دیہی ترقیات کی وزارت
محکمہ دیہی ترقیات کی طرف سے’’دیہی ترقی میں مصنوعی ذہانت کے مؤثر استعمال‘‘ کے موضوع پر بھارت منڈپم میں ورکشاپ کا انعقاد ہو گا
اس ورکشاپ میں دیہی کایاپلٹ اور ترقی کے لیے مصنوعی ذہانت پر مبنی مؤثر حلوں پر تبادلۂ خیال کرنے کے لیے نیتی آیوگ، انڈیا اے آئی مشن، صنعتی شعبے کے سرکردہ ماہرین، تعلیمی اداروں کے نمائندگان اور نئے کاروباری اداروں (اسٹارٹ اَپس) کے نمائندے شریک ہوں گے
प्रविष्टि तिथि:
24 JUN 2026 8:15PM by PIB Delhi
وزارتِ دیہی ترقیات کے تحت قائم محکمہ دیہی ترقیات کی طرف سے 25 جون 2026 کو نئی دہلی کے بھارت منڈپم میں ’’دیہی ترقی میں مصنوعی ذہانت کے مؤثر استعمال‘‘ کے موضوع پر قومی ورکشاپ کا انعقاد کیا جائے گا۔ اس ایک روزہ ورکشاپ سے جدید ترین تکنیکی اختراعات کو دیہی ہندوستان کی نچلی سطح کی ترقیاتی ضروریات سے ہم آہنگ کرنے کے لیے مشترکہ پلیٹ فارم فراہم ہوگا۔
اس ورکشاپ میں نیتی آیوگ، انڈیا اے آئی مشن، معروف صنعتی مشاورتی ادارے، ٹیکنالوجی سے وابستہ نئے کاروباری ادارے (اسٹارٹ اَپس)، تعلیمی اداروں کے نمائندے اور علمی شراکت دار شرکت کریں گے۔ شرکاء دیہی ترقی کے نتائج کو تیز رفتار بنانے میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے انقلابی امکانات اور اس کے مؤثر استعمال پر تبادلۂ خیال کریں گے۔
ورکشاپ کے مقاصد
ورکشاپ کا مقصد دیہی ترقی کے لیے قابلِ توسیع اور زیادہ اثرات کے حامل مصنوعی ذہانت پر مبنی عملی استعمالات کی نشاندہی کرنا، صنعت اور تعلیمی اداروں کے تجربات، عملی نفاذ سے حاصل شدہ اسباق اور ادارہ جاتی تجربے کو پیش کرنا، نیز ملک گیر سطح پر ٹیکنالوجی کے استعمال کے لیے درکار ڈیٹ کےا ماحولیاتی نظام اور ادارہ جاتی ڈھانچوں کی تیاری اور صلاحیت کا جائزہ لینا ہے۔
موضوعاتی اجلاس
ورکشاپ کے دوران تکنیکی نشستوں کو پانچ موضوعاتی اجلاسوں میں تقسیم کیا جائے گا۔پہلا اجلاس ’’مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل عوامی بنیادی ڈھانچہ اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجی— دیہی نظم ونسق کے مستقبل کی تشکیل‘‘ کے عنوان سے منعقد ہوگا۔ اس اجلاس میں ہندوستان کے ڈیجیٹل عوامی بنیادی ڈھانچے (ڈی پی آئی) کو مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے ساتھ مربوط کرکے دیہی نظم ونسق اور انتظامی نظام کو جدید اور مؤثر بنانے کے امکانات پر غور کیا جائے گا۔دوسرا اجلاس ’’شہری مرکز دیہی خدمات کی فراہمی اور سماجی تحفظ کے لیے مصنوعی ذہانت‘‘ کے موضوع پر ہوگا، جس میں الگورتھم پر مبنی ماڈلز کے استعمال سے دیہی شہریوں تک فلاحی فوائد اور سرکاری سہولتوں کی فراہمی کو زیادہ مؤثر، شفاف اور ہدف بند بنانے کے طریقوں کا جائزہ لیا جائے گا۔
تیسرا اجلاس ’’دیہی بنیادی ڈھانچے، موسمیاتی لچک اور اثاثہ جاتی نظم کے لیے مصنوعی ذہانت‘‘ کے عنوان سے منعقد ہوگا، جس میں عوامی ترقیاتی منصوبوں کے انتظام، اثاثوں کی خودکار نگرانی اور دیہی علاقوں میں موسمیاتی خطرات کو کم کرنے کے لیے پیش گوئی کی ٹیکنالوجی کے استعمال پر غور و خوض کیا جائے گا۔چوتھا اجلاس ’’دیہی روزگار، ہنرمندی کے فروغ اور مالیاتی بااختیاری کے لیے مصنوعی ذہانت‘‘ کے موضوع پر مرکوز ہوگا۔ اس میں ٹیکنالوجی سے لیس ایسے طریقوں کا جائزہ لیا جائے گا جو دیہی کاروباری سرگرمیوں کو مضبوط بنانے، دیہی نوجوانوں میں مہارتوں کے فقدان کو دور کرنے اور مالیاتی خدمات تک رسائی کو وسعت دینے میں معاون ثابت ہوں۔پانچواں اور آخری اجلاس ’’ذمہ دارانہ مصنوعی ذہانت، حکمرانی، پالیسی اور توسیع کے راستے‘‘ کے عنوان سے منعقد ہوگا، جس میں ڈیٹا کی رازداری، مصنوعی ذہانت کے اخلاقی اصول و ضوابط، پالیسی سے مطابقت اور دیہی ہندوستان میں مصنوعی ذہانت پر مبنی اقدامات کو وسیع پیمانے پر نافذ کرنے کے طریقۂ کار اور امکانات پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا جائے گا۔
وسیع پیمانے کی شرکت
ورکشاپ میں مختلف شعبوں کے ماہرین، پالیسی سازوں، صنعتی رہنماؤں اور اختراع کاروں کی شرکت کے ساتھ تفصیلی پینل مباحثے منعقد کیے جائیں گے۔ نیتی آیوگ، انڈیا اے آئی مشن، تعلیمی اداروں، علمی و تحقیقی تنظیموں اور ابھرتے ہوئے جدید ٹیکنالوجی پر مبنی (ڈیپ ٹیک) اسٹارٹ اَپس سے تعلق رکھنے والے ممتاز منتظمین اور مقررین اپنے تجربات، خیالات اور مشاہدات پیش کریں گے۔ ان میں نچلی سطح پر نافذ کیے گئے اختراعی تجرباتی منصوبوں اور ٹیکنالوجی پر مبنی حل کے عملی تجربات بھی شامل ہوں گے۔
ورکشاپ سے حاصل ہونے والے اجتماعی خیالات، سفارشات اور تجربات سے توقع ہے کہ وہ ہندوستان کے دیہی ترقیاتی ماحولیاتی نظام میں محفوظ، مضبوط، مؤثر اور نتیجہ خیز مصنوعی ذہانت کے آلات اور حل کے انضمام کے لیے جامع پالیسی روڈ میپ کی تشکیل میں اہم کردار ادا کریں گے۔
******
(ش ح۔ م ش ع ۔ م ا)
UR No-9149
(रिलीज़ आईडी: 2277602)
आगंतुक पटल : 10