وزارات ثقافت
راکھی گڑھی سے دریافت ہونے والی انسانی ڈھانچوں کی باقیات مزید سائنسی کھوج اور تحقیق کے لیے انسانیاتی سروے آف انڈیا کے سپرد کر دی گئیں
प्रविष्टि तिथि:
22 JUN 2026 12:29PM by PIB Delhi
بھارت کی ریاست ہریانہ میں واقع آثارِ قدیمہ کے مقام راکھی گڑھی سے دریافت ہونے والی انسانی ڈھانچوں کی باقیات کو حال ہی میں بھارتی محکمہ آثارِ قدیمہ (اے ایس آئی) نے باضابطہ طور پر قومی سطح کے معتبر تحقیقی ادارے ‘انسانیاتی سروے آف انڈیا’ (اے این ایس آئی) کے حوالے کر دیا ہے، جو وزارتِ ثقافت، حکومتِ ہند کے تحت کام کرتا ہے۔ یہ باقیات تفصیلی سائنسی تحقیق کے لیے منتقل کی گئی ہیں۔ انسانیاتی سروے آف انڈیا کے ڈائریکٹر پروفیسر بی وی شرما کے مطابق یہ منتقلی حال ہی میں دونوں اداروں کے درمیان طے پانے والے مفاہمت نامے (ایم او یو) کے تحت عمل میں آئی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے سندھ-سرسوتی تہذیب کے ایک نہایت اہم شہری مرکز پر کثیر الجہتی تحقیق کو نمایاں طور پر فروغ ملنے کی توقع ہے۔
راکھی گڑھی، جو ہریانہ میں تقریباً550 ہیکٹر رقبے پر پھیلا ہوا ہے، وادیٔ سندھ-سرسوتی تہذیب کی سب سے بڑی معلوم بستی کے طور پر وسیع پیمانے پر پہچانی جاتی ہے۔ آثارِ قدیمہ کی کھدائیوں سے یہ شواہد سامنے آئے ہیں کہ یہاں ابتدائی ہڑپہ دور سے لے کر ترقی یافتہ ہڑپہ دور تک مسلسل آبادکاری رہی، جس میں منظم بستیاں، نکاسیٔ آب کا نظام، دستکاری کے مراکز، تجارتی روابط اور تدفینی مقامات شامل ہیں۔ بھارتی محکمہ آثارِ قدیمہ (اے ایس آئی) کی کھدائی شاخ دو، گریٹر نوئیڈا کی جانب سے 26–2025 کے کھدائی سیزن کے دوران، ماہرینِ آثارِ قدیمہ نے ٹیلہ نمبر 7 سے آٹھ قبریں دریافت کیں، جو پہلے ہی ایک قبرستان کے طور پر شناخت کیا گیا علاقہ تھا۔ ان قبروں میں سے تین مکمل انسانی ڈھانچے اور دیگر قبروں سے حاصل ہونے والے ہڈیوں کے ٹکڑے اب انسانیاتی سروے آف انڈیا (اے این ایس آئی) کے قدیم انسانی ڈھانچوں کے ذخیرے اور تجربہ گاہ، کولکاتا، منتقل کر دیے گئے ہیں تاکہ ان پر تفصیلی سائنسی جانچ کی جا سکے۔ان مقامات سے حاصل ہونے والے باقی ماندہ ہڈیوں کے مواد کو بھی آئندہ چند دنوں میں منتقل کیے جانے کی توقع ہے۔

ہریانہ کے راکھی گڑھی میں 2026–2025 کے دوران کی جانے والی کھدائی
مختلف ماہرین، جن میں حیاتیاتی ڈھانچوں (ہڈیوں کے علم)، آثارِ قدیمہ اور جینیاتیات کے شعبوں سے وابستہ محققین شامل ہیں، نے سندھ-سرسوتی تہذیب سے متعلق تحقیق کے سلسلے میں انسانیاتی سروے آف انڈیا کے اقدامات کو سراہا ہے۔آندھرا یونیورسٹی کے سابق استاد پروفیسر وجے پرکاش نے انسانی ڈھانچوں کے ان آثار کی منتقلی کو ایک اہم قدم قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق یہ عمل اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ آثارِ قدیمہ کی کھدائیوں سے حاصل ہونے والے حیاتیاتی ورثے کا سائنسی طور پر تجزیہ کیا جائے اور اسے قومی اداروں کے ذریعے محفوظ رکھا جائے، تاکہ آئندہ نسلیں اس سے فائدہ اٹھا سکیں۔