PIB Backgrounder
azadi ka amrit mahotsav

آگے بڑھتا ہوا بھارت


سیاحت کے فروغ سے ترقی کی ایک دہائی

प्रविष्टि तिथि: 25 JUN 2026 11:30AM by PIB Delhi

 نئے انداز میں تشکیل دیا گیا شعبہ


سیاحت محض سفر اور تفریح کی صنعت نہیں ہے بلکہ یہ معاشی ترقی، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور ثقافتی تبادلے کا ایک طاقتور ذریعہ ہے۔ ایک مسافر کا ہر سفر روزگار کے وسیع نیٹ ورک میں نئے مواقع پیدا کرتا ہے، جس سے ہوٹلوں، ٹرانسپورٹ فراہم کرنے والوں، ٹور گائیڈس، دستکاروں، ریستورانوں اور بے شمار مقامی کاروباروں کو فائدہ پہنچتا ہے۔ جب سیاح مختلف مقامات کی سیر کرتے ہیں تو وہ براہِ راست مقامی معیشت میں تعاون کرتے ہیں، جس سے زمینی سطح پر خوشحالی اور کاروباری سرگرمیوں کو فروغ ملتا ہے۔

بھارت جیسے متنوع اور ثقافتی طور پر مالا مال ملک میں سیاحت علاقائی ترقی کا ایک اہم محرک ہے۔ یہ ابھرتی ہوئی اور دور دراز مقامات تک سرمایہ کاری کو پہنچاتی ہے، مقامی برادریوں کے لیے پائیدار روزگار کے مواقع پیدا کرتی ہے، اور بھارت کے رنگا رنگ ثقافتی ورثے، روایات اور قدرتی حسن کو عالمی سطح پر متعارف کراتی ہے۔ معاشی فوائد کے علاوہ، سیاحت ثقافتی ہم آہنگی کو مضبوط بناتی ہے، عوامی روابط کو فروغ دیتی ہے، اور عالمی منظرنامے پر بھارت کی سافٹ پاور کو مزید مستحکم کرتی ہے۔

 

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image003YWR8.jpg

 

ملک کے مصروف اور گہماگہمی سے بھرپور شہروں، مقدس زیارت گاہوں، پُرسکون دیہات، صاف ستھرے ساحلی علاقوں، شاندار پہاڑوں اور ماحولیاتی اہمیت کے حامل مقامات تک، سیاحت ہمارے ملک کی ترقی کی سمت متعین کرنے میں دن بہ دن زیادہ اہم کردار ادا کر رہی ہے۔

گزشتہ ایک دہائی کے دوران اس شعبے نے انقلابی پالیسی اقدامات، بہتر رابطہ کاری، جدید بنیادی ڈھانچے اور سیاحتی مقامات کی منصوبہ بند ترقی کے ذریعے نئی رفتار حاصل کی ہے۔ آج سیاحت معاشی ترقی اور جامع و ہمہ گیر نمو کے سنگم پر کھڑی ہے، جہاں یہ نہ صرف اقتصادی پیش رفت کو فروغ دیتی ہے بلکہ معاشرے کے مختلف طبقات کو ترقی کے ثمرات سے مستفید ہونے کے مواقع بھی فراہم کرتی ہے۔

 

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image004893Z.jpg

 

 

2014 سے 2025 کے دوران بھارت میں 18.125 کروڑ بین الاقوامی آمد اور 9.335 کروڑ غیر ملکی سیاحوں کی آمد ریکارڈ کی گئیں۔

بین الاقوامی آمد سے مراد بھارت میں داخل ہونے والے تمام زائرین کی مجموعی تعداد ہے، جس میں غیر ملکی شہریوں کے ساتھ ساتھ غیر مقیم بھارتی (این آر آئیز) بھی شامل ہوتے ہیں۔ اس کے برعکس، غیر ملکی سیاحوں کی آمد میں صرف وہ غیر ملکی شہری شامل ہوتے ہیں جنہوں نے اسی مدت کے دوران بھارت کا دورہ کیا۔

وسیع ہوتی شاہراہیں، جدید بنائے گئے ریلوے اسٹیشن اور بہتر رابطہ کاری ملک بھر کے سیاحتی مقامات تک رسائی کو پہلے سے کہیں زیادہ آسان بنا رہے ہیں۔ یہ پیش رفت سیاحت کے شعبے کو مزید مضبوط کرتے ہوئے ‘‘وکست بھارت @ 2047’’ کے وژن کی تکمیل میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔


