PIB Backgrounder
انڈیا اے آئی امپیکٹ سر براہی اجلاس 2026 میں حکومت ، اسٹارٹ اپس اور تخلیق کاروں کی شمولیت
اطلاعات و نشریات کی وزارت نےمیڈیا، گیمنگ اور تخلیقی ٹیکنالوجیز کے شعبوں میں اسٹارٹ اپس کی قیادت میں ہونے والی اےآئی پر مبنی اختراعات کی نمائش کی
प्रविष्टि तिथि:
17 FEB 2026 6:21PM by PIB Delhi

اہم نکات
- ویوز کریئیٹرز کارنر تخلیقی شعبوں میں مارکیٹ کے لیے تیار مصنوعی ذہانت پر مبنی حل اور بانیوں کی قیادت میں ہونے والی اختراعات کی نمائش کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم کے طور پر کام کرتا ہے۔
- اے وی جی سی-ایکس آر اور میڈیا ٹیک شعبوں سے تعلق رکھنے والے 51 اسٹارٹ اپس کی شرکت بھارت کے مصنوعی ذہانت پر مبنی اسٹارٹ اپ ایکوسسٹم کی گہرائی اور عملی پختگی کی عکاسی کرتی ہے۔
- ایم بی آئی اور ایڈوب کے درمیان تعاون قابلِ توسیع مصنوعی ذہانت سے تقویت یافتہ تخلیقی ورک فلو، فلم سازی میں جدت اور اصل دانشورانہ املاک (آئی پی) کی تخلیق کو اجاگر کرتا ہے۔
- مصنوعی ذہانت سے چلنے والے گیمنگ اور امِرسیو میڈیا اسٹارٹ اپس تخلیقی پیداوار، براہِ راست کھیلوں میں شمولیت، حالات کے مطابق ڈھلنے والے گیم پلے اور کاروباری استعمال کے مختلف شعبوں میں اس ٹیکنالوجی کے عملی اطلاقات پیش کرتے ہیں۔
تعارف

انڈیا اے آئی امپیکٹ سر براہی اجلاس 2026 کا آغاز 16 فروری 2026 کو نئی دہلی کے بھارت منڈپم میں ہوا، جو گلوبل ساؤتھ میں منعقد ہونے والا مصنوعی ذہانت پر پہلا بین الاقوامی سربراہی اجلاس ہے۔ یہ تاریخی تقریب عالمی سطح پر مصنوعی ذہانت سے متعلق مکالمے میں بھارت کو ایک اہم کردار کے طور پر پیش کرتی ہے اور ایسی ترقی پر زور دیتی ہے جو مصنوعی ذہانت کی مدد سے عوام، ترقی اور کرۂ ارض کو ترجیح دے۔ اختراع اور قابلِ توسیع نفاذ میں اسٹارٹ اپس کے کلیدی کردار کے ساتھ یہ سر براہی اجلاس ذمہ دارانہ اور مقامی مصنوعی ذہانت کی صلاحیتوں کے فروغ کے حوالے سے بھارت کے وژن کو آگے بڑھاتی ہے، جبکہ جامع اور پائیدار ترقی کو بھی فروغ دیتی ہے۔
اس سربراہی اجلا س (سمٹ) کی ایک نمایاں خصوصیت اطلاعات و نشریات کی وزارت کا خصوصی ایم آئی بی پویلین ہے، جو میڈیا، تفریح، گیمنگ اور تخلیقی ٹیکنالوجیز کے سنگم پر بھارت کے فروغ پاتے ہوئے مصنوعی ذہانت پر مبنی اسٹارٹ اپ ماحولیاتی نظام(ایکو سسٹم ) کی نمائش کرتا ہے۔ ویوز کریئیٹرز کارنر کے ذریعے یہ پویلین براہِ راست مظاہروں، پینل مباحثوں، ماسٹر کلاسز، فائر سائیڈ چیٹس اور اسٹارٹ اپ نمائشوں کے لیے ایک متحرک پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے، جس سے بانیوں، پالیسی سازوں، سرمایہ کاروں، تخلیق کاروں اور بین الاقوامی شراکت داروں کے درمیان براہِ راست تبادلۂ خیال اور رابطے کے مواقع پیدا ہوتے ہیں۔
