PIB Backgrounder
ہندوستان کا خلائی سفر
بھارت کے خلائی مستقبل کی تعمیر
प्रविष्टि तिथि:
21 JUN 2026 3:12PM by PIB Delhi
|
گزشتہ 12 برسوں میں بھارت کا خلائی سفراعتماد،ترقی اورعوامی فلاح و بہبود کے جذبے کی عکاسی کرتا ہے۔ آتم نربھر بھارت، میک اِن انڈیا اور وکست بھارت- 2047 کے ویژن سے رہنمائی حاصل کرتے ہوئے ملک ایک نمایاں خلائی طاقت کے طور پر ابھرا ہے۔ اہم کامیابیوں میں چندریان-3 کی چاند کے جنوبی قطب پر کامیاب لینڈنگ، آدتیہ-ایل1 کا سورج کی اسٹڈی کے لیے مشن اور گگن یان نیز قومی خلائی اسٹیشن کی تیاری شامل ہیں۔ فروری 2026 تک خلائی شعبے سے وابستہ اسٹارٹ اَپس کی تعداد 2014 میں صرف ایک سے بڑھ کر 400 سے زائد ہو چکی ہے۔ براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری ( ایف ڈی آئی) کے ضوابط میں نرمی، نجی شعبے کی بڑھتی ہوئی شمولیت اوراین ایس آئی ایل کے ذریعے تجارتی سرگرمیوں کے فروغ نے اس شعبے کی ترقی کو مزید تیز کیا ہے۔ یہ کامیابیاں ایک پُراعتماد اور خود کفیل بھارت کی عکاسی کرتی ہیں جو خلائی ٹیکنالوجی کو ترقی، عالمی شراکت داری اور ہمہ گیر پیش رفت کے لیے بروئے کار لا رہا ہے۔
|
عالمی خلائی طاقت کے طور پر ہندوستان کا عروج
گزشتہ بارہ برسوں کے دوران بھارت کا خلائی پروگرام قومی اعتماد، تکنیکی خود انحصاری اور عالمی امنگوں کی ایک روشن علامت بن کر ابھرا ہے۔ جو سفر ایک سائنسی کوشش کے طور پر شروع ہوا تھا، وہ آج ایک ایسے اسٹریٹجک قومی اثاثے میں تبدیل ہو چکا ہے جو ترقی کو فروغ دیتا ہے، قومی سلامتی کو مضبوط بناتا ہے، اختراعات کی حوصلہ افزائی کرتا ہے اور دنیا میں بھارت کے مقام کو مستحکم کرتا ہے۔ یہ سفر ‘‘وشواس کے، نرمان کے اور جن کلیان کے 12 سال’’ کے جذبے کی عکاسی کرتا ہے، جہاں کامیابیوں کے ذریعے اعتماد پیدا کیا گیا، اختراعات کے ذریعے نئے مواقع تخلیق کیے گئے اور ایسے فوائد فراہم کیے گئے جو ہر شہری تک پہنچتے ہیں۔
اس تبدیلی کی بنیاد تین اہم ستونوں پر استوار ہے۔ اول، بھارت کی خلائی صلاحیت نے تاریخی مشنز، جدید لانچ نظاموں اور مقامی طور پر تیار کردہ ٹیکنالوجیز کے ذریعے زمین سے آگے ملک کی رسائی کو وسعت دی ہے۔ دوم، قومی صلاحیت کی تعمیر کے تحت خلائی بنیادوں پر قائم ایپلی کیشنز کو حکمرانی، رابطہ کاری، آفات سے نمٹنے، زراعت، صحت، تعلیم اور اقتصادی ترقی کو مضبوط بنانے کے لیے استعمال کیا گیا ہے۔ سوم، عالمی شراکت داریوں اور اشتراکی قیادت نے ایک قابلِ اعتماد خلائی شراکت دار کے طور پر بھارت کی ساکھ کو مزید مستحکم کیا ہے، بین الاقوامی تعاون کو فروغ دیا ہے اور خلاء کے پُرامن اور ذمہ دارانہ استعمال میں اس کے کردار کو تقویت بخشی ہے۔
یہ کامیابیاں ایک ایسے ملک کی داستان بیان کرتی ہیں جو نہ صرف خلاء میں نئی سرحدوں کو عبور کر رہا ہے بلکہ خلائی ٹیکنالوجی کو اپنے عوام کو بااختیار بنانے، اداروں کو مضبوط کرنے اور عالمی سطح پر ہندوستان کے مقام کو بلند کرنے کے لیے بھی بروئے کار لا رہا ہے۔ یہ ایک ایسا سفر ہے جو قومی مقصد سے رہنمائی حاصل کرتا ہے اور عوام کی زندگیوں میں بہتری لانے پر مرکوز ہے۔
زمین سے آگے بڑھتی ہوئی ہندوستان کی خلائی صلاحیت

قمری تحقیق و جستجو — چندریان پروگرام

ہندوستان کا قمری سفر سائنسی دریافت اور تکنیکی ترقی کے لیے مسلسل عزم کی عکاسی کرتا ہے۔ اس کی بنیاد 2008 میںچندریان-1کے ساتھ رکھی گئی، جو چاند کے لیے بھارت کا پہلا مشن تھا۔ اس مشن نے چاند کے وسائل کے بارے میں عالمی فہم میں انقلابی تبدیلی پیدا کی اور چاند کی سطح پر پانی کے سالمات (ڈبلیو ایم) اور ہائیڈروکسل کی موجودگی کے شواہد دریافت کیے۔ اس کے مون امپیکٹ پروب نے قمری فضائی غلاف (ایل ای) کے بارے میں بھی اہم معلومات فراہم کیں۔
اس کے بعد 2019 میں لانچ کیے گئےچندریان-2 نے بھارت کے قمری پروگرام کو مزید مضبوط بنایا۔ 100 کلومیٹر کی بلندی سے کام کرتے ہوئے اس نے چاند کی سطح کی انتہائی اعلیٰ معیار کی تصاویر فراہم کیں اور 30 سینٹی میٹر تک باریک تفصیلات ریکارڈ کیں۔ چندریان-1 اور چندریان-2 نے عالمی قمری سائنس میں ہندوستان کو ایک سنجیدہ اور مؤثر شراکت دار کے طور پر قائم کیا اور آئندہ مشنز کے لیے مضبوط بنیاد فراہم کی۔
یہ بنیاد 23 اگست 2023 کو ایک تاریخی کامیابی کی صورت میں مزید مستحکم ہوئی۔چندریان-3 نے بھارت کو چاند کے جنوبی قطب کے قریب کامیاب نرم لینڈنگ (ایس ایل) کرنے والا دنیا کا پہلا ملک بنا دیا۔ اس کے ساتھ ہی بھارت، امریکہ، روس اور چین کے بعد چاند کی سطح پر کامیاب نرم لینڈنگ کرنے والا دنیا کا چوتھا ملک بن گیا۔ وکرم لینڈر نے 69.3 درجۂ جنوبی عرضِ البلد پر لینڈنگ کی، جو ایسا خطہ تھا جہاں اس سے قبل کوئی خلائی جہاز نہیں پہنچ سکا تھا۔ سائنسی آلات نے موقع پر ہی تحقیقات انجام دیں اور براہِ راست عنصری تجزیے کے ذریعے گندھک کی موجودگی کی تصدیق کی۔
ہندوستان کے قمری عزائم مسلسل وسعت اختیار کر رہے ہیں۔ چندریان-4 جس کا منصوبہ 2027 کے لیے بنایا گیا ہے، چاند پر لینڈنگ کرکے نمونے جمع کرے گا اور انہیں زمین پر واپس لائے گا۔ اسی طرح چندریان-5/لوپیکس مشن مستقل سائے میں رہنے والے قمری جنوبی قطبی علاقوں میں پانی اور دیگر فرّار مادّوں (وی ایم) کی تلاش کرے گا، جس سے بھارت قمری تحقیق کے ایک نئے دور میں مزید آگے بڑھے گا۔
مارس آربیٹر مشن –منگل یان
مارس آربیٹر مشن جو عام طور پر‘منگل یان’ کے نام سے جانا جاتا ہے، بین السیّاروی تحقیق میں بھارت کے داخلے کی علامت ثابت ہوا۔ 24 ستمبر 2014 کو یہ خلائی جہاز کامیابی کے ساتھ مریخ کے مدار میں داخل ہوا، جس کے ساتھ بھارت اپنے پہلے ہی مشن میں مریخ تک پہنچنے والا دنیا کا پہلا ملک بن گیا۔اس کامیابی کے بعداسرو امریکہ کی ناسا، روس کی روسکوسموس اور یوروپی خلائی ایجنسی ( ای ایس اے) کے بعد مریخ کے گرد خلائی جہاز کو مدار میں پہنچانے والی دنیا کی چوتھی خلائی ایجنسی بن گئی۔اگرچہ اس مشن کو ابتدائی طور پر صرف چھ ماہ کے لیے تیار کیا گیا تھا، لیکن منگل یان آٹھ سال سے زائد عرصے تک فعال رہا اور توقعات سے کہیں بڑھ کر کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ اس مشن نے مریخ کے ماحول، بالائی فضائی غلاف، سطحی خصوصیات اور شمسی ہواؤں کے ساتھ اس کے تعاملات کے بارے میں قیمتی سائنسی معلومات فراہم کیں۔
سائنسی خدمات کے علاوہ، منگل یان نے یہ بھی ثابت کیا کہ بھارت پیچیدہ خلائی مشنز کو غیر معمولی کارکردگی اور کم لاگت کے ساتھ انجام دینے کی صلاحیت رکھتا ہے، اور اس نے سیاروی تحقیق (پی ای) میں بھارت کو ایک معتبر اور قابلِ اعتماد عالمی شراکت دار کے طور پر قائم کیا۔