سودیش درشن کے ذریعے سیاحتی بنیادی ڈھانچے کی بحالی اور ترقی ا

 

ہر یادگار سفری تجربے کا آغاز اس وقت سے بہت پہلے ہو جاتا ہے جب کوئی سیاح اپنی منزل تک پہنچتا ہے۔ ہموار اور باہم مربوط سڑکیں، آسانی سے قابلِ رسائی عوامی مقامات، معیاری رہائش اور جدید سیاحتی سہولیات اس بات میں اہم کردار ادا کرتی ہیں کہ کوئی مقام کس طرح محسوس اور یاد رکھا جاتا ہے۔ معیاری بنیادی ڈھانچے کی تبدیلی لانے والی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے، حکومت نے ملک بھر میں سیاحتی مقامات کو مضبوط بنانے کے لیے ایک وسیع اور پرعزم مہم کا آغاز کیا۔

 

سن 2014 میں سودیش درشن اسکیم اور پرشاد اسکیم کے آغاز نے بھارت میں سیاحت کی ترقی کے نقطۂ نظر میں ایک بنیادی تبدیلی پیدا کی۔ منتشر اور محدود نوعیت کی دخل اندازیوں سے آگے بڑھتے ہوئے، ان اقدامات نے مختلف اقسام کے سیاحتی مقامات پر بڑے پیمانے پر عالمی معیار کے سیاحتی بنیادی ڈھانچے کی ترقی پر توجہ مرکوز کی۔

سودیش درشن اسکیم کا بنیادی مقصد ملک میں سیاحتی بنیادی ڈھانچے کو فروغ دینا ہے۔ اس اسکیم کے پہلے مرحلے کے تحت ملک بھر کے 15 سیاحتی سرکٹس میں 5,000 کروڑ روپے سے زائد کی لاگت سے 76 منصوبوں کی منظوری دی گئی۔ ان میں سے 75 منصوبے مکمل ہو چکے ہیں، جس کے نتیجے میں سیاحوں کے لیے سہولیات میں بہتری، بہتر رابطہ کاری اور سیاحتی خدمات کے بنیادی ڈھانچے کو مزید مضبوط بنایا گیا ہے۔

اس کامیابی کی بنیاد پر حکومت نے 2022 میں سودیش درشن  2.0 متعارف کرایا، جس میں پائیدار  اور تجرباتی  سیاحتی مقامات کی ترقی پر زیادہ زور دیا گیا۔ اس اقدام کا مقصد مختلف مقامات کو ایسے جامع سیاحتی مراکز میں تبدیل کرنا ہے جہاں آنے والے سیاح منفرد اور یادگار تجربات حاصل کر سکیں۔

اس سلسلے میں نمایاں اقدامات میں تہری لیک کے اطراف تیرتے ہوئے لاگ ہٹس کی تعمیر شامل ہے، جو جھیل کے کنارے ایک منفرد اور دلکش تجربہ فراہم کرتے ہیں۔ اسی طرح کروشیتر میں مہابھارت پر مبنی موضوعاتی  پرکشش مقامات تیار کیے گئے ہیں، جہاں جدید اندازِ بیان اور ثقافتی تشریح کے ذریعے زائرین کو ایک عمیق اور دلچسپ تجربہ فراہم کیا جاتا ہے۔

 

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image005JQ69.jpg

 

پورے بھارت میں عقیدت اور بھگتی کا سفر ہر سال لاکھوں زائرین کو اپنی جانب متوجہ کرتے ہیں۔ یہ مقدس سفر نہ صرف روحانی وابستگی کو مضبوط بناتے ہیں بلکہ مقامی لوگوں کے روزگار کو سہارا دیتے ہیں، روایتی دستکاریوں اور کاروبار کو فروغ دیتے ہیں اور علاقائی اقتصادی ترقی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