اس توجہ کا مرکز خاص طور پر اے وی جی سی-ایکس آر (اینیمیشن، ویژول ایفیکٹس، گیمنگ، کامکس اور ایکسٹینڈڈ ریئلٹی) اور میڈیا ٹیک شعبے ہیں، جہاں 51 اسٹارٹ اپس مواد کی تخلیق، عمیق (امِرسیو) تجربات، کثیر لسانی آلات، حالات کے مطابق ڈھلنے والے گیم پلے اور ڈیجیٹل کہانی گوئی کے میدانوں میں مارکیٹ کے لیے تیار مصنوعی ذہانت سے تقویت یافتہ حل پیش کر رہے ہیں۔ یہ اجتماع تخلیقی معیشت کو ترقی، روزگار اور اختراع کے ایک اسٹریٹجک محرک کے طور پر تسلیم کرنے کے حوالے سے حکومت ہند کے وژن کی عکاسی کرتا ہے۔
ہندوستان کی تخلیقی معیشت میں ترقی کو متحرک کرنا: مرکزی بجٹ 2026-27
تخلیقی معیشت اُن صنعتوں پر مشتمل ہوتی ہے جہاں قدر تخلیق، ثقافت، ٹیکنالوجی اور دانشورانہ املاک کے ذریعے پیدا کی جاتی ہے۔ اس میں میڈیا اور تفریح، اینیمیشن اور ویژول ایفیکٹس، گیمنگ، لائیو ایونٹس اور ڈیجیٹل مواد کے پلیٹ فارمز شامل ہیں جو عالمی منڈیوں میں کام کرتے ہیں اور جی ڈی پی، روزگار اور برآمدات میں حصہ ڈالتے ہیں۔ اورنج اکانومی کے وسیع تصور کے تحت ثقافت اور تخلیق کو اسٹریٹجک اقتصادی اثاثوں کے طور پر دیکھا جاتا ہے، جو ورثے اور صلاحیت کو جدت، مارکیٹ تک رسائی اور عالمی شراکت داریوں کے ساتھ جوڑ کر آمدنی اور بین الاقوامی اثر و رسوخ پیدا کرتے ہیں۔
ورلڈ آڈیو ویژول اینڈ انٹرٹینمنٹ سمٹ (ویوز) اور اے آئی امپیکٹ سربراہی اجلاس 2026 جیسے پلیٹ فارم اس وژن کو عملی شکل دیتے ہیں۔ یہ تخلیق کاروں، اسٹارٹ اپس، سرمایہ کاروں اور پالیسی سازوں کو ایک دوسرے سے جوڑتے ہیں تاکہ مشترکہ تخلیقات (کو-پروڈکشنز)، دانشورانہ املاک (آئی پی) کی مارکیٹ سے روابط، انکیوبیشن اور سرحد پار تعاون کو فروغ دیا جا سکے۔
مرکزی بجٹ 2026-27 اس سمت کو مزید مضبوط بناتا ہے اور تخلیقی (اورنج) معیشت کو ترقی، روزگار اور اختراع کے ایک اہم محرک کے طور پر تسلیم کرتا ہے، جبکہ اینیمیشن، ویژول ایفیکٹس، گیمنگ اور کامکس (اے وی جی سی) شعبے پر خصوصی توجہ دی گئی ہے جو ڈیجیٹل اور مصنوعی ذہانت پر مبنی ترقی کے وژن سے ہم آہنگ ہے۔ بجٹ کے تحت ممبئی میں قائم انڈین انسٹی ٹیوٹ آف کریئیٹو ٹیکنالوجی (آئی آئی سی ٹی) کی معاونت کی جائے گی تاکہ ملک بھر کے 15,000 ثانوی اسکولوں اور 500 کالجوں میں اے وی جی سی کنٹینٹ کریئیٹر لیبز قائم کی جا سکیں اور ہنر مند افرادی قوت کی تیاری کو فروغ دیا جا سکے۔ چونکہ 2030 تک اے وی جی سی شعبے میں تقریباً 20 لاکھ پیشہ ور افراد کی ضرورت متوقع ہے، اس لیے تخلیقی معیشت ڈیجیٹل نسل کے لیے روزگار پیدا کرنے کے ایک بڑے ذریعہ کے طور پر ابھر رہی ہے۔
ایم آئی بی پویلین: فوکس ایریا اور اہم جھلکیاں