آدتیہ-ایل 1: بھارت کی پہلی شمسی رصدگاہ
ہندوستان نے سیاروی تحقیق سے آگے بڑھتے ہوئےآدتیہ-ایل 1 کے ذریعے اپنی خلائی امنگوں کو مزید وسعت دی، جو ملک کا پہلا خصوصی شمسی مشن ہے۔ 2023 میں لانچ کیا گیا یہ خلائی جہاز کامیابی کے ساتھ سورج-زمین ایل1 لیگرانج پوائنٹ کے گرد ہیلو مدار (ایچ او) میں نصب کیا گیا، جو زمین سے تقریباً 15 لاکھ کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔
یہ منفرد مقام سورج اور اس کی متحرک سرگرمیوں کا بلا تعطل مشاہدہ ممکن بناتا ہے۔ یہ مشن شمسی تاج (ایس سی)، شمسی ہواؤں (ایس ڈبلیو) اور خلائی موسمیاتی مظاہر (ایس ڈبلیو پی) کا مطالعہ کرتا ہے، جو زمین کے ماحول اور تکنیکی نظاموں کو متاثر کرتے ہیں۔
آدتیہ-ایل 1 کو تجویز پر مبنی رصدگاہ(پی ڈی او) کے طور پر قومی سائنسی برادری کے لیے بھی کھول دیا گیا ہے۔ اس سے حاصل ہونے والا سائنسی ڈیٹا باقاعدگی سے عوامی سطح پر جاری کیا جاتا ہے، جس سے عالمی شمسی تحقیق کو تقویت مل رہی ہے۔ اب تک شمسی مشاہدات سے متعلق 27 ٹیرا بائٹ سے زائد ڈیٹا جاری کیا جا چکا ہے، جس کے باعث یہ مشن بین الاقوامی سائنسی علوم میں ایک اہم شراکت دار بن چکا ہے۔
خلائی فلکیات اور خلائی ڈاکنگ: صلاحیتوں کی نئی سرحدیں
ہندوستان نے فلکیاتی تحقیق اور مدار میں ٹیکنالوجی کے عملی مظاہروں کے ذریعے جدید خلائی سائنس میں اپنی پوزیشن مزید مضبوط کی ہے۔ایسٹروسیٹ ، جو ہندوستان کی پہلی کثیر طول موج ( ایم ڈبلیو) خلائی رصدگاہ ہے، نے ستمبر 2025 میں مدار میں اپنے دس سال مکمل کیے اور اس دوران کئی اہم سائنسی دریافتوں میں نمایاں کردار ادا کیا۔اسی طرح ایکس پی او سیٹ - جسے یکم جنوری 2024 کو لانچ کیا گیا، نے ایکس رے فلکیات کے میدان میں بھارت کی صلاحیتوں میں مزید اضافہ کیا۔ دونوں مشنز آج بھی تجویز پر مبنی رصدگاہوں کے طور پر دنیا بھر کے محققین کی خدمت کر رہے ہیں۔جنوری 2025 میں اسپیس ڈاکنگ ایکسپیریمنٹ (ایس پی اے ڈی ای ایکس) کے ذریعے بھارت نے ایک بڑی تکنیکی کامیابی حاصل کی۔ اس مشن کے ساتھ ہندوستان ، امریکہ، روس اور چین کے بعد خلا میں خودکار ڈاکنگ اور ان ڈاکنگ (اے ڈی یو) کا کامیاب مظاہرہ کرنے والا دنیا کا چوتھا ملک بن گیا۔
اسرو نے ڈاک کیے گئے سیٹلائٹس کے درمیان توانائی کی منتقلی کا بھی کامیاب مظاہرہ کیا اور خرد ثقلی ماحول (مائیکروگریویٹی) میں ایک روبوٹک بازو ( آراے) کا تجربہ کیا۔ بھارتیہ ڈاکنگ سسٹم ( بی ڈی ایس) کی کامیاب تیاری ایک اہم سنگِ میل ہے، جو ہندوستان کے مستقبل کے نمایاں مشنز، جیسے- بھارتیہ انترکش اسٹیشن ( بی اے ایس) ،چندریان-4 اور گگن یان کی کامیاب تکمیل کے لیے راہ ہموار کرے گی۔
وینس آربیٹر مشن: زمین کی ہمشکل سیارے کی دریافت
وینس آربیٹر مشن کا مقصد سیارہ زہرہ(وینس) جسے اکثر زمین کا ہمشکل سیارہ (ای ایس پی) کہا جاتا ہے، کا تفصیلی مطالعہ کرنا ہے۔ یہ مشن زہرہ کے ماحول، سطحی ساخت، موسمی نظام، آتش فشانی سرگرمیوں اور اس کے گرد موجود فضائی پرتوں کا جائزہ لے گا۔ اس تحقیق سے سائنس دانوں کو یہ سمجھنے میں مدد ملے گی کہ زمین اور زہرہ، جو کبھی ایک جیسی خصوصیات رکھتے تھے، وقت کے ساتھ اتنے مختلف کیوں ہو گئے۔ یہ مشن بھارت کی بین السیّاروی تحقیق کی صلاحیتوں کو مزید مضبوط بنائے گا اور سیاروی سائنس کے میدان میں نئی معلومات فراہم کرے گا۔

