کیمیائی صنعتوں اور کھاد کی وزارت: کھاد سے متعلق محکمہ
حکومت بھارت میں سبز یوریا کی پیداوار کو ایک حقیقت میں تبدیل کرنے کے لیے منصوبہ وضع کر رہی ہے
این جی ایچ ایم موڈ 2 اے: ماحولیات دوست توانائی منتقلی کو فروغ دینے کے لیے 7.24 ملین ٹن کے بقدر سبز امونیا کی خریداری
प्रविष्टि तिथि:
26 JUN 2026 2:13PM by PIB Delhi
پائیدار زراعت، کاربن کے توازن، تکنالوجی کے معاملے میں خود کفیل بننے کی جانب ایک اہم تبدیلی کا اظہار کرتے ہوئے، کھادوں کے محکمے (ڈی او ایف) نے بھارت میں سبز امونیا کے پلانٹوں کے قیام کے لیے پی ڈی آئی ایل میں ایک اعلیٰ سطحی ’اظہار دلچسپی سے قبل‘(ای او آئی) کی میٹنگ کا کامیاب انعقاد کیا۔ اس میٹنگ کی صدارت ڈاکٹر کے کے پاٹھک- جوائنٹ سکریٹری (کھادوں کی محکمہ) نے کی، جو پی ڈی آئی ایل کے چیئرمیں اور منیجنگ ڈائرکٹر بھی ہیں۔

اس سے قبل اس ہفتے، کھادوں کے محکمے کی جانب سے بھارت میں سبز یوریا پلانٹوں کے قیام کے سلسلے میں اظہار دلچسپی کے لیے مدعوکیا گیا تھا۔ پی نوئیڈا میں واقع ڈی آئی ایل کے صدر دفاتر میں منعقدہ اظہار دلچسپی سے قبل کی میٹنگ نے نجی اور سرکاری شعبے سے تعلق رکھنے والے متعلقہ فریقوں کی ایک بڑی تعداد کے لیے ایک بڑا پلیٹ فارم فراہم کیا، ان میں این ٹی پی سی، سولر انرجی کارپوریشن آف نڈیا، امونیا-یوریا کے تکنالوجی فراہم کنندگان، کھاد فراہم کرنے والی بھارت کی بڑی کمپنیاں اور الیکٹرولائزرس، گرین ہائیڈروجن اور گرین امونیا بنانے والی کمپنیاں شامل ہیں۔ مکمل ویلیو چین کے ممکنہ اداروں کا بڑی تعداد میں آن لائن اور آف لائن اس میٹنگ کے لیے دلچسپی ظاہر کرنا اس پہل قدمی کو مستقبل قریب میں ایک حقیقت میں تبدیل کرنے کے لیے مصروف عمل افراد کے سنجیدہ اندازِ فکر کا واضح اشارہ دیتا ہے۔
کلیدی پالیسی اور آپریشنل جھلکیاں
1۔ تمام وزارتوں میں مربوط حکومتی تعاون کا روڈ میپ سبز پیداوار کو اقتصادی طور پر قابل عمل بنانے کے لیے متعدد وزارتوں سے مالیاتی مختص کرنے کے واضح راستے بتاتا ہے۔ میکرو لیول فنڈنگ کے وعدوں میں شامل ہیں:
- نئی و قابل تجدید توانائی کی وزارت (ایم این آر ای): ماحولیات دوست توانائی کے لیے اہم بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانے اور بھارت کے سبز توانائی ایکو سسٹم کو مضبوط کرنے کے لیے 19744 کروڑ روپے۔
- کھادوں کا محکمہ (ڈی او ایف): اس محکمے کو سبز امونیا کو قومی فرٹیلائزر مینوفیکچرنگ چین سے مربوط بآسانی مربوط کرنے کے لیے ادارہ جاتی اور منڈی کے مساوی نظام وضع کرنے کا کام سونپا گیا