ایم آئی بی نے انڈیا اے آئی امپیکٹ سر براہی اجلاس 2026 میں ایک خصوصی پویلین قائم کیا ہے تاکہ میڈیا، تفریح، گیمنگ اور تخلیقی ٹیکنالوجی کے شعبوں میں بھارت کی مصنوعی ذہانت پر مبنی اسٹارٹ اپ صلاحیتوں کو پیش کیا جا سکے۔ یہ پویلین ایسے شعبے کی نمائندگی کرتا ہے جو محض ثقافتی اہمیت سے آگے بڑھ کر معاشی سرگرمیوں کے ایک مرکزی ستون کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔
بھارت کی میڈیا اور تفریحی صنعت کی مالیت 2024 میں تقریباً 2.5 کھرب روپے تھی، جبکہ اس کی مجموعی آمدنی 2027 تک بڑھ کر 3.067 کھرب روپے تک پہنچنے کا تخمینہ ہے، جو اوسطاً تقریباً 7 فیصد سالانہ شرح نمو کی عکاسی کرتا ہے۔ صرف ڈیجیٹل میڈیا ہی اس شعبے کی کل آمدنی کا تقریباً ایک تہائی حصہ فراہم کرتا ہے، جو پلیٹ فارم پر مبنی پیداوار اور تقسیم کے ماڈلز کی جانب تیزی سے بڑھتے ہوئے رجحان کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ وسیع ماحولیاتی نظام براہِ راست اور بالواسطہ طور پر ایک کروڑ سے زائد افراد کے روزگار کا ذریعہ ہے اور سالانہ تقریباً 3 لاکھ کروڑ روپے کی معاشی پیداوار پیدا کرتا ہے۔
اس تیزی سے وسعت پاتے ہوئے منظرنامے کے اندر، یہ پویلین تین اہم شعبوں کے تحت ٹیکنالوجی تیار کرنے والوں، مواد تخلیق کرنے والوں، سرمایہ کاروں، پالیسی سازوں اور عالمی شراکت داروں کو ایک پلیٹ فارم پر یکجا کرتا ہے:۔
- میڈیا اور تفریح: مواد کی تخلیق، پیداوار اور تقسیم کے لیے مصنوعی ذہانت پر مبنی حل پویلین کی نمائش کا مرکزی حصہ ہیں۔ یہ شعبہ ایسی میڈیا صنعت کے تناظر میں کام کر رہا ہے جہاں:
* ڈیجیٹل میڈیا کی آمدنی 2024 میں 802 ارب روپے رہی، جس کے 2027 تک بڑھ کر 1,104 ارب روپے تک پہنچنے کا امکان ہے۔
* فلمی تفریحی صنعت نے 2024 میں 187 ارب روپے کی آمدنی کی، جبکہ اس شعبے میں مسلسل ترقی کی توقع کی جا رہی ہے۔
* اینیمیشن اور ویژول ایفیکٹس (وی ایف ایکس) صنعت نے 2024 میں تقریباً 103 ارب روپے کا تعاون کیا، جو 2027 تک بڑھ کر 147 ارب روپے تک پہنچنے کی توقع ہے۔
اس شعبے سے وابستہ اسٹارٹ اپس مصنوعی ذہانت کی مدد سے فلم سازی، ورچوئل پروڈکشن، خودکار تدوین، کثیر لسانی ڈبنگ، آواز کی تخلیق، اے آئی اوتارز اور ڈیجیٹل کہانی گوئی کے آلات کی نمائش کر رہے ہیں۔ یہ ایپلی کیشنز پیداواری عمل کے مختلف مراحل میں کارکردگی کو بہتر بناتی ہیں، جبکہ متنوع لسانی منڈیوں والے ملک میں مواد کی کثیر لسانی رسائی کو بھی وسعت دیتی ہیں۔ چونکہ ڈیجیٹل آمدنی روایتی ذرائع سے آگے بڑھ رہی ہے، اس لیے مصنوعی ذہانت کا انضمام مواد کی تیاری اور ترسیل کے نظام میں وسعت پذیری اور لاگت کے مؤثر انتظام کو مزید مضبوط بناتا ہے۔
گیمنگ اور امِرسیو ٹیکنالوجیز: گیمنگ بھارت کی تخلیقی معیشت کے تیزی سے ترقی کرنے والے شعبوں میں سے ایک ہے۔
* آن لائن گیمنگ نے 2024 میں 232 ارب روپے کی آمدنی حاصل کی، جس کے 2027 تک بڑھ کر 316 ارب روپے تک پہنچنے کا امکان ہے۔
* یہ شعبہ اے وی جی سی-ایکس آر ماحولیاتی نظام کے سب سے متحرک اور تیزی سے ابھرتے ہوئے اجزاء میں شمار ہوتا ہے۔