چاند اور مریخ پر اپنی کامیابیوں کے بعد بھارت اب زہرہ (وینس) کے لیے اپنے پہلے مشن کی تیاری کر رہا ہے۔ وینس آربیٹر مشن، جسے حکومتِ ہند کی منظوری حاصل ہو چکی ہے، مارچ 2028 میں لانچ کیے جانے کا ہدف رکھتا ہے۔یہ مشن زہرہ کی ارضیاتی ساخت ، سطحی ترکیب (ایس سی)، فضائی ماحول ، آئنوسفیئر اور سطح کی تجدیدی سرگرمیوں (آر پی) کا تفصیلی مطالعہ کرے گا۔ سائنس دان یہ بھی جانچیں گے کہ شمسی سرگرمیاں اس سیارے کے ماحول اور اس کے قریب خلائی خطے کو کس طرح متاثر کرتی ہیں۔
یہ مشن بھارت کے خلائی پروگرام کے لیے ایک اہم تکنیکی جست کی نمائندگی کرتا ہے۔ اس میں ایرو بریکنگ اور جدید حرارتی انتظامی نظام (ٹی ایم ایس) جیسی جدید صلاحیتوں کا استعمال کیا جائے گا تاکہ زہرہ کے انتہائی سخت اور غیر معمولی حالات میں خلائی جہاز کو مؤثر طریقے سے چلایا جا سکے۔
یہ تمام ٹیکنالوجیز اسرو کی جانب سے پہلی مرتبہ استعمال کی جا رہی ہیں، جو گہرے خلائی مشنز اور سیاروی سائنس کے میدان میں بھارت کی مہارت کو مزید مضبوط بنائیں گی۔
گگن یان: ہندوستان کا پہلا انسانی خلائی پرواز پروگرام
گگن یان مشن کو جنوری- 2019 میں منظوری دی گئی تھی۔ اس کا مقصد تین تک ہندوستانی خلا بازوں کو تقریباً 400 کلومیٹر بلند مدار میں تین دن تک بھیجنا اور پھر انہیں بحفاظت زمین پر واپس لانا ہے۔اس پروگرام میں دو غیر عملہ بردار اور ایک عملہ بردار مشن شامل ہیں۔ 2025 میں یہ پروگرام اپنے آخری مرحلے میں داخل ہو گیا۔خلائی تحقیق سے آگے بڑھ کر گگن یان بھارت کی صنعتی صلاحیتوں کو بھی فروغ دے رہا ہے، نئی ٹیکنالوجیز کی تخلیق کا باعث بن رہا ہے اور ملک کو ان چند ممالک کی صف میں شامل ہونے کے قریب لا رہا ہے جو اپنی صلاحیتوں کے بل پر انسانوں کو خلا میں بھیجنے کی اہلیت رکھتے ہیں۔گگن یان نہ صرف بھارت کی سائنسی اور تکنیکی خود کفالت کی علامت ہے بلکہ یہ مستقبل کے انسانی خلائی مشنز اور طویل المدتی خلائی تحقیق کے لیے بھی ایک مضبوط بنیاد فراہم کر رہا ہے۔
|
کیا آپ جانتے ہیں ؟
گگن یان مشن کی تیاریوں کے سلسلے میں بھارت نے 2025 میںاسرو-ناسا کے تعاون سے منعقدہ ایکزیوم-4 مشن کے ذریعےبین الاقوامی خلائی اسٹیشن (آئی ایس ایس) کے پروگرام میں حصہ لیا۔گروپ کیپٹن شبھانشو شکلا نے 25 جون 2025 کوفالکن-9 راکٹ کے ذریعے لانچ کیے گئے‘اسپیس ایکس ڈریگن’ خلائی جہاز میں سوار ہو کر خلائی سفر کیا۔اس مشن کے دوران انہوں نے بھارتی تحقیقی اداروں کی جانب سے تیار کردہ خرد ثقلی ماحول (مائیکرو گریویٹی) سے متعلق سات سائنسی تجربات انجام دیے۔ ان مطالعات میں پٹھوں کی دوبارہ نشوونما (ایم آر)، طحالب کی افزائش، فصلوں کی بقا اور نشوونما کی صلاحیت (سی وی)، جرثوموں کی خلائی ماحول میں بقا (ایم ایس)، ادراکی کارکردگی (سی پی) اور خلائی ماحول میں سیانوبیکٹیریاکے رویّے کا جائزہ لیا گیا۔یہ مشن 15 جولائی 2025 کو کامیابی کے ساتھ مکمل ہوا، جس میں خلائی جہاز کی محفوظ علیحدگی، زمین کے فضائی ماحول میں دوبارہ داخلہ اور سمندر میں کامیاب لینڈنگ شامل تھی۔سائنسی نتائج کے علاوہ،ایکزیوم-4 مشن نے بھارت کو خلا بازوں کی تربیت، انسانی خلائی پرواز کے طریق کار، خرد ثقلی تحقیق اور بین الاقوامی تعاون کے میدان میں اہم عملی تجربہ فراہم کیا۔ اس تجربے نے مستقبل کے عملہ بردار خلائی مشنز کے لیے بھارت کی تیاریوں اور صلاحیتوں کو مزید مضبوط بنایا۔
|
قومی خلائی اسٹیشن
بھارتیہ انترکش اسٹیشن (بی اے ایس) بھارت کا مجوزہ خلائی اسٹیشن ہے اوراسپیس ویژن 2047 کا ایک اہم ستون تصور کیا جاتا ہے۔ یہ کم زمینی مدار ( یل ای او) میں قائم ہونے والا پانچ ماڈیولز پر مشتمل خلائی اسٹیشن ہوگا، جسے طویل المدتی انسانی خلائی مشنز اور خرد ثقلی ماحول میں جدید سائنسی تحقیق کی معاونت کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ستمبر 2024 میں مرکزی کابینہ نے توسیع شدہ گگن یان پروگرام کے تحت اس کے پہلے ماڈیول بی اے ایس-01 کی تیاری اور 2028 تک لانچ کرنے کی منظوری دی۔ یہ خلائی اسٹیشن حیاتیاتی علوم (لائف سائنس)، طب (میڈیسن) اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کے میدان میں تحقیق کے نئے مواقع فراہم کرے گا، جبکہ زمین کے مدار سے آگے مستقبل کے انسانی خلائی مشنز کی بھی معاونت کرے گا۔بھارت کی خلائی ترقی اس حقیقت کی عکاسی کرتی ہے کہ ملک محض اپنی صلاحیتوں میں اضافہ کرنے تک محدود نہیں رہا بلکہ عالمی قیادت کی جانب بھی پیش قدمی کر رہا ہے۔ بھارت نہ صرف سائنسی دریافتوں کی نئی سرحدیں عبور کر رہا ہے بلکہ ایسی ٹیکنالوجیز بھی تیار کر رہا ہے جو مستقبل کی خلائی تحقیق اور دریافت کا رخ متعین کریں گی۔ بلند اہداف پر مبنی مشنز، جدید تحقیقی پروگراموں اور ایک مضبوط طویل المدتی حکمتِ عملی کے ذریعے بھارت دنیا کی صفِ اول کی خلائی طاقتوں میں اپنی جگہ مزید مستحکم کر رہا ہے۔
نجی شعبے کی شمولیت، اختراع اور تکنیکی ترقی کے ذریعہ صلاحیت سازی
بھارت کا خلائی پروگرام ایک سائنسی کاوش سے ترقی کرتے ہوئے قومی ترقی کے ایک مؤثر ذریعہ میں تبدیل ہو چکا ہے۔ نجی شعبے کی فعال شمولیت، مقامی خلائی ٹیکنالوجی کے بڑھتے ہوئے نظام (آئی ایس ٹی ایس)، این اے وی آئی سی جیسے مقامی نیویگیشن نظام، جدید لانچ وہیکلز اور خلاء پر مبنی عوامی خدمات کے ذریعے بھارت نے حکمرانی، رابطہ کاری، آفات سے نمٹنے کی صلاحیت، اختراع اور معاشی ترقی کے میدانوں میں اپنی قومی استعداد کو نمایاں طور پر مضبوط بنایا ہے۔آج خلائی ٹیکنالوجی نہ صرف زمین سے ماورا مشنز کو ممکن بنا رہی ہے بلکہ ملک بھر میں روزمرہ زندگی کو بھی تبدیل کر رہی ہے۔ مواصلات، نیویگیشن، موسمیاتی پیش گوئی، زراعت، تعلیم، صحت اور آفات کے انتظام جیسے شعبوں میں خلائی ٹیکنالوجی کا استعمال عوامی خدمات کی فراہمی کو زیادہ مؤثر، تیز اور قابلِ رسائی بنا رہا ہے۔
نجی شعبہ: ہندوستان کی خلائی تبدیلی کا محرک
بھارت کے خلائی شعبے میں نجی کمپنیوں کی بڑھتی ہوئی شمولیت نے اس تبدیلی کو نئی رفتار دی ہے۔ حکومتی اصلاحات، پالیسی معاونت اور خلائی شعبے کو نجی سرمایہ کاری کے لیے کھولنے کے اقدامات نے ایک مضبوط خلائی صنعت کی بنیاد رکھی ہے۔ اس کے نتیجے میں نئی خلائی کمپنیوں (ایس ایس) کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے، جو سیٹلائٹ سازی، لانچ سروسز، خلائی ڈیٹا اینالیٹکس اور دیگر جدید خلائی ٹیکنالوجیز پر کام کر رہی ہیں۔ یہ شراکت داری بھارت کو ایک مضبوط، خود کفیل اور عالمی سطح پر مسابقتی خلائی معیشت کی جانب لے جا رہی ہے، جہاں حکومت، صنعت اور تحقیقاتی ادارے مل کر مستقبل کی خلائی کامیابیوں کی بنیاد رکھ رہے ہیں۔
نجی شعبہ: بھارت کی خلائی تبدیلی کا محرک

ہندوستان نے اپنے خلائی شعبے کو ایک سرکاری قیادت والے پروگرام سے تبدیل کرکے ایک متحرک قومی ماحولیاتی نظام میں ڈھال دیا ہے۔ سن 2020 میں خلائی شعبے کو نجی اداروں کے لیے کھولنے اور اس کے بعدانڈین اسپیس پالیسی- 2023 کے نفاذ نے خلائی سرگرمیوں کے پورے سلسلے (ایس وی سی) میں نجی شعبے کی وسیع تر شمولیت کو ممکن بنایا۔اب اسٹارٹ اپس، صنعتیں اور تحقیقی ادارے اختراع ، مینوفیکچرنگ، لانچ سروسز اور سیٹلائٹ ایپلی کیشنز کے شعبوں میں بڑھتے ہوئے اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔حکومت کے مختلف اقدامات، جن میں آزادانہ براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) پالیسی،اِن-اسپیس سیڈ فنڈ اسکیم ،پری اِنکیوبیشن انٹرپرینیورشپ پروگرام (پی آئی ای پی) ،ایک ہزار کروڑ روپے کا وینچر کیپیٹل فنڈ اور پانچ سو کروڑ روپے کا ٹیکنالوجی اپنانے کا فنڈ(ٹی اے ایف) شامل ہیں، نے اس خلائی ماحولیاتی نظام کو مزید مضبوط اور مستحکم بنایا ہے۔
|
کیا آپ جانتے ہیں؟
فروری 2024 میں حکومتِ ہند نے خلائی شعبے کے لیے براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری(ایف ڈی آئی) کی پالیسی کو مزید آزاد بنایا، جس کے تحت بعض منتخب سرگرمیوں میں 100 فیصد تک غیر ملکی سرمایہ کاری کی اجازت دی گئی۔سیٹلائٹ کی تیاری اور آپریشنز، سیٹلائٹ ڈیٹا مصنوعات، اور زمینی و صارف خدمات کے شعبوں میں74 فیصد تک ایف ڈی آئی خودکار راستے کے تحت منظور کی گئی ہے۔اسی طرح لانچ وہیکلز، ان سے متعلقہ نظاموں اور اسپیس پورٹس میں49 فیصد تک ایف ڈی آئی کی اجازت دی گئی ہے، جبکہ سیٹلائٹ اور گراؤنڈ سیگمنٹ کے پرزہ جات اور ذیلی نظاموں (سی اینڈ ایس) کی تیاری کے لیے‘100 فیصد ایف ڈی آئی’ خودکار راستے کے تحت ممکن ہے۔نجی شعبے کی مزید حوصلہ افزائی کے لیے‘انڈین نیشنل اسپیس پروموشن اینڈ آتھرائزیشن سینٹر نےنارمز، گائیڈ لائنز اینڈ پروسیجرز(این جی پی) 2024 متعارف کرائے۔یہ فریم ورک خلائی سرگرمیوں کے لیے منظوری، اہلیت اور ضابطہ جاتی تقاضوں کے واضح اصول فراہم کرتا ہے، جس سے ہندوستان کے تیزی سے فروغ پاتے خلائی ماحولیاتی نظام میں شفافیت، پیش بینی اور سرمایہ کاروں کے اعتماد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
|