لکھنؤ یونیورسٹی کے پروفیسر اُدے پرتاپ سنگھ نے بھی اسی طرح اس منتقلی کو بھارت کی ماقبل تاریخ انسانی تحقیق (پیلوانتھروپولوجی) کی روایت کو مضبوط بنانے میں ایک اہم سنگِ میل قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ انسانی حیاتیات اور ہڈیوں کے علم میں انسانیاتی سروے آف انڈیا کی مہارت اسے اس قابل بناتی ہے کہ وہ سندھ-سرسوتی تہذیب میں آبادی کی تاریخ، صحت، طرزِ زندگی اور ثقافتی موافقت جیسے پہلوؤں کی بہتر طور پر تشکیلِ نو کر سکے۔
محققین کا خیال ہے کہ یہ انسانی باقیات جدید سائنسی طریقوں کے استعمال کے لیے ایک نادر موقع فراہم کرتی ہیں، جن میں قدیم ڈی این اے (اے ڈی این اے)کا تجزیہ، ہم جزوی عناصر کے مطالعے، ہڈیوں کے علم پر مبنی جانچ، قدیم امراض سے متعلق تحقیق اور ماحولیاتی تشکیلِ نو شامل ہیں۔ ان طریقوں کے ذریعے ہڑپہ دور کے انسانوں کی نسل، ہجرت کے رجحانات، خوراک، بیماریوں کے پھیلاؤ، موافقت کی حکمتِ عملیاں اور انسان و ماحول کے باہمی تعلقات کے بارے میں قیمتی معلومات حاصل ہونے کی توقع ہے۔انسانیاتی سروے آف انڈیا کے مطابق یہ تحقیق متعدد معروف سائنسی اداروں کے اشتراک سے کی جائے گی، جن میں لکھنؤ کا برِبل سہنی ادارۂ ماقبل ارضیاتی علوم(بی ایس آئی پی)، یونیورسٹی کالج لندن(یو سی ایل) اور بنارس ہندو یونیورسٹی (بی ایچ یو)کے وہ ماہرین شامل ہیں جو قدیم ڈی این اے کی تحقیق میں مہارت رکھتے ہیں۔ اس اقدام کا خیرمقدم کرتے ہوئے پدم شری اعزاز یافتہ ڈاکٹر کماراسوامی تھانگاراج، سینئر سائنسدان برائے سیلولیئر اینڈ مالیکیولر بایولوجی مرکز(سی سی ایم بی)، حیدرآباد نے کہا کہ راکھی گڑھی سے ملنے والی باقیات پر قدیم ڈی این اے ٹیکنالوجی کا استعمال ان کے جینیاتی ماضی کے بارے میں اہم معلومات فراہم کر سکتا ہے اور یہ سمجھنے میں مدد دے سکتا ہے کہ تقریباً 3000 قبل مسیح کے بعد انسانی جینوم کس طرح ارتقا پذیر ہوا، ماحول کے مطابق ڈھلا اور قدرتی انتخاب کے عمل سے گزرا۔بنارس ہندو یونیورسٹی کے پروفیسر گیانیشور چوبے نے بھی اس تعاون کو ہڑپہ تہذیب کی جینیاتی تاریخ کو ازسرِ نو مرتب کرنے کی سمت میں ایک بڑی پیش رفت قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ قدیم ڈی این اے تحقیق کو ہڈیوں کے علم اور ہم جزو عناصر کے مطالعے کے ساتھ یکجا کرنے سے وادیٔ سندھ کی آبادی کی آبائی نسب، صحت، نقل و حرکت اور طرزِ زندگی کے بارے میں اہم شواہد حاصل ہوں گے، جبکہ اس سے ماقبل تاریخ انسانی جینیات کے شعبے میں ایک نئی نسل کے بھارتی سائنسدانوں کی تربیت میں بھی مدد ملے گی۔
