PIB Backgrounder
ریڈیو کا عالمی دن ، 2026
عوامی خدمت کے ایک وسیلے کے طور پر ریڈیو کا جشن
प्रविष्टि तिथि:
12 FEB 2026 2:32PM by PIB Delhi
|
اہم نکات
|
- ریڈیو کا عالمی دن ، 1946 ء میں اقوام متحدہ کے ریڈیو کے قیام کی یاد میں ، ہر سال 13 فروری کو منایا جاتا ہے ۔
- ریڈیو کا عالمی دن ، 2026 کا موضوع ہے: “ریڈیو اور مصنوعی ذہانت: اے آئی ایک ذریعہ ہے، آواز نہیں۔ ’’
- پہلے کمیونٹی ریڈیو اسٹیشن کا افتتاح یکم فروری ، 2004 ء کو ، بھارت رتن شری لال کرشن اڈوانی کے ذریعے کیا گیا تھا ۔
- اتر پردیش کے امروہہ سے تعلق رکھنے والے رام سنگھ بودھ، جنہیں “ بھارت کے ریڈیو مین” کے نام سے جانا جاتا ہے، انہیں 2025 ء میں گنیز ورلڈ ریکارڈز کی جانب سے ، دنیا میں 1,257 ریڈیوز کے سب سے بڑے ذخیرے کے مالک کے طور پر تسلیم کیا گیا۔
|
تعارف

نہایت ذاتی مگر وسیع، سادہ مگر طاقتور ، ریڈیو میں ہمیشہ ایک خاص کشش رہی ہے ۔ یہ خاموشی سے روزمرہ زندگی میں شامل ہو جاتا ہے، کم مطالبہ کرتا ہے مگر ساتھ ہی معلومات اور تعلق کا احساس فراہم کرتا ہے۔ اس سے بہت پہلے کہ جب اسکرینیں توجہ پر حاوی ہوئیں، ریڈیو کمرے میں ایک قابلِ اعتماد آواز کا وسیلہ تھا ، جو دور دراز کے علاقوں، مختلف زبانوں اور بے شمار زندگیوں کو مشترکہ سماعت کے ذریعے جوڑتا تھا۔
تاریخ کے بہت سے لمحات ، ریڈیو اعلانات کے ذریعے اجتماعی یادداشت میں محفوظ ہیں۔ 14-15 اگست ، 1947 ء کی وہ رات کون بھول سکتا ہے ، جب ریڈیو سیٹوں نے کھڑکھڑاتے ہوئے ، بھارت کی آزادی کا اعلان کیا۔ اس ایک نشریہ میں، ریڈیو نے محض خبر نہیں دی ، بلکہ اس نے ایک وسیع اور متنوع قوم کو آزادی کی ایک مشترکہ آواز میں یکجا کر دیا۔
تاریخی پس منظر

ریڈیو کے عالمی دن ( ڈبلیو آر ڈی ) کو اقوامِ متحدہ کی تعلیمی، سائنسی اور ثقافتی تنظیم (یونیسکو) نے 2011 ء میں اپنی 36ویں جنرل کانفرنس میں منظور کیا اور بعد ازاں 2012 ء میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 67ویں اجلاس کے دوران اسے اختیار کیا گیا، جس کے نتیجے میں یہ ایک باضابطہ طور پر تسلیم شدہ بین الاقوامی دن بن گیا۔ یہ ہر سال 13 فروری کو منایا جاتا ہے، تاکہ 1946 ء میں اقوامِ متحدہ کے ریڈیو کے قیام کی یاد منائی جا سکے، جس نے دوسری جنگِ عظیم کے فوراً بعد نشریات کا آغاز کیا اور عالمی رابطے اور معلومات کے تبادلے کے ابتدائی عزم کی علامت بنا۔
ریڈیو کے عالمی دن 2026 کا موضوع
ریڈیو کے عالمی دن 2026 کا موضوع ، “ریڈیو اور مصنوعی ذہانت: اے آئی ایک وسیلہ ہے، آواز نہیں” ، نشریاتی نظام میں مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے کردار کو اجاگر کرتا ہے۔ یہ اس بات پر روشنی ڈالتا ہے کہ اے آئی کس طرح مواد کی تیاری، محفوظ کرنے ، ترجمہ، سامعین کی شمولیت اور رسائی کو بہتر بنا سکتی ہے، جس سے ریڈیو زیادہ مؤثر اور جامع بن جاتا ہے۔ اسی کے ساتھ، یہ موضوع اس بات پر بھی زور دیتا ہے کہ ٹیکنالوجی کو ایک معاون نظام ہی رہنا چاہیے، نہ کہ انسانی آواز، ادارہ جاتی فیصلے اور اعتبار کا متبادل، جو ریڈیو کی پہچان ہیں۔ اے آئی کے اخلاقی اور ذمہ دارانہ استعمال کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے، یہ موضوع اس بات کی توثیق کرتا ہے کہ جدت طرازی کو ڈیجیٹل دور میں ریڈیو کی بنیادی اقدار ، اعتماد، صداقت اور کمیونٹی سے تعلق کو مضبوط بنانا چاہیے۔
