شہری ہوابازی کی وزارت
شہری ہوا بازی کے وزیر رام موہن نائیڈو نے وارانسی سے پہلی ’ایزی کنیکٹ‘ پرواز کا اِفتتاح کیا
دیگر ٹیئر-II اور ٹیئر-III شہروں کے ہوائی اڈوں سے مزید ہب-اینڈ-اسپوک بین الاقوامی ہوا بازی آپریشن شروع کرنے کے منصوبے زیرِ غور ہیں
प्रविष्टि तिथि:
26 JUN 2026 4:01PM by PIB Delhi
وزیر اعظم جناب نریندر مودی کے وژن کو حقیقت بنانے کی جانب ایک اہم سنگِ میل میں، وزیر شہری ہوا بازی جناب رام موہن نائیڈو کنجاراپو نے 25 جون 2026 کو وارانسی کے لال بہادر شاستری بین الاقوامی ہوائی اڈے سے ہب-اینڈ-اسپوک ماڈل کے تحت بھارت کی پہلی ’ایزی کنیکٹ‘ پرواز کا اِفتتاح کیا
یہ ٹیئر-II اور ٹیئر-III شہروں کے مسافروں کو ہم وار بین الاقوامی رابطے فراہم کرنے اور بھارت کو ایک عالمی ہوا بازی مرکز میں تبدیل کرنے کے حکومت کی کوششوں کا غماز ہے
ہب-اینڈ-اسپوک حکمتِ عملی کا مقصد 2030 تک بھارتی مسافروں کے لیے اور 2047 تک دنیا کے لیے بھارت کو ہوا بازی کا ترجیحی مرکز بنانا ہے۔ اس کے فوائد ہوا بازی سے آگے تک پھیلے ہوئے ہیں۔ بہتر بین الاقوامی رابطے سے تجارت، سیاحت، سرمایہ کاری اور علاقائی معاشی ترقی میں سہولت کی توقع ہے۔ وزارت کے ذریعے کیے گئے مطالعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہوا بازی مرکز کی ترقی سے تقریباًًًً 0.4 ملین براہ راست اور بالواسطہ ملازمتیں پیدا ہو سکتی ہیں اور 2030 تک بھارت کی جی ڈی پی میں 30 بلین امریکی ڈالر کا اضافہ ہو سکتا ہے۔ 2047 تک، مجموعی اثر تقریباًًًً 16 ملین براہ راست اور بالواسطہ ملازمتوں کی حمایت کر سکتا ہے اور معیشت میں تقریباًًًً 1.4 ٹریلین امریکی ڈالر کا حصہ ڈال سکتا ہے۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے، وزیر شہری ہوا بازی جناب رام موہن نائیڈو نے کہا: ”آج ہم فضائی سفر کو مزید قابلِ رسائی بنانے اور ایک مستقبل کے لیے تیار، آتم نربھر بھارتی ہوا بازی صنعت کی تعمیر کے ہمارے وژن کو حقیقت بنانے کی جانب ایک بڑا قدم اٹھا رہے ہیں جو موثر، جامع اور عالمی سطح پر مسابقتی ہے۔“
وزیر موصوف نے مجمع کو مخاطب کرتے ہوئے کہا، ”ہمارا نیا ہب-اینڈ-اسپوک ماڈل ہمارے شہریوں کے سفر کے طریقے میں ایک یادگار تبدیلی کی راہ ہم وار کرتا ہے — اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ کوئی شخص بھارت میں کس شہر میں رہتا ہے، وہ اپنے آبائی شہر سے اپنا بین الاقوامی سفر شروع کر سکتا ہے اور بھارت کے اپنے طیاروں پر، آسانی اور اعتماد کے ساتھ، پوری دنیا کا سفر کر سکتا ہے۔“
آپریشنز کے آغاز کی نشان دہی کرتے ہوئے، وزیر موصوف نے افتتاحی ’ایزی کنیکٹ‘ پرواز کے لیے چیک اِن کرنے والے پہلے چند مسافروں کو ایک یادگاری بورڈنگ پاس پیش کیا۔
اس تقریب میں جناب سمیر کمار سنہا، سکریٹری، وزارت شہری ہوا بازی؛ جناب پونیت کنسل، ایڈیشنل سکریٹری، وزارت شہری ہوا بازی؛ جناب وپن کمار، چیئرمین، ایئرپورٹس اتھارٹی آف انڈیا؛ جناب کیمبل ولسن، چیف ایگزیکٹو آفیسر اور مینجنگ ڈائریکٹر، ایئر انڈیا اور وزارت شہری ہوا بازی، ایئرپورٹس اتھارٹی آف انڈیا، ڈائریکٹوریٹ جنرل آف سول ایوی ایشن اور ایئر لائن آپریٹر کے دیگر سینئر اہلکاران نے شرکت کی۔
ہب-اینڈ-اسپوک ماڈل کے تحت، بین الاقوامی مسافر اسپوک ہوائی اڈے پر ہی چیک-اِن، امیگریشن اور کسٹمز کی رسمی کارروائیاں مکمل کرتے ہیں، جو ان کے بین الاقوامی سفر کا پہلا روانگی کا مقام بن جاتا ہے۔ مثال کے طور پر، وارانسی سے اپنا سفر شروع کرنے والے مسافر دہلی جیسے نامزد بھارتی حب ہوائی اڈے پر پرواز کرنے سے پہلے وارانسی میں تمام روانگی کی رسمی کارروائیاں مکمل کرتے ہیں۔
سیکورٹی اور آپریشنل سالمیت کے اعلیٰ ترین معیار کو یقینی بنانے کے لیے، ماڈل میں کئی حفاظتی انتظامات شامل کیے گئے ہیں۔ ڈومیسٹک-انٹرنیشنل آپریشنز دونوں لیگز کو بین الاقوامی آپریشنز کے طور پر نامزد کیا گیا ہے۔ ڈومیسٹک (D) اور انٹرنیشنل (I) مسافروں کے لیے مناسب شناخت کنندگان والے الگ فزیکل بورڈنگ کارڈ جاری کیے جاتے ہیں تاکہ مسافروں کے آپس میں ملنے سے روکا جا سکے۔ ہب-اینڈ-اسپوک فریم ورک کے تحت سفر کرنے والے بین الاقوامی مسافروں کو حب ہوائی اڈوں پر کسٹمز ڈیکلریشن سہولیات تک رسائی حاصل نہیں ہوتی ہے۔
وارانسی سے ہب-اینڈ-اسپوک بین الاقوامی آپریشنز کا آغاز بھارت کے ہوا بازی ایکو سسٹم میں ایک بڑی پیش رفت کی نشان دہی کرتا ہے اور ملک بھر کے شہریوں کے لیے جامع، موثر اور عالمی سطح پر مسابقتی فضائی رابطے فراہم کرنے کے حکومت کے عزم کو تقویت دیتا ہے۔
***
(ش ح - ع ا)
U.No. 9228
(रिलीज़ आईडी: 2278273)
आगंतुक पटल : 10