صارفین کی تعداد کے لحاظ سے بھارت دنیا کی سب سے بڑی گیمنگ منڈیوں میں شمار ہوتا ہے، جسے موبائل فون کے وسیع استعمال اور ڈیجیٹل ماحول سے ہم آہنگ نئی نسل کی مضبوط حمایت حاصل ہے۔ آمدنی میں اضافے، مقامی گیم اسٹوڈیوز کی توسیع اور عالمی پلیٹ فارمز کے ساتھ انضمام کے باعث گیمنگ محض تفریحی سرگرمی سے آگے بڑھ کر ایک منظم ڈیجیٹل صنعت کی شکل اختیار کر رہی ہے۔
ایم آئی بی پویلین میں پیش کی جانے والی نمایاں اختراعات میں گیم اثاثوں (گیم ایسیٹس) کی تیاری کے لیے جنریٹو اے آئی، حقیقی وقت پر مبنی کمنٹری سسٹمز، حالات کے مطابق ڈھلنے والے گیم پلے انجنز، امِرسیو ماحول اور انٹرایکٹو اسپورٹس ٹیکنالوجیز شامل ہیں۔ یہ اختراعات اس تبدیلی کی عکاسی کرتی ہیں جس کے تحت گیمنگ محض استعمال اور تفریح تک محدود نہیں رہی بلکہ مصنوعی ذہانت پر مبنی گیم ڈویلپمنٹ اور امِرسیو پلیٹ فارمز کی تخلیق کی جانب تیزی سے بڑھ رہی ہے۔
تخلیقی اور مواد کی ٹیکنالوجیز: وسیع تر اے وی جی سی-ایکس آر ماحولیاتی نظام-جس میں حرکت پذیری ، بصری اثرات ، گیمنگ ، کامکس اور توسیعی حقیقت شامل ہیں-تخلیقی معیشت کے سب سے زیادہ ٹیکنالوجی پر مبنی محاذ کی نمائندگی کرتا ہے ۔
بھارت کا اینیمیشن اور ویژول ایفیکٹس (وی ایف ایکس) شعبہ عالمی سطح پر مربوط پیداواری مرکز کے طور پر کام کرتا ہے اور بین الاقوامی فلموں، اسٹریمنگ پلیٹ فارمز، اشتہاری مہمات اور امِرسیو تجربات میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ بنگلورو، حیدرآباد، ممبئی، پونے، چنئی اور ترواننت پورم جیسے قائم شدہ تخلیقی مراکز اس ماحولیاتی نظام کی بنیاد ہیں، جنہیں درمیانی اور اعلیٰ سطح کی بڑھتی ہوئی ہنر مند افرادی قوت کی معاونت حاصل ہے۔
ایم آئی بی پویلین میں پوڈکاسٹ، ورچوئل اسٹوڈیو، امِرسیو تھیٹر، تجرباتی میڈیا اور ایسے تخلیقی آلات کے لیے مصنوعی ذہانت پر مبنی ایپلی کیشنز پیش کی جا رہی ہیں جو ان پیداواری نظاموں میں براہِ راست ضم ہو سکتی ہیں۔ اے وی جی سی شعبے میں آئندہ ایک دہائی کے دوران تقریباً 20 لاکھ براہِ راست اور بالواسطہ روزگار کے مواقع پیدا ہونے کے تخمینے کے پیش نظر، مصنوعی ذہانت سے تقویت یافتہ تخلیقی ٹیکنالوجیز کو معاشی ترقی اور روزگار کے فروغ کے اہم محرکات کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
اے آئی امپیکٹ سربراہی اجلاس 2026 میں ایم آئی بی پویلین کی اہم جھلکیاں
- ایم آئی بی پویلین کے اندر قائم ویوز کریئیٹرز کارنر پینل مباحثوں، ماسٹر کلاسوں، فائر سائیڈ چیٹس اور اسٹارٹ اپ نمائشوں کے لیے ایک منظم پلیٹ فارم کے طور پر کام کر رہا ہے۔
- بھارت کے اے وی جی سی-ایکس آر اور میڈیا ٹیک شعبوں سے تعلق رکھنے والے 51 اسٹارٹ اپس انڈیا اے آئی امپیکٹ ایکسپو 2026 میں مصنوعی ذہانت سے تقویت یافتہ اختراعات کی نمائش کر رہے ہیں۔