حکام نے بتایا کہ اگرچہ انسانیاتی سروے آف انڈیا (اے این ایس آئی) نے 1945 میں اپنے قیام کے بعد سے سندھ-سرسوتی تہذیب کے مقامات سے ملنے والے انسانی ڈھانچوں پر ہڈیوں کے علم سے متعلق تحقیق کی ایک طویل روایت برقرار رکھی ہے، تاہم مختلف مشکلات کے باعث وقت کے ساتھ اس شعبے کی سرگرمیاں کم ہو گئی تھیں۔ تاہم حالیہ برسوں میں ادارے نے اس سمت میں دوبارہ سرگرمی پیدا کرنے کے لیے سنجیدہ کوششیں شروع کی ہیں۔ ان کوششوں میں خصوصی تحقیقی ٹیموں کی تشکیل اور سائنسی عملے کے لیے خصوصی تربیتی پروگراموں کا آغاز شامل ہے، تاکہ ماقبل تاریخ انسانی تحقیق کے میدان کو دوبارہ مؤثر انداز میں فروغ دیا جا سکے۔

ہریانہ کے راکھی گڑھی میں 2026–2025 کے دوران کی گئی کھدائی
انسانیاتی سروے آف انڈیا (اے این ایس آئی) نے حال ہی میں سندھ-سرسوتی تہذیب کے مختلف مقامات سے حاصل ہونے والے انسانی ڈھانچوں پر قدیم امراض سے متعلق مطالعے مکمل کیے ہیں اور اب ان نتائج کی بنیاد پر سائنسی اشاعتوں کی تیاری جاری ہے۔ راکھی گڑھی سے حاصل ہونے والی باقیات کی منتقلی سے تحقیق کی صلاحیتوں میں مزید اضافہ متوقع ہے، خصوصاً قدیم ڈی این اے کے تجزیے کے شعبے میں۔ادارے نے یہ بھی منصوبہ بنایا ہے کہ وہ اپنی تحقیقاتی شراکت داریوں کو مزید وسعت دے گا، جن میں حیوانیاتی سروے آف انڈیا، نباتاتی سروے آف انڈیا، ارضیاتی سروے آف انڈیا، اور قدیم آب و ہوا پر تحقیق کرنے والے مختلف تحقیقی گروہ شامل ہیں۔
ماہرِ بشریات پروفیسر سوبھاش والیمبے، جو پہلے دکن کالج، پونے سے وابستہ رہے ہیں، نے ان انسانی باقیات کے تفصیلی بشریاتی معائنے کی اہمیت پر زور دیا ہے تاکہ یہ سمجھا جا سکے کہ شہری زندگی نے انسانی جسمانی ساخت اور بیماریوں کے ردِعمل پر کس طرح اثر ڈالا۔ ان کا کہنا تھا کہ جاری جینیاتی تحقیق ہڑپہ تہذیب کی ابتدا اور آبادی کی تاریخ سے متعلق طویل عرصے سے جاری مباحث میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ قومی یادگار اتھارٹی کے سابق چیئرمین پروفیسر کشور کے باسا نے انسانیاتی سروے آف انڈیا میں ہڈیوں کے حیاتیاتی علم سے متعلق تحقیق کی بحالی کا خیرمقدم کیا۔ ان کے مطابق اس نوعیت کی تحقیقات نہ صرف بشریات کے لیے اہم ہیں بلکہ تاریخ، آثارِ قدیمہ، آبادیاتی مطالعات، غذائیت، بیماریوں کی تاریخ اور جینیات جیسے شعبوں کے لیے بھی بنیادی اہمیت رکھتی ہیں۔
حکام نے کہا ہے کہ بھارتی محکمہ آثارِ قدیمہ (اے ایس آئی) اور انسانیاتی سروے آف انڈیا (اے این ایس آئی) کے درمیان یہ اشتراک ملک کے قدیم ماضی کے مطالعے میں آثارِ قدیمہ، بشریات، جینیات اور ماحولیاتی علوم کو باہم مربوط کرنے کی ایک اہم کوشش ہے۔ان کا کہنا ہے کہ راکھی گڑھی سے حاصل ہونے والی باقیات پر ہونے والی تحقیق کے نتائج سے دنیا کی قدیم ترین شہری تہذیبوں میں سے ایک کی ابتدا، صحت، نقل و حرکت اور حیاتیاتی تاریخ کو سمجھنے میں نمایاں مدد ملنے کی توقع ہے۔
*********
ش ح۔ا ک۔ش ت
Urdu No-9026
(रिलीज़ आईडी: 2276630)
आगंतुक पटल : 12