اس تبدیلی کا دائرہ انتہائی قابل توجہ ہے۔ 2014 میں بھارت میں صرف ایک رجسٹرڈ خلائی اسٹارٹ اپ موجود تھا، جبکہ فروری 2026 تک یہ تعداد 400 سے تجاوز کر چکی تھی۔ بھارتی خلائی اسٹارٹ اپس میں سرمایہ کاری 500 ملین امریکی ڈالر سے بڑھ گئی، جس میں سے تقریباً 150 ملین امریکی ڈالر صرف 2025 کے دوران حاصل کیے گئے۔پکسل، دھرو اسپیس ، اسکائی روٹ ایرو اسپیس، اگنیکل کاسموس اور بیلاٹرکس ایرو اسپیس جیسی کمپنیاں خلائی ترقی کے ایک نئے دور کی پیش رو بن کر ابھری ہیں۔
تجارتی کاری: بھارت کی خلائی معیشت کا فروغ
بھارت کی خلائی معیشت کی موجودہ مالیت تقریباً 8 ارب امریکی ڈالر ہے، جو عالمی خلائی معیشت میں 2 سے 3 فیصد حصہ رکھتی ہے۔ آئندہ دس برسوں میں اس کے پانچ گنا بڑھ کر 40 سے 45 ارب امریکی ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے، جبکہ 2030 تک عالمی خلائی معیشت میں بھارت کا حصہ 8 فیصد تک لے جانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔گزشتہ بارہ برسوں کے دوران حکومت نے اہم ادارہ جاتی اصلاحات اور نجی شعبے کی شمولیت کے ذریعے خلائی شعبے کی تجارتی کاری کو نمایاں طور پر تیز کیا ہے۔
نیو اسپیس انڈیا لمیٹڈ (این ایس آئی ایل)، جو 2019 میں قائم کی گئی، اور اِن-اسپیس ، جو 2022 میں قائم ہوا، نے صنعت، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور نجی سرمایہ کاری کے لیے ایک مضبوط ادارہ جاتی ڈھانچہ فراہم کیا ہے۔جہاں این ایس آئی ایل (این آئی ایل) اسرو کی ٹیکنالوجیز، لانچ سروسز اور سیٹلائٹ خدمات کی تجارتی کاری کا کام انجام دیتی ہے، وہیں اِن-اسپیس ایک واحد کھڑکی (سنگل ونڈو) نظام کے ذریعے نجی شعبے کی خلائی سرگرمیوں کو سہولت فراہم کرنے اور ان کی منظوری دینے کا کردار ادا کرتا ہے۔

یہ اصلاحات قابلِ پیمائش نتائج دینے میں کامیاب رہی ہیں۔اقتصادی سروے 2025-26 کے مطابق نیو اسپیس انڈیا لمیٹڈ (این ایس آئی ایل) کی آمدنی مالی سال 2021-22 میں321.77 کروڑ روپے سے بڑھ کر مالی سال 2024-25 میں3,246.09 کروڑ روپے تک پہنچ گئی۔
31 جنوری 2026 تک اِن-اسپیس نے صنعتوں اور اسٹارٹ اپس کو اسرو کی 71 ٹیکنالوجیز کی منتقلی(ٹی ٹی) میں سہولت فراہم کی۔ اس دوران چھ بھارتی غیر سرکاری اداروں (این جی ای) نے18 سیٹلائٹس لانچ کیے، جبکہ25 پے لوڈز کوپی او ای ایم پلیٹ فارمز پر بھیجا گیا یا ان کے لیے شیڈول کیا گیا۔2026 میںپبلک-پرائیویٹ پارٹنرشپ (پی پی پی) ماڈل کے تحت ارتھ آبزرویشن سیٹلائٹ کنسٹیلیشن کی منظوری اور 2025 میں ایس ایس ایل وی (ایس ایس ایل وی) ٹیکنالوجی کی ہندوستان ایروناٹکس لمیٹڈ (ایچ اے ایل) کو منتقلی نے بھی بھارت کے تجارتی خلائی ماحولیاتی نظام کو مزید مضبوط بنایا۔
خلائی ویژن کے توسیع شدہ اہداف کو پورا کرنے کے لیے حکومت نے نیکسٹ جنریشن لانچ وہیکل (این جی ایل وی) کی تیاری کی منظوری دی ہے، جو کم زمینی مدار میں 30 ٹن تک پے لوڈ لے جانے کی صلاحیت رکھے گا۔خلاء تک کم لاگت رسائی کے حصول کے لیے دوبارہ قابلِ استعمال لانچ وہیکل (آر ایل وی) ٹیکنالوجیز پر بھی کام جاری ہے، جن میں این جی ایل وی کا جزوی طور پر دوبارہ قابلِ استعمال ماڈل بھی شامل ہے، جو کم زمینی مدار میں 14 ٹن تک پے لوڈ پہنچانے کی صلاحیت رکھے گا۔
اس سلسلے میں ایک اور اہم پیش رفت پَر دار بالائی مرحلے (ڈبلیو بی یو ایس) کی تیاری ہے، جو مدار سے واپس زمین پر آئے گا اور خودکار نظام کے تحت رن وے پر لینڈ کرے گا۔ یہ ٹیکنالوجی مستقبل میں خلائی مشنز کی لاگت میں نمایاں کمی اور لانچ نظام کی کارکردگی میں مزید بہتری کا باعث بنے گی۔
|
کیا آپ جانتے ہیں؟
ہندوستان اپنے خلائی لانچ انفراسٹرکچر کو تیزی سے وسعت دے رہا ہے۔ ہندوستان کا دوسرا خلائی مرکز (اسپیس پورٹ) تمل ناڈو کے کلاسیکراپٹنم میں قائم کیا جا رہا ہے۔اسمال سیٹلائٹ لانچ وہیکل (ایس ایس ایل وی) کمپلیکس کا سنگِ بنیاد 28 فروری 2024 کو رکھا گیا۔ یہ مرکز سالانہ20 سے 25 مداری لانچز ( او ایل) کی معاونت کرے گا، جبکہ پہلےایس ایس ایل وی مشن کا ہدف مالی سال 2026-27 کے دوران مقرر کیا گیا ہے۔ جنوری 2025 میں سری ہری کوٹہ میں تیسرے لانچ پیڈ کی منظوری دی گئی، جس کی لاگت3,984.86 کروڑ روپے ہے۔ یہ جدید سہولت نیکسٹ جنریشن لانچ وہیکلز ( این جی ایل وی) ،انسانی خلائی پروازوں(ایچ ایس ایف ایم اور مستقبل کی قمری تحقیق سے متعلق مشنز کی معاونت کرے گی۔
|
پروپلشن ٹیکنالوجی میں پیش رفت
اسرو بھارت کے خلائی نقل و حمل کے نظام کے لیے اگلی نسل کی ٹیکنالوجیز تیار کرنے میں مسلسل پیش رفت کر رہا ہے۔الیکٹرک پروپلشن سسٹمز (ای پی ایس)، جو سیٹلائٹس کی عملی مدت میں اضافہ کر سکتے ہیں، سے لے کر جدید کرایوجینک اور سیمی کرایوجینک انجنوں تک- یہ تمام کامیابیاں مشنز کی لچک، پے لوڈ کی کارکردگی اور لاگت کی مؤثریت میں نمایاں بہتری لائیں گی۔
مشن آپریشنز کے لیےالیکٹرک پروپلشن سسٹم (ای پی ایس) استعمال کرنے والے پہلے سیٹلائٹ کی لانچنگ کا ہدف مالی سال2026-27 کے دوران مقرر کیا گیا ہے، جو زیادہ مؤثر اور طویل المدتی خلائی مشنز کی جانب ایک اہم پیش رفت ہوگی۔
ہندوستان نےوکاس انجن کی تھروٹلنگ صلاحیت میں بھی اہم کامیابیاں حاصل کی ہیں، جو عمودی پرواز اور عمودی لینڈنگ کی صلاحیت رکھنے والے دوبارہ قابلِ استعمال راکٹس کی تیاری کی جانب ایک اہم قدم ہے۔اسی طرحسی ای-20 کرایوجینک انجن کے لیے تیار کی گئی نئی بوٹ اسٹریپ اگنیشن ٹیکنالوجی (بی آئی ٹی) اب مشن کے دوران انجن کو متعدد مرتبہ دوبارہ شروعات(ایم آر) کرنے کی صلاحیت فراہم کرتی ہے، جس سے آپریشنل لچک میں نمایاں اضافہ ہوتا ہے۔
دوسری جانب اسمال سیٹلائٹ لانچ وہیکل (ایس ایس ایل وی) کے جدید بالائی مرحلے ( یو یو ایس) نے مرحلے کے وزن میں کمی لائی ہے اور پے لوڈ لے جانے کی صلاحیت میں تقریباً90 کلوگراماضافہ کیا ہے، جس سے کم لاگت پر چھوٹے سیٹلائٹس کی لانچنگ میں بھارت کی صلاحیت مزید مضبوط ہوئی ہے۔
دوبارہ قابلِ استعمال لانچ وہیکلز (آر ایل وی)
ہندوستان مستقبل کے خلائی مشنز کی لاگت میں کمی اور لانچنگ کی استعداد بڑھانے کے لیےدوبارہ قابلِ استعمال لانچ وہیکلز ( آر ایل وی) کی ترقی پر بھی کام کر رہا ہے۔ یہ ٹیکنالوجی خلائی راکٹس کے اہم حصوں کو دوبارہ استعمال کے قابل بنائے گی، جس سے لانچنگ کے اخراجات میں نمایاں کمی آئے گی اور خلائی سرگرمیاں مزید پائیدار اور معاشی طور پر مؤثر بن سکیں گی۔