- اطلاعات و نشریات کی وزارت، ایڈوب کے اشتراک سے، انڈیا اے آئی کے دوران بھارت کے مصنوعی ذہانت سے تقویت یافتہ تخلیقی ماحولیاتی نظام کی نمائش کر رہی ہے۔ اس کی ایک نمایاں جھلک کتھاوترہے، جس کے تحت بھارت میں تیار کی گئی مصنوعی ذہانت پر مبنی پانچ مختصر فلمیں لینگویج آف برڈز، میگوئی، اتراین، دی باربرس سیکرٹ اوریپاسورس ویوز کریئیٹرز کارنر میں قائم اے آئی تھیٹر میں پیش کی جا رہی ہیں۔ایڈوب‘‘دی فیوچر آف فلم: اے آئی، کریئیٹوٹی اینڈ کرافٹ’’کے عنوان سے ایک خصوصی موضوعاتی سیشن بھی منعقد کر رہا ہے، جبکہ ایک کنٹینٹ کریئیشن ہب کے ذریعے مصنوعی ذہانت پر مبنی ویڈیو پروڈکشن ورک فلوز کا عملی مظاہرہ بھی کیا جا رہا ہے، جو تیز رفتار، قابلِ توسیع اور اختراعی مواد کی تخلیق کو ممکن بناتے ہیں۔
- معروف فلم ہدایت کار شیکھر کپور مصنوعی ذہانت پر مبنی کہانی گوئی اور ارتقا پذیر سینمائی طرزِ عمل پر ایک ماسٹر کلاس کی قیادت کر رہے ہیں۔
- اہم ٹیکنالوجی مظاہروں میں زیرو ٹچ خودمختار نیوز روم، کثیر لسانی ڈبنگ اور مصنوعی ذہانت پر مبنی اشارتی زبان کے اوتارز سے مزین بھاشا وال، سمواد سیتو، دی ڈائریکٹرز چیئر، اے آئی پوڈکاسٹ اسٹوڈیو، مکالمہ کرنے والے ہیومنائیڈ روبوٹس اور آواز کی نقل (وائس کلوننگ) کے حل شامل ہیں۔
- بھاشاسیتو اور کلاسیتو چیلنج کے فاتحین ثقافتی ورثے کے تحفظ اور لسانی رسائی کو فروغ دینے کے لیے مصنوعی ذہانت پر مبنی آلات اور حل پیش کر رہے ہیں۔
- اے آئی امِرسیو تھیٹر میں 270 درجے کی پروجیکشن اور خصوصی مقامی ڈیزائن کے ساتھ منتخب مصنوعی ذہانت پر مبنی فلمیں اور انٹرنیشنل فلم فیسٹیول آف انڈیا کے سینیم اے آئی ہیکاتھون کے فائنلسٹس کے منصوبے پیش کیے جا رہے ہیں۔
- ایم آئی بی پویلین میں منعقد ہونے والے مختلف سیشنز میں ایل ٹی ایم بلیو ورس، اے ڈبلیو ایس، گوگل اور ایورجنٹ، سونی ریسرچ انڈیا، پرپل ٹاک، ڈیش ورس، پاکٹ ایف ایم، کوکو ایف ایم اور لومیکائی کی اختراعات پیش کی جائیں گی۔ یہ سیشنز علم کے تبادلے، پالیسی مکالمے اور ذمہ دارانہ مصنوعی ذہانت پر مبنی تخلیقی خدمات کے میدان میں بھارت کی قیادت کو فروغ دینے میں معاون ثابت ہوں گے۔
انڈیا اے آئی امپیکٹ سر براہی اجلاس 2026 میں ایم آئی بی پویلین بھارت کی فروغ پاتی ہوئی تخلیقی معیشت کی ایک نمایاں جھلک کے طور پر سامنے آیا ہے، جہاں ویوز کریئیٹرز کارنر کے تحت 51 مصنوعی ذہانت پر مبنی اسٹارٹ اپس، صنعت کے رہنما اور عالمی شراکت دار ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوئے ہیں۔ امِرسیو تھیٹر کے تجربات، جدید نیوز روم اور گیمنگ ٹیکنالوجیز جیسی نمائشوں کے ذریعے ایم آئی بی پویلین مواد کی تخلیق اور ڈیجیٹل پلیٹ فارموں میں مصنوعی ذہانت کے عملی انضمام کو اجاگر کرتا ہے۔ مجموعی طور پر یہ تمام نمایاں پہلو ایسے شعبے کی عکاسی کرتے ہیں جو قدر، صلاحیت اور عالمی اہمیت کے اعتبار سے مسلسل وسعت اختیار کر رہا ہے۔