رائے پور میں ریڈیو کے عالمی دن کے موقع پر کانکلیو 2026 کی میزبانی
ریڈیو کے عالمی دن 2026 کے موقع پر، آل انڈیا ریڈیو ( اے آئی آر ) ، رائے پور، چھتیس گڑھ، یونیسکو کے اشتراک سے 13 فروری ، 2026 ء کو صبح 10:00 بجے سے ہوٹل بابلون کیپیٹل، رائے پور میں ریڈیو کے عالمی دن کے موقع پر ایک کانکلیو کا انعقاد کر رہا ہے۔ یہ کانکلیو باضابطہ موضوع ‘‘ ریڈیو اور مصنوعی ذہانت ’’ پر مرکوز ہے اور اس میں اس بات پر غور کیا جائے گا کہ کس طرح مصنوعی ذہانت مواد کی تخلیق، سامعین کی شمولیت اور رسائی کو بہتر بنا سکتی ہے ،جب کہ ریڈیو نشریات کے مرکز میں انسانی آواز کو برقرار رکھا جائے۔
آل انڈیا ریڈیو: بھارت کا عوامی نشریاتی ادارہ

آل انڈیا ریڈیو ( اے آئی آر ) ، جسے عام طور پر آکاشوانی کے نام سے جانا جاتا ہے، پرسار بھارتی کے تحت ریڈیو کا شعبہ ہے، جو بھارت کا قومی نشریاتی ادارہ ہے اور اپنے قیام کے وقت سے ہی اس نعرے “بہوجن ہِتائے ، بہوجن سکھائے ’’ (عوام کی فلاح و بہبود اور خوشی کے لیے) کے ساتھ ملک کی خدمت میں سر گرم عمل ہے۔ 1936 ء میں قائم کیا گیا اور آزادی کے بعد سرکاری ملکیت کے تحت لایا گیا، اے آئی آر ، دنیا کی سب سے بڑی نشریاتی تنظیموں میں سے ایک بن چکا ہے، جو نشر کی جانے والی زبانوں کی تعداد اور مختلف سامعین کی خدمت کے اعتبار سے نمایاں حیثیت کا حامل ہے۔

اے آئی آر کی اندرونِ ملک خدمات ، ملک بھر میں 591 نشریاتی مراکز پر مشتمل ہیں ، جس کے تحت بھارت کے تقریباً 92 فی صد جغرافیائی رقبے اور 99.19 فی صد آبادی کا احاطہ ہوتا ہے ۔ زمینی سطح پر اس کے تحت 23 زبانوں اور 182 بولیوں میں پروگرام پیش کئے جاتے ہیں ، جس سے بھارت کے وسیع سماجی و اقتصادی اور ثقافتی گونا گونیت کی عکاسی ہوتی ہے۔ میڈیم ویو ( ایم ڈبلیو ) ، شارٹ ویو ( ایس ڈبلیو ) ، ایف ایم اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے، اے آئی آر میٹروپولیٹن شہروں کے ساتھ ساتھ دور دراز، دیہی اور سرحدی علاقوں کے ناظرین تک رسائی فراہم کرتا ہے۔
اس کے پروگراموں میں ، خبریں، حالاتِ حاضرہ، زراعت، تعلیم، صحت سے متعلق بیداری ، نوجوانوں سے متعلق مواد، کلاسیکی اور لوک موسیقی اور ثقافتی پروگرام شامل ہیں۔ اے آئی آر نے ہنگامی حالات اور قدرتی آفات کے دوران، مسلسل اور بروقت الرٹس اور تصدیق شدہ معلومات فراہم کی ہیں۔