روحانی سیاحت کی انقلابی صلاحیت کو تسلیم کرتے ہوئے، پرشاداسکیم نے زیارتی مقامات کے منظرنامے کو نئی شکل دی ہے۔ اس کے تحت ملک بھر میں 54 منصوبوں کی منظوری دی گئی، جن کی مجموعی مالیت 1700 کروڑ روپے سے زیادہ ہے۔ ان مربوط ترقیاتی منصوبوں نےسومناتھ، سری سیلم اور اتر پردیش کے مقدس گووردھن جیسے بڑے اور مصروف روحانی مراکز پر زائرین کے لیے سہولتوں اور حفاظتی انتظامات میں نمایاں بہتری پیدا کی ہے۔

 

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image006DAJY.jpg

 

سیاحت کی ترقی کو اب قومی سطح کی وسیع تر ترجیحات کے ساتھ مربوط کیا جا رہا ہے۔ اسے بڑی حد تک ایسے اقدامات کے ساتھ ہم آہنگ کیا جا رہا ہے جن کا مقصد شمال مشرقی خطے کی صلاحیت کو بروئے کار لانا، دیہی سیاحت کو فروغ دینااور پورودیا ریاستوں کی ترقیاتی خواہشات کو آگے بڑھانا ہے۔ حالیہ مرکزی بجٹ میں کیے گئے اعلانات نے اس وژن کو مزید تقویت دی ہے، جن میں اہم سیاحتی مراکز اور مقامات کی دیکھ بھال اور ترقی کے لیے خصوصی انتظامات شامل ہیں۔

یہ سرمایہ کاری نہ صرف سیاحتی بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنا رہی ہے بلکہ روزگار کے مواقع پیدا کرنے، مقامی معیشتوں میں اضافہ کرنے اور ابھرتے ہوئے سیاحتی علاقوں میں کمیونٹیز کے لیے نئے امکانات پیدا کرنے کا ذریعہ بھی بن رہی ہے۔

 

بھارت کے سب سے زیادہ لچکدار اور متحرک شعبوں میں سے ایک کے طور پر، روحانی سیاحت مسلسل جامع ترقی کو آگے بڑھانے میں مرکزی کردار ادا کر رہی ہے۔ زیارتی مقامات کے بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنا کر اور سیاحوں کے تجربات کو مزید خوشگوار بنا کر یہ اقدامات اس بات کو یقینی بنا رہے ہیں کہ سیاحت کے فوائد مقامی برادریوں تک پہنچیں، ساتھ ہی ملک کے بھرپور روحانی اور ثقافتی ورثے کا تحفظ بھی برقرار رہے۔


سرمایہ کاری کے لیے ریاستوں کو خصوصی امداد (ایس اے ایس سی آئی)

 

سیاحت پر مبنی بنیادی ڈھانچے کی اپنی حکمتِ عملی کو مزید مضبوط بناتے ہوئے، حکومت نے بجٹ 25-2024 کے اعلان کے بعد ریاستوں کو سرمایہ جاتی سرمایہ کاری کے لیے خصوصی امداد (ایس اے ایس سی آئی) – عالمی معیار کے نمایاں سیاحتی مراکز کی ترقی پروگرام کا آغاز کیا۔ اس پروگرام کا مقصد اعلیٰ گنجائش کے سیاحتی مقامات کو عالمی معیار کے سیاحتی مراکز میں تبدیل کرنا ہے تاکہ سیاحوں کے تجربات کو بہتر بنایا جا سکے، مقامات کی مسابقتی صلاحیت کو مضبوط کیا جا سکے، اور مقامی اقتصادی مواقع کو فروغ دیا جا سکے۔

اس اقدام کے تحت 23 ریاستوں میں 40 منصوبوں کی منظوری دی جا چکی ہے، جن کی مجموعی لاگت 3,295.76 کروڑ روپے ہے۔ یہ حکومت کے اس عزم کی عکاسی کرتا ہے کہ بھارت میں عالمی معیار کے سیاحتی مقامات تیار کیے جائیں جو بین الاقوامی معیار پر پورا اتریں۔

 

پائیداری ، ذمہ دارانہ سیاحت اور ضرورت سے زیادہ سیاحت کا انتظام

 

جیسے جیسے سیاحت کا شعبہ ترقی کر رہا ہے، پائیداری  اس کی طویل مدتی ترقی کا ایک بنیادی ستون بن گئی ہے۔ قدرتی ماحولیاتی نظام، ثقافتی ورثے اور مقامی روایات کا تحفظ اس لیے ضروری ہے تاکہ آنے والی نسلیں بھی بھارت کے بھرپور سیاحتی وسائل سے لطف اندوز ہو سکیں اور ان سے فائدہ اٹھا سکیں۔