دوبارہ قابلِ استعمال لانچ وہیکلز (آر ایل وی)
اسرو کاآر ایل وی-ٹی ڈی پروگرام کم لاگت اور دوبارہ قابلِ استعمال خلائی نقل و حمل کے نظام کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔ مستقبل کے ایک جدید طیارے کی طرز پر تیار کیا گیا یہ پَر دار خلائی وہیکل لانچ وہیکلز اور ہوائی جہاز دونوں کی پیچیدگیوں کو یکجا کرتا ہے۔اس پروگرام کا مقصد مکمل طور پر دوبارہ قابلِ استعمال لانچ نظاموں کے لیے ضروری ٹیکنالوجیز تیار کرنا ہے، جو خلاء تک رسائی کی لاگت میں نمایاں کمی لا سکتی ہیں۔آر ایل وی-ٹی ڈی جدید ٹیکنالوجیز جیسےہائپر سونک پرواز ( ایچ ایف) ، خودکار لینڈنگ(اے ایل) اورمربوط پرواز انتظامی نظام(آئی ایف ایم ) کے لیے ایک آزمائشی پلیٹ فارم (ایف ٹی بی) کے طور پر کام کرتا ہے۔
ہندوستان اس پروگرام کے تحت پہلے ہی کئی اہم سنگِ میل عبور کر چکا ہے۔ اسرو نے 23 مئی 2016 کوسدیش دھون اسپیس سینٹر (ایس ڈی ایس سی ایس ایچ اے آر)، سری ہری کوٹاسے آر ایل وی-ٹی ڈی کا کامیاب تجرباتی پرواز ٹسٹ انجام دیا، جس کے دوران خودکار نیویگیشن، رہنمائی اور کنٹرول سسٹمز، دوبارہ قابلِ استعمال حرارتی تحفظی نظام (آر ٹی پی ایس) اور دوبارہ داخلے کے مشن مینجمنٹ سے متعلق ٹیکنالوجیز کی کامیاب توثیق کی گئی۔اس پروگرام کے تحت اب تک خودکار رن وے لینڈنگ کے تین کامیاب تجربات بھی مکمل کیے جا چکے ہیں، جو ہندوستان کو مستقبل کے مکمل طور پر دوبارہ قابلِ استعمال خلائی نظاموں کے مزید قریب لے جا رہے ہیں۔
مقامی الیکٹرانکس اور آن بورڈ نظام
اسرو نےسیمی کنڈکٹر لیبارٹری (ایس سی ایل)، چنڈی گڑھ کے اشتراک سے وکرم 3201 تیار کیا، جو بھارت کا پہلا مکمل طور پر مقامی طور پر تیار کردہ‘32-بِٹ خلائی مائیکرو پروسیسر’ ہے۔ اس کے ساتھ کلپنا 32 بھی تیار کیا گیا، جو انتہائی قابلِ اعتماد خلائی مشنز کیلئے ڈیزائن کیا گیا ہے۔
یہ پیش رفت غیر ملکی پرزہ جات اور ٹیکنالوجیز پر انحصار کم کرنے کے ساتھ ساتھ خلائی مشنز کی حفاظت، خود کفالت اور قابلِ اعتماد کارکردگی کو بھی بہتر بناتی ہے۔
ہندوستان کی بڑھتی ہوئی خلائی صلاحیت گزشتہ بارہ برسوں کے دوران قومی تبدیلی کی وسیع تر داستان کی عکاسی کرتی ہے۔ ٹیکنالوجی، بنیادی ڈھانچے اور اختراع میں مسلسل سرمایہ کاری نے ملک کی صلاحیتوں میں نمایاں اضافہ کیا ہے اور بیرونی نظاموں پر انحصار کو کم کیا ہے۔میک اِن انڈیا کے ویژن سے ہم آہنگ یہ کوششیں سائنس، صنعت اور ترقی کے لیے نئے مواقع پیدا کر رہی ہیں۔ یہی اقدامات وکست بھارت کے سفر کو تیز تر بنا رہے ہیں اور ہندوستان کو دنیا کی نمایاں خلائی طاقتوں میں ایک مضبوط اور باوقار مقام دلانے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

### بین الاقوامی تعاون: بھارت کے خلائی پروگرام کا اہم ستون
بین الاقوامی تعاون اپنے آغاز سے ہی بھارت کے خلائی پروگرام کا ایک بنیادی ستون رہا ہے۔ گزشتہ 12 برسوں کے دوران بھارت نے عالمی خلائی شراکت داریوں میں نمایاں توسیع کی ہے، جس کے نتیجے میں سائنسی تعاون، ٹیکنالوجی کے تبادلے اور مشترکہ خلائی مشنز کی ترقی کو نئی تقویت ملی ہے۔
اسرو نے 1990 کی دہائی سے لے کر 2014 تک 35 غیر ملکی سیٹلائٹس لانچ کیے تھے۔ تاہم 2014 کے بعد اس شعبے میں نمایاں پیش رفت ہوئی اور مارچ 2026 تک بھارت کی جانب سے لانچ کیے گئےغیر ملکی سیٹلائٹس کی تعداد 399 تک پہنچ گئی۔مزید برآں، 2026 تک بھارت اکسٹھ 61 ممالک اور5 کثیرالجہتی تنظیموں کے ساتھ 300 سے زائد خلائی تعاون کے معاہدے کر چکا ہے۔یہ شراکت داریاں سیٹلائٹ مشنز، ڈیٹا کے تبادلے، گراؤنڈ اسٹیشنز، سائنسی تحقیق، صلاحیت سازی (سی بی) اور خلائی ٹیکنالوجی کے مختلف شعبوں کا احاطہ کرتی ہیں۔گزشتہ ایک دہائی کے دوران قائم ہونے والے اہم بین الاقوامی تعاون اور تزویراتی شراکت داریوں نے نہ صرف بھارت کی خلائی صلاحیتوں کو وسعت دی ہے بلکہ اسے عالمی خلائی برادری میں ایک قابلِ اعتماد اور مؤثر شراکت دار کے طور پر بھی مستحکم کیا ہے۔ ان تعاونات کے ذریعے بھارت سائنسی تحقیق، خلائی دریافت اور جدید ٹیکنالوجی کی ترقی میں دنیا کے ساتھ مل کر اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
|
کیا آپ جانتے ہیں؟
بھارت اپنی ‘پڑوسی پہلے’ پالیسی کے تحت بِمسٹیک خلائی پروگرام کی قیادت کر رہا ہے۔یہ اقدام خلائی ٹیکنالوجی، آفات کے انتظام اور صلاحیت سازی کے ذریعے علاقائی تعاون کو مضبوط بناتا ہے۔ شمال مشرقی خلائی اطلاقی مرکز (این ای ایس اے سی) بِمسٹیک ممالک کے لیے خلائی اطلاقیات اور سیٹلائٹ ٹیکنالوجیز کے شعبوں میں خصوصی تربیتی پروگرام منعقد کرتا ہے۔بھارت نے موسمیاتی تبدیلی اور آفات کے انتظام کے لیےعلاقائی نینو سیٹلائٹس، مقامی گراؤنڈ اسٹیشنز اور زمین کے مشاہداتی (ای بی) مشترکہ ڈیٹا کے استعمال کی بھی تجویز پیش کی ہے۔اسی طرح بِمسٹیک مرکز برائے موسمیات و آب و ہوا علاقائی سطح پر موسمی پیش گوئی اور آفات سے نمٹنے کی تیاریوں میں معاونت فراہم کرتا ہے۔مزید برآں،خلائی سلامتی تعاون سے متعلق ماہرین کا گروپ علاقائی استحکام، لچک اور تزویراتی تعاون کو مزید مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
|
بھارت-روس شراکت داری: بھارت کے انسانی خلائی مشن کے عزائم کی معاونت