- جیسے جیسے میڈیا کا منظرنامہ ترقی کر رہا ہے، اے آئی آر اپنی وسعت اور اثر کو بڑھاتے ہوئے شمولیت، اعتبار اور قومی یکجہتی کے عزم پر قائم ہے، اور ریڈیو کے عالمی دن کی دیرپا روح کی عکاسی کرتا ہے۔ یہ بات کووِڈ-19 وباء کے دوران واضح ہوئی، جب بہار، جھارکھنڈ اور مدھیہ پردیش کے کچھ حصوں میں دیہی اسکول بند تھے اور ڈیجیٹل رسائی محدود رہی، تو طلباء نے اپنی تعلیم جاری رکھنے کے لیے آل انڈیا ریڈیو ( اے آئی آر ) کی تعلیمی نشریات پر انحصار کیا۔ ان علاقوں میں ، جہاں اسمارٹ فونز اور مستحکم انٹرنیٹ کی کمی تھی، ریڈیو نے خاموشی سے تعلیمی تسلسل کو یقینی بنایا۔ اسی طرح، اڈیشہ اور تمل ناڈو کے سمندری طوفانوں سے متاثر ہونے والے ساحلی علاقوں میں ماہی گیر سمندر میں جانے سے پہلے باقاعدگی سے اے آئی آر کے موسم سے متعلق بلیٹن پر انحصار کرتے ہیں۔ شدید سمندری طوفانوں جیسے فانی (2019) کے دوران، بروقت ریڈیو انتباہات نے بہت سے لوگوں کو محفوظ طریقے سے ساحل پر واپس آنے میں مدد دی، جس سے یہ بات دوبارہ ثابت ہوئی کہ جب موبائل نیٹ ورک ناکام ہو جائیں تو ہنگامی حالات میں ریڈیو مواصلات کا ایک قابلِ اعتماد وسیلہ ہے۔
|
پرائیویٹ ایف ایم ریڈیو — رسائی اور مقامی مواد میں توسیع
|
|
پرائیویٹ ایف ایم ریڈیو عوامی نشریات کی تکمیل کرتا ہے کیونکہ یہ شہری اور علاقائی بھارت میں مقامی تفریح اور معلومات فراہم کرتا ہے۔ اگست ، 2024 ء میں، مرکزی کابینہ نے 234 ایسے شہروں اور قصبوں میں، جہاں پہلے ایف ایم خدمات دستیاب نہیں تھیں ، 730 نئے ایف ایم چینلز کے آغاز کی منظوری دی، جس کی ریزرو قیمت 784.87 کروڑ روپے رکھی گئی، جو علاقائی مواد کو وسعت دینے اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے کی سمت ایک اہم قدم ہے۔ یہ توسیع مزید پرائیویٹ ایف ایم ریڈیو کے رول کو مضبوط کرتی ہے ، جو عوامی نشریات کی تکمیل کرتے ہوئے شہری اور علاقائی بھارت میں مقامی سطح پر تفریح، خبریں اور معلومات فراہم کرتا ہے۔ اطلاعات و نشریات کی وزارت کے مطابق، ایف ایم فیز- III پالیسی کے تحت اس وقت 119 شہروں میں 391 پرائیویٹ ایف ایم چینلز کام کر رہے ہیں ۔
|
بھارت میں کمیونٹی ریڈیو: مقامی آوازوں کے لیے ایک لائف لائن

کمیونٹی ریڈیو اسٹیشنز ( سی آر ایس ) کم طاقت والے، غیر تجارتی اسٹیشن ہوتے ہیں ، جو مقامی کمیونٹیز کی جانب سے ان کی ابلاغ کی مخصوص ضروریات کو پورا کرنے کے لیے قائم کئے جاتے ہیں اور چلائے جاتے ہیں۔ کمیونٹی ریڈیو ( سی آر ) بھارت میں ریڈیو نشریات کی تیسری سطح ہے، جو عوامی خدمت اور تجارتی ریڈیو سے مختلف ہے۔
بھارت میں کمیونٹی ریڈیو کا سفر سال ، 2002 ء میں شروع ہوا، جب حکومتِ ہند نے ایک پالیسی کو منظوری دی ، جس کے تحت اچھی طرح قائم تعلیمی اداروں بشمول آئی آئی ٹیز / آئی آئی ایمز کو کمیونٹی ریڈیو اسٹیشن قائم کرنے کے لیے لائسنس دینے کی اجازت دی گئی۔ پہلا کمیونٹی ریڈیو اسٹیشن کا یکم فروری ، 2004 ء کو بھارت رتن جناب لال کرشن اڈوانی کے ذریعے افتتاح کیا گیا تھا ۔ اس کے بعد ایک اور اہم سنگِ میل 2005 میں طے کیا ، جب اناّ یونیورسٹی نے اناّ کمیونٹی ریڈیو (90.4 میگاہرٹز) کا آغاز کیا۔