 

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image00767Z0.jpg

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image00843WJ.png

 

 

مقبول سیاحتی مقامات پر ضرورت سے زیادہ سیاحت کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے حکومت متنوع سیاحتی منظرنامے کو فروغ دے رہی ہے، جس کے تحت مخصوص اور منفرد نوعیت کی سیاحتی سرگرمیوں کو ترقی دی جا رہی ہے۔ ہمالیائی ٹریکنگ راستوں، پرندوں کے مشاہدے کے سرکٹس اور ٹرٹل سیاحت  جیسے خصوصی تجربات پر مبنی اقدامات نہ صرف سیاحوں کے دباؤ کو مختلف مقامات پر تقسیم کرنے میں مدد دے رہے ہیں بلکہ کم معروف سیاحتی مقامات میں نئے اقتصادی مواقع بھی پیدا کر رہے ہیں۔

مزید برآں، ٹریول فار لائف پروگرام کے ذریعے پائیداری کو ترجیح دی جا رہی ہے۔ یہ پروگرام سیاحوں، کاروباری اداروں اور مقامی برادریوں کو ماحول دوست طرزِ عمل اپنانے اور ایسے ذمہ دارانہ فیصلے کرنے کی ترغیب دیتا ہے جو ماحولیاتی اثرات کو کم سے کم کریں اور قدرتی وسائل کے تحفظ کو یقینی بنائیں۔

 

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image0107FF4.jpg

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image0091K67.png

 

بھارت کی پائیدار سیاحت کے لیے وابستگی کو عالمی سطح پر بھی تسلیم کیا جا رہا ہے۔ ماملا پورم، حال ہی میں جنوبی ایشیا کا پہلا یونیسکو عالمی ثقافتی ورثہ  مقام بن گیا جسے ممتاز گرین ڈیسٹینیشنز سلور گلوبل سرٹیفیکیشن  حاصل ہوئی ہے۔ یہ کامیابی ذمہ دارانہ سیاحتی انتظام و انصرام کے لیے ایک نئی مثال قائم کرتی ہے۔

ان کوششوں کی تکمیل کے لیے چیلنج بیسڈ ڈیسٹینیشن ڈیولپمنٹ (سی بی ڈی ڈی) اقدام کے تحت روحانی اور ماحولیاتی سیاحت کے شعبوں میں 38 منصوبوں کی منظوری دی گئی ہے، جن کی مجموعی مالیت 697.94 کروڑ روپے ہے۔ ان منصوبوں میں آسام کا پانیدیہنگ پرندوں کا محفوظ علاقہ  اور تلنگانہ کے نظام ساگر ذخیرے پر مبنی ماحولیاتی سیاحت منصوبہ شامل ہیں۔ یہ تمام اقدامات مل کر ایسے سیاحتی ماڈل کو فروغ دے رہے ہیں جو اقتصادی ترقی، ماحولیاتی پائیداری اور ثقافتی ورثے کے تحفظ کے درمیان متوازن ہم آہنگی پیدا کرتا ہے۔

 

عالمی مسابقت اور تکنیکی انضمام

 

آج کی باہم مربوط دنیا میں سیاحت کا انحصار آسان نقل و حرکت، ڈیجیٹل جدت اور عالمی سطح پر مؤثر تشہیر پر ہے۔ ان تبدیلیوں کو مدِنظر رکھتے ہوئے، بھارت نے گزشتہ ایک دہائی کے دوران اپنے سیاحتی نظام کی بنیادوں کو مضبوط بنانے، رابطہ کاری کو بہتر بنانے، سفر کو مزید آسان بنانے اور بین الاقوامی سطح پر اپنی رسائی کو وسعت دینے پر خصوصی توجہ دی ہے۔ ان اقدامات نے عالمی سیاحتی منظرنامے میں ملک کی حیثیت کو مسلسل مضبوط کیا ہے۔

اس پیش رفت کی جھلک بین الاقوامی درجہ بندیوں میں بھی نمایاں ہے۔ 2024 میں بھارت میں 2 کروڑ 6 لاکھ (20.6 ملین) بین الاقوامی سیاحوں کی آمد ریکارڈ کی گئی، جس کے نتیجے میں ملک نے عالمی سطح پر 20ویں مقام حاصل کیا، جبکہ 2016 میں اس کی درجہ بندی 25ویں نمبر پر تھی۔