ہندوستان کا انسانی خلائی پرواز پروگرام اور روس کے ساتھ شراکت داری
بھارت کے انسانی خلائی پرواز پروگرام کو روس کے ساتھ طویل عرصے سے قائم شراکت داری سے نمایاں فائدہ پہنچا ہے۔ خلائی تعاون کی کئی دہائیوں پر محیط روایت کو آگے بڑھاتے ہوئے اسرو اور روسکوسموس نے 2018 میں گگن یان مشن کی معاونت کے لیے ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے۔ روس نے خلا بازوں کی تربیت، تکنیکی مہارت اور اہم شعبوں مثلاً لائف سپورٹ سسٹمز، عملے کی حفاظت اور انسانی خلائی پرواز سے متعلق ٹیکنالوجیز میں تعاون فراہم کیا ہے۔ اس اشتراک نے بھارت کے پہلے مقامی عملہ بردار مشن کے لیے تیاریوں کو مزید مضبوط بنایا ہے اور بھارت کے وسعت پذیر خلائی عزائم پر بڑھتے ہوئے عالمی اعتماد کی عکاسی کرتا ہے۔
کیا آپ جانتے ہیں؟
روس کے ساتھ بھارت کی خلائی شراکت داری کا آغاز 1975 میں ہوا تھا، جب سوویت یونین نے بھارت کا پہلا سیٹلائٹ آریہ بھٹ خلا میں بھیجا تھا۔ روس نے بھارت کے پہلے انسانی خلائی سفر کے تاریخی سنگِ میل میں بھی اہم کردار ادا کیا، جب 1984 میں ونگ کمانڈرراکیش شرما نےسوئیوز ٹی-11 خلائی جہاز کے ذریعے خلا کا سفر کیا۔ آج یہ شراکت داری گگن یان پروگرام،گلوناس اور نیو آئی سی کے ذریعے سیٹلائٹ نیویگیشن میں تعاون، اور مستقبل کے خلائی تحقیقاتی منصوبوں تک پھیل چکی ہے، جو بھارت-روس خلائی تعاون کی دیرپا ساکھ اور تزویراتی گہرائی کو نمایاں کرتی ہے۔
اسرو اور ناسا
خلائی شعبے میں بھارت کی بڑھتی ہوئی عالمی ساکھ کا اظہار دنیا کی ممتاز خلائی ایجنسیوں کے ساتھ اس کے تعاون سے ہوتا ہے۔ اس کی ایک اہم مثال ناسا-اسرو سنتھیٹک اپرچر ریڈار ( این آئی ایس اے آر) مشن ہے، جسے اسرو اور ناسا نے مشترکہ طور پر تیار کیا اور 30 جولائی 2025 کو سری ہری کوٹا سےجی ایس ایل وی-ایف 16 کے ذریعے لانچ کیا گیا۔
نیسار زمین، گلیشیئرز، جنگلات اور سمندروں میں آنے والی تبدیلیوں کی نگرانی کرے گا، جس سے سائنس دانوں کو موسمیاتی تبدیلی، قدرتی آفات اور ماحولیاتی چیلنجز کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد ملے گی۔ یہ مشن دنیا کی دو نمایاں خلائی ایجنسیوں کی مہارت کو یکجا کرتا ہے اور پیچیدہ بین الاقوامی منصوبوں کو انجام دینے کی بھارت کی صلاحیت کو ظاہر کرتا ہے۔
اسرو اور فرانسیسی خلائی ایجنسی سی این ای ایس

ہندوستان کی بڑھتی ہوئی عالمی شراکت داریوں کی ایک نمایاں مثال **ٹرشنا مشن ہے، جسے اسرو اور فرانسیسی خلائی ایجنسی سی این ای ایس مشترکہ طور پر تیار کر رہے ہیں۔2026 میں لانچ کیے جانے کے لیے مقرر یہ مشن زمین کے بری اور ساحلی علاقوں کی اعلیٰ معیار کی حرارتی تصویربرداری فراہم کرے گا، جس کی دوبارہ مشاہداتی صلاحیت (آر ایف) موجودہ مشنز کے مقابلے میں بے مثال ہوگی۔یہ سیٹلائٹ فصلوں میں پانی کی کمی کے دباؤ ( سی ڈبلیو ایس)، آبپاشی کی ضروریات، آبی وسائل، شہری ماحولیاتی نظام، گلیشیئرز اور موسمیاتی تبدیلیوں سے متعلق عوامل کی نگرانی میں مدد فراہم کرے گا۔اس مشن میں سی این ای ایس کی جانب سے فراہم کردہ حرارتی اِنفراریڈ آلہ اور اسرو کا تیار کردہ آپٹیکل سینسر شامل ہے۔ یہ اشتراک جدید زمینی مشاہدات اور موسمیاتی سائنس کے میدان میں بھارت کی بڑھتی ہوئی ساکھ کو ایک قابلِ اعتماد عالمی شراکت دار کے طور پر نمایاں کرتا ہے، جبکہ پائیدار زراعت اور ماحولیاتی انتظام کے فروغ میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔
اسرو اور جاپان ایرو اسپیس ایکسپلوریشن ایجنسی

بھارت کی گہرے خلائی مشنز میں بڑھتی ہوئی ساکھ کی ایک اور نمایاں مثال چندریان-5/لوپیکس مشن ہے، جو اسرو (ISRO) اور **جاپان ایرو اسپیس ایکسپلوریشن ایجنسی (جے اے ایکس اے)کے درمیان ایک تاریخی اشتراک ہے۔
سال 2027-28 میں جاپان کےایچ-3 راکٹ کے ذریعے لانچ کیے جانے والا یہ مشن ایک بھارتی تیار کردہ لینڈر اور ایک جاپانی روور کو یکجا کرے گا، جو چاند کے قطبی علاقوں کی تحقیق کرے گا۔چندریان-3 کی کامیابی اور چندریان-4 کے مجوزہ قمری نمونہ واپسی مشن کی بنیاد پر، لوپیکس چاند پر پانی اور برف کے ذخائر کی تلاش کرے گا، سطح کے نیچے ڈرلنگ انجام دے گا اور موقع پر ہی جدید سائنسی تحقیقات کرے گا۔ اس مشن میں ناسا اوریوروپی خلائی ایجنسی (ای ایس اے) کے سائنسی آلات بھی شامل ہوں گے، جو اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ ہندوستان پیچیدہ کثیرالقومی سائنسی تعاون کی قیادت کرنے اور عالمی قمری تحقیق کے اگلے مرحلے میں مؤثر کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
یوروپی خلائی ایجنسی ( ای ایس اے) کے ساتھ شراکت داری

7مورخہ مئی 2025 کویوروپی خلائی ایجنسی (ای ایس اے) اور اسرو نے مستقبل کے انسانی خلائی مشنز میں باہمی تعاون کے لیے ایک مشترکہ اعلامیۂ ارادہ پر دستخط کیے۔اس شراکت داری کا مرکز کم زمینی مدار ( ایل ای او) میں سرگرمیوں اور مستقبل میں چاند کی تحقیق پر ہوگا۔ دونوں ایجنسیاں ایسی ٹیکنالوجیز کی ترقی میں تعاون کریں گی جو مختلف ممالک کے خلائی جہازوں کو باہم مربوط انداز میں کام کرنے کے قابل بنائیں، نیز خلا بازوں کی تربیت اور خلائی تحقیق کے شعبوں میں بھی مشترکہ کام کریں گی۔یہ معاہدہ یورپی خلا بازوں کے لیے بھارت کے مجوزہ بھارتیہ انترکش اسٹیشن ( بی اے ایس) سے متعلق مشنز میں شرکت کے مواقع بھی فراہم کرتا ہے، جبکہ چاند کے لیے مشترکہ سائنسی مشنز کی راہ بھی ہموار کرتا ہے۔ایکزیوم اے ایکس-4 مشن کے دوران ہونے والے تعاون کی بنیاد پرای ایس اے اوراسرومستقبل کے خلائی مشنز کو زیادہ مربوط، مؤثر اور اشتراکی بنانے کے لیے مل کر کام کر رہے ہیں۔یہ شراکت داری بھارت کی خلائی صلاحیتوں پر بڑھتے ہوئے بین الاقوامی اعتماد اور انسانی خلائی تحقیق کے مستقبل کی تشکیل میں اس کے بڑھتے ہوئے کردار کی واضح عکاسی کرتی ہے۔
ہندوستان-جرمنی خلائی تعاون

بھارت نے اپنے لانچ وہیکلز کے ذریعےجرمنی کے 11 سیٹلائٹس کامیابی کے ساتھ خلا میں بھیجے ہیں، جو بھارت کی خلائی صلاحیتوں پر بڑھتے ہوئے بین الاقوامی اعتماد کی عکاسی کرتا ہے۔2 جون 2026 کو ہونے والی ایک اعلیٰ سطحی ملاقات کے دوران بھارت اور جرمنی نے سیٹلائٹ مواصلات ،آپٹیکل مواصلات، انسانی خلائی پرواز، مائیکرو گریوٹی تحقیق ، زمینی مشاہدات ، ڈرون ٹیکنالوجیز اور مستقبل کے خلائی تحقیقاتی مشنز میں تعاون کے نئے مواقع کی نشاندہی کی۔یہ مذاکراتاسرو اور جرمن ایرو اسپیس سینٹر کے درمیان طویل عرصے سے جاری شراکت داری کی بنیاد پر کیے گئے اور ان کا مقصد ابھرتے ہوئے خلائی شعبوں میں مشترکہ تحقیق، اختراع اور ٹیکنالوجی کی ترقی کو مزید فروغ دینا تھا۔
اٹلی-بھارت مشترکہ تزویراتی ایکشن پلان 2025-2029

بھارت اور اٹلی نے18 نومبر 2024 کوریو ڈی جنیرو میں منعقدہ جی-20 سربراہی اجلاس کے دوران اعلان کردہ بھارت-اٹلی مشترکہ تزویراتی ایکشن پلان 2025-2029 کے تحت اپنے خلائی تعاون کو نئی بلندیوں تک پہنچایا۔دونوں ممالک نے انڈین اسپیس ریسرچ آرگنائزیشن(اسرو) اور اطالوی خلائی ایجنسی (اے ایس آئی) کے درمیان زمینی مشاہدات ، ہیلیو فزکس اور خلائی تحقیق کے شعبوں میں تعاون کو وسعت دینے پر اتفاق کیا، جس میں خاص طور پرقمری سائنس پر توجہ مرکوز کی گئی ہے۔دونوں فریقوں نے بیرونی خلاء کے پُرامن اور پائیدار استعمال کے لیے تحقیق و ترقی کو فروغ دینے کے عزم کا بھی اظہار کیا، جبکہ صنعتوں، ایم ایس ایم ایز اور اسٹارٹ اپس کی شمولیت کے ذریعے تجارتی تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر بھی اتفاق کیا۔
اسرو اور سعودی خلائی ایجنسی