کمیونٹی ریڈیو مقامی آوازوں کے لیے ایک پلیٹ فارم کے طور پر کام کرتا ہے، جو صحت، تغذیہ ، تعلیم، زراعت اور سماجی ترقی جیسے مسائل پر توجہ مرکوز کرتا ہے۔ مقامی زبانوں اور بولیوں میں نشریات کے ذریعے یہ وسیع تر رسائی اور فوری کمیونٹی رابطہ یقینی بناتا ہے۔ بھارت جیسے ثقافتی اور لسانی طور پر متنوع ملک میں، کمیونٹی ریڈیو اسٹیشنز لوک روایات، مقامی موسیقی اور ثقافتی ورثے کے تحفظ میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں، جب کہ مقامی فن کاروں کو مواقع بھی فراہم کرتے ہیں۔
گزشتہ برسوں میں ، اس شعبے نے مسلسل ترقی کی ہے اور بھارت میں اس وقت 528 کمیونٹی ریڈیو اسٹیشنز موجود ہیں، جو کمیونٹی ریڈیو کے کردار کو بنیادی سطح پر مؤثر مواصلات اور کمیونٹی کو بااختیار بنانے کے ایک مؤثر ذریعہ کے طور پر اجاگر کرتے ہیں۔
|
بھارتی فوج کے کمیونٹی ریڈیو سے متعلق اقدامات

-
- دور دراز اور سرحدی علاقوں میں ریڈیو کی اسٹریٹجک اہمیت کو ظاہر کرتے ہوئے، بھارتی فوج نے جون ، 2025 ء میں اتراکھنڈ کے جیوتیر مٹھ میں ‘‘ آئیبیکس ترانا 88.4 ایف ایم ’’ شروع کیا تاکہ مقامی آوازوں کو اجاگر کیا جا سکے اور تعلیم، صحت اور آفات سے نمٹنے کی تیاری سے متعلق معلومات کی تشہیر کی جا سکے۔
- جنوری ،2026 ء میں، فوج نے سول حکام اور مقامی لوگوں کے ساتھ مل کر ،جموں و کشمیر کے راجوری میں ‘‘ ریڈیو سنگم 88.8 ایف ایم ’’ شروع کیا، جو لائن آف کنٹرول کے ساتھ پہلا کمیونٹی ریڈیو اسٹیشن ہے، جس کا مقصد تصدیق شدہ معلومات کو فروغ دینا اور سرحد پار پروپیگنڈے کا مقابلہ کرنا ہے۔
|
زمینی سطح سے ابھرتی ہوئی آوازیں —بھارت کی روزمرہ زندگی میں ریڈیو
ریڈیو ہنگامی حالات میں بھی ایک اہم کردار ادا کرتا ہے۔ جب قدرتی آفات یا بحران بجلی، انٹرنیٹ خدمات یا دیگر مواصلاتی نیٹ ورکس کو متاثر کرتے ہیں تو ریڈیو اکثر قابلِ اعتماد اور بروقت معلومات کا سب سے بھروسہ مند ذریعہ رہتا ہے۔ آج بھی یہ عوامی تحفظ اور بیداری کے لیے ایک لائف لائن کی حیثیت رکھتا ہے۔ ریڈیو کی طاقت صرف اس کی رسائی میں نہیں بلکہ اس کی افادیت میں بھی ہے۔
مندرجہ ذیل مثالوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ ریڈیو کس طرح بھارت کے سماجی، ترقیاتی اور ہنگامی مواصلاتی نظام میں گہرائی سے پیوست ہیں ۔
- کمیونٹی کی شمولیت ، ریڈیو کے زمینی اثرات کو مزید مضبوط بناتی ہے۔ بندیل کھنڈ میں خواتین کی قیادت میں چلنے والے کمیونٹی ریڈیو اقدامات نے لڑکیوں کی تعلیم، زراعت اور فلاحی اسکیموں پر بات کرنے کے پلیٹ فارم فراہم کیے ہیں، جس سے پہلی بار نشریات پیش کرنے والی خواتین مقامی سطح پر تبدیلی لانے والی شخصیات بن گئی ہیں۔ کچھ ایک مثالیں ایسی ہیں ، جن میں، کمیونٹی ریڈیو بولیوں اور زبانی روایات کو محفوظ رکھنے کا وسیلہ بنا ہے اور ثقافتی ورثے کی حفاظت کی ہے ۔
