ایکشن پلان 2024-2030' (خاص طور پر انسانوں کے ہاتھوں انواع کے خاتمے کو روکنے، انواع کی بازآبادکاری اور جینیاتی تنوع کو برقرار رکھنے کے ہدف نمبر 4)، اور ساتھ ہی 'کنمنگ-مونٹریال گلوبل بائیو ڈائیورسٹی فریم ورک' کے مقاصد کو پورا کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔

 

ش ح۔ م ش ع۔ ج

uno-9291


(रिलीज़ आईडी: 2278903) आगंतुक पटल : 2
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Marathi , Tamil