 

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image011E5O4.jpg

 

ڈیجیٹل اور پالیسی اصلاحات ، خاص طور پر ای-سیاحتی ویزا نظام کے ذریعے ہندوستان کا سفر آسان اور زیادہ آسان ہو گیا ہے ۔ ندھی اور ندھی پلس جیسے ڈیجیٹل پلیٹ فارموں نے بھی ملک بھر میں رہائش فراہم کرنے والوں اور ٹریول ایجنٹوں کے لیے رجسٹریشن اور کاروباری عمل کو ہموار کیا ہے ۔ یہ ایک زیادہ موثر اور شفاف سیاحتی ماحولیاتی نظام میں معاون ثابت ہو رہا ہے ۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image012OOGA.jpg

 

سیاحت عالمی روابط اور بین الاقوامی شراکت داری کو فروغ دینے کا ایک مؤثر ذریعہ بھی بن کر ابھری ہے۔ بھارت کی جی-20 صدارت نے ملک کے متنوع سیاحتی مقامات، بھرپور ثقافتی ورثے، روایتی دستکاریوں اور زندہ ثقافتی روایات کو عالمی برادری کے سامنے مؤثر انداز میں پیش کیا۔ اس موقع نے نہ صرف بھارت کی عالمی ساکھ اور سافٹ پاور کو مزید مستحکم کیا بلکہ ملک کی بڑھتی ہوئی صلاحیتوں کو ایم آئی سی ای  سیاحت –میٹنگس، مراعات،کانفرنسز اور نمائش کے ایک ممتاز عالمی مرکز کے طور پر بھی اجاگر کیا۔ملک کے مختلف سیاحتی مقامات پر عالمی رہنماؤں کی میزبانی کے ذریعے یہ واضح ہوا کہ سیاحت صرف اقتصادی ترقی کا ذریعہ ہی نہیں بلکہ بین الاقوامی تعاون، ثقافتی تبادلے اور اقوام کے درمیان باہمی روابط کو مضبوط بنانے کا ایک مؤثر پل بھی ہے۔ اس طرح سیاحت عالمی ہم آہنگی اور سفارتی تعلقات کے فروغ میں بھی اہم کردار ادا کر رہی ہے۔


انسانی وسائل کو بااختیار بنانا اور مستقبل کے عزائم

 

ہر یادگار سفر کی خوبصورتی صرف ان مقامات سے وابستہ نہیں ہوتی جہاں سیاح جاتے ہیں، بلکہ ان لوگوں سے بھی جڑی ہوتی ہے جو ان مقامات کو زندگی بخشتے ہیں۔ تربیت یافتہ گائیڈز، مہمان نوازی کے شعبے کے ماہرین، دستکار، ٹرانسپورٹ فراہم کرنے والے اور مقامی کاروباری افراد سیاحت کے اس وسیع نیٹ ورک کا حصہ ہیں جن کی مہارتیں اور خدمات سیاحوں کے تجربات کو مزید خوشگوار بناتی ہیں۔ اسی حقیقت کو مدِنظر رکھتے ہوئے، بھارت کی سیاحتی حکمتِ عملی میں بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے ساتھ ساتھ انسانی وسائل کی ترقی کو بھی یکساں اہمیت دی گئی ہے۔

 

اس وژن کو اس وقت مزید تقویت ملی جب وزیرِ اعظم نریندر مودی نے سادگی اور کفایت شعاری کو فروغ دینے کی اپیل کرتے ہوئے شہریوں کو ملکی سیاحت کو ترجیح دینے کی ترغیب دی، تاکہ مقامی روزگار، دستکاروں اور چھوٹے کاروباروں کو فروغ مل سکے۔

سیاحتی شعبے سے وابستہ افرادی قوت کو مضبوط بنانا حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔ 2014 سے 2025 کے درمیان کیپیسٹی بلڈنگ فار سروس پرووائیڈرز  اسکیم کے تحت 4.5 لاکھ سے زائد افراد کو تربیت دی گئی، جس سے خدمات کے معیار اور روزگار کے مواقع میں نمایاں بہتری آئی۔ مزید برآں، مرکزی بجٹ27-2026میں قومی ادارۂ مہمان نوازی  کے قیام اور نمایاں سیاحتی مقامات پر 10,000 سیاحتی گائیڈز کی مہارتوں میں اضافے کی تجاویز پیش کی گئی ہیں۔