- گجرات کے کَچھ میں کمیونٹی ریڈیو اسٹیشن ، کَچھی بولی میں نشریات پیش کرتے ہیں، جن میں لوک گیت، زبانی طور پر منتقل ہونے والی تاریخیں اور داستان گوئی کے سیشن شامل ہوتے ہیں۔ جیسے جیسے مقامی بولیاں آہستہ آہستہ ختم ہو رہی ہیں، ریڈیو گھر سے دور رہنے والے تارکینِ وطن کے لیے ایک ثقافتی آرکائیو اور جذباتی پل کا کام کرتا ہے۔
- دلّی کے تہاڑ جیل میں ، قیدیوں کے زیرِ انتظام ریڈیو اقدامات قانونی آگاہی، ذہنی صحت، موسیقی اور شاعری پر پروگرام تیار کرتے ہیں، جو تعمیری شمولیت کے ذریعے اظہارِ خیال، اعتماد اور بحالی کو فروغ دیتے ہیں۔
- اتراکھنڈ کی پہاڑیوں میں، جہاں انٹرنیٹ کنیکٹیویٹی اکثر غیر مستحکم ہوتی ہے، کمیونٹی ریڈیو مٹی کے تودے کھسکنے کی وارننگز، زرعی مشورے، روزگار کی معلومات اور لوک موسیقی فراہم کرتا ہے اور دور دراز اور بزرگ آبادی کے لیے قابلِ رسائی اور قابلِ اعتماد رہتا ہے۔
- دلّی اور ممبئی جیسے بڑے شہروں میں، ایف ایم ریڈیو اب بھی روزمرہ کی شہری زندگی کا حصہ ہے، جہاں ٹیکسی اور آٹو ڈرائیور ٹریفک اپڈیٹس، کرکٹ کمنٹری، موسیقی اور بات چیت کے شوز کے لیے سنتے ہیں ، جو ایک انتہائی ڈیجیٹل شہر میں بھی ریڈیو کی مستقل اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔
|
من کی بات — ڈیجیٹل دور میں ریڈیو کی طاقت کو مزید مضبوط بنانا

ڈیجیٹل اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے غلبے کے دور میں، وزیر اعظم نریندر مودی کا شہریوں کے ساتھ براہِ راست رابطے کے لیے بنیادی ذریعہ کے طور پر ریڈیو کا انتخاب ، اس بات کو اجاگر کرتا ہے کہ ریڈیو کی پائیدار اہمیت اور اس پر اعتماد آج بھی برقرار ہے۔ 3 اکتوبر ، 2014 ء کو شروع ہونے والا ’ من کی بات ’ ، آل انڈیا ریڈیو ( اے آئی آر ) پر نشر ہونے والا ایک ماہانہ ریڈیو پروگرام ہے ، جو مختلف زبانوں اور خطوں میں پیش کیا جاتا ہے، تاکہ اس کی رسائی ملک کے دور دراز کے علاقوں تک یقینی بنائی جا سکے۔
عام طور پر ہر مہینے کے آخری اتوار کو نشر ہونے والے ‘ من کی بات ’ پروگرام کے ، اب تک 130 نشریے مکمل ہو چکے ہیں ، جو اسے حکومت کے سربراہ کی جانب سے شروع کیے گئے طویل ترین ریڈیو رابطہ پروگراموں میں سے ایک بناتا ہے۔ یہ پروگرام اس بات کی مثال ہے کہ کس طرح ریڈیو ڈیجیٹل دور میں بھی عوامی رابطے کا ایک مؤثر ذریعہ بنا ہوا ہے اور خواندگی، انٹرنیٹ تک رسائی اور جغرافیائی رکاوٹوں کو عبور کرتا ہے۔
وزیرِ اعظم ‘ مَن کی بات ’ پروگرام کے ذریعے بنیادی سطح کی اختراعات، سماجی تحریکات، ثقافتی روایات اور شہریوں کی قیادت میں چلنے والے اقدامات کو اجاگر کرتے ہیں، جس سےسبھی کی شمولیت والی حکمرانی اور قومی اتحاد کو تقویت ملتی ہے۔ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر اس کی بیک وقت دستیابی مزید اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ ریڈیو نئی ٹیکنالوجیز کے ساتھ کس طرح بخوبی ہم آہنگ ہو سکتا ہے ، جب کہ اپنی بنیادی طاقت جیسے قابلِ اعتماد وسیلہ، سادگی اور شمولیت کو بھی برقرار رکھے ہوئے ہے۔