انڈیا اے آئی امپیکٹ سر براہی اجلاس 2026 میں بھارتی مصنوعی ذہانت اور گیمنگ اسٹارٹ اپس مرکزِ توجہ۔

مصنوعی ذہانت سے تقویت یافتہ گیمنگ اورعمیق ( امِرسیو)میڈیا بھارت کے فروغ پاتے ہوئے اے وی جی سی ماحولیاتی نظام کے ایک اسٹریٹجک ستون کے طور پر ابھر رہے ہیں۔ یہ سمٹ اجاگر کرتی ہے کہ کس طرح مصنوعی ذہانت پیداواری عمل کو تیز تر بناتی ہے، انٹرایکٹو کہانی گوئی کو بہتر کرتی ہے اور اصل آئی پی کی تخلیق میں معاونت فراہم کرتی ہے۔
گیمنگ اور انٹرایکٹو ٹیکنالوجی کے زمرے کے تحت پانچ نمایاں بھارتی اسٹارٹ اپ جدید مصنوعی ذہانت سے تقویت یافتہ حل پیش کریں گے، جو مصنوعی ذہانت، گیمنگ، امِرسیو میڈیا اور کاروباری تبدیلی کے سنگم پر بھارت کی بڑھتی ہوئی قیادت کو نمایاں کریں گے۔
تخلیقی پیداوار کے لیے جنریٹو اے آئی: یس گنوم اپنی جدید آرٹ تخلیق کرنے والی پلیٹ فارم اسکیٹلی اے آئی پیش کرے گا، جسے گیم اسٹوڈیوز اور تخلیقی ٹیموں کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کیا گیا ہے۔ یہ پلیٹ فارم پیداوار کے لیے تیار بصری اثاثوں کی تخلیق، مخصوص طرزِ فن کی تربیت، تیز رفتار بہتری اور قابلِ توسیع ورک فلوز کی سہولت فراہم کرتا ہے۔ اس کے ذریعے یہ واضح ہوتا ہے کہ مصنوعی ذہانت کس طرح مواد کی تیاری کے نظام کو تبدیل کر رہی ہے، رکاوٹوں کو کم کرتے ہوئے فنّی ہم آہنگی اور اسٹوڈیو کی منفرد شناخت کو برقرار رکھتی ہے۔
کھیلوں کی گیمنگ میں حقیقی وقت کی جنریٹو اے آئی: میٹا اسپورٹس (ہٹ وکٹ) اپنے ملٹی پلیئر کرکٹ پلیٹ فارم میں ضم جنریٹو اے آئی سے تقویت یافتہ لائیو کمنٹری انجن کا مظاہرہ کرے گا۔ کھیل کے دوران حقیقی وقت میں گیم پلے کا تجزیہ کرتے ہوئے اور سیاق و سباق سے ہم آہنگ، آواز پر مبنی تبصرہ فراہم کرکے یہ نظام صارفین کے لیے زیادہ مؤثر، ذاتی نوعیت کا اور دلچسپ تجربہ پیدا کرتا ہے۔ یہ مثال ظاہر کرتی ہے کہ مصنوعی ذہانت پر مبنی کہانی گوئی کس طرح انٹرایکٹو کھیلوں کی تفریح کو مزید بہتر اور پرکشش بنا رہی ہے۔
کنسول گریڈ موبائل گیمنگ ایکوسسٹم: کویوزو اپنے مربوط ہارڈویئر اور سافٹ ویئر ماحولیاتی نظام کی نمائش کرے گا جو اسمارٹ فونز کو کنسول معیار کے گیمنگ آلات میں تبدیل کرتا ہے۔ انٹیلیجنٹ بٹن میپنگ، ریموٹ پلے انضمام، کارکردگی کے تجزیات اور ماڈیولر ہارڈویئر اختراعات کے ذریعے یہ پلیٹ فارم بھارت کے موبائل گیمنگ ماحولیاتی نظام میں موجود بکھراؤ کے مسئلے سے نمٹتا ہے، جبکہ اعلیٰ کارکردگی پر مبنی مسابقتی گیمنگ کے تجربے کو بھی ممکن بناتا ہے۔
