صحت اور خاندانی بہبود کی وزارت
مرکزی وزیرِ صحت جگت پرکاش نڈا آج16ویں سی سیا ایچ ایف ڈبلیو کانفرنس کے دوران قومی ایمبولینس خدمات 2026 (این اے ایس)کی آپریشنل گائیڈ لائن کا اجراء کریں گے
نئے رہنما اصول سے ملک بھر میں ایمرجنسی ایمبولینس خدمات کا یکساں قومی معیار مقرر ہوگا، جبکہ اسپتال پہنچنے سے پہلے مریضوں کو دی جانے والی ہنگامی طبی سہولیات کو مزید مضبوط بنایا جائے گا
प्रविष्टि तिथि:
29 JUN 2026 10:50AM by PIB Delhi
مرکزی وزیرِ صحت و خاندانی بہبود جگت پرکاش نڈا آج سنٹرل کونسل آف ہیلتھ اینڈ فیملی ویلفیئر(سی سی ایچ ایف ڈبلیو) کی 16ویں کانفرنس کے دوران قومی ایمبولینس خدمات(این اے ایس)، 2026 کے کی آپریشنل گائیڈ لائن جاری کریں گے۔
وزارتِ صحت و خاندانی بہبود کی جانب سے تیار کیے گئے ان رہنما اصولوں کا مقصد ملک کی تمام ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں میں ایمبولینس خدمات کو یکساں معیار کے مطابق نظم کرنا اور ہنگامی طبی نقل و حمل کے نظام کو مزید مؤثر اور مضبوط بنانا ہے۔
ایمبولینس خدمات کسی بھی ہنگامی طبی امداد کے نظام کی پہلی اور نہایت اہم کڑی ہوتی ہیں۔ یہ خدمات مریض کو اسپتال پہنچنے سے پہلے ابتدائی طبی امداد فراہم کرنے، اس کی حالت کو مستحکم رکھنے، محفوظ طریقے سے اسپتال منتقل کرنے اور بروقت مناسب طبی مرکز تک پہنچانے میں بنیادی کردار ادا کرتی ہیں۔
ان رہنما اصولوں کا مقصد پورے ملک میں ایمبولینس خدمات کے لیے یکساں معیار مقرر کرنا ہے، تاکہ عوام کو معیاری، آسانی سے دستیاب، مؤثر، تیز رفتار اور بروقت ہنگامی طبی امداد فراہم کی جا سکے۔
ان رہنما اصولوں میں ہنگامی طبی نقل و حمل کے پورے نظام کے لیے واضح عملی معیارات مقرر کیے گئے ہیں۔ ان میں ایمبولینس کی مختلف اقسام، آبادی کے تناسب سے ایمبولینس کی تعیناتی، مطلوبہ افرادی قوت، ضروری طبی آلات، ادویات اور دیگر سامان، ایمرجنسی میڈیکل ٹیکنیشن کی تربیت اور مہارت کے معیار، انفیکشن سے بچاؤ اور اس پر قابو پانے کے اقدامات، گاڑیوں کی دیکھ ریکھ کے اصول، کارکردگی کی نگرانی کا نظام اور عوامی شکایات کے ازالے کا مؤثر طریقہ شامل ہے۔ ان رہنما اصولوں کے مطابق تمام ایمبولینس کے لیے اے آئی ایس125 کےحفاظتی معیار پر عمل کرنا بھی لازمی ہوگا، تاکہ ہنگامی طبی گاڑیوں کی حفاظت، معیار اور یکسانیت کو یقینی بنایا جا سکے۔
رہنما اصولوں میں انٹیگریٹڈ کمانڈ اینڈ ڈسپیچ سینٹر (آئی سی ڈی سی) قائم کرنے پر بھی زور دیا گیا ہے، جہاں جی پی ایس سے لیس ایمبولینس ٹریکنگ، کال لاگنگ سسٹم، مریضوں کی ترجیحی جانچ کا منظم نظام، معیاری ڈسپیچ کاطریقۂ کار اور حقیقی وقت میں کارکردگی کی نگرانی کے لیے ڈیش بورڈ دستیاب ہوں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ تمام ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں میں ایمبولینس خدمات کو ملک کے یکساں ہنگامی امدادی نمبر 112 سے مرحلہ وار جوڑنے کی بھی حوصلہ افزائی کی گئی ہے، تاکہ ہنگامی صورتحال میں امدادی کارروائی زیادہ تیز، مربوط اور مؤثر بن سکے۔
ہنگامی مریضوں کے ریفرل سسٹم کو مزید مضبوط بنانے کے لیے رہنما اصولوں میں جی آئی ایس(جی آئی ایس) پر مبنی نقشہ بندی کی تجویز دی گئی ہے۔ اس کے ذریعے اسپتالوں، ریفرل کے مراکز، ایمبولینس اسٹیشنوں، حادثات کے زیادہ خطرے والے مقامات، اسپتالوں میں بستروں کی دستیابی اور انتہائی نگہداشت کی سہولیات کی معلومات ایک ہی نظام میں دستیاب ہوں گی۔ اس مربوط نظام کی مدد سے ڈسپیچ ٹیمیں کم سے کم وقت میں مریض کو مناسب اسپتال تک پہنچانے کا فیصلہ کر سکیں گی۔
تحقیق اور اعداد و شمار پر مبنی منصوبہ بندی کو فروغ دینے کے لیے رہنما اصولوں میں یہ سفارش کی گئی ہے کہ ایمبولینس کی تعیناتی ہنگامی کالوں کی تعداد، حادثات کے حساس مقامات، مریضوں کی منتقلی کے رجحانات، ٹریفک کی صورتحال، جغرافیائی حالات اور علاقوں تک رسائی جیسے عوامل کے سائنسی تجزیہ کی بنیاد پر کی جائے۔ اس سے ایمبولینس کے وسائل کا بہتر استعمال ممکن ہوگا اور امدادی کارروائی میں لگنے والا وقت بھی کم ہو سکے گا۔
قومی ایمبولینس خدمات(این اے ایس)، 2026 کے عملی رہنما اصولوں کا اجراء بھارت کے ہنگامی طبی امدادی نظام کو مزید مضبوط، جدید اور مؤثر بنانے کی سمت میں اہم اور تاریخی قدم ثابت ہوگا۔
ش ح۔ م ش ع۔ ج
uno-9285
(रिलीज़ आईडी: 2278783)
आगंतुक पटल : 6