‘ مَن کی بات ’ پروگرام کی مسلسل کامیابی سے ، اس بات کی توثیق ہوتی ہے کہ ریڈیو میں لوگوں سے بڑے پیمانے پر جڑنے کی منفرد صلاحیت موجود ہے، جو اسے معاصر عوامی ابلاغ میں ایک طاقتور اور مؤثر ذریعہ بناتی ہے اور یہ ریڈیو کے عالمی دن کی روح کے عین مطابق ہے۔
|
بھارت کے ریڈیو جمع کرنے والے شخص کا گنیز ورلڈ ریکارڈ
رام سنگھ بودھ: بھارت کے ریڈیو مین
رام سنگھ بودھ، جنہیں اکثر “بھارت کے ریڈیو مین ” کے طور پر بھی جانا جاتا ہے، اتر پردیش میں ضلع امروہہ کے گجرولا سے تعلق رکھتے ہیں اور انہوں نے ایک ذاتی شوق کو قومی ثقافتی خدمات میں تبدیل کر دیا ہے۔ 2025 ء میں گنیز ورلڈ ریکارڈز کی جانب سے تسلیم کیے گئے، بودھ کے پاس دنیا میں ریڈیوز کا سب سے بڑا ذخیرہ ہے، جس میں 1257 مختلف ریڈیو سیٹس شامل ہیں ، جو ٹیکنالوجی کے ارتقائی سفر کی کئی دہائیوں پر محیط ہیں۔ ان کے کلیکشن میں ریڈیو کی کہانی بیان کی گئی ہے، جو بیسویں صدی کے ابتدائی دور کے بڑے لکڑی کے ریسیورز سے لے کر چھوٹے ٹرانزسٹر سیٹس تک پھیلی ہوئی ہے ، جنہوں نے لاکھوں بھارتی گھروں میں خبر اور تفریح پہنچائی۔

|
رام سنگھ بودھ، بھارت کے ریڈیو مین
|
بودھ کا سفر تاریخ اور عوامی ابلاغ میں ان کی گہری دلچسپی سے جڑا ہوا ہے۔ ریڈیو کی دیرپا اہمیت، خاص طور پر ‘ من کی بات ’ جیسے پروگراموں سے متاثر ہو کر، انہوں نے پورے بھارت سے ریڈیو سیٹ منظم طریقے سے جمع کرنا شروع کیے ، جو ایک شوق کے طور پر شروع ہوا تھا ، وہ آہستہ آہستہ ایک ایسے مشن میں بدل گیا ، جس کا مقصد ایک مٹتی ہوئی وراثت کو محفوظ کرنا تھا۔ مالی مشکلات اور سماجی شکوک و شبہات کے باوجود، انہوں نے غیر معمولی ثابت قدمی کے ساتھ اپنی کوشش جاری رکھی۔
|
بھارت کے ریڈیو مین کی ریڈیو کلیکشن
|

آج، ان کا ذخیرہ سدھارتھ انٹر کالج میں واقع ایک عجائب گھر میں رکھا گیا ہے، جس کا انتظام ان کے خاندان کے پاس ہے۔ یہ جگہ ایک زندہ آرکائیو کے طور پر کام کرتی ہے، جو طلباء، محققین اور یہاں آنے والوں کو یہ سمجھنے میں مدد دیتی ہے کہ ریڈیو نے عوامی رائے اور قومی شعور کی تشکیل میں کیا کردار ادا کیا۔ بودھ کی یہ کامیابی ریڈیو کی لازوال اہمیت اور بھارت کے مواصلاتی ورثے کی حفاظت کے لیے فردِ واحد کی کوششوں کو خراجِ تحسین ہے۔
71 سال کی عمر میں، ایک ریٹائرڈ سرکاری ملازم کے اس سفر سے ، آج بھی حیرت کا اظہار ہوتا ہے ، جو ان کے شوق کی وجہ سے شروع ہوا اورآج بھی جاری ہے ۔ رام سنگھ بودھ کی کہانی صرف ریڈیوز کے بارے میں نہیں ہے، بلکہ یہ تاریخ سے محبت اور اس بات کی ایک روشن مثال ہے کہ ایک فرد کس طرح ایک پوری قوم کی آوازوں کو محفوظ رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
اختتام
ریڈیو کا عالمی دن ، ریڈیو کے بطور ایک قابلِ اعتماد، آسانی سے دستیاب اور جامع ذریعۂ ابلاغ کے مسلسل اہم کردار کو اجاگر کرتا ہے۔ تیز رفتار ڈیجیٹلائزیشن کے باوجود، ریڈیو متنوع اور محروم طبقات تک رسائی حاصل کرنے، خواندگی، زبان اور رابطے کی رکاوٹوں پر قابو پانے اور عوامی معلومات، تعلیم اور آفات سے متعلق ابلاغ کی معاونت میں اب بھی نہایت اہم ہے۔