2۔ لاگت کی چنوتیوں سے نمتنے اور مقامی کھاد اکائیوں کے تحفظ کی غرض سے ایک امتیازی امدادی رقم کے طریقہ کار کے ذریعہ مینوفیکچررس کو تحفظ فراہم کرانے کے لیے، صارفِ اول کے پہلو پر ایک مستحکم امتیازی امدادی رقم کا نظام وضع کیا گیا:
- چنوتی: پیداوار کے معاملے میں سبز امونیا کی لاگت سرمئی امونیا سے زیادہ ہے، جس سے تعاون کے بغیر سبز امونیا غیر مسابقتی بن گیا ہے۔
- حل: سولر انرجی کارپوریشن آف انڈیا (ایس ای سی آئی) ایک ثالث کے طور پر کام کرے گی—جو پروڈیوسرز سے گرین امونیا خریدے گی اور اسے گھریلو کھاد بنانے والی کمپنیوں کو مارکیٹ سے منسلک معیاری 'سرمئی امونیا' کی قیمتوں پر فراہم کرے گی (جس کی بنیاد پلیٹس اور آرگس انڈیکس کے دو ہفتوں کے اوسط ریٹ، بشمول کسٹمز ڈیوٹی اور مقامی نقل و حمل کے اخراجات پر ہوگی)۔
- رابطہ: کھادوں کا محکمہ (ڈی او ایف) قیمتوں کے فرق کو ختم کرے گا، اور اس امر کو یقینی بنائے گا کہ کارخانوں کو روایتی معدنی ایندھن کے ذرائع کے ساتھ مجموعی لاگت کی برابری پر سبز مال حاصل ہو۔

3۔ شروعاتی مدد کے ساتھ پروڈیوسر کے لیے ترغیبات: نجی شعبے کی شراکت داری کی حوصلہ افزائی کے لیے، این جی ایچ ایم (سبز امونیا موڈ 2 اے) کے تحت ایک راست مالی ترغیباتی اسکیم کی وضاحت کی گئی۔ ایس ای سی آئی کے زی انتظام ایک شفاف اور مسابقتی ای- ریورس نیلامی کے توسط سے 7.24 لاکھ ملین ٹن کے بقدر سالانہ سبز امونیا کی مجموعی خریداری کا ہدف مختص کیا جائے گا۔ واضح پروجیکٹ مراحل کے لیے تعاون فراہم کرایا جائے گا۔
- ترقی کا مرحلہ: نئے گرین فیلڈ پروجیکٹوں کے لیے یا ان پروجیکٹوں کے لیے جو زیر تعمیر ہیں۔
- آپریشنل مرحلہ: تجارتی سپلائی کی تاریخ سے نقدی ترغیبات کا آغاز
- طویل المدت یقین دہانی: قانونی طور پر لازمِ تعمیل معاہدے (جی اے پی اے/ جی اے ایس اے) کے ذریعہ 10 برسوں کی مدت کے لیے فوائد کا تحفظ، اس سے ڈیولپرس کو مضبوط منڈی خود اعتمادی حاصل ہوگی۔
تکنیکی بنیاد: پدیم داکا 150 ٹی پی ڈی پائلٹ پلانٹ
مباحثوں میں تکنیکی عمل پر بھی توجہ مرکوز کی گئی، جس کے لیے آندھرا پردیش کے پدیم داکا میں قائم 150 ٹن یومیہ ٹی پی ڈی صلاحیت کے حامل 'گرین یوریا پائلٹ پلانٹ' کو ایک معیار کے طور پر پیش کیا گیا—جسے این ای ٹی آر اے (این ٹی پی سی کے ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ ونگ) نے تیار کیا ہے۔ یہ پلانٹ پانی کی الیکٹرولائسز (برق پاشیدگی) کے ساتھ جدید کاربن کیپچر اینڈ یوٹیلائزیشن (سی سی یو ایس) سسٹمز کے تال میل کو عملی طور پر دکھاتا ہے، جو کاربونیٹیڈ فلائی ایش، فوڈ گریڈ مواد اور مصنوعی ایندھن (سنتھیٹک فیولز) کے استعمال کو ممکن بناتا ہے۔