بھارت اور سعودی عرب نے 23 اپریل 2025 کو اسرو اور سعودی خلائی ایجنسی کے درمیان ایک مفاہمتی یادداشت کے ذریعے اپنے خلائی تعاون کو مزید فروغ دیا۔ یہ معاہدہ سیٹلائٹ کی تیاری، خلائی سائنس، خلائی تحقیق، اختراع اور صلاحیت سازی کے شعبوں میں تعاون کو فروغ دیتا ہے۔ یہ خلائی ٹیکنالوجیز کے میدان میں کاروباری سرگرمیوں اور تعلیمی اداروں کی شمولیت کی بھی حوصلہ افزائی کرتا ہے، جو بیرونی خلاء کے پُرامن اور ترقیاتی مقاصد کے لیے مشترکہ عزم کی عکاسی کرتا ہے۔
اسرو اور ماریشس ریسرچ اینڈ انوویشن کونسل
ماریشس کے ساتھ بھارت کی طویل المدتی خلائی شراکت داری نے یکم نومبر 2023 کو ایک نئے مرحلے میں داخلہ لیا۔اسرو اور ماریشس ریسرچ اینڈ انوویشن کونسل (ایم آر آئی سی) نے مشترکہ طور پر ایک چھوٹا سیٹلائٹ تیار کرنے کے لیے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے، جس کا مرکزی کابینہ نے 5 جنوری 2024 کو نوٹس لیا۔یہ منصوبہ سیٹلائٹ سازی کی صلاحیتوں کو مضبوط بنائے گا، ماریشس کے گراؤنڈ اسٹیشن کے استعمال میں معاون ہوگا اور 1986 سے جاری شراکت داری کو مزید مستحکم کرے گا۔ توقع ہے کہ یہ سیٹلائٹ تقریباً 15 ماہ میں تیار کر لیا جائے گا، جس کی تخمینہ لاگت 20 کروڑ روپے ہوگی اور اس کی مالی اعانت حکومتِ ہند کی جانب سے کی جائے گی۔
بھوٹان کے ساتھ خلائی شعبے میں علاقائی شراکت داری
ہندوستان کے خلائی تعاون نے علاقائی شراکت داریوں کو بھی مضبوط کیا ہے، خصوصاً بھوٹان کے ساتھ۔ 19 نومبر 2020 کو بھارت اور بھوٹان نےبیرونی خلاء کے پُرامن استعمال میں تعاون سے متعلق ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے، جسے 30 دسمبر 2020 کو مرکزی کابینہ نے منظوری دی۔اس معاہدے میں زمینی مشاہدات ، سیٹلائٹ مواصلات، سیٹلائٹ نیویگیشن، خلائی سائنس، سیاروی تحقیق اور خلائی ٹیکنالوجی کے ترقیاتی استعمال جیسے شعبے شامل ہیں۔ مشترکہ منصوبوں کے نفاذ کے لیے ایک مشترکہ ورکنگ گروپ بھی قائم کیا گیا، جو خلائی ٹیکنالوجی پر مبنی حلوں کے ذریعے حکمرانی، وسائل کے انتظام، مواصلات اور سائنسی تحقیق کو فروغ دیتا ہے۔
شہریوں کے لیے خلاء — روزمرہ زندگی کو متاثر کرنے والی ایپلی کیشنز
گزشتہ ایک دہائی کے دوران بھارت کا خلائی پروگرام ترقی کرتے ہوئے ایک ایسے اہم قومی بنیادی ڈھانچے میں تبدیل ہو گیا ہے جو حکمرانی، ترقی، ماحولیاتی انتظام اور آفات سے نمٹنے کی صلاحیت کو سہارا فراہم کرتا ہے۔سیٹلائٹ پر مبنی ڈیٹا، جغرافیائی معلوماتی ٹیکنالوجیز اور ڈجیٹل پلیٹ فارمز شواہد اور اعداد و شمار پر مبنی فیصلہ سازی کو ممکن بنا رہے ہیں، شفافیت میں اضافہ کر رہے ہیں اور مختلف شعبوں میں حکومتی پروگراموں کی مؤثریت کو بہتر بنا رہے ہیں۔
نیو آئی سی — بھارت کا مقامی نیویگیشن نظام
نیوآئی سی بھارت کا مقامی سیٹلائٹ نیویگیشن نظام ہے۔ یہ بھارت بھر میں اور اس کی سرحدوں سے 1,500 کلومیٹر تک کے علاقے میں درست مقام شناسی)، نیویگیشن اور وقت کی خدمات فراہم کرتا ہے۔غیر ملکی نیویگیشن نظاموں پر انحصار کم کرنے کے لیے تیار کیا گیا نیوآئی سی، بھارت کی تکنیکی خود کفالت اور تزویراتی صلاحیت کو مضبوط بناتا ہے۔ یہ نظام متعدد سیٹلائٹس پر مشتمل ایک نیٹ ورک کے ذریعے مسلسل علاقائی کوریج فراہم کرتا ہے۔
اس نیٹ ورک کو مزید مضبوط بنانے کے لیے دوسری نسل کے پہلے سیٹلائٹ این وی ایس-01 کو مئی 2023 میں لانچ کیا گیا، جس کے بعد این وی ایس-02 کو جنوری 2025 میں خلا میں بھیجا گیا۔ نظام کی قابلِ اعتماد کارکردگی اور بلا تعطل خدمات کو یقینی بنانے کے لیےاین وی ایس-01 سے این وی ایس-05** تک دوسری نسل کے پانچ سیٹلائٹس لانچ کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔

نیو آئی سی — بھارت کا مقامی نیویگیشن نظام
نیو آئی سی کے ڈجیٹل اور طبعی بنیادی ڈھانچے کا ایک اہم حصہ بن چکا ہے۔ یہ بجلی کے گرڈ کی ہم وقت سازی، ٹرینوں کی حقیقی وقت میں نگرانی، گاڑیوں کی نگرانی، آدھار آلات کی جیو ٹیگنگ اور عوامی تحفظ کے انتباہی نظاموں میں معاونت فراہم کرتا ہے۔لاجسٹکس، بحری جہازوں کی نگرانی، جیو فینسنگ اور مقام پر مبنی خدمات سمیت مختلف شعبوں میں اس کا استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ اسرو نے کوالکوم سمیت متعدد صنعتی اداروں کے ساتھ شراکت داری بھی قائم کی ہے تاکہ ناوک کو موبائل چِپ سیٹس میں شامل کیا جا سکے، جس سے اس کی رسائی عام صارفین تک مزید وسیع ہو رہی ہے۔
کیا آپ جانتے ہیں؟
سن 2025 میں بھارت نے جنوبی افریقہ کے ساتھ نیو آئی سی کے ایک ریفرنس اسٹیشن کے قیام کیلئے معاہدہ کیا۔ اس اقدام سے بھارت کے مقامی سیٹلائٹ نیویگیشن نظام کی کارکردگی اور رسائی قومی سرحدوں سے باہر بھی مضبوط ہوگی۔یہ شراکت داری نیویگیشن کے شعبہ میں تعاون کو فروغ دیتی ہے اور بھارت کی خلاء پر مبنی مقام شناسی اور وقت کے تعین کی صلاحیتوں پر بڑھتے ہوئے بین الاقوامی اعتماد کی عکاسی کرتی ہے۔
اعداد و شمار پر مبنی حکمرانی
وزارتِ زراعت و کسان بہبود، وزارت جل شکتی، وزارت دیہی ترقی اور مختلف ریاستی حکومتیں حکمرانی اور عوامی خدمات کی فراہمی کے لیے جغرافیائی معلومات ، موضوعاتی ایپلی کیشنز اور ڈجیٹل پلیٹ فارمز کا بڑھتے ہوئے پیمانے پر استعمال کر رہی ہیں۔ سیٹلائٹ پر مبنی ڈیٹا بہتر منصوبہ بندی، حقیقی وقت کی نگرانی، وسائل کے انتظام اور مختلف ترقیاتی پروگراموں کے مؤثر نفاذ میں معاون ثابت ہو رہا ہے۔
غذائی اور آبی تحفظ
خلائی ٹیکنالوجی سیٹلائٹ پر مبنی نگرانی اور پیش گوئی کے ذریعے غذائی اور آبی تحفظ کو مضبوط بناتی ہے۔فصلوں کے زیرِ کاشت رقبے کی نقشہ سازی، پیداوار کی پیش گوئی، خشک سالی کا جائزہ اور فصلوں کی پیداوار کے تخمینے زرعی منصوبہ بندی اور انشورنس پروگراموں میں مدد فراہم کرتے ہیں۔نیشنل ہائیڈرولوجی پروجیکٹ اور انڈیا واٹر ریسورسز انفارمیشن سسٹم کے تحت ہائیڈرو انفارمیٹکس خدمات آبی وسائل کی بہتر منصوبہ بندی اور انتظام میں معاونت کرتی ہیں۔
آفات کا انتظام اور قبل از وقت انتباہ
بھارت کے خلائی بنیادی ڈھانچے نے آفات سے نمٹنے کی تیاری اور ہنگامی ردِعمل کی صلاحیت کو مزید مضبوط بنایا ہے۔سیٹلائٹس سمندری طوفانوں، سیلابوں، لینڈ سلائیڈنگ، جنگلاتی آگ اور دیگر قدرتی خطرات کی نگرانی میں مدد فراہم کرتے ہیں۔نیشنل ڈیٹا بیس فار ایمرجنسی مینجمنٹ این ڈڈی ای ایم 5.0 حقیقی وقت پر مبنی جغرافیائی معلومات اور فیصلہ سازی کے معاون آلات فراہم کرتا ہے۔اسی طرح سیٹلائٹ ایڈڈ سرچ اینڈ ریسکیو ( ایس اے ایس اے آر) پروگرام ہنگامی امداد اور مصیبت کے اشاروں (ڈسٹریس الرٹس) کے لیے خدمات مہیا کرتا ہے۔
حکمرانی اور دیہی ترقی
جغرافیائی معلوماتی ٹیکنالوجیز حکومتی منصوبوں کے شفاف نفاذ میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ان میں منریگا ،پردھان منتری گرام سڑک یوجنا ( پی ایم جی ایس وائے)، پردھان منتری کرشی سنچائی یوجنا ( پی ایم کے ایس وائے)، امرت ( اے ایم آر یو ٹی)، سبزہ زاروں کی نگرانی اور قومی ایڈریسنگ نظام ( این اے ایس) شامل ہیں۔سیٹلائٹ پر مبنی پلیٹ فارمز قومی سطح سے لے کر گاؤں کی سطح تک شواہد پر مبنی منصوبہ بندی اور نگرانی کو ممکن بناتے ہیں۔
ساحلی برادریوں کی معاونت
ممکنہ ماہی گیری زون سے متعلق مشورے ماہی گیروں کو زیادہ پیداواری ماہی گیری کے علاقوں کی نشاندہی میں مدد دیتے ہیں۔ان مشوروں سے ایندھن کے استعمال اور مچھلیوں کی تلاش میں صرف ہونے والے وقت میں کمی آتی ہے۔اس کے علاوہ مقامی طور پر تیار کردہ ڈسٹریس الرٹ ٹرانسمیٹرز ( ڈی اے ٹیز) ماہی گیری کے جہازوں سے ہنگامی پیغامات بھیجنے کی سہولت فراہم کرکے تحفظ میں اضافہ کرتے ہیں۔
صحت اور تعلیم میں سیٹلائٹ پر مبنی حل
اسرو دور دراز اور بلند پہاڑی علاقوں میں ٹیلی میڈیسن خدمات فراہم کرتا ہے۔جموں و کشمیر، لیہہ، لداخ، سیاچن اور دیگر تزویراتی اہمیت کے حامل علاقوں میں ٹیلی میڈیسن مراکز فعال ہیں۔ اس وقت تقریباً 179 ٹیلی میڈیسن مراکز کام کر رہے ہیں، جن میں سے تقریباً 80 مراکز بلند پہاڑی علاقوں میں واقع ہیں۔یہ خدمات دور افتادہ علاقوں کے لوگوں کو ماہر ڈاکٹروں اور خصوصی طبی سہولیات تک بہتر رسائی فراہم کرتی ہیں۔مزید برآں، سیٹلائٹ مواصلات نے ملک بھر میں معیاری تعلیم تک رسائی کو بھی وسعت دی ہے۔پی ایم ای-ودیا پروگرام کے تحت جی سیٹ-15 اور جی سیٹ-9 سیٹلائٹس کے ذریعے 370 تعلیمی ٹیلی ویژن چینلز نشر کیے جا رہے ہیں۔یہ خدمات ڈجیٹل تعلیم، اساتذہ کی تربیت اور دور دراز علاقوں میں تعلیمی رسائی کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔
کیا آپ جانتے ہیں؟
جنوبی ایشیا سیٹلائٹ (جی ایس اے ٹی-9) ایک 2,230 کلوگرام وزنی جیو اسٹیشنری مواصلاتی سیٹلائٹ ہے، جوافغانستان، بنگلہ دیش، بھوٹان، مالدیپ، نیپال اور سری لنکا کو مواصلاتی خدمات فراہم کرتا ہے۔اسے 5 مئی 2017 کو سری ہری کوٹا سے جی ایس ایل وی-ایف 09 راکٹ کے ذریعے لانچ کیا گیا تھا۔ یہ سیٹلائٹسارک خطے کے پڑوسی ممالک کے لیے بھارت کے تحفے کے طور پر پیش کیا گیا تھا۔اس سیٹلائٹ کو اسرو نے تیار کیا اور اس کی مکمل مالی اعانت بھارت نے کی، جس پر تقریباً450 کروڑ روپے لاگت آئی۔سیٹلائٹ میں12 کے یو بینڈٹرانسپونڈرز نصب ہیں، جن میں سے ہر شریک ملک کو ایک ٹرانسپونڈر تک رسائی فراہم کی گئی ہے۔یہ سیٹلائٹ خطے میں ڈی ٹی ایچ نشریات، ٹیلی میڈیسن، ٹیلی ایجوکیشن، بینکاری رابطے، موسمی پیش گوئی اور آفات سے نمٹنے کے مواصلاتی نظام** کی معاونت کرتا ہے۔اس سیٹلائٹ کی متوقع عملی مدت 12 سال ہے۔پاکستان نے اس منصوبے میں شامل نہ ہونے کا فیصلہ کیا تھا، جس کے نتیجے میں اس کا ابتدائی نام ‘سارک سیٹلائٹ’ تبدیل کرکے‘جنوبی ایشیا سیٹلائٹ’ رکھ دیا گیا۔
جیو پورٹلز اور شہریوں پر مبنی ڈجیٹل پلیٹ فارمز
اسرو مختلف خصوصی جیو پورٹلز چلاتا ہے جو حکمرانی اور عوامی استعمال کے لیے سیٹلائٹ سے حاصل کردہ معلومات فراہم کرتے ہیں۔ ‘بھونِدھی’، ‘موسڈیک’، ‘ویداس’ اور ‘بھوون ’ جیسے پلیٹ فارمز زمینی مشاہدات، موسمیاتی خدمات، بنیادی ڈھانچے کی نگرانی، سیلابی انتظام اور ڈیجی پن کے انضمام کے ذریعے ڈجیٹل ایڈریسنگ کی سہولت فراہم کرتے ہیں۔گزشتہ ایک دہائی کے دوران خلائی ٹیکنالوجی بھارت میں روزمرہ زندگی کا ایک لازمی حصہ بن چکی ہے۔ خلاء پر مبنی ایپلی کیشنز اب حکمرانی، صحت، تعلیم، آفات کے انتظام اور روزگار کے مواقع کی بہتری میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔یہ پیش رفت سائنس اور ٹیکنالوجی کے ذریعے جامع اور ہمہ گیر ترقی کے لیے بھارت کے عزم کی عکاسی کرتی ہے۔ وکست بھارت کے ہدف کی جانب پیش قدمی کرتے ہوئے، بھارت کا خلائی پروگرام عوامی خدمات کی فراہمی کو مزید مؤثر بنانے اور شہریوں کے معیارِ زندگی کو بہتر بنانے میں مسلسل معاونت فراہم کر رہا ہے۔
ایک ذمہ دار خلائی طاقت بننے کی جانب
گزشتہ بارہ برسوں کے دوران بھارت کے خلائی پروگرام نے یہ ثابت کیا ہے کہ تکنیکی ترقی کس طرح براہِ راست قومی ترقی کی خدمت کر سکتی ہے۔ آج خلائی ٹیکنالوجی حکمرانی کو مؤثر بناتی ہے، معاشی نمو کو تقویت دیتی ہے اور عام شہریوں کی روزمرہ زندگی کو بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہو رہی ہے۔
بھارت کی یہ پیش رفت مقامی اختراع، سائنسی مہارت اور عوامی فلاح و بہبود کے اصولوں پر مبنی رہی ہے۔ اسی کے ساتھ بھارت بین الاقوامی تعاون، تجارتی سیٹلائٹ لانچز اور علم و تجربے کے تبادلے کے ذریعے ایک قابلِ اعتماد عالمی خلائی شراکت دار کے طور پر بھی ابھر کر سامنے آیا ہے۔ملک بیرونی خلاء کے پُرامن، ذمہ دارانہ اور پائیدار استعمال کے فروغ کے لیے اپنی کوششیں مسلسل جاری رکھے ہوئے ہے۔‘خلائی ویژن 2047 ’ کی جانب پیش قدمی کرتے ہوئے بھارت کی توجہ سائنسی تحقیق کی نئی سرحدوں کو وسعت دینے کے ساتھ ساتھ معاشرے کے لیے زیادہ سے زیادہ فوائد پیدا کرنے پر مرکوز ہے۔آنے والے برسوں کا یہ سفر خلائی اختراع اور ترقی کے ذریعے ایک مضبوط، خود کفیل اور عالمی سطح پر باوقار بھارت کی تعمیر کا عزم لیے ہوئے ہے۔
حوالہ جات
Department of Space
Indian Space Research Organisation
Other Government / Official Sources
INDIA'S SPACE ODYSSEY
********
ش ح- ظ الف- م ش
UR-9016
(रिलीज़ आईडी: 2276560)
आगंतुक पटल : 5