بھارت میں، عوامی خدمت اور کمیونٹی ریڈیو ، مقامی آوازوں کو ابھار کر اور ترقی و سماجی ہم آہنگی میں تعاون فراہم کرکے شمولیت پر مبنی مواصلات کو مضبوط کرتے ہیں۔ جیسا کہ یونیسکو نے آزاد اظہار، قابلِ اعتماد معلومات اور شمولیت پر مبنی مکالمے کے لیے ریڈیو کو ایک پلیٹ فارم کے طور پر برقرار رکھنے کے لیے مسلسل پالیسی معاونت اور جدت طرازی کی ضرورت پر زور دیا ہے تاکہ تیزی سے بدلتے ہوئے میڈیا منظرنامے میں ، اس کے دیرپا رول کو یقینی بنایا جا سکے۔
حوالہ جات:
یونیسکو
https://www.unesco.org/en/days/world-radio/past-editions
https://www.unesco.org/en/days/world-radio
https://unesdoc.unesco.org/ark:/48223/pf0000215084
اقوامِ متحدہ
World Radio Day | United Nations
گنیز ورلڈ ریکارڈ
Indian man with passion for history gathers world's largest collection of radios | Guinness World Records
https://www.guinnessworldrecords.com/news/2025/2/indian-man-with-passion-for-history-gathers-worlds-largest-collection-of-radios
اطلاعات و نشریات کی وزارت
https://mib.gov.in/ministry/our-wings/broadcating-wing
https://www.google.com/url?sa=t&source=web&rct=j&opi=89978449&url=https://mib.gov.in/sites/default/files/2026-01/annual-report-2024-25.pdf&ved=2ahUKEwiP8Jy6nc6SAxXXd2wGHc2EMZoQFnoECCAQAQ&usg=AOvVaw3eoZLx-WlqmoyU9G16UDcX
https://www.myscheme.gov.in/schemes/crss
https://www.facebook.com/inbministry/videos/-world-radio-day-13th-februaryon-this-worldradioday-lets-acknowledge-the-role-of/504225397937663/
آل انڈیا ریڈیو
https://www.newsonair.gov.in/govt-establishes-212-new-community-radio-stations-in-five-years-minister-of-state-dr-l-murugan/
وزارتِ ثقافت
https://www.instagram.com/p/DPndf0SDzWL/?img_index=1
https://www.instagram.com/reel/DGA5cnxPXtJ/
https://www.facebook.com/AzadiKaAmritMahotsav/posts/thisdaythatyear-when-indian-broadcasting-company-ltd-became-bankrupt-the-govt-to/382445287279944/
پریس انفارمیشن بیورو
https://www.google.com/url?sa=t&source=web&rct=j&opi=89978449&url=https://static.pib.gov.in/WriteReadData/specificdocs/documents/2024/feb/doc2024213311201.pdf&ved=2ahUKEwjN5P3em86SAxUcTWwGHVRpM2YQFnoECAQQAQ&usg=AOvVaw2ALfNXudBcpOee0KhwtZV0
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2102566®=3&lang=2
https://www.pib.gov.in/PressReleaseIframePage.aspx?PRID=2049325®=3&lang=2
پی ڈی ایف دیکھنےکے لیے یہاں کلک کریں ۔
****
( ش ح۔ م ع ۔ ع ا )
U.No.9131
(रिलीज़ आईडी: 2277513)
आगंतुक पटल : 7