بھارت کے سیاحتی عزائم صرف سیاحوں کو متوجہ کرنے تک محدود نہیں ہیں بلکہ ملک خود کو دنیا کے نمایاں سیاحتی مراکز میں شامل کرنے کی سمت تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔ دنیا کی سرفہرست سیاحتی معیشتوں میں بھارت کا آٹھواں  مقام ہے اور یہ شعبہ قومی معیشت میں 231.6 ارب امریکی ڈالر کا تعاون کررہا ہے۔ ورلڈ ٹریول اینڈ ٹورازم کونسل (ڈبلیو ٹی ٹی سی) کے مطابق آئندہ دہائی میں بھارت عالمی سطح پر چوتھے نمبر تک پہنچ سکتا ہے، جو عالمی سیاحتی منظرنامے میں اس کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کی عکاسی کرتا ہے۔

سفر کو آسان بنانے کے لیے ای-ویزا  نظام کو نمایاں طور پر وسعت دی گئی ہے، جس کے نتیجے میں دنیا کے متعدد ممالک کے شہریوں کے لیے بھارت کا سفر مزید سہل ہو گیا ہے۔

یہ تبدیلیاں زمینی سطح پر بھی واضح طور پر نظر آ رہی ہیں۔ گزشتہ ایک دہائی کے دوران مختلف سیاحتی بنیادی ڈھانچے کی اسکیموں کے تحت 100 سے زائد سیاحتی مقامات کو جدید سہولیات سے آراستہ کیا گیا، جس سے سیاحوں کے تجربات میں نمایاں بہتری آئی۔ مزید برآں، 50 اہم سیاحتی مقامات کی مجوزہ ترقی ان مقامات کے معیار، سہولیات اور سیاحتی تیاری کو مزید بہتر بنائے گی۔

بہتر شاہراہیں، جدید ہوائی اڈے، اُڑان  اسکیم کے تحت فضائی رابطے، وندے بھارت ٹرینیں ، ریلوے کی جدید کاری اور آخری مرحلے تک بہتر رابطہ کاری نے سفر کو پہلے سے کہیں زیادہ آسان بنا دیا ہے۔ ان سہولیات کے باعث جیسے جیسے نئے مقامات قابلِ رسائی ہو رہے ہیں، مقامی برادریوں اور سیاحتی کاروباروں کے لیے نئے مواقع بھی پیدا ہو رہے ہیں۔

بین الاقوامی سطح پر بھی بھارت کی سیاحتی تشہیر ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ انکریڈیبل انڈیا  مہم کی تجدید، ڈیجیٹل تشہیر میں اضافہ، عالمی سیاحتی میلوں میں شرکت، روڈ شوز اور اسٹریٹجک شراکت داریوں نے اہم بین الاقوامی منڈیوں میں بھارت کی موجودگی کو مزید مضبوط بنایا ہے۔ یہ تمام اقدامات مل کر ایک ایسے سیاحتی شعبے کی بنیاد رکھ رہے ہیں جو زیادہ مضبوط، زیادہ جامع اور عالمی سطح پر زیادہ مسابقتی ہو۔

جیسے جیسے بھارت دنیا کے صفِ اول کے سیاحتی ممالک میں شامل ہونے کے اپنے وژن کی جانب پیش قدمی کر رہا ہے، اس کی توجہ ثمرآور سیاحتی تجربات پیدا کرنے، روزگار کے مواقع بڑھانے، ثقافتی ورثے کے تحفظ، مقامی برادریوں کو بااختیار بنانے اور سیاحت کو پائیدار و جامع ترقی کے مؤثر ذریعہ کے طور پر فروغ دینے پر مرکوز ہے۔ بھارت کی سیاحتی تبدیلی کا سفر بھرپور انداز میں جاری ہے اور اس کا اگلا چیپٹر مزید بلند عزائم اور اہداف حاصل کرنے والا ہے۔

 

India on the Move

*****

ش ح-ع ح-م ش

UR-9163


(रिलीज़ आईडी: 2277711) आगंतुक पटल : 16
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Bengali , Bengali-TR , Gujarati , Tamil