انسان بمقابلہ مصنوعی ذہانت انٹرایکٹو تجربہ: یوتھ بز (آورکیڈیم) “مین بمقابلہ جی پی ٹی” پیش کرے گا، جو ایک لائیو اور حالات کے مطابق ڈھلنے والا گیم پلے فارمیٹ ہے، جس میں انسانی شرکاء ایسے مصنوعی ذہانت ایجنٹس کے خلاف مقابلہ کرتے ہیں جو حقیقی وقت میں سیکھتے اور ارتقا پذیر ہوتے ہیں۔ یہ شوکیس پیچیدہ اے آئی میکانزم کو آسان اور ناظرین کے لیے قابلِ فہم امِرسیو تجربات میں تبدیل کرتا ہے، اور انٹرایکٹو انٹرٹینمنٹ میں اصل دانشورانہ املاک کی جانب بھارت کے بڑھتے ہوئے رجحان کو نمایاں کرتا ہے۔
انٹرپرائز کوگنیٹو اے آئی ریڈینیس: ایویو اپنی نیورو سائنس پر مبنی اے ایف ای آر آر ماڈل کے تحت تیار کردہ انٹرپرائز کوگنیٹو اے آئی ریڈینیس ٹول کی پہلی بار نمائش کرے گا۔ یہ ٹول سر براہی اجالس میں ایک لائیو ڈائیگناسٹک لیب کے طور پر کام کرتا ہے، جو تنظیموں اور قیادت کی مصنوعی ذہانت کو اپنانے کی تیاری کا جائزہ لیتا ہے۔ یہ نظام روایتی تکنیکی پیمانوں سے آگے بڑھ کر علمی لچک، فیصلہ سازی کی ہم آہنگی اور ذہین نظاموں کے ساتھ مطابقت کو بھی پرکھتا ہے۔
بھارت کے اے آئی گیمنگ مستقبل میں سرمایہ کاری
گیم ڈویلپرز ایسوسی ایشن آف انڈیا کے اشتراک سے تیار کیا گیا ایک خصوصی پینل مباحثہ “دی نیو گولڈ رش: انویسٹنگ اِن انڈیاز اے آئی پاورڈ گیمنگ فیوچر” عالمی سرمایہ کاروں اور صنعت کے رہنماؤں کو یکجا کرے گا تاکہ بھارت کے مصنوعی ذہانت پر مبنی گیمنگ اور انٹرایکٹو میڈیا میں بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ پر گفتگو کی جا سکے۔
یہ سیشن سرمایہ کاری کے ابھرتے ہوئے رجحانات، مصنوعی ذہانت سے تقویت یافتہ پیداواری ماڈل، ہنرمندی کے فروغ کے اقدامات اور پالیسی فریم ورکس کا جائزہ لے گا، جو بھارت کو اے آئی پر مبنی گیمنگ جدت کے میدان میں عالمی سطح پر ایک مضبوط مرکز کے طور پر ابھارنے کے لیے ضروری ہیں۔
یہ اسٹارٹ اپس مجموعی طور پر یہ ظاہر کرتے ہیں کہ مصنوعی ذہانت اب محض تجرباتی مرحلے سے آگے بڑھ کر گیمنگ پروڈکشن، عمیق تجربات اور انٹرپرائز ٹرانسفارمیشن فریم ورکس میں مکمل طور پر شامل ہو رہی ہے۔ ان کے حل ایک ایسے پختہ ہوتے ہوئے ماحولیاتی نظام کی عکاسی کرتے ہیں جو تخلیقی اختراع اور قابلِ توسیع ٹیکنالوجی کے نفاذ کو یکجا کرتا ہے۔ مجموعی طور پر یہ بھارت کے اس کردار کی نشاندہی کرتے ہیں جہاں وہ محض ایک صارف مارکیٹ کے بجائے اے آئی نیٹو گیمنگ پلیٹ فارمز کا تخلیق کار بن کر ابھر رہا ہے۔
بھارتی تخلیقی صنعت کے لیے عالمی مواقع کی توسیع
انڈیا اے آئی امپیکٹ سر براہی اجلاس 2026 نے بھارتی اے آئی اسٹارٹ اپس اور تخلیقی پیشہ ور افراد کے لیے عالمی اختراع، سرمایہ اور پالیسی نیٹ ورکس سے جڑنے کے نئے مواقع پیدا کیے ہیں۔ 300 سے زائد کیوریٹڈ پویلینز اور لائیو ڈیمانسٹریشنز کے ساتھ، انڈیا اے آئی امپیکٹ ایکسپو 2026 میں 600 سے زیادہ اسٹارٹ اپس اور 13 ممالک کے وفود شرکت کر رہے ہیں، جو میڈیا اور تفریح، اے وی جی سی-ایکس آر، گیمنگ، امِرسیو(عمیق) ٹیکنالوجیز اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے شعبوں میں بین الاقوامی سطح پر رسائی کو وسعت دیتے ہیں۔