یہ پہل قدمی کاربن سے مبرا کھاد کی تیاری، تکنیکی خود کفالت، اور بھارتی زراعت کے سرسبز و شاداب مستقبل کی جانب ایک سوچا سمجھا اور منظم قدم ہے۔

سبز یوریا پیداوار کے لیے بھارت کا کلیدی منصوبہ
2070 تک بھارت کا 'نیٹ زیرو' کا ہدف اور نیشنل گرین ہائیڈروجن مشن ملکی سطح پر یوریا کی تیاری کو جدید سانچے میں ڈھالنے کا ایک منفرد موقع فراہم کرتے ہیں۔ اگرچہ گرین ہائیڈروجن امونیا کی تیاری میں فوسل ایندھن (معدنی ذرائع) کی جگہ لے سکتی ہے، لیکن گرین یوریا کی کیمیائی تیاری (ترکیب) کے لیے اب بھی کاربن ڈائی آکسائیڈ کی ضرورت ہوتی ہے، جس کی وجہ سے کاربن ڈائی آکسائیڈ کا ایک بیرونی ذریعہ ناگزیر ہو جاتا ہے۔
تھرمل پاور، سیمنٹ اور اسٹیل کے کارخانوں سے قید کی گئی کاربن ڈائی آکسائیڈ (CO₂) یوریا کی تیاری کے لیے ایک پائیدار خام مال کے طور پر کام کر سکتی ہے۔ 12.7 لاکھ میٹرک ٹن سالانہ صلاحیت کے حامل ایک عالمی معیار کے یوریا پلانٹ کو سالانہ تقریباً 10 لاکھ میٹرک ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ کی ضرورت ہوتی ہے۔ چونکہ بھارت اب بھی سالانہ تقریباً ایک کروڑ میٹرک ٹن یوریا درآمد کرتا ہے اور کئی موجودہ پلانٹس 30 سال سے زیادہ پرانے ہو چکے ہیں، اس لیے بڑے پیمانے پر نئی پیداواری صلاحیت کی ضرورت ہوگی۔ اگر اسے گرین ہائیڈروجن کے راستے سے تیار کیا جائے، تو کھاد کا شعبہ ملک میں قید کی گئی کاربن ڈائی آکسائیڈ کا سب سے بڑا اور سب سے پکا (یقینی) خریدار بن سکتا ہے۔
قابلِ تجدید توانائی، گرین ہائیڈروجن، کاربن کیپچر، گرین امونیا اور یوریا کی پیداوار کو یکجا کرنے والے مربوط منصوبے بھارت کے ماحولیاتی اہداف کو سہارا دینے کے ساتھ ساتھ کھاد اور توانائی کے تحفظ کو مضبوط بنا سکتے ہیں۔ این ٹی پی سی جیسے ادارے، جو بجلی کی پیداوار، قابلِ تجدید توانائی، گرین ہائیڈروجن، اور ایچ یو آر ایل کے ذریعے کھاد کے شعبے میں سرمایہ کاری کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں، ایسے اقدامات کی قیادت کے لیے بہترین پوزیشن میں ہیں۔ سرمایہ کاروں کو نیشنل گرین ہائیڈروجن مشن اور تیزی سے تیار ہوتے ہوئے 'کاربن کیپچر فریم ورک' کے تحت ملنے والی مدد کا فائدہ اٹھاتے ہوئے، مربوط گرین یوریا پروجیکٹس تیار کرنے کی ترغیب دی جاتی ہے۔
**********
(ش ح –ا ب ن)
U.No:9223
(रिलीज़ आईडी: 2278246)
आगंतुक पटल : 10