سو سے زائد ممالک کی نمائندگی کرنے والی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں، تحقیقی اداروں اور سرکاری اداروں کی شرکت بین الاقوامی پیداواری نظاموں اور ریگولیٹری فریم ورکس سے متعلق اہم بصیرت فراہم کرتی ہے۔ یہ تبادلے تخلیقی اے آئی، اینیمیشن، گیمنگ اور آئی پی پر مبنی مواد کے شعبوں میں بینچ مارکنگ کو فروغ دیتے ہیں، جبکہ مشترکہ تخلیق، سرمایہ کاری اور نئی منڈیوں تک رسائی کے مواقع بھی پیدا کرتے ہیں۔
اختراعی چیلنجوں اور اسٹریٹجک مکالمے بھارتی اداروں کو ایسے عالمی فورمز میں نمایاں مقام دیتے ہیں جو اے آئی معیارات اور ڈیجیٹل تجارت کے فریم ورکس کو تشکیل دے رہے ہیں۔ مجموعی طور پر یہ اقدامات بھارت کی تخلیقی اور اے آئی پر مبنی صنعتوں کو عالمی سطح پر وسعت دینے کی صلاحیت کو مضبوط بناتے ہیں، جبکہ ایک ذمہ دار، جامع اور قابلِ توسیع عالمی اختراعی نظام میں بھی حصہ ڈالتے ہیں۔
نتیجہ
انڈیا اے آئی امپیکٹ سربراہی اجلاس 2026 میں ایم آئی بی پویلین یہ ظاہر کرتا ہے کہ بھارت اپنے اے آئی وژن کو کس طرح عملی، مارکیٹ کے لیے تیار نتائج میں تبدیل کر رہا ہے، جس کی قیادت اسٹارٹ اپس، تخلیق کاروں اور جدت کاروں کے ذریعے کی جا رہی ہے۔ میڈیا، گیمنگ عمیق اور تخلیقی ٹیکنالوجیز کی مرکوز نمائش کے ذریعے ایم آئی بی پویلین بھارت کی اے آئی صلاحیتوں کی گہرائی کو اجاگر کرتا ہے اور ٹیکنالوجی، ثقافت اور کاروبار کے بڑھتے ہوئے امتزاج کی عکاسی کرتا ہے۔
پانچ دنوں پر مشتمل منظم پروگرامنگ کے دوران یہ پویلین اسٹارٹ اپس، پالیسی سازوں، سرمایہ کاروں، تخلیق کاروں اور بین الاقوامی شراکت داروں کے درمیان مسلسل روابط کو ممکن بنائے گا۔ بانیوں کی قیادت میں پیش کی جانے والی کہانیاں، پالیسی مکالمہ اور صنعتوں کے درمیان تعاون نے مل کر بھارتی اے آئی اختراع کو ایک ایسے ماڈل کے طور پر پیش کیا ہے جو عالمی سطح پر مسابقتی بھی ہے اور مقامی سطح پر مضبوط بنیادوں پر قائم بھی ہے۔
اسٹارٹ اپ نمائشوں، تخلیقی تجربات، حکمرانی سے متعلق مباحث اور عالمی منڈیوں تک رسائی کو یکجا کرتے ہوئے یہ پویلین بھارت کے ذمہ دارانہ، جامع اور قابلِ توسیع اے آئی ترقی کے وژن کو بھی مضبوط بناتا ہے۔ یہ براہِ راست اس وسیع تر قومی عزم کی عکاسی کرتا ہے جس کا مقصد اے آئی نیٹو پلیٹ فارمز کی تعمیر، تخلیقی معیشت کو مستحکم کرنا اور گلوبل ساؤتھ سے عالمی اے آئی ماحولیاتی نظام میں بھارت کو ایک اہم شراکت دار کے طور پر پیش کرنا ہے۔
حوالہ جات
Ministry of Information & Broadcasting
Prime Minister’s Office
Press Information Bureau
پی ڈی ایف دیکھنے کے لیے یہاں کلک کریں
********
) ش ح ۔ ش آ۔ن ع)
U.No. 9176
(रिलीज़ आईडी: 2277883)
आगंतुक पटल : 8